موبائل فون

Mobile Phone

رافیہ مجید جمعرات جولائی

Mobile Phone
موبائل فون کو ایک نعمت سمجھا جاتا ہے- موبائل فون کے آغاز میں لوگوں نے اسے نمائش کے لیے استعمال كیا-  متوسط طبقہ نے بطور فیشن استعمال کیا-اور اب ایسا وقت آن پڑا هے كه  موبائل ہر انسان کی ضرورت زندگی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے-
یہ بات درست ہے کہ موبائل وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بنتا جا رها هے لیكن اس كا هر گز یه مطلب نهیں كه هم  چھوٹے بچوں کے ہاتھوں  میں موبائل تھما دیں- جہاں  موبائل کو ایك نعمت سمجھا جاتا هے وهاں یه بہت سی بُری عادتوں كی وجه بھی بنتا هے-
میں مانتی ہوں کہ موبائل لوگوں کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ ہے- ہم میلوں دور بیٹھے انسان سے نہ صرف  بات کر سکتے ہیں بلکہ انهیں دیکھ بھی سکتے ہیں- لیكن  مجھے لگتا ہے كه موبائل نے ہمیں اپنوں سے دور کر دیا ہے جیسا کہ ہمارے والدین- ہم میلوں دور بیٹھے انسانوں سے تو ہر روز بات چیت کرتے ہیں,انهیں  دیکھتے ہیں لیکن سامنے بیٹھے انسان کو بری طرح نظرانداز کرتے ہیں-
پہلے وقتوں میں لوگ  صبح سویرے اٹھ کر نماز پڑھتے تھے-قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے- اوراب ہم خود كو هی دیكھ لیں- هم لوگ دس بجے سے پہلے نہیں اٹھتے- ہم رات كو دیر سے سوتے هیں اور صبح دیر سے اٹھتے  ہیں اور پھرهر  کام دیر سے ہوتا ہے- ہم بچوں کو موبائل کھلونوں کی طرح تھما دیتے ہیں اور پھر بچے موبائل کو اس قدر انهماك  سے استعمال کرتے ہیں كه انهیں  کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی نه سونے کی, نه كھانے كی اور نه هی پینے كی- اور پھر هم یہ کہتے ہیں "کہ برکت نہیں کسی چیز میں" ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments