اُردو پوائنٹ کتابیں سیاستباد صحرا

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

بسم اللہ الرحمن الرّحیم
اس کتاب کو آپ کے ہاتھ میں پہنچنے تک تقریباًچودہ برس لگ گئے، اس تاخیر ایک کی خاص وجہ یہی ہوئی کہ وقت کبھی رکتا نہیں۔ دوسری وجہ یہ بنی کہ کوئی کام بھی کئے جانے سے ہی تکمیل کی منزلوں کو پہنچتا ہے۔ میں روایات کا اسیر فرد،بس خواہش ہی کرتا رہا، خواہشات کوشش ہی سے ثمر بار ہوتی ہیں۔
یہ کالم 2001ء میں شروع ہوئے تھے، ایک آدھ کے علاوہ تمام کالم روزنامہ ”انصاف“ لاہور میں شائع ہوئے۔ پہلے پہل کالم لکھ کر خط کی صورت ڈاک میں جاتا رہا، بعد ازاں فیکس ہونے لگا، اور پھر وقت آیا کہ کالم کمپوز کیا اور میل کردیا، تادمِ تحریر یہی طریقہ رائج ہے۔ ان تینوں طریقوں میں بھی صبر آزما مراحل آتے رہے ، اور ابھی آرہے ہیں۔ مگر کربناک صورتِ حال سے اس وقت پالا پڑا جب تقریباً سات آٹھ برس قبل ان کالموں کو کتاب کی صورت دینے کا ارادہ ہوا، ایک کمپوزر کو مسودہ دیا گیا، اخبار میں شائع شدہ کالم انہیں مہیا کردیئے گئے ، ان میں جو اِکّا دُکّاغلطیاں تھیں ، ان کی نشاندہی کردی گئی ، مگر جب کاپی میرے پاس پہنچی تو میں سر پیٹ کے رہ گیا، ایک ایک صفحہ پر پچاسیوں غلطیاں۔ ان کی نشاندہی کربناک امتحان تھا ، جو کسی نہ کردہ گناہ کی مانند مجھے سزا دینے پر تُل گیا تھا۔ اصلاح کے بعد جب دوبارہ کاپی میرے پاس آئی تو غلطیوں کی تعداد کافی کم تھی، یعنی پچاسیوں کی بجائے بیسیوں۔ مگر کمپوزنگ والوں نے مزید پریکٹس سے انکار کرتے ہوئے سی ڈی ہمارے ہاتھ میں تھما دی۔ دو تین سال یونہی گزر گئے، جب دوبارہ جذبات کو احساس کے میدان میں اتارا تو معلوم ہوا کہ سی ڈی غائب ہے، تلاشِ بسیار کے بعد کتاب کا نصف ایک جگہ پر کمپیوٹر میں ہی کاپی ہوا مل گیا، باقی نصف کو خود کمپوز کیا کہ اس وقت تک مَیں ترقی کرکے کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہوچکا تھا۔
اس کتاب میں شامل کالم تقریباً پانچ برس پر محیط ہیں۔ یہی زمانہ جنرل(ر) پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں عروج کا تھا، ایک طرف ان کے زیرِ اثر سیاسی حکومت چل رہی تھی تو دوسری طرف امریکہ کی افغانستان میں جنگ شروع ہوچکی تھی۔ روایات اور رجحانات میں نمایاں تبدیلی آرہی تھی۔ ان کالموں میں جہاں مزاح کا پہلو دکھائی دیتا ہے، وہاں طنز کی کاٹ بھی نمایاں ہونے سے نہیں رہ سکی۔ ان کالموں میں تاریخ کی جھلکی بھی دکھائی دے گی اور حالات کی سنگینی اور جبر کا عکس بھی نظر آئے گا۔ قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے کا منظر بھی ہوگا، اور عوام کی بے بسی کی حالت بھی سامنے ہوگی۔ آمریت کے جبر کے دور میں لکھے گئے ان کالموں میں حکومت کی تمام تر مخالفت کے باوجود یہ بات قابلِ تحسین قرار پائے گی، کہ اس زمانے میں آزادی رائے کا کھل کر اظہار ہوتا تھا۔
آپ کو کالموں میں بعض الفاظ یا خود ساختہ محاوروں کی تکرار بھی دکھائی دے گی، مگر تکرار کے موقع پر بدمزہ ہونے کی بجائے صرف اتنا خیال کرلینا کہ یہ کالم تقریباً پانچ برس پر محیط ہیں، ان کو یکجا کرنے سے ہی ایسی صورت پیدا ہوئی۔ یہ کالم صدا بہار ہیں، دس برس بعد بھی حالات پر صادق آتے ہیں، تو اگلے برسوں میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ ان کالموں کو پڑھتے وقت یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے، کہ لاہور کے اخبار میں بہاول پور میں بیٹھ کر کالم لکھنا کارِ آسان نہیں۔
یہ کتاب شاید اب بھی ظہور پذیر نہ ہوتی اگر 2014ء کے آخری دنوں میں بھائی امجد جاوید بہاول پور تشریف نہ لاتے۔ بس یوں جانئے کہ انہوں نے یہ سارا بوجھ خود اٹھالیا، ہم تو اُن کے پیچھے چلتے رہے ، سراٹھا کر دیکھا تو کتاب سامنے تھی۔جاوید چوہدری (بہاول پور) اس مہم کے آغاز سے ساتھ ہیں، کہ کمپوزنگ انہوں نے ہی کروا کردی تھی۔ برادرِبزرگ اے ڈی سہیل کام کرنیکی مسلسل ترغیب دیتے رہے۔ یہاں اپنے اہلِ خانہ کے تعاون کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جو چودہ سال سے میرے کالموں اور کتابوں کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، اس ضمن میں ان کی خواہشات اور جذبات میرے ہم رکاب ہیں۔
محمد انور گریوال

مصنف کا نام     :     محمد انور گریوال

محمد انور گریوال کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-