کنٹرول لائن پر غیر اعلانیہ جنگ!

Control Line Par Ghair Elania Jung

پروفیسرخورشید اختر پیر اکتوبر

Control Line Par Ghair Elania Jung
آزاد کشمیر کے ہر سیکٹر پر بھارتی فوج آئے روز شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے شدید گولہ باری اور مارٹر گولے ان مکینوں پر خوف بن کر ہمیشہ سوار رہتا ہے۔آبادی کی اکثریت ایک ٹرامے کا شکار ہے گزشتہ دنوں ہونے والا حملہ اتنا شدید تھا کہ بچے خواتین اور بوڑھے شدید زخمی ہوئے۔جوابی کارروائی میں 9 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور یہ منظر دیکھنے میں آیا کہ انڈین فوج نے سفید پرچم لہرایا تاکہ وہ ہلاک شدہ فوجیوں اور زخمیوں کو اٹھا سکیں۔

مگر حکومت آزاد کشمیر ہو یا پاکستان بارڈر کے قریبی گاؤں والوں کی حفاظت دیکھ بھال اور امداد کے لیے کچھ نہیں کر رہی یہ وہ لوگ ہیں جو کئی سال سے امن اور جنگ دونوں حالتوں میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
کئی دفعہ یہ لوگ نقل مکانی بھی کرتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے معاشی معاشرتی اور سماجی مسائل ہیں۔ان کے بچے تعلیم سے، روزگار سے محروم ہیں ان کے مستقبل کا کون سوچے گا وہ آپ کی دفاعی لائن بن کر گولے اپنے سینے پر سہتے ہیں۔

پاکستانی افواج کے لیے یہ سب سے بڑی آزمائش ہے کہ وہ بارڈ پار کشمیری مسلمان پر فائرنگ نہیں کر سکتے اس احتیاط نے پاک فوج ہمیشہ انڈین چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔مگر مودی وحشی بن کر کشمیری پر ٹوٹا ہوا ہے۔یہاں تک کے سیبوں کی ترسیل پر کشمیری تحریک کے خوف نے بھارت کو پاگل کیا ہوا ہے۔سیبوں پر تحریر آزادی اور عمران خان کے حق میں نعروں نے ریشمی رومال تحریک کی یاد تازہ کر دی دکھ اس بت کشمیر میں شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا میڈیا کشمیر کو بھول کر دھرنا اور آزادی مارچ تک محدود ہو گیا ہے۔

تحریک آزادی کشمیر دنیا بھر میں ایک بڑا ایشو ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت ہماری سیاست ذاتیات کے تند و تیز حملوں میں گم ہے۔مودی نے غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے 80 ہزار کشمیری ایک قلعے میں محصور ھے اور فصیلوں پر 9 لاکھ فوج مورچے سنبھال کر بیٹھی ہے۔سکول ہسپتال ویران بازار بند اور زرا سا ریلیف ملتا ہے تو سڑکیں آزادی کے نعروں سے گونج اٹھتی ہیں۔اڈ صورت حال کو تین ماہ گزر گیا ہے۔کسی ادارے پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس عجیب غریب صورت حال کو کون دیکھے گا؟ غیر اعلانیہ جنگ میں ہمار کیا قومی کردار ہونا چاہیے؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments