"کرونا "میں ایسا کرو ناں۔۔۔۔

Corona Main Aaisa Karo Na

Zakia Nayyar ذکیہ نیر جمعرات مارچ

Corona Main Aaisa Karo Na
چین سے شروع ہونے والی عالمی وبا نے ساری دنیا کو لپیٹ میں لے لیابڑے سے بڑے سائنسدان بیماری کو سمجھنے اور اسکی ویکسین بنانے میں  فی الحال کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے پڑوسی ہوتے ہوئے بھی ہماری یہ خوش نصیبی ہے کہ ہم تک یہ وبا تب پہنچی جب یہ پورے یورپ میں پھیل چکی تھی شاید یہ بیماری بھی ہمارے مزاجوں سے آشنا تھی جب یہ چین کے صوبے وہان میں تھی تو سوشل میڈیا سے لیکر گلی کے ہر نکڑ تک پاکستانی اسے غیر مسلموں پر اللہ کا عذاب قرار دیتے رہے کچھ نے کہا وہ حرام کھاتے ہیں کچھ کی منطق انکی عورتیں بے نقاب ہیں اور کچھ بڑے بوڑھوں نے اسے نہ ختم ہونے والی آزمائش بنا ڈالاخیر ہم چینیوں پر نقطہ چینیوں میں مصروف تھے کہ دوسرے پڑوسی ایران نے زائرین کے ہاتھ ہمیں یہ تحفہ بھیج دیا جسے وفاقی حکومت  کی لاپرواہی کہیے یا بلوچستان حکومت کی نالائقی یہ جانتے بوجھتے کہ ایران میں  اس وائرس کے حملے سے کئی جانوں سے گئے پھر بھی زائرین کو اپنے اپنے شہریوں کو روانہ کر دیا جس سے سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا کئی زائرین کو کے پی کے بھی روانہ کر دیا۔

(جاری ہے)

۔ہوش تب آیا جب پلے کچھ نہ بچا پھر قرطینہ سینٹر بھی بنے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی لگی  خیر ہماری گڈ لک ہے کہ اس بیماری کے نتیجے میں ڈیتھ ریشو کم ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زخیرہ اندوزی کے ماہر بھی متحرک ہوئے پھر ما سک اور سینیٹائزر سمیت وبا میں ضروری احتیاط کی اشیا فارمیسی سے غائب ہوگئیں جن دکانوں ہر یہ چیزیں موجود ہیں وہ ڈبل کیا ٹرپل قیمتوں پر شہریوں کو بیچ رہے ہیں ڈھٹائی اور موقع پرستی کا یہ عالم ہے کہ نہ دل میں خوف خدا اور نہ ہی چہرے پر شرمندگی کے کوئی اکا دکا آثار۔

۔۔۔اگر کسی میں کرونا کی علامات ظاہر بھی ہونے لگیں تو وہ ہسپتالوں میں کیسے جائے کیونکہ ٹیسٹ کے نام ہر ہزاروں بٹورے جارہے ہیں ایسے میں  انتظامیہ بھی خاموشی سے تماشا دیکھی جارہی ہے جو کمی رہ گئی تھی وہ وزیر اعظم  صاحب نے اپنے خطاب میں پوری کر دی کہ "جاگتے رہنا ہم پہ نہ رہنا"ایسے میں ہم "کرونا"سے ہی التجا کرسکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسے کروناں اور چپ چاپ یہاں سے چلو ناں......
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments