واہ کیا بات ہے!

Wah Kya Baat Hai !

Nabya Shahid نبیہ شاہد جمعرات فروری

Wah Kya Baat Hai !
کل سے انٹرنیٹ پر ایک تصویر نے شوز مچا رکھا ہے۔میرے کئی دوستوں نے بھی تذکرہ کیا۔ بہت تذکرہ سننے کے بعد میرے بھی دل میں تھرتھلی مچ گئی۔ انسان ہوں کیاکرتی لگ گئی وہ تصویر ڈھونڈنے میں۔آخر وہ کون سی تصویر ہے جس نے لوگوں کاجینا حرام کیا ہوا ہے کہ اپنے کاموں کو چھوڑ کر سوشل سایٹس کی طرف رجحان کررکھا ہے۔ خیر اپنا شو کراکر جب رات دس بجے میں گھر پہنچی میں نے اپنا فون اٹھایااور لگ گئی اس تصویر کی کھوج میں۔

ادھر ادھر دوستوں سے پوچھا، کافی ریکی کی۔اورہاں اسی دوران ایک تصویر میرے سامنے آرہی تھی۔ ایک شادی شدہ کپل کی تصویر میری نظروں کے سامنے بار بار آئی آخر میں میں نے کیوٹ کا کمنٹ کردیا۔ اس ایک کیوٹ کے میسج پر مجھے جتیا سننے کو ملا، میرے خیال میں اگر کوئی اور بات پر کرلیتے تو کشمیر آزاد ہوجاتا۔

(جاری ہے)

 

خیر مذاق کی بات ایک جگہ۔۔۔ اسی دوران میری دوست نے وہ وائرل تصویر بھی بھیج دی۔

میری اس بات پر ہنسی نکل گئی کی یہ وہ ہی تصویر تھی جس کو میں نے کیوٹ کا کمنٹ دیا تھا۔ اس کے نیچے دئیے گئے کمنٹ کابل ذکر بھی نہیں ہے۔ ٹویٹر پر وایرل ہونے والی اس تصویر نے مجھے آمادہ کردیا کے میں آرٹیکل لکھوں۔میری کیفیت ایک دم ویسی ہوگئی جیسے شاہ رخ جی کہتے ہیں نہ ’درد جب حد سے بڑھتا ہے تو گا لیتے ہیں‘۔ تو بس وہ گا لیتے ہیں میں لکھ لیتی ہوں۔

اچھا جوکس آپارٹ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں کسی پر تنقید کرتی۔میں نے اپنا میڈیاپرافایل کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس ینگ کاپل کا نمبر نکلوایا۔ اگلے ہی صبح میں نے اس نمبر پر فون ملایا۔ کچھ گھنٹے بعد ایک باریک آواز مین‘ہیلو‘ آیا۔۔۔ میں نے جج کیے بغیر اپنا تعارف کرایا اور نمرہ اور اسد سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ کچھ دیر ہولڈ کے بعد میری بات اسد سے ہوئی۔

تعریف سنتے ہی اس نے ناخوشی کا اظہارکیا۔
وجہ پوچھنے پر اس نے ان پر ہونے والی تنقیدکا ذکر کیا۔ مجھے شرمندگی تو ہوئی کہ ہم کتنی آسانی سے کسی کے بھی رنگ میں بھنگ ڈال دیتے ہیں۔ ایک نوبیاہتا جوڑاجس نے کتنے خوابوں سے یہ نیا رشتہ جوڑا تھا۔اب انہی کے منہ سے ایسے مایوسی اور دل برداشتہ باتے سن کر مجھے تکلیف تو بہت ہوئی لیکی ساتھ ہی مجھے اس چیز کا شدید احساس ہوا کہ ہمارے کہے ہوئے لفظ کسی کی زندگی کو کس حد تک میاثر کرسکتی ہے۔

خیر گفتگو کو آگے برھاتے ہوئے میں نے ان سے دو تین سوال اور پوچھے۔ تفصیل سے بتانا شروع کردیا تو آرٹیکل کافی لمبا ہوجائے گا۔ مختصرکرکے بتاتی ہوں۔
اسد اور نمرہ کی ملاقات پچھلے سال اسد کی بڑی بہن کی شادی پرہوئی تھی۔اسدنے نمرہ کو کشمیر میں شادی کی کی پیشکش کی تھی۔ نمرہ کی رضامندی کے ساتھ اسدمسقط روانہ ہوگئے۔لانگ ڈسٹنس رشتہ رکھنے میں جب مشکل آنے لگی تواسد نے اپنے گھر والوں سے شادی کی بات کی۔

اسد کا کہنا تھا کہ ان کے والدین نے ان کو تعلیم اور نوکری کی اہمیت بتائی تھی۔ لیکن پھر والدین مان کر نمرہ کے گھر میرا رشتہ لے گئے۔
نمرہ کا کہنا تھا کہ میں کبھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اتنی جلدی شادی تو ذہن وگمان میں بھی نہیں تھا۔ میرا اگلا سوال وہ ہی تھا جو آپ سب کے ذہن میں ہوگا‘ کہ پھر یہ کیسے ہوگیا‘۔ مسقط میں پیدا ہونے والے اسد نے ٹھان لی تھی کہ نمرہ کو ہی ہم سفر بنانا ہے۔

پھر کہتے ہے نہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔اسد نے جیسے تیسے بھی گھر والوں کو منایا اور نمرہ کو اپنے گھر لے آیا.. اورساری مرد برادری کی عزت رکھ لی..اسد او لیولز کرکے اے لیولز کے سٹوڈنٹ ہے جبکہ نمرہ فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ ہے۔ نمرہ اور اسد نے اس معاشرے کے منہ پر تماچا لگایا ہے جو اس سوچ کو ساتھ رشتہ لے کر چلتے ہیں کہ آگے دیکھا جائے گا شادی ہوئی تو ٹھیک ہے ورنہ امی کی پسند تو بیٹھی ہے نا۔

اسد کی ایک بات میرے دل کو چھو گئی کہ اگر کسی لڑکی کو اپنے حرام رشتہ میں رکھنے کی ہمت رکھتے ہو تو حلال کرنے کی بھی ہمت رکھو۔ ان دونوں نے حلال راستہ اپناتے ہوئے اپنے محبت کے رشتہ کو تکمیل تک پہنچایا ہے بہت سی سماجی برائیوں سے بچ گئے ہیں اب المیہ یہ ہے پورے سوشل میڈیا پر مذاق بنایا جا رہا کہ لڑکی بڑی ہے اس عمر میں ہم سبزیاں لاتے تھے وغیرہ اپنی تعلیم مکمل کرلیتے یہ وہ۔

کسی نے بھی تنقید کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ اصل میں ہونا یہی چاہیے۔۔ یہ کہاں کاانصاف ہے کہ ایک دوسرے کے حرام رشتہ میں رہنے کے لیے تیار ہیں لیکن جب وہ ہی رشتہ حلال کرنے کی بات آئی تو امی نہیں مانتی یہ گھر والے پسند کی شادی پر یقین نہیں کرتے۔ مگر اگر یہ ہی لڑکا اپنے سے بڑی کسی لڑکی سے شادی کرتا تو کہنا تھاکہ باہر جانے کے لیے کر رہا ہے۔

 شادی ایک بہت ہی حسین رشتہ ہے اگر اس میں نیت ٹھیک ہو۔ باہر جانے کے لیے، برائٹ مستقبل، چھوٹے خاندان کی لڑکی لائے گے تاکہ دب کر رہے جیسی نیت سے کی گئے شادیاں کامیاب ہوبھی جائے تو برکت بھری نہیں ہوتی مہربانی کریں مذاق بنانے کے بجائے ان سے سبق سیکھیے تاکہ معاشرے میں باقی لوگ بھی عمر،ذات،رنگ کے مسئلے سے باہر نکلے اور اپنے بچوں کی شادیوں میں جلدی کریں تاکہ چھوٹی بڑی کے چکر میں اپنے بچوں کو 30 سال تک گھر میں نہ بیٹھا کر رکھیں۔

دراصل کافی کمنٹز پڑھنے کے بعد مجھے ایک بات کا یقین ہوگیا ہے کہ یہ تمام لوگ یا تو کسی ملال میں مذاق اڑا رہے ہیں کہ جو کام وہ کسی ذات یہ رنگ کی بنا پر نہیں کر پائے وہ اس بچہ نے کر دکھایا یہ اپنی ناکامیابی پر افسوس کو چھپاتے ہوئے طنز کا سہارا لیتے ہوئے اپنے آپ کو کوس رہے ہیں۔ اسد اور نمرا نے ایک بہت ہی خوبصورت ٹرینڈ سیٹ کیا ہے ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments