رحم یا وزیراعظم رحم

Reham Ya Wazir E Azam Reham

Zakia Nayyar ذکیہ نیر بدھ مارچ

Reham Ya Wazir E Azam Reham
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں نے کرونا جیسی جان لیوا وبا کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل استعمال کر لیے مگر خاتمہ ناممکن۔۔مگر چینیوں نے وبا سے نمٹنے کے لیے جو طرز زندگی اپنایا اس نے نا صرف وہاں سے کرونا جیسی بیماری کا خاتمہ کردیا بلکہ دنیا کی دیگر قوموں کے لیے بھی نہایت آسان اور قابل عمل مثال قائم کی۔۔۔اور وہ طرز زندگی کیاہے کہ وبا جب پھوٹ پڑے تو صفائی ستھرائی کا خیال رکھو اور خودکو کچھ عرصے تک اپنے گھر تک محدود کردو۔

۔۔۔کچھ ملکوں نے شروع میں غلطی کی مگر جب مریض بڑھتے چلے گئے اور نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوا تو انہوں نے بھی چین کی طرز پر مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو لگائے جبکہ وہاں صحت کی سہولیات ہم سے کئی زیادہ ہیں۔
مگر ہم ٹھہرے پاکستانی! وبا چین میں تھی تو انکی بے دینی کا بے تکا مذاق اڑاتے رہے اور جب ہم تک پہنچی بذریعہ ایران تو احتیاط برتنے اور سنجیدہ ہونے کے بجائے اسکے دیسی علاج اور ٹوٹکے دریافت کرتے رہے پھر کہیں کرونا کا علاج میٹھا خربوزہ ہوا تو کہیں پوست کے ڈوڈوں کو اسکا آخری حل قرار دیا کہیں گلی نکڑ پر تھڑا سجائے حکیم نے کرونا جیسی وبا کا ٹریٹمنٹ پیاز سے کرنے کا چیلینج دیا تو کہیں ناگی مرشد نے جھاڑو کے ایک پھیر سے اسے بھگانے کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

۔۔اور تو اور ''کرونا پکوڑے'' بھی دستر خوان پر سجنے لگے مگر سب سے ضروری احتیاط کہ گھر پر بیٹھ کر اس بیماری کو شکست دیں اور اسے پھیلنے سے روکیں اس قوم کے لیے انتہائی مشکل عمل تھا تبھی تو لاک ڈاؤن کے دوران کئی گھروں کے چوہدری سڑکوں گلیوں اور محلوں میں پولیس کے ہاتھوں ککڑ بنے نظر آئے۔۔۔
غیر سنجیدگی اور بے خوفی کے سارے ریکارڈ تب ٹوٹے جب سکھر قرنطینہ سینٹر سے کرونا افیکٹڈ فرار ہوگئے آج پولیس اور رینجرز نے زائرین سے بھرا ایک ٹرک بھی پکڑا جنہیں اپنے شہروں میں خفیہ طور پر بھیجا جارہا تھا۔

اب خدا ہی اس قوم پر رحم کرے تو کرے ورنہ خدا نخواستہ تباہی میں انہوں نے اٹلی سے بھی بازی لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی۔۔۔
دوسری طرف وزیراعظم کی بھی ضد کہ ملک کو نہ مکمل لاک ڈاؤن کرنا ہے نہ کرفیو لگانا ہے ورنہ معیشت تباہ ہوجائے گی تو جناب وزیراعظم صاحب کرونا وبا ہے اور جب تک لوگ گھروں میں محدود نہیں رہینگے یہ پھیلے گی تب محدود اور ناکافی وسائل میں آپ کس کس کو بچائیں گے کیسے جنگ جیتیں گے اس وائرس کے خلاف؟ پہلے بھی سرحدیں بند نہ کر کے غلطی کر چکے اب مزید رسک نہ لیجیے کیونکہ لوگوں سے آپکی التجا کہ ''گھروں میں رہیں'' بے اثر ہے اگر اثر ہوتا تو چین کیطرح اب تک قوم احساس ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے آپکی درخوست پر عمل کر چکے ہوتے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ حالات اتنے سنجیدہ نہیں اگر ہوتے تو کرفیو لگ چکا ہوتا۔

۔۔اب آپ ہی بتائیے اس قوم کو کنٹرول کر کے کرونا کو کنٹرول کرنے کے لیے آخری حل کیا ہے۔۔۔۔؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments