اُردو پوائنٹ کتابیں آپ بیتیسچ کا سفر

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

تعارف
پاکستان کے نوجوانوں کے نام.....
میں کون ہوں اور مجھے یہ کتا ب سپردِ قلم کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یہ کتاب میری زندگی کے نشیب وفراز کی گواہ اوربھرپور عکاس ہے، اسے میں نے اسی بھرپور جوش، توانا جذبے اور خوش امیدی سے سرشار ہو کر تحریر کیا ہے جن کے سہارے میں نے اپنی ہمہ رنگ اور متنوع زندگی بسر کی ہے۔ ایک ایسی زندگی جو خیر خواہوں کے جھرمٹ اور بدخواہوں کے ہجوم میں گھری ہوئی تھی۔ ایک طرف دنیا کی خوش رنگ رعنائیاں مجھے مہمیز دے رہی تھیں تو دوسری جانب اس کی منفی توانائیاں قدم قدم اور سانس سانس میری راہ میں پہاڑ بن کر کھڑی تھیں۔ اس کے باوجود میں شاہراہ زندگی پر رواں دواں رہا۔ میں رکا نہیں… ٹھہرا نہیں… ٹھٹکا نہیں…اور… بھٹکانہیں۔ نتیجتاً اپنے اہداف تک رسائی کی منزل میں نے بخیر و خوبی سر کی۔ میں نے زندگی کا سفر کامیابی سے طے کیا۔ میں یہ سب کچھ اَن تھک محنت اور جہد مسلسل کی بدولت حاصل کرنے میں کامران رہا۔ اِسی تناظر میں اپنی اس کتاب کو اس ملک ِپاکستان کے نوجوان مرد و خواتین کے نام کرتا ہوں جو جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ میر ی دعا ہے کہ میری یہ کتاب انہیں شعورو ادراک کی روشنی عطاکرے۔ میری یہ بھی دعاہے کہ میری یہ کوشش زندگی کے ہرنشیب و فراز میں ان کے لیے رہنما اور مددگار ثابت ہو۔ میری یہ دلی خواہش اور تمنا ہے کہ یہ کتاب مایوسی میں گھرے نوجوانوں کے لیے امید کی روشنی ثابت ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ اُمید اور رجائیت کی وہ کرن جس سے میرا من منور ہے، نوجوانوں کو ایک بہتر پاکستان اور روشن مستقبل کی نوید سے ہمکنار کرے۔ ایک ایسا بہتر پاکستان اور روشن مستقبل جہاں 20 کروڑ انسان عادلانہ، صاف ستھرے اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے سرگرم عمل ہوں کیوں کہ یہ ان کا استحقاق ہے۔
یادداشتیں بالعموم زندگی کی فتوحات کے ذکر پر مبنی ہوتی ہیں۔ میں اس کتاب کو اپنی کامیابیوں کا اشتہار نہیں بنانا چاہتا بلکہ اس کتاب کے ذریعے اپنے ملک، عوام اور سب سے بڑھ کر خدائے بزرگ و برتر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے میری آرزووٴں، امنگوں اور نیک خواہشات کے صدقے مجھے میرے استحقاق سے کہیں بڑھ کر اپنی عنایات اور نعمتوں سے نوازا۔میں لاکھ کوشش بھی کروں تو اس عطا کرنے والے رحیم وکریم رب کا شکر ادا نہیں کرسکتا۔
اگر پاکستان کے حالات سازگار ، حکمرانوں کے عزائم مخلصانہ اور اقدامات عوام دوست اور ریاست نواز ہوتے تو اس مملکت کے عوام کی زندگی کہیں آسودہ اور خوشحال ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی صورت حال اتنی خوشگوار نہیں رہی۔ یہ کتاب محض میری کامیابیوں اور کاروباری فتوحات کی البم اور مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے کاروباری شخص کی داستانِ حیات ہے جسے ایک کاروباری ادارہ قائم کرنے کے لیے بدعنوان سیاستدانوں، آمر حکمرانوں اور حالات کے جبرکے خلاف سینہ سپر ہونا پڑا۔
میرا ایمان ہے کہ کسی بھی کاروباری ادارے کے قیام و استحکام اور فروغ کی اوّلین شرط اور حتمی ضمانت شفافیت ہے۔ شفافیت ہی کی کوکھ سے روزگار کے فروغ کے مواقع جنم لیتے ہیں۔ شفافیت اور مواقع، وہ عناصر نہیں جو سیاستدانوں اور آمروں کو ان کی عوامی زندگی میں درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شفافیت کے ذریعے روزگار کے پُرکشش مواقع کی تخلیق کبھی بدعنوان سیاستدانوں اور آمروں کی اولین ترجیح نہیں رہی۔ وہ ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ملازمتوں کی فراہمی کے نعرے لگا کر نوجوان نسل کو سیاسی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ محض جھانسا دیتے اور خوش نما وعدے کرتے ہیں۔وہ جان بوجھ کر روزگار اور ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں کرتے تا کہ معاشرے میں غربت پھیلے اور وہ ”غربت مکاوٴ“ جیسے سستے اور جذباتی نعرے لگا کر اپنے مخفی مقاصد حاصل کر سکیں اور سیاسی دکان داری چلا سکیں۔مقام افسوس کہ گزشتہ ساڑھے چھے عشروں سے زائد عرصے سے پاکستان کا مقدر یہی ناخوشگوار صورت حال بنی رہی ہے۔
مجھے مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ میرا گھرانہ گزشتہ سات نسلوں سے پاکستان میں مقیم ہے۔میں جب یہ کہتا ہوں کہ میری شعوری زندگی نے ایک آزاد قوم کے فرد کی حیثیت سے پاکستان کی تاریخ رقم کی تو یقینا یہ کوئی مبالغہ اور خود ستائشی نہیں۔ میں اس سوہنی دھرتی کی تاریخ کے معاشی عروج و انحطاط، سماجی نشیب و فراز، کھیلوں کے شعبے میں کامیابیوں اور ناکامیوں اور عاقبت نااندیش حکمرانوں کی پیدا کردہ کساد بازاریوں کا چشم دید گواہ ہوں۔ میں پاکستانی عوام کے معصوم خوابوں، اُن کے باطن میں جنم لینے والے بے نام خدشوں اور بھیانک ڈراوٴنے خوابوں سے پیدا ہونے والے محسوسات اور خیالات سے بھی بخوبی آگاہ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں پاکستان کے بغیر کچھ نہیں۔ میں اس ملک اور اس کی تاریخ سے محض اس لیے واقف نہیں ہوں کہ میں یہاں پیدا ہوا یا مجھے اس ملک سے پیارہے بلکہ اس ملک اوراس کی تاریخ سے میں اس لیے آشنا ہوں کہ میں اس ملک کے قدم بہ قدم اور شانہ بہ شانہ پلا بڑھا اور جوان ہوا۔اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اور پاکستان ہم عمر ہیں۔
1947ء میں پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا اور اس کے قیام کے ساتھ کروڑوں عوام کی سنہری توقعات اور آرزوئیں وابستہ تھیں۔ یہ انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال خطہ تھا اور یہاں اَن گنت زرعی وسائل بھی تھے۔ یہ صنعتی بنیاد کا حامل اور معدنی ذخائرسے بھرپورملک تھا۔اس کے پاس کراچی میں دوسری عالمگیر جنگ کے بعد وجود میں آنے والے ایشیا کی ایک نہایت ہی شانداربندرگاہ تھی۔ کراچی اس نوزائیدہ مملکت کا ایک اہم شہر تھا،جو رنگوں، روشنیوں، گیتوں اور خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ اس کے شہری اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ تھے اور وہ جواں ہمت بھی تھے اور ایک ایسا ملک تعمیرکرنے کے لیے پُرعزم تھے جہاں کسی بھی پس منظرسے قطع نظر امیرو غریب، تمام شہری یکساں احساس تحفظ کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ متحد تھے اور کراچی کو منی پاکستان کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ تب یہاں کسی قسم کا کوئی تعصب اور نفرت نہیں تھی۔ محب وطن شہریوں کی خواہش تھی کہ یہ شہر یونہی محبتوں کا مٹھن کوٹ بنا رہے۔ یہ اُن کی خواہش بھی تھی اور خواب بھی۔
بدقسمتی سے یہ خواب محض جزوی طور پرشرمندہٴ تعبیر ہوا۔ آج پاکستان کو تعلقات عامہ کے لحاظ سے بڑی مشکلات اورمسائل کا سامنا ہے اور عالمی سطح پر اب تشدد، عدم استحکام، گہری جڑیں رکھنے والی بدعنوانی، بیروزگاری کے مہیب سائے، بجلی کی بندش اورمعاشی انحطاط ہی اس کی پہچان ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ میرے ملک کا یہ تشخص کیوں بنا؟ گزشتہ 40برس سے ہمسایہ ملک افغانستان میں بحرانی صورتِ حال پاکستان کے لیے مصائب اور پریشانیوں کا باعث بنی ہوئی ہے۔ 1979ء میں افغانستان پرسوویت یونین اور2001ء میں امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یکے بعد دیگرے حملوں کے باعث پاکستان ان قوتوں کاتختہ مشق بنا رہا ہے جس کی وجہ سے وسائل وذرائع، معاشی استحکام اور امن و امان کے شعبوں میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانا پڑے۔خواہ یہ نقصان 30لاکھ افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال ہویاپھرگولیوں، بموں، دہشت گردی اور خود کش حملوں کے ذریعے ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کی زندگیوں کے تلف ہونے کی شکل میں ہو۔یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قربانیاں پیش کی ہیں۔
دنیاکی سپر پاورز کے لیے 1979ء کی جنگِ افغانستان ا وروہ جنگیں جن کا آغاز 2001ء میں ہوا، محض شطرنج کی بھرپور چالیں ہیں۔ اگر مجھے اشارے کنایے میں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو ایک ویڈیو یا کمپیوٹر گیم کے مانندمنظرنامے پر ایک نامانوس اور اجنبی کھیل کھیلاجارہا ہے۔ اس کھیل کا مقصد پاکستان کو ایک میدانِ جنگ کا روپ دینا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ جنگیں اور لڑائیاں عملی اور جذباتی طور پر نقصان دہ ہیں۔ ان طویل جنگوں اور لڑائیوں نے ہمارے عوام کی دو نسلوں کی توانائیاں نگل لی ہیں۔ ان تمام حالات کانتیجہ یہ برآمد ہواکہ پاکستان کا تشخص عالمی سطح پر مجروح ہوا۔ یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ پاک سرزمین دنیا کے منظرنامے پر ایک ایسی مجروح اور مسخ شدہ شکل میں ابھری جس کا کسی سچے پاکستانی اور اسلام کے حقیقی پیرو کار نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
ہم اس ناپسندیدہ صورتِ حال تک کیسے پہنچے اورہم کس طرح اس صورتِ حال سے باہرنکل سکتے ہیں؟ یہی سوالات میں نے اس کتاب میں اٹھائے ہیں اور اپنی زندگی کے مشاہدات اورپیشہ ورانہ تجربات کے ذریعے ان سوالات کاجواب تلاش کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔مجھے اعتراف کرنے میں کوئی مشکل نہیں کہ میں کوئی دانشور نہیں۔ میں نے دنیا کے متعلق کتابوں اور ڈاکٹریٹ کے مقالوں کے ذریعے نہیں سیکھا۔ میں نے عملی تجربات کے ذریعے دنیاسے آشنائی حاصل کی۔ میں نے بلوچستان کے ٹھنڈے صحراؤں میں ٹرکوں کے عقبی حصے میں بھی نیند کا ذائقہ چکھا ہے اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے کمروں میں بھی سویا ہوں۔ الحمد للہ! مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے ان دونوں تجربات سے علم اورآگاہی حاصل کی اور میں نے خود پر سیکھنے اورعلم کے حصول کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔بلاشبہ اگرآپ نبی اکرم حضرت محمدﷺ کی تعلیمات پر عمل پیراہوں، مادی آسائشوں کو ترک کر دیں اور اپنی روح کی بالیدگی پرہی اپنی توجہ مرکوز کریں، توپھراس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ خواہ کھلے آسمان تلے سوئیں، ایسے صحرا میں سوئیں جہاں حالت نیند میں ریت آپ کے چہرے پرپڑرہی ہو یا پھر کسی ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں نرم گدے پرمحو استراحت ہوں۔
میں یہ کتاب اس لیے نہیں لکھ رہا کہ آپ کویہ بتایاجائے کہ میں نے صحراسے ہوٹل کے کمرے تک کاسفرکیسے طے کیا، انتہائی منکسراور متوسط طبقے کے ایک فرد سے ایسا مقام کیسے حاصل کیا جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مجھے ہرچیزباافراط حاصل ہے۔ اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر فخر کیا جائے یا پھر اس حوالے سے کچھ تحریر کیا جائے۔یہ سب کچھ بے سود ہی ہے۔میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا کہ میں اگرچہ بہت سی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ وابستہ رہا لیکن جو ادارہ میرے لیے انتہائی طمانیت کا باعث ہے، وہ ہاشوفاؤنڈیشن ہے، جس کی چیئرپرسن میری بیٹی سارہ ہاشوانی ہے۔اس فاؤنڈیشن نے بے شمارشعبہ ہائے زندگی، تعلیم، صحت عامہ، دودھ اور دودھ سے بنی اشیاکی تیاری اورشہدکے حصول کے لیے شہدکی مکھیوں کی پرورش جیسے شعبوں میں کام کیاہے۔ اس فاؤنڈیشن نے پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے لیے ہنرمندانہ مہارتوں کی تربیت کے کامیاب منصوبوں میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ ہاشو فاؤنڈیشن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے غربت کے خلاف جنگ کے دوران محروم طبقوں کو اپنی زندگیاں بہتر بنانے کا گر سکھایا اوراس ضمن میں تقریباً نصف ملین افرادکومددفراہم کر کے انہیں اپنے پاوٴں پر کھڑا کیا۔
مجھے ہاشوفاؤنڈیشن کی کامیابیوں کی مدح سرائی کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔ بلاشبہ میں اپنی اس خاص حیثیت اورخاص مقام کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے علاوہ پاکستانی بھائیوں اوربہنوں کی مدد کے لیے منتخب کیا۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ میں نے یہ کام، نام اور حیثیت بنانے کے لیے ہرگز نہیں کیااوراس حقیقت کے باوجود دوستوں کا اصرار تھا کہ میں اس کتاب میں ہاشو فاؤنڈیشن اور اس کی انسان دوست سرگرمیوں کے متعلق ذکر کروں مگر میرامقصد یہ ہرگز نہیں ہے۔یہ کام تومحض باطنی تسکین اورگہری طمانیت کے لیے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کو جواب دہی اور اس کے حضور اظہار تشکر ہے۔ اسی طرح مجھے یہ بھی کہنا چاہیے کہ میری پیشہ ورانہ زندگی اورجوکمپنیاں اور کاروباری ادارے میں نے قائم کیے اور جو میری نگرانی میں چلتے ہیں، مجھے طمانیت اور تسکین مہیا کرتے ہیں کیوں کہ کسی نہ کسی طرح یہ کمپنیاں اور کاروبار، میرے ساتھی انسانوں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ میرے ان اداروں سے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، مقامی معیشت کی نشوونما ہوتی ہے اور ان ہوٹلوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے ان عام آدمیوں کا معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی کاروبار کا یہی حتمی مقصد ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری نظام کی غرض و غایت اور اس کا نچوڑ ہے۔ میرے غیر مسلم دوست یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ اسلامی تعلیمات کا بھی خلاصہ یہی ہے۔
مجھے کسی مشہور مینجمنٹ سکول جانے اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ایک اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کا ”شرف“ حاصل نہیں ہوا۔ میں نے اپنے تجربات کے ذریعے مینجمنٹ کے طریقے اور کاروباری رموز سیکھے۔ اس ضمن میں اگر کسی چیز کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس سے میں متاثر ہوا اور میں نے تحریک حاصل کی، وہ اللہ کی عظیم کتاب قرآن عالی شان ہے… یہ عقل و دانش اور حکمت کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ اس کا میں اکثر مطالعہ کرتا ہوں اور اس کے مطالعہ سے ہر بار مجھے مزید ذہنی سکون اور طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری ایک چیز جس سے میں متاثر ہوا اور میں نے اپنی زندگی میں اس سے کامل رہنمائی حاصل کی، وہ دین کامل اسلام ہے، جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس کے متعلق مجھے تعلیم دی گئی کہ اسے ہی میری عقیدت کا مرکز ہونا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ مجھے اپنی جان سے بھی عزیز ہے حالاں کہ ناواقف حلقوں میں لاعلمی کی وجہ سے اس کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور ان غلط فہمیوں کو مسلمانوں کی بداعمالیوں اور منفی کردار نے جنم دیا ہے۔ درحقیقت، اسلام ایک نہایت ہی آسان اور سادہ دین ہے۔ جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں، اسلام ان سے کسی بھی چیز کا بہت کم تقاضا کرتا ہے۔ اسلام خدا کی وحدانیت کے عقیدہ اور انسانوں کے مابین مساوات، برابری، انصاف، رواداری، برداشت اور غیر جانبداری کی تعلیم دیتا ہے۔ حقیقت میں یہی اسلام کا پیغام ہے، ایک سادہ، سمجھ آنے والا اور خوبصورت پیغام۔ یہی تو وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اسلام ایک عملی مذہب ہے اور انسانی زندگی کو ایسے طرزِ زندگی میں تبدیل کر دیتاہے جسے نہایت آسانی سے اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اس حقیقت کی بجا طور پر ایک وجہ موجود ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک گھر کے سربراہ تھے اور روحانی حکمت کا ایک ایسا مرقع تھے جن کی روزمرہ زندگی سوداگر اور تاجر کے طور پر نہایت ہی بصیرت افروز تھی۔ آپ ﷺ کا تعلق بنو ہاشم جیسے معزز قبیلے سے تھا اور آپﷺ کے پردادا مکہ میں تجارت کے بانی تھے۔ نبی اکرمﷺ کی زندگی کا یہ پہلو مجھے ہمیشہ ہی حیرت زدہ اور متاثر کرتا رہا۔ اپنی زندگی کے چھوٹے سے راستے پر میں نے آپ ﷺ کے نقوشِ قدم پر چلنے کی ہمیشہ کوشش کی۔ میرے نزدیک کمپنیو ں کی تشکیل، اپنے ساتھیوں، شراکت داروں اور ملازمین کے لیے دولت کی تخلیق جس طرح ایک دنیاوی فریضہ رہا ہے، عین اسی طرح میرے لیے ایک روحانی ذمہ داری بھی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کو اسلام کی خدمت اور بطور مسلمان، اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
اسلام نے مجھے یہی سکھایا ہے کہ میں کاروبار کو بذاتِ خود ایک مقصد کے بجائے ایک سماجی تقاضا سمجھوں۔ میرے بہت سے کاروباری فیصلوں کی بنیاد فوری طور پر حاصل ہونے والے منافع کے شمار اور حصول کے بجائے پاکستان کی بہتری اور اس کا تابندہ مستقبل رہی ہے۔ میں اس وقت انتہائی سنگین خطرات مول لینے سے بھی نہ گھبراتا جب مجھے یہ یقین ہوجاتا کہ میرے منصوبے کی کامیابی سے پاکستان لازمی مستفید ہو گا۔ یہ کوئی شیخی یا خالی خولی دعویٰ نہیں ہے۔ اپنے ملک، اپنے ہم وطنوں کے لیے گاہکوں سے خالی اور کم آباد شہر گوادر میں ہوٹل کی تعمیر سے لے کر تیل نکالنے اور گیس کی تلاش، ہمیشہ ہی میرے کاروباری منصوبوں کا محور و مرکز رہے۔ ایک دفعہ میں نے اپنے ایک غیر ملکی دوست کو بتایا کہ پاکستان میرے پاسپورٹ پر تحریر محض ایک نام نہیں، بلکہ یہ میری قوتِ محرکہ، جذبہ، ولولہ اور جوش ہے۔ جب مجھے اپنے اس عزیز از جان ملک سے زبردستی دبئی میں پانچ برس کی جلا وطنی پر مجبور کر دیا گیا اس وقت بھی پاکستان میرے خیالوں، سوچوں اور خوابوں میں بدستور ایک جذبہ، شوق اور جوش کی حیثیت سے موجود رہا۔ اس جلا وطنی میں ایک دو نہیں درجنوں بار میں نے محسوس کیا کہ پاکستان سے محبت کا جوش و جذبہ میرے وجود میں زندہ و بیدار ہے۔ باوجوداس کے کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔ ایک ایسی فہرست جس میں شامل پاکستانیوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ یہ صرف پاکستان سے میری اٹوٹ محبت اور لازوال وابستگی ہی تھی کہ میں نے بیرون ملک بدستور مقیم رہنے کے بجائے وطن واپسی اور نتائج بھگتنے کا فیصلہ کر لیا۔ واضح رہے کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں اُن دنوں شامل کیا گیا جب میں بیرون ملک تھا۔
بیرون ملک بھی میں نے ہمیشہ خود کو پاکستان کاترجمان، محافظ اور ازخود تقرر شدہ سفیر سمجھا۔ میں گزشتہ دہائی میں اس وقت اپنی فوج اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہا جب مغربی میڈیا نے غیر منصفانہ طور پر اسے اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔ 1998ء میں جب بھارت نے اشتعال انگیز انداز میں جوہری بم کا دھماکا کیا، اس وقت میں واضح طور پر سمجھتا تھا کہ پاکستان کو جوابی کارروائی کے طور پر اپنی طرف سے جوہری دھماکے کر دینے چاہئیں۔ یہ درست تھا کہ ایسا کرنے سے معاشی پابندیاں عائد ہونے کا امکان تھا اور اس سے میرا کاروبار بھی متاثر ہوتا… لیکن میرا یہ پُرزور اصرار جاری رہا کہ پاکستان کے لیے یہ جوہری دھماکے ناگزیر ہیں۔ مجھے اپنی ذاتی کامیابیوں اور ناکامیوں کی کوئی پروانہ تھی بلکہ پاکستان کی بقا، سلامتی اور ناقابل تسخیر دفاع میرے نزدیک ضروری اور ناگزیر تھا۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کر دیتا ہوں۔ میں مصلحت پسندی اختیار نہیں کرتا بلکہ جو کچھ میرے دل میں ہوتا ہے کہہ دیتا ہوں۔ میں بغیر خوف اور بغض کے ہر وہ بات جسے سچ سمجھتا ہوں بے دھڑک کہہ دیتا ہوں۔ میں دلیل کے ساتھ اور کھلے الفاظ میں سب کچھ کہہ دینے کا عادی ہوں۔ یہ سب کچھ ہمیشہ اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس کے باعث مجھے مقتدر افراد، کاروباری حریفوں اور بعض اوقات اہم سرکاری ملازموں، طاقتور اور انا پرست آمروں اور سیاستدانوں کی طرف سے مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر وہ انتہائی مشہور اور کامیاب کاروباری، تجارتی اور سیاسی شخصیتیں (جنہوں نے مجھے نوجوانی کے ایام سے ترقی کرتے دیکھا) وہ بھی میری اس بے باکانہ حق گوئی پر اعتراض کرتی رہیں۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کی وجہ سے محب وطن شہریوں پر بھروسا کرتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو شہریوں کے اس اعتماد اور بھروسے کو دھچکا پہنچاتے ہیں انہوں نے مجھے جس طرح نقصان پہنچایا، یہ ایک الگ داستان ہے۔ یہ نقصان دراصل انہوں نے مجھے نہیں بلکہ پاکستان کوپہنچایا ہے۔
مجھے ان سے کوئی پرخاش اوردشمنی نہیں۔میری نواسی مجھے بتاتی ہے کہ میں بہت جلد غصے میںآ جاتاہوں لیکن جلد ہی میں اپنے اشتعال پرقابو بھی پالیتاہوں۔جب میں رات کو سونے کے لیے اپنے بستر پر دراز ہوتا ہوں تو یقین کیجیے میں انتہائی پُرسکون ہوتا ہوں۔ یوں دن بھر کے جھگڑوں اور اختلافات کا نئی صبح طلوع ہونے تک سرے سے کوئی وجود نہیں رہتا۔ یہ وہ سبق ہیں جنہیں میں نے اپنی ابتدائی زندگی میں اپنے والدین سے سیکھا۔ انہوں نے میرے ذاتی اورپیشہ ورانہ معاملات میں مجھے بہترین رہنمائی مہیاکی۔ اگر کوئی میری پشت میں خنجر گھونپ دیتا ہے یا مجھے نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو میں یہ معاملہ اپنے رب کے سپرد کردیتا ہوں اور یوں ہر معاملہ بخیر و خوبی حل ہو جاتا ہے۔
بہرحال میری یہ مشکل ہے کہ میں پاکستان کے غداروں کو معاف نہیں کر سکتا۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور آفاقی صداقت کے مطابق ہم سب اپنی قبروں میں خالی ہاتھ ہی جائیں گے۔ یہ ایک ایساجملہ ہے جسے میں اپنے بچپن سے سنتا آیا ہوں اور یہ ہمیشہ میرے ذہن میں تازہ رہتا ہے۔ میرے سامنے نبی اکرمﷺ اور اسلام کے عظیم داعی کی زندگی کا یہ روشن پہلو رہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بعد طمع، لالچ اور مادی فوائدسے ہر لمحہ اجتناب برتتے رہے۔ اس قوم کی پسماندگی اور درماندگی کے تناظر میں میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ بدقسمتی سے پاکستان کے ارب پتی سیاستدان یہ عظیم سچائی فراموش کرچکے ہیں کہ یہ مملکت اسلام کے عظیم نام پر وجود میں آئی۔
متوسط اورمحنت کش طبقہ ہی اقوام اورمعاشروں کی تعمیر کی بنیادہے جوایک بہتر زندگی کے لیے ہمیشہ ایمانداری کے ساتھ جدوجہدکرتا ہے۔ بدقسمتی سے محنت کش طبقے کی اس جدوجہد کو پاکستان میں پنپنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔سماجی اورمعاشی طورپرپاکستان ہمیشہ ہی ایک اہرام کے مانند رہاجہاں اوپربیٹھے ہوئے چندافرادنیچے بیٹھے ہوئے لوگوں کوظلم وستم اور استحصال کانشانہ بناتے ہیں۔میڈیاکی زبان پر”اسٹیبلشمنٹ اور 40 خاندانوں“ کا ذکر رہتا ہے جنہوں نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ تو دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ نئی خوشحالی، متوسط طبقے کی وسعت پذیری،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، پہلی نسل کے سفید پوش محنت کش، اعلیٰ اورفنی تعلیم یافتہ افراد کو ترقی نہیں کرنے دی گئی۔ اسلام عقیدہ مساوات کا قائل ہے اورپاکستان اسی عقیدے کے نام پروجود میں آیا۔ لیکن عملی طورپرہم اپنے دیس کے بانی قائداعظم کی تعلیمات پرعمل کرنے میں ناکام رہے اور انتہائی واضح امتیازات کے ساتھ نہایت ہی غیر مساوی معاشرہ تعمیرکیا۔
یہ صورتِ حال جسے جمود کہنا چاہیے،مجھے اشتعال، تشویش اور کرب میں مبتلا کردیتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ تشویش، یہ مثبت اشتعال، یہ جائز غصہ اور داخلی کرب و اضطراب ہی اس کتاب کی تصنیف کا اصل محرک رہاہے۔اب سوال یہ ہے کہ میں پاکستان کے اولوالعزم اور محنتی نوجوانوں کے لیے مواقع کے فقدان کے متعلق کیوں اس قدر شدید جذباتی ہو جاتا ہوں؟ اس لیے کہ میں اُن کے دکھ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہوں؟ میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے تقریباً دنیا بھر کا سفر کیا ہے۔میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ دنیا میں چندہی ایسے ملک ہیں جو پاکستان کے مانند جوہرِقابل سے مالا مال ہیں۔ اپنے جوہر قابل اور صلاحیتوں کازیاں ایک المیہ ہی نہیں بلکہ ایک جرم بھی ہے۔ میں نے اپنی ذاتی کوششوں سے اپنازندگی کاراستہ بنایا ہے۔ میں کسی جاگیردار خاندان کاچشم وچراغ نہیں جوصدیوں سے وسیع اراضی کا وارث تھا۔ایک سادہ سے گھرمیں میری پرورش ہوئی اور مجھے ورثے میں کوئی وسیع جائیداد، سرمایہ یا کاروباری ادارہ ودیعت نہیں ہوا۔میں نے محنت اور قسمت اورسب سے بڑھ کراللہ تعالیٰ کی رحمت سے اپنے لیے موافق حالات پیداکیے۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن یہ سب کچھ آسان ہوسکتا تھا، بشرطیکہ ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کے لیے ایک منصفانہ اور کھلا نظام تشکیل دیاہوتا۔یہ وہ مقدمہ ہے جسے میں اس کتاب کے ذریعے تاریخ کی عدالت میں ٹھوس شواہد و حقائق کی روشنی میں لانا چاہتا ہوں۔
پاکستان میں ایک کاروباری ہونا سرنگ کھودنے کے مترادف ہے۔ بدعنوانی اور اقربا پروری ہمارے سیاستدانوں اورسرکاری ملازمین کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند سینئر فوجی جرنیل بھی اسی فطرت کے حامل ہیں۔وہ نئے نظریات یاتخلیقی عمل کوکچل دینے کے علاوہ اسے ابھرنے کاموقع بھی نہیں دیتے۔ہماری حکمران اشرافیہ نے تسلط اورقواعدوضوابط کاایک ایسانظام تشکیل دیاہے جومراعات یافتہ طبقہ کے تحفظ کاضامن ہے اوراس نظام کے تحت جوہرقابل یاجرأت مندی کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ بلاشبہ بدعنوانی دیگرممالک میں بھی موجود ہے لیکن جس سطح پرہمارے ملک میں زیادتی کی جاتی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ دوسرے لوگوں نے حالات سے سمجھوتا کر لیا اور شکست تسلیم کر لی مگر میں نے ہرگز ایسا نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ میں کراچی جیسے اہم معاشی مرکز یا اسلام آباد میں اپنے گھر کے بجائے دبئی میں موجود ہوں۔ کسی کو اپنی جنم بھومی، یادوں اور خوابوں سے الگ کردینا اس کا گلا گھونٹ دینے کے مترادف ہے۔ میرے ہوٹلوں پر مسلسل دہشت گردانہ حملے، میرے گھر میں مجھ پر قاتلانہ حملہ، میرے بچوں کو اغوا کرنے کی کوششیں اور مسلسل دھمکیوں جیسے بدنما واقعات اور مذموم حرکات کی وجہ سے مجھے اپنے بچوں کو فوری طور پر بیرون ملک سکولوں میں داخل کروانا پڑا۔ مجھے اس بلا جواز دشمنی اور حاسدانہ مخاصمت کی ہرگز توقع نہ تھی۔ یہ وہ زندگی نہ تھی جس کے میں نے خواب دیکھے تھے۔ تحریک آزادی کے آغاز میں جب میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا تب میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان کے بہترین مستقبل کو اس بدترین اور گھناوٴنے انداز میں نقصان پہنچایا جائے گا۔
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اگرپاکستان میں میرے سخت مخالف موجودہیں تو یہاں میرے بے شمارخیرخواہ بھی ہیں۔میں نے روزگارکے مواقع کی تشکیل میں اپناحصہ ڈالا اور دیہی آبادی کو ہاشو گروپ سے استفادہ کرنے والا ایک ایسا گروہ بنانے کی کوشش کی جو سماج اور مملکت کا ایک فعال اور کارآمد حصہ بنے۔ میں نے کوشش کی کہ اُنہیں ایک روشن مستقبل فراہم کیا جائے تا کہ وہ پاکستان کی ترقی اور تعمیر کے شعبوں میں ایک معمار کا کردار ادا کر سکیں۔ ان بے شمار لوگوں اور پوشیدہ ہاتھوں کو میں جانتا تک نہیں جو میرے لیے دعا کرنے کے لیے بارگاہِ خداوندی میں بلند ہوتے ہیں۔ یہ ان دعاوٴں ہی کی برکت اور کرامت ہے کہ میرے راستے کی ہر وہ رکاوٹ دور ہو جاتی ہے جو میرے دشمن بڑی چابکدستی اور تندہی سے قدم قدم پر کھڑی کرتے ہیں۔ یہ کوئی خالی خولی الفاظ نہیں بلکہ ان الفاظ کی بنیادمیرے سچے جذبات ہیں اوریہ الفاظ عین میرے دل سے نکلے ہیں۔ ان الفاظ کی بنیاد صداقت و سچائی ہے۔ اس ضمن میں ایک عملی مثال یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ جس طرح مجھے مفادات کی حامل مختلف حکومتوں نے مسلسل اوربے تکان خوف زدہ کیا کسی دیگرپاکستانی کوان حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے بے پروائی سے کندھے جھٹک کران حالات کاسامنا کرنا سیکھ لیا۔ تاہم مجھے یہ اقرار کرنا ہو گا کہ بحیثیت انسان کبھی کبھار مجھے شدیدٹھیس پہنچتی اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
جیسا کہ قارئین میں سے کچھ صاحبان کے علم میں ہے کہ میں پاکستان میں ہوٹل کی صنعت کے سب سے بڑے سلسلے کاانتظام وانصرام کرتا ہوں جہاں میری ذاتی رائے کے مطابق گاہکوں کوعالمی معیارکی حامل مہمان نوازی، خاطرتواضع اورخدمت مہیا کی جاتی ہے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ شعبہ سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری سے ڈالرز اور یورو کی شکل میں زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے، لہٰذا حکومت وقت کی طرف سے اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومتوں اور پالیسی سازوں نے ہمیشہ اس شعبے کو نظرانداز کیا ہے۔ اس غلط پالیسی کے نتیجے میں دنیا کی نسبت پاکستان میں ہوٹلوں میں مستعمل نرخ نامہ سب سے کم ہے لیکن ہوٹل پرعائد محصولات غیر معمولی طورپر زیادہ ہیں۔ جو لوگ ان محصولات کا تعین کرتے ہیں وہ پاکستان کے طویل المدت مفادات کوپیش نظر رکھنے کے بجائے اپنے نمبربنانے یا مقبول نعرے لگانے میں ازحد مصروف ہیں۔ سیاحت ایک ایسی صنعت ہے جس سے جڑے ہوئے مختلف کاروباروں کی صورت میں نیچے تک بے شمار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں لہٰذابہت سے ممالک نے یہ راز پا لیا ہے اور وہ ہوٹل اور سیاحت کی صنعت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں مگرپاکستان کے حکمرانوں کو ابھی تک یہ توفیق نہیں ہوئی۔جانے وہ کب خواب غفلت سے جاگیں اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ہوٹل کی صنعت اور سیاحت کے شعبہ کو ترقی دینے کے لیے مفید، مثبت اور حوصلہ افزا اقدامات کریں گے۔
ہوٹل کی صنعت پر عائد ٹیکس خواہ کس قدرزیادہ ہوں، ہمارے تمام ہوٹل یہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور نہایت ایمانداری کے ساتھ اداکرتے ہیں۔بہت سے دیگرہوٹل ٹیکس ادا نہیں کرتے۔وہ کوشش کرتے ہیں کہ ٹیکس ادا ہی نہ کرنا پڑیں اوراس مقصد کے حصول کی خاطر وہ انڈرانوائسنگ (Under Invoicing)کرتے ہیں وہ ٹیکس چھپاتے ہیں اور ٹیکس چھپانے کے لیے باقاعدہ رشوت دیتے ہیں۔ میرایہ وتیرہ نہیں ہے۔یہ امر ہرگز حیران کن نہیں کہ میرے کچھ ساتھی اورافسرمجھے نیم مذاق کے عالم میں بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ناقابل تشریح حکومتی پالیسیاں ہاشوگروپ کوذہن میں رکھتے ہوئے تشکیل دی جاتی ہیں۔ یہ سن کر میں محض خاموش ہو جاتا ہوں اور اپنے ہاتھ اٹھا کر آسمان پرنظریں جما لیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی اس بات میں کہا ں تک سچائی ہے۔
میں اس کتاب کومخصوص افراد کے خلاف شکایتوں کے ایک پلندے میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور ایمانداری کے ساتھ کرداروں کا ذکر دیاہے۔ اگر کچھ لوگ اسے ذاتیات کامسئلہ بناناچاہتے ہیں تومیں ا س کے لیے بھی تیار ہوں۔ میرا مقصدکسی کی مخالفت یا کردار کشی نہیں بلکہ میرامقصد یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کیا ہیں، کیوں ہیں اور انہیں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب پاکستان کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ سرد و گرم موسموں سے نبرد آزما ایک تجربہ کارانسان کی طرف سے ایک تحفہ بھی ہے… مجھے یقین ہے کہ یہ تحفہ نسل نو کو گزشتہ نسل کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دے کر ایک ایسا قابل عمل نظام قائم کرنے پر آمادہ کرے گا جہاں ایمانداری سے کام کرنے والے شہری کے ایثار اور کوششوں کا اعتراف کیا جائے۔
مجھے پاکستان کے توانا جذبوں کی مالک نئی نسل کی لائق رشک صلاحیتوں پر بھروسا ہے۔ ان کی مہارتیں، ذہنی صلاحیتیں اورمحنت ومشقت کرنے کی خواہش، کرہ ارض پرموجود بہترین اور ذہین افراد کی جملہ خصوصیات سے کسی بھی طور کم نہیں۔یہ نوجوان ہی ہمارے ملک و قوم کا اصل سرمایہ اور اثاثہ ہیں۔ یہ ہمارا حال بھی ہیں اور مستقبل بھی۔ ہمیں انہیں اوپر اٹھانے کے لیے جملہ وسائل اور توانائیوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ ہمیں ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مصور پاکستان علامہ اقبال کے کلام کے ایک قابل لحاظ حصہ میں انہی نوجوانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ کلام اقبال  کا فیض ہے کہ میری توجہ کا مرکز بھی یہی نسل نو ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان نوجوانوں کو ایک ایسا پاکستان تعمیر کرنا چاہیے اور تعمیرکرناہوگا جوآئندہ دہائیوں میں دنیاکی قیادت کے فرائض سر انجام دے۔ اگرمیری کتاب اس ضمن میں ان کی کسی حد تک بھی رہنما اور معاون ثابت ہو تومجھے یقینا اس پرفخر ہوگا۔ اور میں سمجھوں گا کہ میری محنت بارآور ثابت ہوئی… انہی الفاظ کے ساتھ میں اپنی زندگی کی کہا نی اپنی زبانی پیارے پڑھنے والوں کے ذوق مطالعہ کی نذر کرتا ہوں۔

مصنف کا نام     :     صدرالدین ہاشوانی

صدرالدین ہاشوانی 1960 میں قائم شدہ ہاشو گروپ کے سربراہ ہیں۔ آج ہاشو گروپ کے پاکستان بھر میں مختلف طرح کے کئی صنعتی گروپ ہیں جو سفر و سیاحت، جائداد، دوا سازی، انفورمیشن ٹیکنولوجی اور تیل اور گیس سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ہاشو گروپ پاکستان بھر میں میریٹ ہوٹل اور پرل کانٹی نینٹل ہوٹلز کے مالک ہیں۔

صدرالدین ہاشوانی کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-