یہ تماشا ھو بھی سکتا ھے مستقل

Yeh Tamasha Ho Bhi Sakta Hai Mustaqil

Zain Ul Abideen زین العابدین پیر اکتوبر

Yeh Tamasha Ho Bhi Sakta Hai Mustaqil
یہ دنیا ھے یہاں پہ یہ تماشا ھو بھی سکتا ھے
ابھی تو غم ھمارا ھے تمہارا ھو بھی سکتا ھے

جب سے مولانا صاحب نے 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کیا تو حکومت کے ایوانوں میں ھل چل سی مچ گئی. مولانا کا دعوی ھے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا ایک ریلا آۓ گا جو آزادی مارچ میں شریک ھو گا اور حکومت کا تختہ الٹ کے رکھ دے گا.

آزادی مارچ کی تیاریاں جاری ھیں. دوسری طرف حکومت کے کارکنان اور نمائندے طرح طرح کے بیانات دے رھے ھیں. کبھی کہتے ھیں مولانا اسلام آباد نہیں آئیں گے کبھی کہتے ھیں مولانا کو اسلام آباد کی طرف نکلنے سے قبل ھی روک دیا جاۓ گا. مگر مولانا کے چہرے پر اطمینان کی وہ کیفیت ھے کہ جیسے انھیں پورا یقین ھے کہ وہ آسانی سے اس حکومت کو چلتا کر کے دکھائیں گے.
ملک کی حالیہ صورتحال بڑی نازک ھے.

معشیت انتہائی کمزور ھو چکی ھے. عوام مہنگائی کے سونامی میں پھنسی ھوئی ھے.جو توقعات عوام کو حکومت سے تھیں انکا ذرا حصہ بھی نظر نہیں آیا لوگ اس قدر اس حکومت سے بیزار ھو گۓ کہ وہ یہ نعرہ لگانے لگے کہ چور منظور ھیں مگر عمران خان ھر گز قبول نہیں.ملک کی اندرونی صورتحال تو یہ ھے مگر دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم جاری ھے. کئی لوگ اس بات کا خدشہ ظاھر کر رھے ھیں کہ مولانا کے دھرنے کے دوران انڈیا حملہ بھی کر سکتا ھے مگر مولانا کے مطابق تو خریدار اور فروخت کرنے والے کے درمیان ھر گز جنگ نہیں ھوتی لہذا مولانا نے ھر صورت میں آزادی مارچ کا عزم کر رکھا ھے.

مولانا سے جب سوال ھوا کہ اگر آپ کو گرفتار کر لیا گیا تو کیا ھو گا مولانا پھر بھی مطمئن نظر آۓ اور کہا کہ دھرنے پہ اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا. کچھ لوگ مولانا کے دھرنے کا عمران خان کے ڈی چوک میں دیے گۓ دھرنے سے موازنہ کر رھے ھیں مگر انھیں اس بات کا علم ھونا چاہیۓ کہ مولانا اور انکے جانثار عزم میں انتہائی پختہ ھیں. مولانا کا کارکن ھر نوجوان مولانا کو اپنا سیاسی قائد  کے ساتھ ساتھ مذہبی قائد بھی تسلیم کرتا ھے جس کی وجہ سے وہ مولانا پہ جان بھی قربان کرنے کو تیار ھے
مسیحا ھو اگر تم سا ضرورت کیا ھے مرھم کی
کہ کانٹوں سے بھی زخموں کی جراحت ھو ھی جاتی ھے
لہذا دھرنا تو عمران  خان کا بھی تھا جو  حکومت کے خلاف ڈی چوک میں 126 دن تک جاری رھا جسکا حکومت پہ کچھ اثر نہیں پڑا  مگر مولانا کا دھرنا "چیز_دیگر است".

اگر مولانا اسلام آباد میں پہنچ گۓ تو یقینا حکومت گرانے میں کامیاب ھو سکتے ھیں. اگرچہ چند علماء نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ھوۓ مولانا سے دھرنا مؤخر کرنے یا دھرنا نہ دینے کی درخواست کی مگر ان علماء کی سیاست کے میدان میں مولانا کے مقابل  کوئی حیثیت حاصل نہیں. دین اور سیاست کے میدان میں مولانا منفرد پہچان رکھتے ھیں.
جوں جوں 27 اکتوبر قریب آ رھا ھے ملک میں گہما گہمی بڑھ رھی ھے .آھستہ آھستہ مختلف طبقاتی فکر کے لوگ مولانا کی حمایت کا اعلان کر رھے ھیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ دو بڑی سیاسی جماعتیں بھی مولانا کے ساتھ ھیں.تبدیلی کچھ ایسے آئی ھے کہ پانچ سال پہلے جہاں گو نواز گو کے نعرے لگ رھے تھے اب وھاں عنقریب گو نیازی گو کے نعروں سے فضا گونج اٹھے گی

(جاری ہے)


© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments