ایک ملاقات ڈینگی مچھر سے۔۔۔۔۔۔

Aik Mulaqat Dengue Machar Se

Rehan Muhammad ریحان محمد جمعہ ستمبر

Aik Mulaqat Dengue Machar Se
اپنے بیڈروم میں آ کر ٹی وی آن کیا ۔کیبل نہیں آ رہی تھی ۔کچھ دیر کیبل چینل تبدیل کر  کے۔ چیک کیا شاید کوئی چینل آ جائے ۔پر بات نہ بنی۔جیب سے موبائل نکالا اپنا سوشل اکاونٹ چیک کر لوں ۔شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔ اب کرنے کو کچھ نہیں تھا۔بوریت اور وحشت میں مزید اظافہ ھو گیا۔کچھ دیر ہی گزری اپنے بازو پر نظر پڑی ایک انتہائی صحت مند مچھر بڑی مہارت سے میرے بازو کا  معائنہ کر  رہا تھا ۔

ابھی میں اس کو مارنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ مچھر  اڑ کر میرے دوسرے بازو پر آ بیٹھا ۔اور اسی طرح اس بازو کا کسی سپیشلسٹ ڈاکٹر کی طرح معائنہ شروع کر دیا۔اب کی بار سوچے سمجھے بغیر مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا۔مچھر نے بڑی عاجزی سے کہا رک جاؤ مجھے مارنے سے پہلے میری آخری خواہش پوری کر دو۔

(جاری ہے)

میں  نے فراخدلی کا مظاہرے کرتے ھوئے کہا آپنی آخری خواہش اور اپنا شجرہ نصب بھی بتاؤ۔


مچھر بولا میرا تعلق مچھروں کی انتہائی اعلیٰ نسل ڈینگی  سے ھے اور میں انتہائی خطرناک ھوں ۔تمہارے ھاتھوں مرنے سے پہلے میں جی بھر کے تمہارا تازہ میٹھا خون پینا چاہتا ھوں ۔
میں نے حیرت سے پوچھا تم میرے خون کے اتنے پیاسے کیوں  ہو ۔
مچھر نے انتہائی خوفناک قہقہ لگایا اور بولا تمہارے خون کی مجھے بہت عرصے سے تلاش تھی۔ تم  نے ساری عمر ناتواں کمزور  لوگوں کا خون چوسا ۔

تم نہیں جانتے تمہارے اندر  کتنے مظلوموں کا خون ھے ۔تم ایک موقع پرست شخص ھو۔ اور  دیکھا جاے تو تم بھی اور تمہارے جیسے اس معاشرے کے ڈینگی مچھر ھو۔
اپنی یہ عزت افزائی سن کر بہت برا لگا۔اندر ہی اندر   مجھے اس سے خوف آنے لگا۔کچھ تووقف کے بعد میں نے بڑے گرج دار لہجے میں کہا ۔تم مجھے بےوقوف نہ بناو۔ ھمارے ملک سے  ن لیگ کی حکومت میں وزیرِ اعلیٰ شہبازشریف نے دن رات ایک کر کے تمہاری نسل ختم کر دی تھی۔

تم مجھے جھوٹ بول کر میرا خون نہیں چوس سکتے ۔
میری بات سن کر مچھر نے قہقہہ لگایا ۔اور بولا شہباز کو ھم  کیسے  بھول  سکتے  ھیں ۔اس شخص نے ھمارے ساتھ  بہت برا سلوک کیا وہ تو ھمارا جانی دوشمن بن گیا تھا۔ ھمیں ڈھونڈ  ڈھونڈ کر  مارا اور  ھماری نسل کشی کی۔وقت  ایک سا نہیں رھتا آج اس کی اپنی حیثیت کچھ نہیں ۔
ھم دن رات عمران خان کو دوعائیں دیتے  جس نے ھماری نسل کو دوبارہ  زندگی دی۔

اور   ملک میں بہت تیزی  سے  پھیلنے کی اجازت دی۔اس وقت ھم پورے ملک میں دندناتے  پھر  رھے ھیں۔اور یہ سب ھمارے لیڈر عمران خان کی بدولت ہے۔ ھر چھوٹے بڑے  شہر کے ھسپتال ڈینگی مریضوں سے بھرے ھوے ھیں۔ہماری آزادی کے ھاتھوں اب لوگ  بہت  پریشان ھیں ۔
بظاھر  ڈینگی مچھر سے صحتمند اور طاقت ور ھوتے ھوئے بھی اور وہ  مجھ سے کمزور اور ناتواں ھوتے ھوئے بھی مجھ سے زیادہ خطرناک اور  طاقت ور لگ رھا تھا ۔

میں نے مزید وقت ضائع کئے بغیر انتہائی پھرتی سے ڈینگی مچھر کو مار دیا ۔اور اس خون کی پتلی چھینٹے میرے بازو پر پھیل گئیں۔
ڈینگی مچھر کو مارنے کے باوجود دو دن سے خوف میں مبتلاء ھوں اور ھر وقت اپنے جسم کا معائینہ کرتا رہتا ھوں کہیں ڈینگی نے کاٹ تو نہیں لیا۔ کسی نے سچ ہی کہا ھے کوئی بھی خوف انسان کو زندگی سے دور لے جاتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments