اُردو پوائنٹ کتابیں کالم اور نثر نگاریآبروئے ما

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

اپنی بات

حمیدنظامی اورمجید نظامی کے ہاتھوں بوئے جانے والابیج(نوائے وقت)آج تناوردرخت بن چکاہے جس کی چھاوٴں میں بیٹھ کرسکون محسوس کرنے والوں میں مجھ سمیت اس ملک کے لاکھوں اورکروڑوں افرادفیض یاب ہورہے ہیں اورہوتے رہیں گے۔۔اس کے علاوہ اس خوبصورت پھل داراورپھول داراورٹھنڈی چھاوٴں مہیاکرنے والے تناوردرخت کوپانی لگانے والے زاہدحسن چغتائی،ریاض اخترآفتاب ضیاء، ندیم شیراز خان، عثمان بھٹی، خرم بھائی، محمدعمران، جاوید بھائی اور حارث بھائی جیسے باشعوراورتہذیب یافتہ افرادنے بہت اہم کرداراداکیا۔ اللہ کے فضل وکرم کے بعداس نوائے وقت فیملی کاساتھ اگرمجھے میسرنہ ہوتاتوشایدہی میںآ ج اپنے یہ الفاظ کاغذپرمنتقل کرنے کاسوچ بھی سکتا۔اس کالم نگاری اورنعت گوئی کے پیچھے میرے والدین بمعہ بہن بھائیوں اورخاص طورپرتین ہستیوں کی محنت اوردعاوٴں نے میری اس کاوش کوچارچاندلگادئے۔ان ہستیوں میں ایک میرے بڑے بھائی راجہ وحیداحمدجوآج ہمارے ساتھ موجودنہیں ہیں۔اللہ سے دعاہے کہ وہ ذات ان کوجنت الفردوس میں اعلٰی مقام دے کران کی اولادکودنیاوآخرت کی ہرکامیابی عطاء کرے۔ آمین۔ دوسری میری والدہ کہ جن کی عاجزی اورانکساری اہل محلہ سے لے کرسارے خاندان میں اورپھرمیرے ہرملنے ملانے والے کوعیاں ہے۔اورتیسری صاف گوہستی جس نے مجھے ہمیشہ دعاوٴں کی مالاپہنائی وہ ہیں میری ساس محترمہ جن کوکبھی بھی میں نے اپنی والدہ سے کم درجہ نہیں دیاکیونکہ وہ یہ سبDeserveکرتی ہیں۔ان کے بارے میں میں یہ کہوں گاکہ زمین پرچلتے ہوئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی چیونٹی بھی ان کے پاوٴں کی زدمیں نہ آئے۔اپنے تواپنے،پرائے بھی آپ کی دعاسے محروم نہ رہے۔اورپھراللہ کی ذات نے انہیں دنیاوآخرت کی ہرکامیابی کی نویدسنارکھی ہے۔ پھولوں کی اس لڑی میں افضل باجی کا کردار ایسا ہے کہ جیسے گھپ اندھیری رات میں اچانک کوئی چراغ جلا دے اور ہر طرف نور میں ڈوبی ہوئی دھرتی ہشاش بشاش ہو جائے۔لیکن ان خوبصورت رشتوں کی لڑی میں اپنی مسزکاذکرنہ کروں توبات نہیں بنتی۔اپنے ادارے سے پڑھا کر گھر آنا اور اس کے بعدآرام کئے بغیربچوں کوہوم ورک کروانے کے ساتھ ساتھ گھرکے تمام کام سمیٹنے کے بعدمجھے لکھنے کے لئے ہمیشہ آسانیاں پہنچائی ہیں۔ان کی اس محنت کودیکھ کرمیں اکثریہ دعادیاکرتاہوں کہ اللہ آپ کواولادکی خوشیاں دیکھنی نصیب کرے توہمیشہ ان کا یہی جواب ہوتاہے کہ اللہ ہم دونوں کواولادکی خوشیاں دکھائے۔ اکثرنڈرہوکرسچ لکھنے کاحوصلہ دے کرمیرے اس قلم کوتقویت پہنچاتی ہیں۔ لیکن خاردار راستوں اور پکڈنڈیوں والی مسافت کے دوران گھپ اندھیری رات میں مجھے لالٹین مہیا کرنے والے NTA انجینئر قمرالاسلام راجہ کی رفاقت اگر مجھے میسر نہ ہوتی تو میرا یہ سفر شاید کئی برس مزید طوالت کا شکار ہو جاتا۔ چونکہ اپنے والدراجہ ایوب خان کی طرح حق بات کہنامیرے خون میں شامل ہے۔لہٰذامیں سچ لکھتارہوں گاچاہے اس کے لئے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔دین کی سربلندی کی بات ہویاپاکستان کی عزت وناموس کی،مجھے دنیاکی کوئی طاقت یہ کام کرنے سے نہیں روک سکتی۔
آپ سے گزارش ہے کہ میری غلطیوں کی نشاندہی کرکے مجھے تعلیم دیتے رہیں۔کیونکہ حدیث شریف کامفہوم پاک ہے کہ”گودسے گورتک علم حاصل کرو۔“
اللہ آپ سب کاحامی وناصرہو۔ آمین
شاہدجمیل منہاس

مصنف کا نام     :     شاہد جمیل منہاس

شاہد جمیل منہاس کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-