ہم مسلمان ہیں؟

Hum Musalman Hain

زوہیب خٹک جمعہ مئی

Hum Musalman Hain
جی ہاں ہم مسلمان ہیں لیکن برائے نام۔ آئے روز دِلخراش خبریں پڑھ کر معاشرے کا جائزہ لیں تو روح شرمسار ہو جاتی ہے۔ کیا ہم واقعی اُسی مذہب کے ماننے والے ہیں جو راستے سے پتھر ہٹانے پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بھی اجر و ثواب دیتا ہے۔
جہیز کم لانے پر نئی نویلی دلہن کو تشدد سے لہو لہان کر دیا گیا۔ ٹھنڈی روٹی پیش کرنے پر بیوی کو گولی مار دی گئی۔

آٹھ سالہ بچی کو صرف اس لیے گولی مار دی گئی کہ میرا روزہ ہے کھیل کود سے شور شرابہ کیوں کیا۔ جنسی حوس پوری کرنے کے لیے دو سال چار سال بچے بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنا کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا۔
 یہ میرے اُس مادرِ وطن کی خبریں ہیں جس کی کم و بیش نوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ حج و عمرہ کی سعادتیں حاصل کرنے میں دنیا کے پچاس اسلامی ممالک میں ہم دوسرے نمبر پر ہیں لیکن ایمانداری کی فہرست میں پہلے سو ممالک میں بھی ہمارا نام و نشان نہیں۔

(جاری ہے)

 
اشیائے خوردونوش کیا کم تھیں جو دواؤں میں ملاوٹ اور تو اور بلڈ بینک کے خون میں بھی ہم نے ملاوٹ کر دی۔ ایصالِ ثواب کے لیے لگایا گیا پانی کا کولر اور اس کے ساتھ زنجیر سے بندھا پانی کا گلاس ہماری منہس القوم اخلاقیات اور ایمانداری کے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
رمضان کا مہینہ آتا ہے تو غیر اسلامی ممالک اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں اور ہم دوگنی کر دیتے ہیں۔

ناجائز منافع خوری زخیرہ اندوزی اور ملاوٹ ہماری تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
 حکمرانوں سے کیسا شکوہ وہ تو اپنی عوام کا عکس ہوتے ہیں۔ ہم ہی میں سے نکل کر وہ حکمران بنتے ہیں۔ پھر جیسے ہم ویسے حکمران تو کیا ہی اچھا ہو ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ کیا ریڑھی والا گندے ٹماٹر دھوکے سے بیچ کر کرپشن نہیں کرتا۔؟ کیا سرکاری ملازم اپنی ڈیوٹی سے انصاف کرتا ہے۔

؟ کیا دیہاڑی دار مزدور جان بوجھ کر دیر سے کام ختم نہیں کرتا کہ دیہاڑی زیادہ لگ جائے۔؟ کیا عدالتوں میں انصاف میسر ہے۔؟
 الغرض سوال بہت ہیں پر جواب نہیں۔ مجھے کہا جاتا ہے تلخ کیوں لکھتے ہیں اچھائیاں کیوں بیان نہیں کرتے۔؟ یعنی دلیل یہ ہے کہ میں اپنے ظاہری حسن و جمال پر ناز کرتا رہوں لیکن میرے اندر جو کینسر زدہ معاشرہ پروان چڑھ رہا ہے اس کا تزکرہ نا کروں اُن امراض کی دوا نا کروں۔

اور غیبی طور پر صحت یاب ہو جاؤں۔؟ 
نہیں صاحب ہمیں نا چاہتے ہوئے بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔ تاریخ میں جن قوموں پر زوال یا عزاب آئے ان میں سب نا گناہگار تھے نا ہی ہر گناہ کرتے تھے۔ بس ایک جرم ایک گناہ سے اللہ کی پکڑ میں آئے اور نیست و نابود ہوگئے۔ 
یہ تو ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے صدقے بچے ہوئے ہیں ورنا کون سا جرم کون سا کبیرہ گناہ ہے جو ہم میں نہیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہمیں اجتمائی توبہ کے ساتھ اپنے لاتعداد امراض کی دوا بھی کرنی پڑے گی۔ ورنہ تباہی ہمارا مقدر ہے۔ اللہ وطنِ عزیز پر رحم فرمائے اور ہم سب کو ہدایت نصیب کرے۔ 
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments