اُردو پوائنٹ کتابیں ناولدھوپ کے پگھلنے تک

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

معاشرتی المیے پر خوشگوار کہانی
انقلاب کی لہر ہمیشہ معاشرے سے اٹھتی ہے اور یہ عوام ہی ہیں جو نہ صرف اپنا مقدر بدلتے ہیں بلکہ حکومت تک کے نصیب بھی وہ خود ہی لکھتے ہیں۔ مگر ہوتا یوں کہ تبدیلی کا وقت صدیوں بعد آتا ہے، اور اس وقت کی پہچان رکھنے والے بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔وقت کو پہچان لینے کی صلاحیت آسانی سے نہیں ملتی، یہ نگاہ انہی میں پیدا ہوتی ہے، جو موت کی آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کر وقت کے ساتھ نبرد آ زما ہوتے ہیں ۔ پھر وہ اپنے خون ِجگر سے اپنا نصیب لکھتے ہیں۔
دھوپ کے پگھلنے تک، ایک ایساناول ہے، جس میں امجد جاوید نے اپنے معاشرے کو وہ پیغام دیا ہے، جو وقت کی ضروت ہے۔ ان کا روئے سخن براہ راست عوام کی طرف ہے اور بہت بے تکلفانہ انداز میں وہ اپنا پیغام ایک کہانی کی صورت میں دے جاتے ہیں۔قاری کہانی میں کھو کر یہی محسوس کرتا ہے کہ امجد جاوید تو اسی کی بات کر رہا ہے۔ قاری جو کچھ کہنا چاہتا ہے ، امجد جاوید وہی کچھ بیان کرتا چلا جا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو یہ ہر قاری کی اپنی کہانی ہے، جسے امجد جاوید نے کہا ہے۔ یہی دلچسپی اس وقت اپنی انتہا کو جا پہنچتی ہے، جب یہ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ یہ کہانی سوچیں ہی ایسی دے جاتی ہے کہ وہیں سے نئی کہانیوں کی شروعات کا احساس ہونے لگتا ہے۔
معاشرتی المیوں کی کوکھ سے جنم لینے والی کہانی میں جہاں کردار عام فہم اور ہمارے ارد گرد کے ہیں، وہیں اس کہانی کا انوکھا پن مسحور کن بھی ہے۔اس کہانی میں جو میں نے خاص بات محسوس کی وہ یہ کہ امجد جاوید کہیں بھی کوئی فیصلہ نہیں دیتا، بلکہ قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہوئے مختلف تصویریں دکھاتا ہے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتا ہے۔ یا پھر یوں کہا جائے کہ حالات کی شورش میں جو ہنگامہ آ رائی ہے، کسی اونچی جگہ کھڑے ہو کر وہ قاری کو ان کرداروں کی نشاندہی کرا دیتا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو معاشرتی المیہ کا باعث بنتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ میرے خیال میں یہ معاشرتی المیے پر خوشگوار کہا نی ہے۔
امجد جاوید ۔! اب ناول کی دنیا کا وہ نام ہے جسے قارئین نے پسندیدگی کی سند عطا کر دی ہوئی ہے۔ میں اسی امید کے ساتھ یہ ناول آپ تک پہنچا رہا ہوں کہ یہ بھی آپ کے ذوق مطالعہ پر پورا اترے گا۔
گل فراز احمد

تبدیلی اور انقلاب کا حقیقی پیغام
ایک سچا قلم کار معاشرے کا نباض ہوتا ہے اور اس کی انگلیاں معاشرے کی نبض پر ہوتی ہیں۔ وہ وہی کچھ لکھتا ہے جو وہ معاشرے میں مشاہدہ کر تا ہے۔ اگر وہ اس سے ہٹ کر لکھتا ہے تو اس میں ہمہ گیریت اور آفاقیت نہیں ہو سکتی بلکہ یہ صرف اس کی ذاتی تسکین کا باعث ہو سکتی ہے۔ ایسی تحریر پانی کی سطع پر موجود پانی کے بلبلے کی ہے جس کی زندگی نہایت مختصر ہوتی ہے۔ یا پھر جلتے ہوئے شعلے کی طرح بھڑک کر بجھ جاتی ہے مگر اندھیرے میں اُجالا نہیں کر سکتی۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو امجد جاوید# ایک سچا قلم کار ہے۔ وہ اپنے قلم کی حرمت و عزت کا پاس رکھنا جانتاہے۔ ان کے گزشتہ کام کو سامنے رکھاجائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ” دھوپ کے پگھلنے تک“ ایک بالکل ہی نئے انداز کا ناول ہے۔ انہوں نے اپنے روایتی کھلے دھلے انداز میں لکھا ہے ۔ جو نہایت سادہ اور سلیس ہے ۔ فلسفہ اور بے جا تجسس کی راہ پر نہیں چلے بلکہ کہانی کے پرت بغیر کسی پیچیدگی کے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔جس سے قاری پوری دلچسپی سے محظوظ ہوتا ہے۔وہ بڑی چابک دستی سے جو کچھ مشاہدہ کرتے ہیں وہی اپنے قاری کو دکھانے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کوشش میں زیر ِ قلم کردار کو پوری طرح کھول کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ وہ قاری کو خود سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں وہ کس مقام پر کھڑا ہے ۔وہ زندگی کی تلخیوں کو بغیر لگی لپٹی رکھے من و عن پوری سفاکی سے بیان کرتے ہیں اور اس سلسلے میں لفظوں کے ہیر پھیر سے اس کی شدت کو کم کرنے یا چھپانے کی کوشش نہیں کرتے ۔یہ ابلاغی اصول ہے کہ آپ جن کے لئے اپنا پیغام دے رہے ہیں، انہیں بات پوری طرح سمجھ میںآ جائے۔ میرے خیال میں انہوں نے اپنے مقصد کو اولیت دی اور زبان بیان کو دوسری، تاکہ ان کے مقصد کا ابلاغ پوری طرح ہو جائے ۔ یہ ایک بامقصد لکھاری کا اپنے معاشرے کے بارے میں انتہائی درجے کا خلوص ہوتا ہے۔
جیسے کبھی فلم انڈسٹری میں فارمولا کہانیوں کا دور آ یا تھا۔ ویسے ہی فارمولا کا دور بھی آیا۔خصو صاً خواتین کے لکھے ہوئے تمام ناولوں کا پلاٹ ایک جیسا ہوتا ہے ۔ کہنے کو تو کہا جا سکتا ہے کہ امجد صاحب کے موجودہ ناول کا پلاٹ بھی ایک لحاظ سے فارمولا ہے، وہی گاؤں کا ماحول، ظالم چوہدری اور مظلوم عوام مزارعے وغیرہ لیکن اس کہانی میں یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ایک مقصدیت ہے۔ انہوں نے جاگیر دارانہ ذہنیت کی عکاسی بڑی مہارت سے کی ہے اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے۔ یہ اپنے علاقے میں سکول نہیں کھلنے دیتے تاکہ لوگوں میں اپنے حقوق کاشعور بیدار نہ ہو ۔ان کی سوچ یہ ہے کہ اگر لوگ لکھ پڑھ گئے۔توان کی چاکری کون کرے گا۔ انہوں نے اپنے نجی جیل خانے بنا رکھے ہیں ۔ غریب ہاریوں کی بہو بیٹیاں ان کی ہوس کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ حکومتی ایونوں تک بھی یہی لوگ چھائے ہوئے ہیں۔وطنِ عزیز کو آزاد ہوئے۶۷ برس ہوگئے ہیں مگر ابھی تک یہ وڈیروں ، جاگیر داروں، صنعت کاروں اور لغاریوں مزاریوں کے قبضے سے آزاد نہیں ہو سکا۔ پہلے جو ہندوؤں، سکھوں اور انگریزوں کے محکوم تھے، اب وہ انہی کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ امجد جاوید اپنی عوام کو ہر طرح کی غلامی سے آزاد دیکھنے کا شدید خواہش مند ہے۔
آج کل ہر سیاست دان انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے مگر تبدیلی کا راستہ کوئی نہیں دکھاتا۔ ان کے نزدیک تبدیلی یہی ہے کہ اقتدار پر انہیں بٹھا دو تو یہ تبدیلی ہے ۔ امجد صاحب نے اس ناول میں تبدیلی کا درس بھی دیاہے اور تبدیلی کیسے آئے گی، یہ راستہ بھی دکھا دیا ہے ۔ انہوں نے یہ ناول لکھ کر وطن عزیز کی اُن استحصالی قوتوں کا للکارا ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام کا استحصال کرتی آ رہی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اپنے ہیرو سے ” مولا جٹ “ کا کام نہیں لیا جو گولیوں کی بر سات میں محض ایک گنڈاسے کے ساتھ کُشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے ۔ اُن کا ہیرو ایک پڑھا لکھا اور مہذب انسان ہے جو تشدد پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ عوام میں انکے حقوق کا شعور پیدا کر کے ان کو منزل تک پہنچنے کا درس رہتا ہے اوربغیر خون کا ایک قطرہ بہائے اندھیر نگری میں انقلاب کی روشنی پھیلانے کاکارنامہ سر انجام دیتا ہے۔
انقلاب کا یہی پیغام اس ناول کی بنیاد ہے اور عوام کو ان کے حقوق کا احساس دلانا اس کا مقصد ہے ۔ اور میرے خیال میں امجد جاوید اپنے اس مقصد میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔
عارف محمود

کن کی تلاش میں نکلا ہوا دیوانہ
امجد جاوید کہانیاں نہیں لکھتے ،یہ کہانیاں بنتے ہیں ۔کہانی لکھنے اور کہانی بننے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق وہی محسوس کرسکتا ہے جو احساس سے عاری نہ ہو۔ بالکل ایسے کہ مہنگے برانڈ کی کوئی سویٹر ، کبھی بھی ہاتھ سے بنی ہوئی سویٹر کا مقابلہ نہیں کر پاتی۔ جب کوئی بہت مان اور پیار سے کسی اپنے کے لیے دن رات لگا کر سویٹر بنتی ہے تو اس کا نشہ ہی عجیب ہوتا ہے۔اس نشہ کا سرور یا تو سویٹر بننے والی کو معلوم ہوتا ہے یا پھر جس کے لیے بنُی جائے ،اس کی آنکھوں سے چھلکتا ہے۔ امجد جاوید بھی بہت مان کے ساتھ اپنے قاری کے لیے کہانیاں بنتے ہیں ۔ اسی لیے ان کا اپنے قاری سے رشتہ مضبوط ہوتا چلا جا رہا ہے۔
امجد جاوید نے ناول تو بہت لکھے ہیں لیکن وہ پیشہ وروں کی اس بھیڑ چال کا حصہ نہیں بنے۔انہوں نے شروع سے ہی فارمولا ناول لکھنے کی بجائے کہانی بننی شروع کی۔ ان کے بعض ناولوں پر کہانی بنتے بنتے انہیں دس سال بھی لگے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں ۔اب ان کے ناول چوری نہیں ہو سکتے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو امجد جاوید سے پہلے ان کا مستقل قاری بول اٹھے گا۔ یہی فن کی معراج ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ فن کی اس منزل پر پہنچتے پہنچتے ہم ایسے اپنے پر جلا بیٹھتے ہیں ۔
امجد جاوید نے زیادہ تر تصوف اور عشق کو موضوع بنایا ہے۔اب صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ روشن آنکھوں والے انہیں پہچاننے لگے ہیں ۔کسی سچے جوگی کی طرح یہ حالات امجد جاوید کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔شاید اسی لیے انہوں نے شعوری طور پر راستہ بدلنے کی کوشش کی ہے۔پہلے” کیمپس “کو موضوع بنایا ۔ پھر” امرت کور“ کے آنچل میں چھپنے کی کوشش کی اور سکھ ازم کی گلی میں داخل ہوئے۔یہ شعوری کوششیں بھی ان کے کسی کام نہ آئیں ۔کیمپس میں عشق حلول کر گیا۔ امرت کور میں تصوف کی کھڑکیاں کھل گئیں ۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک بار درویش نے کہا تھا تصوف بذات خود کوئی مذہب نہیں ہے۔یہ رب کی عطا ہے جو انسان کو مذہب سے اوپر اٹھا کر اس جہاں میں لے جاتا ہے جہاں انسانی رویہ عشق میں ڈھل کر بذات خود مذہب بن جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ صوفی صرف عشق کرتا ہے ۔ وہ کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ سمندر میں اترنے والا پانی کے چند قطروں کے الٹے سفر پر بھلاکہاں ردعمل کا اظہار کرتا ہے ۔ اسی طرح صوفی اور ولی بھی ہم گناہ گاروں کے پیچھے لٹھ لے کر نہیں پڑتے ۔ جس طرح ہم جانتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اسلام لے کرآئے ہیں اسی طرح صوفی جانتا ہے کہ اسلام لانے والے آقا دوجہاںﷺصرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ سارے جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے۔ صوفی ازم بھی سارے جہانوں سے منسلک ہے۔یہ باریکیاں اور یہ رمزیں بھلا مجھ ایسا خطا کار کہاں سمجھ سکتا ہے۔ جو سمجھتے ہیں وہ خود کو چھپاتے پھرتے ہیں ۔ شاید امجد جاوید کوئی راز چھپاتے چھپاتے بہت کچھ عیاں کر بیٹھے ہیں ۔ اس” جرم “کی سزا جانے کیا ہو، ہم یہ بھی نہیں جانتے ۔ ہم ایسے تو ان محفلوں میں جوتیاں سیدھی کرنے سے زیادہ کی جرات ہی نہیں رکھتے۔
” دھوپ کے پگھلنے تک“ ان کی شعوری کوشش ہے۔ اپنی طرف سے انہوں نے رنگ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں ۔ یہ ناول ان کے مجموعی مزاج سے ہٹ کر بنی گئی کہانی ہے۔ اس کا پلاٹ مضبوط ہے ۔ کردار سازی سے لے کر منظر نگاری تک یہ ناول ”اصول ناول “ کے پیمانوں پر پورا اترتا ہے۔ اس کے باوجود مجھے دعوی ہے کہ اس میں” بسنتی چولے“ اور” کالی چادر“ کا سایہ نظر آتا ہے۔ شعوری کوشش میں بھی لاشعوری رنگ چھلکتا ہے۔ اس میں ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے۔
یقین مانیے مجھے ”دھوپ کے پگھلنے تک“ نے چونکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امجد جاوید کے اس ناول پر ڈارامہ بن سکتا ہے۔ ویسے ڈرامہ تو انہوں نے اپنے مستقل قاری کے ساتھ بھی کیا ہے ۔ اگرانہوں نے راستہ بدلا یا درویش کی کٹیا میں ہونے والے فیصلہ سے پھرے تو پھر” قلندر لاہوری“ سے اپنا تعلق کمزور کر بیٹھیں گے۔ ابھی تو ان پر دَر، وا ہوئے ہیں ۔ یہ ناول لکھ کر امجد جاوید اپنے فنی سفر کے سنگھم پر آ کھڑے ہوئے ہیں ۔ اب آخری فیصلہ انہیں خود کرنا ہے۔گلیمر کی چکا چوند کا شکار ہونے والے لنگرکی دیگ کے نیچے لکڑیاں جلانے کے لیے پھونکیں نہیں مارا کرتے۔ ایک جانب گلیمر، دولت اور بے انتہا شہرت ہے۔ یہ راستہ بھی ان کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب درویش کی کٹیا ہے۔ فیصلہ انہیں خود کرنا ہے ۔ ہاتھ سے بنی ہوئی سویٹر اور تکیے کے نیچے سے ملنے والی موتیے کی کلیوں کی بھینی بھینی خوشبو ان کے لیے زیادہ اہم ہے۔ یا پھر برانڈڈ سویٹر اور مہنگے پرفیوم اثر رکھتے ہیں ۔
امجد جاوید کے کئی ناول ایسے ہیں جو آپ کو زندگی دیں گے ۔ وہی زندگی جو کسی محبوب کا ہاتھ تھامنے والے سچے عاشق کو ملتی ہے۔ وہی نشہ جس کا اسیر ہونے کے بعد سوہنی کچے گھڑے پر دریا میں اتر جاتی ہے اور فرہاد نہر کھود لاتا ہے۔ امجد جاوید کو سمجھنے کے لیے ان کے لکھے کو سطحی معنوں میں نہ لیں ۔ان کی اصل کو ان کے ناولوں میں کھوجیں ۔ بہت سے لوگ اس سلسلے کو سمجھے بنا ”دھوپ کے پگھلنے تک “ کو ایک ناول ہی سمجھیں گے لیکن میں انتظار کروں گا۔ اس ناول کا جو دھوپ کے پگھلنے تک نہیں لکھا جا سکتا۔ دھوپ کے پگھلنے تک امجد جاوید کی ” سزا“ جاری رہے گی۔لیکن دھوپ کے پگھلنے کے بعد آپ کیا لکھیں گے؟ یہی سوچ مجھے مقام حیرت پر روکے ہوئے ہے ۔ آخر ”کن “کی تلاش میں نکلا دیوانہ کیا کچھ لکھ سکتا ہے؟ میرے طرح آپ کو بھی انتظار کرنا ہو گا۔صرف دھوپ کے پگھلنے تک۔۔۔۔!!!!
سید بدر سعید

مصنف کا نام     :     امجد جاوید

امجد جاوید کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-