آؤ کتاب کی طرف

Aao Kitab Ki Taraf

Umer Nawaz عمر نواز اتوار مارچ

Aao Kitab Ki Taraf
کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا اس وباء سے متاثر ہوئی ہے وہاں پاکستان بھی اس سے بہت متاثر ہوا ہے تعلیمی ادارے پبلک پلیسیز یہاں تک کہ سب کچھ بند ہے، لیکن عوام کا ایک امتحان ہے جہاں حکومت عوام کے لیے اتنا کچھ کررہی ہے عوام حکومت کی ہدایات کے اوپر کتنا عمل کررہی ہے دفاتر میں چھٹیاں ہونے کے باوجود عوام پھر بھی گھروں میں بیٹھنے کو تیار نہیں ابھی گلیوں اور بازاروں میں اسی طرح رش ہے ہمیں ایک مہذہب قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہیے اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ خود بھی محفوظ اور اردگرد کا معاشرہ بھی محفوظ۔

جہاں کرونا نے انسان کو متاثر کیا ہے وہاں انسان کو کچھ سیکھنا بھی چاہیے ہمارے کتنے لوگ ہیں جو کتاب پڑھتے ہیں کتنی تعداد ہے جس کو کتاب پڑھنے کا اور کتابیں خریدنے کا شوق ہے۔

(جاری ہے)


 آج کتابیں فٹ پاتھ کے اوپر رکھ کر فروخت کی جارہی ہیں اور جوتے ایک اچھی دکان کے اندر سجا کر فروخت کیے جارہے ہیں یہاں سوال یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کس چیز کی اہمیت ہے؟ کون سی چیز سجاوٹ کے ساتھ فروخت کی جارہی ہے کتنے لوگ ہیں ایک دن میں جو ایک کتاب پڑھتے ہیں جو ایک ہفتہ میں پڑھتے ہیں اور جو ایک مہینہ میں پڑھتے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق ہمارے تیس فیصد پارلیمنٹ ممبران لائبریری میں آج تک گئے ہی نہیں اور سینٹ آف پاکستان کے 104 میں سے 30ارکان ایسے ہیں جن کو کتاب پڑھنے کا بلکل شوق ہی نہیں اور نا وہ کبھی لائبریری جاتے ہیں ۔

جب ہم کتاب سے اتنے دور ہوں گے تو ہمارے حالات کیسے سدھرے گے آج جب لوگوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور اپنی حفاظت کریں تو ان کا آگے سے سوال یہ ہوتا ہے کہ گھر میں بیٹھ کر کیا کریں ہم تو گھر میں بیٹھ کر بیمار ہوجاتے ہیں کتنے فیصد لوگ ہیں جنہوں نے کتابیں اس لیے خریدی ہوں کہ ہم کتابیں پڑھنے میں اپناوقت گزاریں گے ناکہ گلیوں اور بازاروں میں عوام نے ضروریات زندگی کی جہاں دوسری چیزیں محفوظ کی ہیں کہ کہیں لاک ڈاؤن نا ہوجائے کیا وہاں کسی نے کتابیں بھی خریدیں ہیں کہ ہم اکیلے بیٹھ کر کتابیں پڑھیں؟ 
کتاب سے اتنی دوری کیوں کہتے ہیں کتاب انسان کا بہترین ساتھی ہے لیکن ہمارے اس ملک میں کتنے فیصد عوام ہیں جو اس کو سچ سمجھتے ہیں جو ہر مہینے میں جہاں دوسری ضروریات زندگی کی چیزیں خریدتے وہاں کتابیں بھی خریدتے ہیں کیا؟ بندہ ناچیز خود ایک جامعہ کا طالب علم ہے میں جب بھی اپنے کلاس فیلوکے ساتھ بیٹھتا ہوں تو اگر کسی کتاب کے اوپر کوئی بات ہو تو کوئی بھی ساتھی اس پر بات نہیں کرتا اگر کسی سے یہ پوچھاجائے کہ آخری مرتبہ کون سی کتاب پڑھی تھی اور کب پڑھی تھی تو آگے سے جواب یہ ہوتا ہے نہیں کون سی کتاب تھی اور کب پڑھی تھی بعض تو ایسے بھی دوست ہیں جن کو یہ کہاجائے کہ کتاب خریدنے چلیں تو ان کا آگے سے جواب یہ ہوتا ہے پاگل ہو فضول کی کتابیں خرید کر پیسہ ضائع کرنے ہیں کچھ اور چیز خرید لو اگر ہم کتاب پڑھنے کے عادی ہوتے تو آج ہم یہ نا کہتے کہ ہم اکیلے بیٹھ کر کیا کریں ہمارے گلیوں اور بازاروں میں اس طرح ہجوم نا ہوتا آؤ آج بھی عہد کرو کہ ہم کتاب پڑھیں گے اور آج کرونا وائرس کی وجہ سے یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ کتاب انسان کی بہترین ساتھی ہے جو کتاب سے محبت کرتے ہیں ان کے پاس گھر میں بیٹھ کر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments