عورت مارچ یا قوم کی تقسیم

Aurat March Ya Qaum Ki Taqseem

Umer Nawaz عمر نواز ہفتہ مارچ

Aurat March Ya Qaum Ki Taqseem
آج ملک میں ایک ہی موضوع زیر بحث ہے وہ عورت مارچ کا ہے کوئی اس کے حق میں ہے تو کوئی اس کے خلاف دلیل دے رہا ہے کیا عورتوں کا یہ دن صرف پاکستان کا دن ہے؟ یا پھر پوری دنیا کا کسی اور ملک میں یہ بحث کیوں نہیں ہورہی یہ ایشو ہمارے ملک میں ٹاپ ٹرینڈ کیوں بنا ہوا ہے۔
 اگر سوشل میڈیا کے اوپر نظر دوڑائیں تو وہاں بھی ایک ہی ایشو ڈسکس ہورہا ہے وہاں تو مان لیا ہر آدمی اپنے ایجنڈے کے لیے کام کررہا ہے اس کا تو کوئی ضابطہ اخلاق نہیں اس کا کوئی قانون نہیں اگر مین سٹریم میڈیا کے اوپر نظر دوڑائیں وہاں بھی ایک ہی چیز کو مسئلہ بنا دیا گیا ہے ایک چینل عورت مارچ کی حمایت کر رہا تو دوسرا مخالفت ،ایک ایڈیٹر مارچ کرنے والوں کے ساتھ کھڑا تو دوسرا مخالف کیا ۔

ہم بحثیت قوم اسی طرح تقسیم ہی رہے گے اگر تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو وہاں بھی اسی کے اوپر طلباء اپنا وقت ضائع کرتے نظر آرہے ہیں بندہ ناچیز جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغیات کا طالب علم ہے میرا ایک کلاس فیلو مجھے یہ کہتا ہے کہ میں اس موضوع کے اوپر مکالمہ کرنا چاہتا ہو کیا میرے پاس اور میرے اس بھائی کے پاس اتنا علم ہے کہ ہم اس کے اوپر بحث کرسکیں۔

(جاری ہے)

 میرا سوال یہ ہے کیوں ہر بار ہم ہی الجھ رہے ہیں؟ کیوں ہم مسئلہ کے حل کی طرف نہیں جاتے عورت مارچ ٹھیک ہے یا غلط اس کا فیصلہ ہم نے نہیں کرنا بلکہ ہمیں سب سے پہلے جو کام کرنا ہے اس کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔غلط اور درست کا فیصلہ قاضی کرتا ہے تماشائی نہیں ہم اس وقت تماشائی بنے ہوئے ہیں کیا ہمارے اس معاشرے میں سب اچھا ہے عورت ایک ماں ہے کیا میری اس ماں کو صحت کی تمام سہولتیں مل رہی ہیں میرے ملک میں برتھ ریٹ کیا ہے سوال تو یہ ہے کیا عورت ایک بہن اور بیٹی ہے کیا اس کو وراثت میں حصہ مل رہا ہے کتنی خواتین ہیں اس ملک میں جن کو وراثت میں حصہ ملا ہے اور کتنی کو نہیں ملا ۔

کیا کبھی اس کے اوپر بھی کسی نے کسی سے کوئی سوال پوچھا ہے؟ عورت ایک بیوی بھی ہے اس کے اوپر بھی کبھی غور کریں کہ اس معاشرے میں طلاق کی شرح کیا ہے عورت کو ملا نے اپنی ڈھال بنایا ہوا ہے اور لبرل نے اپنی ۔لیکن عورت کے لیے کوئی کرکیا رہا ہے بنیادی نقطہ تو یہ ہے ہمیں اس بحث سے پہلے اس کے حل کی طرف جانا چاہیے نا کہ دست و گریبان ہونا چاہیے ۔
آؤ عورت کی تعلیم صحت انصاف اور وراثت میں حق کی طرف قدم بڑھائیں اور یہ عہد کریں کہ کوئی میری بہن تعلیم کے زیور سے محروم نہیں ہوگی اس کے لیے مذہبی اور لبرل دونوں اکھٹے ہونگے عورت کو تعلیم دیں گے اس کے بعد فیصلہ اس عورت کو کرنے دیں کہ اس نے کیا کرنا ہے ہمیں ایک دوسرے سے دست وگریبان نہیں ہونا ہمیں عورت کی فلاح بہبود کے لیے کام کرنا ہے اور فیصلہ عورت نے خود کرنا ہے کون غلط کون ٹھیک اس بات کا فیصلہ نا میڈیا کو کرنا ہے نا معاشرے کو بلکہ تعلیم صحت انصاف ہمیں عورت کو دیکر فیصلہ اس کے اوپر چھوڑنا ہے کیا وجہ ہے کہ ہر بار ہم ہی ایک دوسرے کے خلاف کیوں کھڑے ہوتے ہیں ہم کیوں نہیں ایک موضوع کے اوپر متفق نہیں ہوسکتے؟ کیا ایک خاص ایجنڈے کے تحت ہمیں تقسیم کیا جا رہا ہے کبھی مذہب کی بنیاد پر کبھی لسانی بنیادوں کی بنا پر ہمیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

 کیوں ہم ایک نہیں ہورہے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا نہیں ہمیں ایک دوسرے کو بر بھلا نہیں کہنا بلکہ اپنے ملک کی ترقی کے لیے حصہ ڈالنا ہے یہ ہونا چاہیے ہمارا مقصد
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments