ذرا سوچئیے

Zara Sochiye

ندا کیانی منگل مئی

Zara Sochiye
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے 70 گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی اس سے اتنی ہی محبت کریں اور برائی کے راستے سے دور رہیں۔ ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد سے سب سے زیادہ پیار کرتی ہے اور زرا سی تکلیف سے اس کا دل تڑپ جاتا ہے ۔تو زرا  سوچیں! کہ اللہ جو ہم سے 70 مائوں جتنا پیار کرتا ہے  اُسے کتنا بُرا لگتا ہو گا جب اس کے بندے کوئی غلط کام کریں اور پھر بندے بھی وہ جو اس کے محبوب کے اُمتی ہوں اور وہ امت جس کا صرف نیکی کرنے کا سوچنے پر ہی اللہ ثواب عطا کر دیتا ہے چاہے وہ نیکی کرے یا نہ کرے لیکن برُائی کا سوچتا ہے تو اللہ اس وقت تک گناہ نہیں دیتا جب تک وہ برائی کر نہ لےتو پھر ہم کیوں کُھلی گمراہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

۔؟ کیوں دوسروں کا حق مارتے ہیں؟ کیوں ہم دلوں میں بُغض رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

۔؟
خداراہ! اس گمراہی سے بچیں۔ اپنی عزت کی ، اپنے ناموس کی، اپنی چادر کی  حفاظت کرو۔ اپنے دنیا میں آنے کے اصل مقصد سے آگاہ ہو جائواور دنیا میں نام بنانے کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کرو۔
آج کل کی ہی مثال لے لیں سب کورونا سے ڈر کر گھروں میں چھپے ہیں ہر وقت ہاتھ دھو رہے ہیں ۔

پاکیزگی کا خیال رکھ رہے ہیں،باہر نہیں نکل رہے کاش کہ اتنی فکر ہمیں نماز کی بھی ہوتی اور بجائے اس کے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہم سے کیا خطاہوئی ہے کہ خدا نے ہم پہ یہ عذاب نازل فرمایا ہے ہم گھروں میں بیٹھ کر، سو سو کراور انٹرنیٹ پر لطیفے شیئر کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ وقت احتیاط سے زیادہ ، توبہ کا ہے ۔پہلے اپنے آپ کو درست کرو ، کسی کی اصلاح اس کے بعد کرو ، نیکی کرو ،امن پھیلائو، زکوٰۃ دو ، مال و جان کا صدقہ دو اور جتنا ہو سکے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔

مومنو! اپنے مقصدِ زندگی کو جانو ، کامیابی اور زندگی صرف حقِ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
بس اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اصلاح کریں۔ اپنے ربِ کریم کے حضور دعا اور معافی مانگیں اور اپنی اور پنے پیاروں کی مغفرت کی دعا کریں کسی کو بُرا نہ کہیں ، اپنی زبان سے کسی کو بُرا کہنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ آپ کی زبان سے دو انچ نیچے آپ کا گریباں بھی ہے، اس میں بھی جھانک لیں۔

پہلے اپنی اصلاح کریں اور پھر دوسروں کی۔ مگر اتنا یاد رکھیں کہ جب آپ کسی کے حق میں دعا کرتے ہیں تو وہ پہلے آپ کے اپنے حق میں قبول ہوتی ہے۔ نیک برتائوں رکھیں، کسی کو خود سے حقیر نہ جانیں کیونکہ انسان کی اُڑان مٹی سے شروع ہو کر مٹی پر ہی ختم ہو جاتی ہے ۔ خدا سے معافی مانگیں۔ اس کی رضا میں ہی ہم سب کی خوشی ہے ۔ اللہ ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

آمین
اللہ پر ہمیشہ پھروسہ رکھیں۔ آپ کی مانگی ہوئی کوئی بھی دعا ،آ پ کے آنسوئوں سے پھیگی ہوئی کوئی بھی رات ، تکلیف میں گزارا ہوا کوئی بھی دن کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ کیونکہ زندگی کے ہر  آسان اور تکلیف دہ لمحہ دونوں ہی اللہ سبحان و تعالی کے کسی عظیم مقصد کا حصہ ہوتے ہے۔ جو کبھی تو جلدی سمجھ آ جاتے ہے اور کبھی انتظارکرنا پڑتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments