تعلیم، دنیا اور ہم

Taleem, Duniya Aur Hum

Mahtab Anwar مہتاب انور پیر مئی

Taleem, Duniya Aur Hum
بنی نوع انسان کے اس دنیا میں آتے ہی زندگی جینے کے مختلف طریقے سامنے آئے ۔انسان جوں جوں مستقبل کی طرف قدم بڑھاتا رہا اس کے رہن سہن اورزندگی گزارنے کے طریقوں میں جدت آتی گئی۔وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انسان نے ز ندگی گزارنے کے فن پر کام کیا اور ان طریقوں کو اپنی اگلی نسل میں منتقل بھی کیااور اس مقصد کیلئے انہوں نے مشاہدات اور علم کا سہارا لیا۔


اسلام میں ہمیں بھی علم حاصل کرنافرض قراردیا گیا۔لیکن افسوس ہم نے اپنے نظام تعلیم کو توجہ نہ دی جس کی وجہ سے ہمیں دنیا کے مختلف علوم کی نقل کرکے اپنے نظام تعلیم کو چلانا پڑا جس کی وجہ سے آج ہم صلاحیت ہونے کے باوجود اپنے بچوں کووہ کچھ سکھا رہے ہیں جو دنیا اپنے ماضی میں اپنے اوپر لاگو بھی کر چکی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

ہم اگر دنیا کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے نظام تعلیم کو بدلنا ہوگا۔

ایسا نظام تعلیم لانا ہو گا۔ جس میں ایک طالب علم خود تخقیق کرے اور اپنے مشاہدے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب اپنے استاد سے لے اور اگر تسلی نہ ہو تولائبریری اور انٹرنیٹ سے اپنے سوالات کے جواب حاصل کرے۔
حکومت وقت سکولوں میں ایسا نظام تعلیم رائج کرے ۔جس میں بچے سکول کا تمام کام سکول میں ختم کرے اور یہ کام تحقیق پر مبنی ہو نہ کہ رٹہ سسٹم پر مبنی ہو۔

سکول کے اندر ہی بچوں کو دین کے بارے میں بھی پڑھایا جائے۔اس مقصد کے لئے دینی اور دنیاوی تعلیم کودو حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ جس کے درمیان بچے کو آدھ پون گھنٹہ بریک ہو۔سکول کا مکمل دورانیہ ایسا ہو کہ تعلیم کے تمام کام سکول میں ختم ہوں اور بچہ جب گھر آئے تو صرف والدین کے ساتھ وقت گزارے۔
ّّّّاس کے علاوہ کالج اوریونیورسٹی میں تعلیم کا ایسانظام بنایا جائے کہ جس میں انڈسٹری میں اگرملازمت کی جگہ موجود ہوتو سلیبس کے دورانیہ کو کم کر دیا جائے اور اگر انڈسٹری کے اندر نوکریاں موجود نہیں تو سلیبس کے دورانیہ کو لمبا کرنے کے ساتھ ساتھ اندسٹری کو طالب علموں کو انٹرن شپ کروانی چاہیے تا کہ جب طالب علموں کی تعلیم کا مرحلہ ختم ہو تو وہ اس طرح تیار ہو چکے ہوں کہ عملی زندگی میں روزگار کمانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

طالب علم جو بڑی کلاسوں میں ہوں وہ چھوٹی کلاسوں کے بچوں کوٹیوشن بلامعاوضہ دیں تاکہ دونوں کے علم میں بھی اضافہ ہو ۔ بچوں کو اپنا کیرئیر بنانے کیلئے گائیڈ لائن بھی دی جانی چاہیے تاکہ وہ پڑھائی کے اختتام پر اپنے لئے بہترین فیصلہ کر سکیں۔
دنیا روز بروز نئی تحقیق کر کے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم لوگ آج بھی ان کی بنائی گئی اشیاء پر پل بڑھ رہے ہیں ۔شایدتعلیم ہی کی وجہ سے دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہم آج بھی نسل در نسل ان کے پرانے خیالات کو ہمراہ لیکر چل رہے ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments