اے ربّ الحی القیوم میرے پیر صاحب سے راضی ہوجا

Ee Rab Ul Hayi Ul Qayyum Mere Pir Sahab Se Razi Ho Ja

Shahid Nazir Chaudhry شاہد نذیر چوہدری جمعہ اکتوبر

Ee Rab Ul Hayi Ul Qayyum Mere Pir Sahab Se Razi Ho Ja
لوگ کہتے ہیں کیا آج کے دور میں اللہ کے حقیقی صوفی و ولی موجود ہیں،ہاں میں نے ایک شخص ایسا دیکھا تھاجوعالم بھی کامل بھی اورعامل ،حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت مجدد ثانی کے فلسفہ کا مقلد ۔۔۔۔اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
میرے پیر صاحب جہاں فانی سے یوں کوچ کرگئے ہیں کہ آج سینہ غم سے پھٹا ہوا ہے ،نہ جانے اب یہ کب سیا جائے گا،رستہ رہے گا دل پارہ یونہی بہتا چلا جائے گا۔

یہ خبر ابھی تک ہضم نہیں ہورہی کہ میرے دلبر پیر صاحب اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں ،میرے ہمدم ،میرے غمگسار پیر قبلہ حضرت عابد حسین رضوی سیفی،قطب دوراں ،مفسر قرآن و حدیث ،شہنشاہ جنات ، موجودہ دور میں ایک سادہ ترین اور بے تکلف دوست جو ہر طرح کی ریاکاری سے پاک تھے،کشادہ ظرف ،نظر بیں ،صاحب جودوسخا ،مریدین کو اپنے برابر بیٹھا کر اپنے ہاتھوں سے لقمے کھلا کر،ہنس ہنس کر باتیں کرنے والے مہماں نواز ۔

(جاری ہے)

غیرت دین اورغیرت ضمیر جن کی زندہ و تابندہ تھی،پیر ارچی حضرت سیف الرحمن جو کہ سلسلہ سیفیہ کے بانی تھے ،ان کے اولین خلفا میں سے ممتاز ترین ،سلسلہ سیفیہ کی پاکستان بالخصوص پنجاب میں بنیاد رکھنے اور اسکو مضبوط کرنے میں جنہوں نے ایثار و عشق کی لازوال تاریخ رقم کی،مسلک سنی بریلوی اور دیوبندیوں کو سلسلہ سیفیہ کی مالا میں جنہوں نے پرو دیا اور مسلکی اختلافات کو صوفیت میں رنگ کر ایک کردیا ،بھائی بھائی بنا دیا۔

۔۔۔۔کیا کہوں اپنے پیر صاحب کی شان میں، بخدا،کمال کو پہنچی ہستی تھی، روشن ضمیر،قلب سلیم سے مالا مال تھے، بے پناہ دینی و ملی خدمات ،مشاہدات و کرامات کی کھلی کتاب تھے۔ان کی مدد سے میں نے سلسلہ سیفیہ پر تحقیق شروع کیا اور اس ناچیز کو بھی تصوف کی باریکیوں سے روشناس کرایا،ہتھیلی پر سرسوں جما کردکھاتے تھے وہ، میں نے ان پر سسٹم ٹوڈے میں بہت کچھ لکھا ہے ،کم و بیش تین سال تک لگاتار انکی شخصیت پر لکھا ہے ، سلسلہ سیفیہ کو پوری دنیا میں متعارف کرانے میں ان کا قلم بہت چلا ،ان کی کتابوں سے اہل سیفیہ و صوفیا نے بے پناہ استفادہ کیا ،سلسلہ سیفیہ کوبدعات سے بچانے اور ہر طرح کے غیر شرعی کاموں سے روکنے کے لئے انہوں نے ایک ہاتھ عصا پر رکھا اور دوسرا خطابت پر،اسقدر بے باک تھے کہ صاحبزادگان بھی ان کے سامنے احتراماً خاموش رہتے تھے،ان کی رائے سنتے،وہ طبیب بھی تھے اور کامل عامل بھی،صاحبزادگان مبارک ان سے روحانی و جسمانی علاج بھی کراتے۔

ان کا دم چلتا تھا ،ان کے دم سے سلسلہ کو تابندگی اور اتحاد ملا،صاحبزادگان کی شان کے خلاف کسی کو بولنے کی جرات نہ ہونے دیتے ۔میرے پیر حضرت عابد حسین رضوی سیفی حقیقت میں شیر تھے،نگاہ میں بلندی اور گفتار میں گرج ہوتی تھی۔منافقت نہ کرتے نہ کسی منافق کو برداشت کرتے تھے،اسکی درگت بناڈالتے تھے ،فرماتے تھے ،صوفیت کا داعی منافق نہیں ہوتا ،منافق جتنا بھی علم میں کامل ہوجائے دین اور صوفیت میں خرابی پیدا کرتا ہے،ابلیس اسکی سب سے بڑی مثال ہے۔

پیر صاحب کی صاف گوئی بہت سو ں کو گراں گذرتی تھی۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہوتو فولاد ہے
بخدامیرے پیر صاحب اس شعر کی تفسیر تھے،کوئی لاف زنی نہیں کررہا ،مجھے انہوں نے کبھی بیعت نہیں کیا ۔کہنے پر ،زور لگانے پر بھی نہیں کیا ،فرماتے تھے شاہد تمہیں بیعت کی ضرورت نہیں،اس پر انہوں نے کئی طرح کے دلائل دئیے اس خاکسار کو۔

انہوں نے جو روحانی تربیت فرمائی ،یہ میرے اور ان کے درمیان ایک راز ہے،میں نے اس فیض کو مجسم دیکھا ہے ،اللہ رب العزت کی قسم ،ذکر کی ادائیگی کے لئے ان کا سمجھایا ہوا طریقہ میرے لئے نسخہ کیمیا ہے۔ ان کی تعلیمات نے مجھے بہت سے دنیاوی خوفوں سے نکال دیا ہے۔ ایک کمزور بندے کے لئے یہ کچھ کم عطا نہیں ہے۔اے ربّ الحی القیوم میرے پیر صاحب کی خدمات کو قبول فرما ،اے میرے اللہ پیر صاحب آپ کی رضا کے لئے سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے اور راحتیں محسوس کرتے تھے۔بس اے میرے مولا کریم تو میرے پیر صاحب سے راضی ہوجا ۔ میرے بھائی حافظ عرفان اللہ اورمرید کامل پیر محمد رمضان رضوی سیفی کو حضرت قبلہ کے مشن کو جاری و ساری رکھنے کی توفیق عطا فرما ۔(آمین )
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments