مائی مجھے نہ بیچ تو

Mayi Mujhe Na Bech Tu

کرن صمد منگل جنوری

Mayi Mujhe Na Bech Tu
شادی یوں تو دو افراد کا ملن ہے مگر بغور دیکھا جاے تو در حقیقت شادی دو گھرانوں کا سنگم ہے۔جو کہ دو گھرانوں کے رسوم و رواج سے لے کر پہننے اوڑھنے کا سلیقہ,پکوان,بناٶ سنگھار اور ان کے زندگی گزارنے کے طریقوں پر مشتمل ہے۔ اور یے وہ تمام طریقے ہیں جو ایک نٸ نویلی دلہن کو اگلے گھر جا کر اپنانے کا درس دیتا ہے ہمارا معاشرہ۔ ان میں اگر کوٸ کوتاہی برتی جاۓ تو نہ صرف اُس پر طعنے کسے جاتے ہیں بلکہ  بعض اوقات تو لڑکی کی پرورش  پر بھی کٸ انگلیاں أٹھتی ہیں۔


قرآنٍ کریم کے احکامات کی روشی میں دیکھا جاۓ تو اللہ نے بیٹی کو رحمت بنایا ہے۔اور نبی کریم ص بھی حضرت فاطمہ کا بے حد احترام کرتے تھے اور اپنا جگر گوشہ تسلیم کرتے تھے۔ والدین جہان لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر غور رتے ہیں وہیں لڑکی کی شادی بالخصوص اس کے جہیز کی بھی فکر انہیں کھاۓ جاتی ہے۔

(جاری ہے)

کے اگر وہ اپنی بیٹی کو مناسب اور قیمتی جہیز نہیں دیں گے تو ان کی بیٹی کا اس معاشرے میں رہنا مشکا ہو جاۓ گا۔

لوگ طرح طرح کی باتیں کرینگے! کوٸ  کچھ کہے گا تو کوٸ کچھ! کہا جاۓ گا کہ ساری عمر بیٹی کو صرف تعلیم ہی دلواٸ اور اسکے جہیز کا لیے کچھ نہ جوڑا ! مگر معاشرے کو کون یہ بات سمجھاۓ کے 20,000 روپے ماہانہ آمدن والا کہاں سے جوڑے اور کہاں سے اپنی بیٹی کے لیے جہیز بناۓ؟  انہی فدسودہ , دقیانوسی, اور فضول رسومات کی وجہ سے غریب لڑکیوں کے سروں میں چاندی آگٸ ہے ۔

ہر کوٸ آکر یے تو ضرور کہتا ہے کہ بھٸ آخر کب تک پراٸ امانت اپنے سنگ رکھو گے ؟ مگر کوٸ یہ نہیں کہتا کہ چلو ہم بھی اس کارخیر میں حصہ لیتے ہیں۔ اور اس غریب کی بیٹی کی شادی کا  بیڑہ اُٹھاتے ہیں ۔
پڑوس ملک سے آۓ اس” جہیز کلچر “ نے نہ صرف ہمارے معاشرے کے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے بلکہ نت نۓ رسوم و رواج متعا رف کروا کر غریب کا سر جھکانے میں کوٸ کسر نہی چھوڑی۔

  گھر کے فرنیچر سے لے کر باورچی خانے کے سامان تک سب کچھ دینا ماں باپ کا ہی فرض سمجھا جاتا ہے۔  معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی بیاہی نہیں جا رہی بلکہ اچھے اور مھنگے سامان کے عوظ اس کی خوشحال زندگی کی ضمانت دی جا رہی ہے ۔ اود بیچارہ باپ تو یہ تک نہیں کہ پاتا کہ بھٸ اس سامان کی کیا ضرورت کیا یہی کافی نہیں کہ ایک باپ اپنا عمر بھر کا سرمایہ تمہیں سونپ رہا ہے۔ مانو ! بنت حوا اس معاشرے کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہم سے یہ کہ رہی ہے ” اے ماٸ مجھے نہ بیچ ُتو۔۔۔۔۔  
حکومت کو چاہیے کے ایسے قوانین بنائے اور ان پر عمل در آمد بھی کروائے کہ جن میں جہیز لینے والے کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments