عالمی لنگر خانے

Aalmi Langar Khane

محمد منور سعید جمعرات اکتوبر

Aalmi Langar Khane
بھوک  فرماتی ہے پھیلا ہاتھ لنگر  کیلئے
پیاس کا اصرار چل ان آستانوں سے پرے

بے صبری عوام خوامخواہ مہنگائی سے ہلکان  اور بیروزگاری سے پریشان ہورہی تھی ۔
مسٹر خان بھی غافل نہیں ہیں ۔انکے زرخیز دماغ میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیئے بے شمار منصوبے ہیں۔
پہلے بھی انہوں نے معیشت کی بہتری کا حل بھینسوں کی فروخت اور مرغیوں انڈوں اور چوزوں کی افزائش میں ڈھونڈا تھا ۔


اب انہوں نے انتہائی غورو خوض  کے بعد بنی نوع انسان کی پریشانی کا  اصل   ROOT CAUSE  تلاش کرلیا ہے ۔
 وہ ہے بھوک ۔
 بھوک ہی تو ہے جو آداب کے سانچے میں ڈھلنے نہیں دیتی۔
جی ہاں بھوک ہی بنیادی فتنہ ہے۔
اگر بھوک کو ختم کردیا جائے تو عوام مست رہے گی۔

(جاری ہے)


ناراضگی معاف  ہماری قوم سست کاہل اور نکمی ہے۔
پرلے درجہ کی کام چور بھی ہے۔


ہماری صبح دوپہر میں ہوتی ہے اور دوپہر شام کو۔
اگر اس کو دو وقت کی روٹی مفت میں ملنے لگے تو اسکو اور کیا چاہیے ۔لہذا ایسیے کسی پلان کی صورت میں اگلی ٹرم مسٹر خان کی پکی تصور ہوگی۔
اس کیلئے خان نے فلاحی تنظیم کے تعاون سے لنگر خانیں شروع  کردیئے ہیں ۔
ٹیکس چور تاجروں بڑی خوشی سے ثواب سمجھکر اپنی BLACK MONEY  غریب  عوام پر ثواب سمجھکر خرچ کرینگے ۔


اسطرح انکے ضمیر کا بوجھ بھی کم ہوگا اور عوام بھی  خوش رہے گی اور حکومت کی بھی روز روز کے جھگڑوں سے جان چھوٹے گی۔
جب مفت میں قورمہ متنجن ملیں گے تو روزگار کی خواری کوئی احمق ہی کرے گا۔
ملک و قوم کی خاطر  سب لنگر سے فیضیاب ہوتے رہیں گے۔
"مچھلی کھلانے سے بہتر ہے کہ مچھلی پکڑنا سکھائی جائے"
کسی ہم جیسے ناقص العقل نے ڈرتے ڈرتے خان کے کان میں سرگوشی کی۔


مسٹر خان دیر تک اس بیوقوفی کی بات پر ہنستا رہا ۔
ملک میں بھوک و افلاس کے خاتمے کے بعد  خود مسٹر خان  اطمینان سے عالمی لنگر خانوں جیسے IMF    WORLD  BANK,,امریکہ اور شیخوں سے مانگنے نکل پڑیں گے۔
یہی ایک  کام تو ہے جو انکو بخوبی آتا ہے۔
یہ سب لنگر خانے ہیں جہاں ہم جیسے ترقی پذیرممالک کے سربراہ قطار لگائے اپنی باری کے منتظر رہتے ہیں۔
ملک و قوم کی خاطر یہ لنگر خانے ہمیشہ  جاری رہیں گے۔۔
بھوک  فرماتی ہے پھیلا ہاتھ لنگر  کیلئے
پیاس کا اصرار چل ان آستانوں سے پرے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments