نکاح میں جلدی کریں

Nikah Mian Jaldi Kareen

Mehwish Khan مہوش خان منگل جولائی

Nikah Mian Jaldi Kareen
اللہ کے دین کے مطابق اسلام میں نکاح اتنا مشکل نہیں جتنا بنادیا گیا ہے۔آج ہماری خواہشات اور توقعات اس قدر بڑھ گئ ہیں کہ ہم کہیں بھی کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔
وہ خواہ لڑکا لڑکی کی شکل و صورت ہو,قابلیت ہو ,آمدنی ہو یا پھر اس کا نصب ونسق مطلب خاندان۔
لڑکا چاہئے تو کسی فملی ہیرو سے کم نہ ہو ,عمر 25 سال سے زیادہ نہ ہو اور کمائ اتنی کہ پیسہ برس رہا ہو۔


لڑکی چاہئے تو حور پری, قابلیت ڈاکٹر انجینئر سے کم نہ ہو عمر 20 سال سے زیادہ نہ ہو اور گھر کے کاموں میں اتنی سگھڑ اور عقل مند کہ نانی دادیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے۔
دوسری طرف دنیا کے حالات یہاں پہنچ چکے ہیں کہ
آج کے دور کی بے حیائ اپنے عروج پر ہے زنا عام ہوگیا ہے۔نہ صرف حقیقی بلکہ آنکھوں کا ,کانوں کا, ہاتھوں کا اور اس کو عام کرنے والے آج کے دور کے والدین ہیں جنھوں نے خوب سے خوب تر کی تلاش میں اپنے نوجوان بچوں کو اس نہج پر پہنچایا کہ آج انھیں اپنے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بنانے پڑے۔

(جاری ہے)


جس کا ہمارے نہ دین میں کوئ تصور ہے اور نہ ہی ہمارا اسلامی معاشرہ اس بات کی ہمیں اجازت دیتا ہے۔
آج ہمارے بچے بچیاں مخلوط تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
پابندی ہم نے ان پر کوئ نہیں لگائ,دین کا علم اللہ کا خوف و تقوی ہم نے ان کو نہیں دیا تو پھر وہ کریں تو کیا کریں۔
اگر کچھ والدین کو اس بات کا اپنی اولاد کی اس ضرورت کا احساس شروع میں ہو بھی جائے تو وہ ان کی منگنی پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔

جبکہ
منگنی کا کوئ تصور اسلام میں نہیں پھر کیوں ہم بچوں کی منگنیاں کر کے بے فکر ہوجاتے ہیں اور انھیں ایک ناجائز رشتے کی طرف دھکیل دیتے ہیں؟
آج بچے بچیوں کی شادی کی عمریں گزر رہی ہیں اس میں ایک بڑی وجہ منگنیاں ہیں جو کہ دو ,دو سال سے پانچ ,پانچ سال تک کے لئے کرنے کے بعد توڑ دی جاتی ہیں وجوہات بہت سی ہوسکتی ہیں ابھی ذکر ممکن نہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی کی عمر گزر جاتی ہے اور طلب بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ ہر حال جس طرح آپ کی اولاد کو پیٹ کی بھوک مٹانے کو کھانا چاہئے بالکل اسی طرح جذبات کی تسکین کے لیے انھیں اس پاکیزہ رشتے کی ضرورت ہے جو ہم نے ان کو بلاوجہ نہیں دے رہے ہوتے۔جس کا انجام یہی نکلتا ہے جو آج کل دیکھنے میں آرہا ہے۔
جب اللہ نے رزق عورت کی قسمت میں لکھ دیا ہے تو آپ خواہ کچھ بھی کرلیں ملے گا وہی آپ کی اولاد کو جو ان کی قسمت میں ہے۔


دوسری طرف ایک اور بڑا مسلہ ہمارے معاشرے میں یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو اپنانا ہی نہیں چاہتے جن کی زندگی میں پہلے کوئ تھا۔ایک طرف بچیوں کی شادی کی عمریں گزرتی جا رہی ہیں تو دوسری طرف ہم اپنے گھر کے مردوں کی دوسری یاتیسری شادی کرانے کو کسی صورت تیار نہیں خواہ اس مرد کی ضرورت کتنی ہی بڑھ جائے وہ زنا تو کرسکتا ہے مگر دوسرا نکاح نہیں۔


خدارا اس معاشرے میں توٹی منگنی,طلاق یافتہ ۔بیوہ , رنڈوے یا دو ,تین نکاح کرنے والے کو بھی سر اٹھا کر جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی خوش حال شادی شدہ کو یا کنوارے نوجوانوں کو۔
اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کا سادہ سا اصول شریعت میں یہی ہے کہ رشتہ پکا کرنے سے پہلے خوب استخارہ کرلیجئے,خوب چھان پھٹک کر لیجئے اللہ پر بھروسہ کریں ادھر بات پکی کریں ادھر نکاح کرکے بھیج دیں۔


یقین مانیں آپ کا بچہ سیانا کئ سال قبل ہی ہوچکا ہوتا ہے۔
اور رہی کمائ کھلائ کی بات تو جو اپنی گرل فرینڈ کے خرچے اٹھا سکتا ہے وہ یقینا اپنی بیوی کے بھی برداشت کرلے گا۔خدارا نکاح کو عام کریں زنا کو روکیں
ادھر بچے بالغ ہوں ادھر ان کو ان کے جوڑ سے ملوا دیں۔عمر چاہے 15 سال ہی کیوں نہ ہو۔خاص کر لڑکی کی۔
مغرب میں جب 11 ,12 سال کی عمر کے بچے live together کا معاملہ کر سکتے ہیں تو پھر ان کو ہمارے دین پر عمل کرنے میں کیا تکلیف۔


سوچیں ,خدارا سوچیں اور پھر سوچیں
لوگ کیا کہیں گے اس جملے سے بھی اپنے آپ کو باہر نکالیں۔معاشرہ لوگوں کے عمل سے بنتا ہے۔اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں بس ہمت نہیں کرپاتے آپ ہمت کریں لوگ خود آپ کے ساتھ شامل جائیں گے ۔
اللہ ہم سب کے بچوں کی قسمتیں اچھی کر ے۔
آمین کہ ملنا وہی ہے ہونا وہی ہے جو اللہ نے ان کی قمستوں میں لکھ دیا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments