اُردو پوائنٹ کتابیں سیاستعالمی شہرت یافتہ تحریروں کا انسائیکلوپیڈیا

کتاب "عالمی شہرت یافتہ تحریروں کا انسائیکلوپیڈیا" کے باب

ترتیب بدلیے


ترتیب نزولی up upترتیب صعودی

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

کتاب لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی

تیری رحمتوں کا دریا‘ سرعام چل رہا ہے
مجھے بھیک مِل رہی ہے‘ میرا کام چل رہا ہے
میرے دل کی دھڑکنوں میں ہے شریک نام تیرا
اسی نام کی بدولت میرا کام چل رہا ہے
سرعرش بات تیری‘ سر حشر نام تیرا
کہیں بات چل رہی ہے ‘ کہیں نام چل رہا ہے
خدا تعالیٰ اور اس کے حبیب حضرت محمد مصطفیکے نام کے ساتھ شروع کررہا ہوں کہ یہ ترجمہ شدہ مواد تو صرف اس چڑیا کی مانند ایک ادنیٰ سی کوشش ہے جو نارِ ابراہیم کو بجھانے چلی تھی وگرنہ حقیقت حال تو یہ ہے کہ میں نہ تو کوئی بڑا دانشور ہوں اور نہ ہی علمی لیاقت میں کمال رکھتا ہوں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ مسلم دنیا میں صحیح علمی و سائنسی انقلاب اس وقت آیا جب خلیفہ مامون الرشید نے آٹھویں صدی عیسوی میں نہ صرف یونان بلکہ ایران‘ مصر‘ روما و ہند کا سارا فلسفہ ادب‘ منطق‘ ہندسہ اور تاریخ سب کچھ عربی میں ڈھال کر مسلم دنیا کو اقوام عالم میں ممتاز کردیا اور تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی علمی قابلیت کی دھوم رہی۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ہم نے تحقیق و تفتیش کے کام کو بالکل ہی بھُلادیا ہے۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ہم آندھی و طوفان کی طرح اُٹھے اور چھا گئے لیکن اب گرد کی طرح بیٹھ گئے ہیں۔ اور اب ہم اپنی اس خو کو کھو بیٹھے ہیں ،جو علامہ اقبال کے بقول کچھ یوں تھی:
#پلٹنا جھپٹنا‘ جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
حقیقت حال تو یہ ہے کہ قرون وسطیٰ تک عالم اسلام میں عظیم پیمانے پر علم کی جستجو شروع ہوچکی تھی۔ بغداد ‘ قاہرہ اور چین کے تمام علوم آٹھویں صدی عیسوی تک عربی زبان میں منتقل ہوچکے تھے۔ مسلمانوں نے ان علوم کا صرف عربی زبان میں ترجمہ ہی نہیں کیا بلکہ انہیں سمجھنے کے بعد قابل فہم بھی بنا ڈالا۔
تاریخ انسانی میں مسلمانوں سے قبل کسی قوم کو بنی نوع انسانی کے علوم کے تمام جواہر کسی ایک خزانے میں منتقل کرنے کا افتخار حاصل نہ ہوسکا تھا۔ مغرب کی سرحدوں پر ان علوم کے دو مراکز قائم کئے گئے تھے۔ ایک قرطبہ اور دوسرا سسلی ۔ مغرب ان دونوں جگہوں پر حصول علم کے لئے مسلمانوں سے استفادہ کرتا تھا۔ فہم علم کے بعد مغرب کا خوابیدہ دماغ جب بیدار ہوا تو ان تمام علوم کو عربی سے دیگر زبانوں میں منتقل کردیا گیا اور پھر مغرب کے لئے ترقی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ ماضی سے پیار کرنا اور اس پر فخر کرنا اقوام کو زندہ و توانا رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے لیکن موجودہ دور میں ماضی سے پیار کی نسبت مستقبل میں آگے بڑھنے کی صورت گری زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
راقم میں اتنی فہم و بصیرت نہیں کہ ان شاہکار اور فکر انگیز مضامین کی عدم المثال خصوصیات اور علمی محاسن کا پوری طرح احاطہ کرسکوں البتہ یہ بات پوری صداقت سے کہی جاسکتی ہے کہ اس میں EVER CHANGING NEW WORLD ORDER کی ایک بہت ہی نمایاں جھلک دکھا دی گئی ہے۔ اس لئے میں نے اس COLLECTION کو بغیر کسی تبدیلی کے ان قلم کاروں کی ترجمہ شدہ اصل تحریروں کو جگہ دی ہے۔ جن کا ایک ایک لفظ گہرے معانی و اثر رکھتا ہے اور اشاروں کنایوں میں کہی گئی تحریروں کے بجائے ان قلمکاروں کی تحریروں کو جگہ دی ہے جو حقیقتاً واضح اہداف کے ساتھ ہیں اور پڑھنے والا انہیں واضح طور پر سمجھ لیتا ہے۔
امریکہ میں طویل عرصے سے قیام کے باوجود وطن سے میرا رابطہ صحافتی میدان میں ہمیشہ قائم رہا بلکہ اس بات کا بھی احساس ہوا کہ جدائی محبت کو آنچ دینے کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس دوران صحافت و سیاست سے وابستہ افراد سے گفتگو کے دوران اس بات کا شدت سے احساس رہا کہ ہماری پالیسی سازی میں کہیں نہ کہیں کچھ ایسی کمی یا کوتاہی ضرور ہے جو صحیح رُخ کے تعین میں رکاوٹ بنتی چلی آرہی ہے اور ہم مسلسل سیڑھی سے اُترتے چلے جارہے ہیں۔ میں خدمت وطن کے جذبے سے سرشار تو ضرور ہوں لیکن نہ تو اس مقام پر ہوں جہاں میری گفتگو اثر انداز ہوسکے اور نہ ہی ان صلاحیتوں سے مالامال ہوں کہ نئی راہوں کا تعین کروا سکوں۔ تب میری توجہ اس جانب مبذول ہوئی کہ کیوں نہ ایک ننھا سادیا جلا دُوں جو شاید روشنی کامینارہ بن سکے۔اسی خیال کے پیش نظر میں نے اس کتاب کی صورت میں ایک سعی کی ہے تاکہ ہمارے اہل دانش اور بطور خاص پالیسی میکرز اس طرف متوجہ ہوں اور وہ جان سکیں کہ امریکی پالیسی ساز ادارے دنیا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور امریکی حکومت ان رپورٹوں کی روشنی میں کس طرح اپنی پالیسیاں وضع کرتی ہے۔ حقائق سمجھنے والے پہلے عمل کرتے ہیں اپنی قوتوں پر اعتماد رکھتے ہیں اور پھر ان اعمال کے نتائج کا انتظار کرتے ہیں۔ عمل کے بغیر ایمان مثبت رویہ نہیں ہوسکتا۔ ایک یہودی کہاوت ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی میں عصا پھینکا تھا تو پانی پر کچھ اثر نہیں ہوا تھا لیکن جب ان کے پہلے مجاہد نے پانی میں قدم رکھا تھا تو سمندر نے دل کھول کر راستہ دیدیا تھا۔
یہ کتاب جہاں طالب علموں کو دور جدید میں ہونے والی کارروائیوں سے آگاہ کرے گی وہیں صحافیوں اورعام قارئین کو آنے والے دنوں میں ہونے والی کارروائیوں سے باخبر رکھنے کے لئے انمول خزانہ فراہم کریگی۔ میری اس پہلی کوشش کو آپ جو مرضی نام دیں، میں محقق تو نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ایک محقق جب کسی تحقیق کا آغاز کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی مقصد ہوتا ہے… مستقبل کا ایک اشارہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ کس چیز کی تلاش میں ہے۔ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے حقائق اور معلومات جمع کرتا ہے‘ ان کی جانچ پڑتال کرتا ہے‘ ان کے مختلف اثرات پر غور کرتا ہے‘ وہ معلومات جو اس کی فکر کے لئے ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں ان کو یکجا کرتا ہے اور آخر میں ایک فارمولا تھیوری ‘یا اصول پیش کرتا ہے جو علم میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ ایسی ہی یہ کوشش ہے۔ یہ کتاب ”عالمی شہرت یافتہ تحریروں کا انسائیکلو پیڈیا“ آپ کو بین الاقوامی سطح پر نمودار ہونے والے واقعات اور پس پردہ حقائق کو جاننے کیلئے وہ مواد فراہم کریگی جس کے آپ برسوں متلاشی رہے ہیں۔ میں ان مایہ ناز تحریروں کو آپ تک پہنچانے کیلئے ان تمام رائٹرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایسا علم ہم کو دیا جس سے ہم دنیا کے معاملات کے بارے میں باخبر ہوسکیں۔ ان مایہ ناز رائٹروں کی تحریروں کو شکریہ کے ساتھ ہم اس کتاب کا حصہ بنا رہے ہیں اور اپنے قارئین سے اُمید رکھتے ہی کہ وہ ان علمی اور تحقیقی تحریروں سے ضرور استفادہ کریں گے اور اپنی رائے سے ہم کو ضرور مطلع فرمائیں گے۔

ندیم منظور سلہری nadeemsalahri786@yahoo.com

مصنف کا نام     :     ندیم منظور سلہری

ندیم منظور سلہری کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-