بنگلہ دیش کو ایٹمی قوت بنانا ہے

Bangladesh Ko Etmi Quwat Banana Hai

Shahid Nazir Chaudhry شاہد نذیر چودھری جمعرات 11 نومبر 2021

Bangladesh Ko Etmi Quwat Banana Hai
کوئی سوچ سکتا تھا ؟؟؟؟۔۔۔کہ پاکستان میں جہاں غدار ڈکلیئر کرنا انتہائی آسان سیاسی مشغلہ ہے وہاں بنگلہ دیش اور پاکستان کو پھر سے قریب لانے کے لئے بنگالیوں سے معافی مانگنے کا سوال اٹھایا جاسکتاہے؟ اور یہ بھی کہا جائے کہ شیخ مجیب غدار نہیں تھے ۔ یہ انہونی پچاس سال بعدرونما ہوگئی ہے۔لاہور کی فضا کبھی نہیں بھول پائے گی کہ ایک نوجوان کامران سعید عثمانی نے اپنے گھر کے وسیع العریض لان میں بنگالی بھائیوں کو سینے سے لگانے،دلوں میں بسانے کی مہم کا آغاز کردیاہے۔

وہ اکیلا نہیں تھا ۔اسکی آواز پر ملک بھر کے یوتھ لیڈر وہاں موجود تھے ۔جماعت اسلامی۔پیپلز پارٹی ۔تحریک انصاف ۔مسلم لیگ کی یوتھ اور سٹوڈنٹس تنظیموں کے صدور اور نمائندگان کے دل پاک بنگالی دوستی زندہ باد کے نعروں سے مسرور تھے ۔

(جاری ہے)

میں حیران تھا ۔فرط جذبات سے دل شادتھا ۔
میری طرح اُدھر بنگلہ دیش میں بھی زوم پر آن لائن ہوکر گلوکار عالمگیر اور کچھ وی لاگر ایسی کیفیت سے دوچار تھا۔

ایک ایسا وقت جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان رایستی تعلقات انتہائی کمزور ہوچکے اور ویزہ بھی بند ہوچکا ہے بلکہ بنگلہ دیش کا ویزہ لینا توامریکی ویزہ پراسس سے بھی مشکل اور ناگزیر ہوچکا ہے۔نوجوانوں کا ایسی آواز پر لبیک کہنا کہ دونوں جانب کی حکومتوں کے کان کھڑے ہوجائیں اور دنوں کا ازلی دشمن نعرے سن کر بدحواس ہوکر سر پٹخ رہا ہو۔۔

۔۔ کہ یہ کیا ہونے جارہا ہے؟ ۔۔۔۔پاکستانی یوتھ کے دل میں بنگالی کیسے گھستے جارہے ہیں۔؟ ہم تو بلوچستان کو الگ کراررہے تھے اور بلوچستان کے خمیر میں گندھی جمہوری وطن پارٹی کا نوجوان لیڈر کامران سعید عثمانی نئی تاریخ رقم کئے جارہا ہے ۔یہ انڈیا جیسے ناگ اور بچھو کے لئے دردناک شام تھی۔
پاک بنگلہ آل پارٹیز کے بینر تلے نوجوانوں نے ٹھونک بجا کر کہا کہ ہمیں بنگالیوں سے معافی مانگنی چاہئے۔

ایک بڑا بھائی ہونے کے ناطے۔ہم ان سے اداس ہیں ۔بنگلہ دیش کے ساتھ ثقافتی۔اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو مضبوط ترین بنانے کے لئے ہمیں ڈھاکہ میں بھی ایسی شاموں سے ولولہ امن برپا کرنا ہوگا۔بھارت نے بنگلہ دیش کا بھی پانی بند کردیا ہے۔اسکے ساتھ ہندو اکثریتی بستیوں کوآباد کرنے جارہا ہے ۔بنگلہ دیش پاکستان سے دور کئے جارہا ہے تو ان حالات میں پاکستان کو آگے بڑھ کر بنگلہ دیش کا ساتھ دینا چاہئے۔

آل پارٹیز میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کو سبق سکھانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے بھائی بنگلہ دیش کو ایٹمی قوت بنانے میں مدد فراہم کرے۔اسکے ساتھ دفاعی معاہدے کرکے اسکو طاقتور بنادے۔جس شیخ مجیب کو غدار کہا اسی کی بیٹی کے دور حکومت میں اسکو سرپرائز دیا جائے اور بتایا جائے کہ چند سیاستدانوں کی غلطیوں کا قصور وار پاکستانی قوم کو نہ گردانا جائے۔

کچھ غلطیاں بنگالیوں نے بھی کیں ، پاکستانی قوم ان کو دہرانا نہیں چاہتی ۔امن اور محبت کے ادھورے خواب کی تکمیل کی خاطر سب بھلا کر ایک ہوجانا چاہئے۔ثقافتی تعلقات سے دونوں ملک پھر سے ایک ہوسکتے ہیں۔
کامران سعید عثمانی نے بڑی زبردست بات کی۔روحانی رشتوں کو خونی رشتوں میں بدلنے کی تجویزدیتے ہوئے اپنا ایجنڈا بتایا کہ ہم اس فورم سے بنگالی اور پاکستانی لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں بھی کرائیں گے۔

تاکہ رشتے زیادہ مضبوط ہوں ۔کامران سعید عثمانی کا یہ ایجنڈا اگر کامیاب ہوجاتا ہے تو بنگالی اور پاکستانی دو ملکوں میں رہتے ہوئے بھی پھر سے ایک قوم بن سکتے ہیں۔مشرقی اور مغربی برلن اگر پھر سے ایک ہوسکتے ہیں تو مشرقی اور مغربی پاکستان کیوں نہیں ایک ہوسکتے۔یہی وہ میجک ہوگا جو بنگلہ دیش کے پندرہ کروڑ مسلمانوں اور پاکستان کے بائیس کروڑ مسلمانوں کو جوڑ کر بھارت میں آباد بتیس کروڑ مسلمانوں کوطاقتور بنا دے گا ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments