اُردو پوائنٹ کتابیں شخصیاتدلیپ کمار

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

پیش لفظ
میرے لئے وجہ جوش … ولولہ … تحریک اور خوشی ہے کہ میں اپنے خاوند کی خود نوشت سوانح عمری کا پیش لفظ تحریر کر رہی ہوں … جو اس نے بیان کی ہے … اس امر کے لئے اسے برسوں سے راغب کر رہی تھی … اس نے یہ سوانح عمری میری قریبی دوست ادایا ترانیر کو بیان کی ہے۔ یہ ہمیشہ ایک سخت مشکل اور دقت طلب کام رہا ہے کہ اسے اپنی بابت … اپنی زندگی کی بابت اور اپنی کامیابیوں کی بابت بات کرنے پر راغب کیا جائے۔ میں سمجھتی ہوں کہ میرے لئے یہ مناسب نہیں ہے اور نہ ہی میرے لئے یہ درست ہے کہ میں اس کتاب کی خصوصیات بیان کروں جو آپ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہیں اگرچہ ایسا کرنے کی جانب میں راغب ہوں … اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے خاوند کی بے حد تعریف کرتی ہوں اور یہ بات آپ سب کے علم میں بھی ہے اور میں اس پر بے حد فخروناز بھی کرتی ہوں اور ہم نے کئی عشرے بطور ایک جوڑا باہم اکٹھے گزارے ہیں۔ الفاظ اور زبان پر خواہ یہ انگریزی ہو یا اردو اس کی گرفت اس قدر مضبوط ہے … اور مجھے کوئی شک نہیں کہ جب میں یہ کہتی ہوں تب میں اکیلی نہیں ہوں۔
###
جب ایک پٹھان پھلوں کے سوداگر کا ایک 22 سالہ شرمیلا سا بیٹا انڈین سینما کے لئے منتخب ہوا … اور اسے دیوا نے منتخب کیا … دویکارانی … اس نے اسے بمبئی ٹاکیز کی فلم”جوار بھاٹا“ (1944ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی) میں کام کے لئے منتخب کیا تھا … اس نوجوان کے نام میں کسی قدر تبدیلی کی گئی تھی۔ یوسف خان دلیپ کمار بن گیا تھا۔
یہ انڈین سینما میں ایک افسانوی داستان کا آغاز تھا اور ہندی سینما کے پہلے فیصلہ کن اداکار نے جنم لیا تھا۔ دلیپ کمار نے یکے بعد دیگرے کئی کامیاب فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان میں درج ذیل فلمیں بھی شامل تھیں: …
# شہید(1948ء) # انداز (1949ء)
# دیوداس (1955ء) # نیا دور (1957ء)
# گنگا جمنا (1961ء) # آزاد (1955ء)
# کوہ نور (1960ء) # مغل اعظم (1960ء)
# رام اور شیام (1967ء) # گوپی (1970ء)
# کرانتی (1970ء) # شکتی (1982ء)
# مشعل (1984ء) # سوداگر (1991ء)
دلیپ کمار صاحب نے اپنے کیرئر کے دوران عمدہ اور شاندار اداکاری پیش کی اور ہر ایک نمایاں اداکار نے ان کی نہ صرف عزت کی بلکہ ان کی اداکاری کو اپنے لئے تقلید کا ایک نمونہ بنایا … انہوں نے کسی بھی اداکاری اسکول کا منہ تک نہ دیکھا تھا بلکہ اداکاری کا اپنا ہی طریقہ ایجاد کیا تھا۔
###
دلیپ صاحب کی بے ساختہ تعریف کی جاتی رہی ہے اور دیگر اداکار اُن کی اداکاری سے تحریک پاتے رہے ہیں۔ اُن کی اداکاری کے علاوہ ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ ہم سب اداکاروں کے لئے تقلید کا ایک نمونہ بن چکا ہے۔
ان کے بے شمار مداحوں اور پیروکاروں میں سے محض چند ایک ہی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ دلیپ ہمیشہ مطالعہ کے شیدائی رہے ہیں خواہ یہ ناول ہوں … ڈرامے ہوں … یا سوانح عمریاں ہوں … کلاسیک ادب کے لئے ان کی محبت بے پایاں رہی ہے۔ اُردو … فارسی … اور انگریزی ادب ہمارے گھر کی الماریوں کی زینت بنا ہوا ہے … میں نے ان کے ساتھ زندگی کے جتنے برس گزارے ہیں میں نے رات کے اندھیرے میں انہیں ٹیبل لیمپ کی روشنی میں اکثر مطالعہ میں غرق دیکھا ہے۔ یہ مطالعہ صبح سویرے تک جاری رہتا ہے … خواہ ہم بمبئی میں اپنے گھر میں موجود ہوں … یا جموں اور کشمیر کے کسی دور دراز کے ڈاک بنگلے میں مقیم ہوں … سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہوں یا دنیا کے کسی بھی حصے میں مقیم ہوں … جب وہ مطالعہ کرتے ہیں … وہ اس طرح اپنے مطالعہ میں غرق ہوئے جیسے ایک بچہ اپنی دل پسند گیم میں غرق ہوتا ہے … میں ان سے بار بار درخواست کرتی ہوں کہ اب آرام بھی کرلیں۔ اگر مطالعہ جان چھوڑتا ہے تو وہ ایک اسکرپٹ یا ایک سین تحریر کرنے بیٹھ جاتے ہیں جو اگلی صبح فلمایا جانا ہوتا ہے۔
###
انہوں نے ایک وقت میں ایک فلم میں کام کیا اور اسی فلم پر اپنی توجہ مرکوز رکھی اور پوری لگن سے اس میں کام کیا۔
مجھے یاد ہے ایک مرتبہ وہ سوداگر نامی فلم کی آؤٹ ڈور شوٹنگ کے دوران کولو میں خون تک منجمد کردینے والی سردی میں رات گئے تک پروڈیوسر۔ ڈائریکٹر شبھاش غائی کے ساتھ سین تحریر کر رہے تھے اور انہیں زیر بحث لا رہے تھے … بالآخر انہوں نے شبھاش کو ان کے کمرے میں آرام کرنے کے لئے بھیج دیا … اور بذات خود ذوق وشوق اور جذبے کے ساتھ سین کامعائنہ کرتے رہے۔ تقریباً ساڑھے چار بجے صبح دلیپ صاحب کے ذہن میں ایک آئیڈیا لپکا جو ایک شاندار آئیڈیا تھا اور انہوں نے شبھاش کو ان کی نیند سے بیدار نہ کیا تاکہ ان کے ساتھ اپنے آئیڈیا پر تبادلہ خیال کرسکیں! تب وہ دونوں سینوں(مناظر) پر اس طرح کام کرنے میں مصروف تھے جس طرح شہد کی مکھیاں اپنا کام کرنے میں مصروف ہوتی ہیں اور حتیٰ کہ انہوں نے سین(منظر) فائینل کرلیا اور خوشی خوشی صبح کے وقت آؤٹ ڈور شیڈول کا آغاز کردیا۔
ان کی خود نوشت سوانح عمری کی تکمیل کے ساتھ ہی میری خوشی اس طرح دوبالا ہوگئی ہے جس طرح میرا کوئی خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا ہے … اس کتاب کا حصہ اوّل آپ کو ان کے سفر کا حصہ بنائے گا۔ وہ اپنے جو تجربات بیان کرتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ وہ ہستی کیسے منظر عام پر آئی جو دلیپ کمار کہلاتی ہے۔ اور یوسف خان نے دلیپ کمار تک کا سفر کیسے طے کیا۔
###
درحقیقت … اس غیر روایتی پیش لفظ میں جو میں شیئر کرسکتی ہوں یا جو کچھ شیئر کرنا پسند کرتی ہوں وہ اس شخص اور اداکار کے ان دیکھے اور انجانے پہلو ہیں جو میں خوش قسمتی سے جانتی ہوں اور 12 برس کی عمر سے دل کی گہرائیوں سے اس وقت سے محبت کرتی ہوں جب میں نے پہلی مرتبہ انہیں دیکھا تھا۔
میں وہ دینا چاہتی ہوں جو ان کے سراہنے والوں اور تعریف کرنے والوں سے بھرپور ہے … کتاب میں درج واقعات اور اقساط کے ذریعے … دلیپ صاحب کی خلقی سادگی کے ساتھ … سچے اور کھرے پن کے ساتھ اور دل کی بے پناہ اچھائی کے ساتھ۔
میں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک تعریف کرنے والے پرستار کی حیثیت سے کیا … اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے ان کے ساتھ شادی کی اور اس عظیم بنی نوع انسان کی خصوصیات اور مختلف پہلو دیکھے جو ان لوگوں میں سے کسی بھی ایسے لوگ کی مانند نہ تھا جن سے میں نے ملاقات کی اور بات چیت کی … اور ان سفروں کا آغاز میں نے سات برس کی عمر سے کیا جو مابعد عمر میں بھی جاری وساری رہے … اس قسم کا شخص … جیسے دلیپ کمار صاحب … میں کہوں گی … شادو نادر ہی اسے روئے زمین پر چلتا ہے۔
بطور ایک اداکار ہم سب ان کی برتری سے آشنا ہیں اور ان کی ذہانت کے بھی قائل ہیں … لیکن ان کی شخصیت کی برتری بھی واضح ہے۔ وہ معصوم اور بھولے بھالے ہیں … ان کی آنکھیں بہتی ندی کے صاف شفاف پانی جیسی پاکیزگی اور دیانت داری کی حامل ہیں۔ وہ کسی بھی فرد کے منفی پہلوزیر غور لانے سے سختی کے ساتھ انکار کردیتے ہیں … یا کسی بھی صورت حال کے منفی پہلو ان کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے … وہ مجھے بھی ایسے لوگوں کی خامیاں نظر انداز کردینے کی تلقین کرتے رہتے ہیں جنہیں وہ پسند کرتے ہیں اور جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں … وہ اس کی بجائے مثبت خصوصیات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور ان کی منفی خصوصیات سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔
ان کے ساتھ اپنی اولین ملاقات سے ہی جبکہ میں ایک شرمیلی لڑکی تھی … میں نے انہیں ایک مختلف اور دیگر لوگوں سے برتر پایا۔ وہ ایسی عظمت کے حامل ہیں جو کسی بھی اجتماع میں انہیں نمایاں اورممتاز بناتی ہے … خواہ یہ خاندانی پارٹی کی تقریب ہو یا کوئی فلمی تقریب ہو یا کسی شاہی محل میں اعلیٰ حسب ونسب کے حامل لوگوں کی تقریب ہو۔
ان کے سیکولر اعتقادات کے شگوفے سیدھے ان کے دل سے پھوٹتے ہیں اور تمام تر مذاہب کے لئے ذاتوں … برادریوں اور مسلکوں کے لئے اُن کے احترام سے پھوٹتے ہیں۔
مثال کے طور پر … حیران کن جین برادری کے بچے جو کبھی کبھارتیس دنوں تک روزے رکھتے ہیں یا کبھی کبھار آٹھ دنوں تک روزے رکھتے ہیں ایک مرتبہ ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی ان کے درمیان موجود ہوں اور گنے کے جوس کے قطرے نوش کریں جس کے ساتھ وہ اپنا روزہ کھولتے ہیں(1980ء میں جب وہ بمبئی کے شیرف تھے) … انہوں نے بخوشی یہ دعوت قبول کرلی … انہیں بچپن سے ہی قرآن کی کچھ آیات یاد ہیں اور وہ انہیں زبانی یاد ہیں اور وہ اکثر ان کی تلاوت کرتے رہتے ہیں۔ انہیں بھگوت گیتا کی سنسکرت آیات پڑھنے کا بھی شوق ہے۔ وہ دیوالی کا تہوار بھی شوق سے مناتے ہیں اور اس سے اسی طرح لطف اندوز ہوتے ہیں جس طرح عید کے تہوار پر خوش ہوتے ہیں اور اسے اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ مناتے ہیں۔ وہ اذان بھی پڑھتے ہیں اور نماز کی ادائیگی کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔
جب وہ بھجن”گاتے“ ہیں(جیسا کہ 1970ء کی فلم”گوپی“ میں ․․․․ ) … کوئی ہندو یقین نہیں کرسکتا کہ دلیپ کمار ایک مسلمان ہے یا یہ کہ یہ یوسف خان ہے جو یہ بھجن”گا“ رہا ہے اس قدر ادب واحترام کے ساتھ مثال کے طور پر … لکھنو میں ایک مشہور پان والا ہے … اُس نے اپنی دوکان دلیپ صاحب کی تصاویر کے ساتھ سجا رکھی ہے … اس کی دکان دلیپ صاحب کی تصاویر سے ڈھکی ہوئی ہے … وہ یہ یقین کرنے پر تیار ہی نہیں ہے کہ دلیپ صاحب ایک ہندو نہیں ہیں۔
میرے خاوند کے قریبی دوستوں میں پارسی بھی شامل ہیں اور وہ پارسی گجراتی اس انداز سے بولتے ہیں جس انداز سے محض پارسی بولتے ہیں ان کے دوستوں میں بہت سے سردار دوست بھی شامل ہیں یعنی سکھ دوست بھی شامل ہیں … ان میں کچھ ان کے خالصہ کالج کے ایام کے قریبی دوست بھی ہیں۔ یہ کہنا کہ وہ دنیا کے شہری ہیں ایک غلط دعویٰ ہرگز نہ ہوگا۔
میں چاہتی ہوں کہ لوگوں کے علم میں یہ بات بھی آجائے کہ دلیپ کمار صاحب زندگی کی زندہ دلی سے معمور ایک شخص ہیں۔ وہ بچوں کی مانند شرارتی بھی ہیں … وہ میری نقالی بھی کرتے ہیں اور مجھ جیسا لباس زیب تن کر کے خود بھی محفوظ ہوتے ہیں اور ہمیں بھی محفوظ کرتے ہیں۔
وہ کوئین ہیلن جی کے رقص کی نقالی بھی کرتے ہیں … ”اُن کی مونیکا کی نقالی اوہ مالی ڈارلنگ“ کمال کی تھی … میں حیران تھی … انہوں نے ہیلن جی کی نقالی کس قدر خوبصورت انداز سے کی تھی۔ میری خواہش تھی کہ میں آپ سب کو یہ سب کچھ دکھانے کے لئے اسے فلما لیتی۔
اس طرح انہوں نے ایک مرتبہ مشہور ومعروف خٹک ڈانسر گوپی کرشنا کی نقالی سنت رام جی کی”جھنک جھنک باجے پائل“ (1955ء) سے کی اور گوپی جی کے معر وف لیکن مشکل اسٹپ(STEPS) کا مظاہرہ کیا۔
میرے پاس دلیپ صاحب کے مداحوں سے متعارف کروانے کے لئے ان کی بے شمار”خصوصیات“ موجود ہیں … اس کے لئے مجھے اپنی کتاب تحریر کرنا ہوگی … ان کے ساتھ اپنی زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے جو چار سے زائد عشروں پر محیط ہیں جو میں نے اللہ کی مہربانی سے ان کے ساتھ گزارے ہیں۔
###
دلیپ کمار … جنہیں دنیا ایک عظیم اداکار کے طور پر جانتی ہے اور ان کی تعریف کرتی ہے وہ ایک شاندار خوش بیان مقرر اور ذی فہم بھی ہیں … اگرچہ وہ ذہن لڑانے والی گیمیں مثلاً شطرنج اور برج نہیں کھیلتے … لیکن وہ اپنے کنبے کے ساتھ ایک بچے کی مانند کھیلتے ہیں۔
###
انہوں نے ہمیشہ ایک بھرپور زندگی گزارنے کی خواہش کی ہے … وہ شاندار فطری حسن سے لطف اندوز ہونا کبھی فراموش نہیں کرتے۔ وہ سورج غروب ہونے کا نظارہ کرتے ہیں اور اس نظارے سے محروم رہنے سے نفرت کرتے ہیں۔
وہ اپنے سادہ سفید کاٹن کے لباس کو پسند کرتے ہیں … لیکن وہ اپنے سوٹوں … ٹائیوں اور جوتوں کو بھی پسند کرتے ہیں … میں نے ان چیزوں کو سنبھال کر اور قرینے اور سلیقے سے رکھنے کا ہنر اُن سے سیکھا ہے … وہ اپنے ملبوسات قرینے اور سلیقے سے اِن کے رنگوں کے حساب سے رکھتے ہیں … ان کا دھوبی پیارے لعل جس کی بابت آپ زیر نظر کتاب میں پڑھیں گے ان کے ملبوسات کی دھلائی کسی بھی بین الاقوامی لانڈری سے بڑھ کر کرتا ہے اور دلیپ صاحب اسے اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ ایک نو عمر لڑکے تھے۔
###
عاجزی اور انکساری وہ چیزیں ہیں جو میں نے دلیپ صاحب سے سیکھی ہیں۔ اگر میری کبھی اپنی والدہ کے ساتھ ان بن اور اختلاف رائے ہوجاتی ہے … دلیپ صاحب میری سرزنش کرتے ہیں اور مجھے تلقین کرتے ہیں کہ میں اپنی والدہ سے معذرت کروں … وہ کہتے ہیں:…
”تم کبھی اپنی ماں کا قرض نہیں چکا سکتی جس نے تمہیں جنم دیا اور اس بڑی دنیا میں تمہیں پروان چڑھایا اس قدر محبت اور قربانی کے ساتھ۔“
###
پالی ہِل ممبئی میں واقع اپنے گھروں میں ہم ہمیشہ پرانے فیشن سے سوتے ہیں یعنی ہم اپنے بستروں پر مچھر دانیاں لگا کر سوتے ہیں تاکہ ہمارے باغیچے کے مچھر ہمیں کاٹ نہ سکیں اور ہم ان کا نشانہ بننے سے محفوظ رہ سکیں … میں ہمیشہ شرارت کرتے ہوئے ان سے درخواست کرتی تھی کہ وہ بیڈ کی دوسری جانب رکھا ہوا پانی کا گلاس مجھے پکڑائیں۔ اپنے لاڈ میں … میں انہیں مچھر دانی سے باہر نکلتے اور مجھے پانی پلاتے ہوئے دیکھنا پسند کرتی تھی۔ انہوں نے میری اس حرکت پر کبھی منہ نہ بنایا تھا اور نہ ہی کبھی غصہ کیا تھا بلکہ ہمیشہ پیار اور محبت بھرے انداز سے میرے پاس بیٹھے رہتے تھے حتیٰ کہ میں پانی نوش کرنے کے بعد خالی گلاس ان کے ہاتھ میں تھما دیتی تھی۔ ان تمام برسوں کے دوران ہمارے ساتھ یہ معاملہ باقاعدہ طور پر چلتا رہا اور ان کی کشادہ پیشانی پر کبھی شکن تک نہ آتی تھی اور وہ پیار و محبت کا ایک عظیم پیکر بنے رہتے تھے۔
ایک موقع پر … ایک نیا ریفریجریٹر ہمارے گھر میں آیا … میں نے خوشی خوشی اسے کھولا … میں نے دیکھا کہ دروازے کے اندر ایک ریک ٹوٹا ہوا تھا۔ میں رونے لگی کہ نئے فرج کا ایک ریک ٹوٹا ہوا تھا۔ دلیپ نے مجھے تسلی دی اور پرسکون رہنے کی تلقین بھی کی اور فوراً ہی کپڑے لٹکانے والے ایک دھاتی ہینگر کو ریک کی شکل وصورت عطا کرتے ہوئے اسے ٹوٹے ہوئے ریک کی جگہ فٹ کردیا اور بے حد خوبصورتی کے ساتھ اسے فٹ کیا … اس طرح وہ ایک معاون خاوند ثابت ہوتے تھے جو اپنی بیوی کوکسی بھی وجہ سے آنسو بہانے نہیں دیتے تھے اور اس کے آنسو بہانے کے عمل سے نفرت کرتے تھے۔ درحقیقت وہ اپنی بیوی کی آنکھوں میں آنسو برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ میں حیران ہوں کہ کس قدر اس اسٹار خاوند یا اس حوالے سے کس قدر خاوند ایسے ہیں جو اپنی آنسو بہاتی ہوئی بیوی کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے ہیں! حقیقت میں … دلیپ صاحب کی عظمت ان کی سادگی اور انا کی عدم موجودگی میں پنہاں ہے۔
###
سرشام وہ پتنگیں اڑانا پسند کرتے تھے اور وہ ساری فیملی کے ساتھ پتنگیں اڑانے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمارے پاس چرخی(ڈور کی ریل) موجود ہوتی تھی۔ ہم تمام تر انڈیا سے پتنگیں اور چرخیاں اکٹھی کرتے تھے اور انہیں ایک بڑے ٹرنک میں محفوظ کرلیتے تھے … ہمارے پاس پتنگوں اور مانجھا کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہوتا تھا۔
پتنگوں اور مانجھے کو محتاط انداز سے کاغذ میں لپیٹا جاتا تھا کہ وہ نمی وغیرہ سے محفوظ رہ سکے۔
اردگرد کی عمارات سے دوست وغیرہ دلیپ کی پتنگ کاٹنے کی کوشش کرتے تھے … ایک میلے کی مانند سماں ہوتا تھا۔ دوستوں کے علاوہ مہمان بھی پتنگ بازی میں شرکت کرتے تھے جب کہ ماہرین کھانا اور مزیدار ہلکے پھلکے کھانے تیار کرتے تھے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ پروڈیوسر، ڈائریکٹر، ایکٹر(اداکار) منوج کمار دلیپ کمار کے ساتھ پتنگ بازی کرنے کے لئے اُس وقت آتے تھے جب وہ اپنی فلم کرانتی(1981ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی) کے لئے تجویز پیش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ہمیں خصوصی اچار آملیٹ کی ریسپی بھی دی … جسے دلیپ صاحب نے بے حد پسند کیا اور اس سے بے حساب لطف اندوز ہوئے۔
دلیپ صاحب برسوں سے نصف سر کی درد میں مبتلا تھے وہ حصول سکون کی خاطر اپنے سر پر وہ پردہ باندھ لیتے تھے جو کمرے میں تاریکی مہیا کرنے کے لئے لٹکایا گیا ہوتا تھا … حیرانی کی بات ہے … آسمان پر تیرتی ہوئی رنگدار پتنگیں ان کے سر درد کو کافی حد تک افاقہ پہنچاتی تھیں اور انہیں سکون فراہم کرتی تھیں …پتنگ باز ی کے دوران ہم مہمانوں کی تواضع گرم گرم بھاجی اور آملیٹوں سے کرتے تھے تاکہ وہ پتنگ بازی کے دوران زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں۔
###
زمانہ قدیم سے … میری اپنی فیملی اچھی شاعری … کلاسیکل موسیقی اور رقص وغیرہ کو نہ صرف پسند کرتی تھی بلکہ اس سے قرار واقعی محبت بھی کرتی تھی اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ دلیپ صاحب بھی ہم جیسے ذہن کے حامل ہیں اور وہ بھی فنون لطیفہ میں گراں قدر دلچسپی رکھتے ہیں … ہمارے گھر میں موسیقی کے عظیم فنکاروں کی آواز گونجتی رہتی تھی۔ ان میں درج ذیل عظیم فنکار شامل ہوتے تھے:…
# غلام علی خان صاحب … جو میری دادی … بیگم شمشاد عبدالوحید کہاں(اماں جی) کے ساتھی فنکار تھے۔
# ولایت خان صاحب … جو غلام علی خان صاحب کی مانند قابل ذکر موسیقار اور گلوکار تھے۔
# استاد مہدی حسن صاحب
# صابری برادرز (معروف قوال)
# ریشماں
# خٹک کوئین ستارہ دیوی اور میرے گرو
#پدمشری روشن کماری … جنہوں نے بڑے پیار بھرے اور محبت بھرے انداز میں مجھے کلاسیکل رقص کی تربیت دی۔
اس کے علاوہ کئی نمایاں پرفارمر ہمارے گھر میں پرفام کرچکے ہیں۔
ایک دن جب کہ اماں جی ریاض(کلاسیکل گلوکاری کی پریکٹس) کر رہی تھیں۔ وہ ہماری رہائش گاہ کی پہلی منزل پر ریاض کر رہی تھیں … دربان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک”قوال“ فقیر آیا ہے اور اماں جی کے درشن کرنے کے علاوہ ان سے آشیرباد لینے کا بھی متمنی ہے۔ دربان نے مزید کہا کہ وہ اپنے پیٹی باجا (ہارمونیم) کے ساتھ آیا ہے۔
کاٹن کا ایک سادہ ایپرل اور گامچا(ایک قسم کا اسکارف) اپنی پیشانی پر باندھے ہوئے … دلیپ صاحب نے اپنے پیٹی باجے کے ہمراہ جب آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھیں اور گانا شروع کردیا … اماں جی کو محظوظ کرتے ہوئے جو اس قدر ہنسیں کہ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے! اس قدر حیران کن ہیں میرے دلیپ صاحب! میرے بیش قیمت ہیرے! میرے کوہ نور!
###
اب میں آپ سے اجازت چاہتی ہوں اور آپ کو اس حیران کن اور غیر پیچیدہ شخص کی زندگی کی داستان کا مطالعہ کرنے کے لئے تنہا چھوڑتی ہوں جسے ایسے لوگ ایک معمہ یا پہیلی کہتے ہیں جو اسے اس قدر نہیں جانتے جس قدر قریبی دوست اور ساتھی اہلکار جانتے ہیں۔
اس کتاب کے اس حصے میں جہاں اس کے ساتھی اسٹاروں(ساتھی فنکاروں) اور اس کے مداحوں نے اپنے بیانات میں دلیپ صاحب کی تصویر کشی کی ہے … کچھ انجانے پہلو اور معاشرے کے ساتھ ان کا دست تعاون دراز کرنے کے علاوہ ان کی کچھ ایسی کامیابیاں بھی منظر عام پر لائی گئی ہیں جن کے بارے میں پہلے لکھی بات نہیں کی گئی تھی … لہٰذا قارئین کے جاننے کے لئے ایسا مواد موجود ہے جو ان کی شخصیت کا احاطہ کرتا ہے۔
سائرہ بانو

مصنف کا نام     :     مسعود مفتی

مسعود مفتی

مسعود مفتی کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-