اُردو پوائنٹ کتابیں اردو ادبسب رَس

: کتاب کے بارے میں کچھ تفصیل

حرفے چند
سب رس کی اشاعت بابائے اُردو کے بہت سے کارناموں میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ پہلے اس کتاب کا حوالہ ضرور دیا جاتا تھا مگر اُردو دنیا اس کے فیض سے 1932ء تک محروم رہی۔ ایک طرح اسے بابائے اُردو مرحوم کی دریافت سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے نہ صرف اسے دریافت کیا بلکہ اس پر نہایت محنت سے کام بھی کیا، مقدمہ لکھا، فرہنگ مرتب کی اور اس زمانے میں انجمن کے صدر مقام اورنگ آباد (دکن) سے شائع کیا۔
سب رس پر بہت کام ہوا ہے۔ اُردو زبان کی تاریخ سے دلچسپی والے ہمیشہ کی طرح آج بھی سب رس کے بغیر اپنی تحقیق و تفتیش مکمل نہیں کر سکتے۔ اسی لئے انجمن نے 1953ء میں اسے دوبارہ شائع کیا۔ یہ اشاعت ثانی ٹائپ میں اور جلد کے بغیر تھی کیوں کہ بابائے اُردو نے وہ بات بہت پہلے سوچ لی تھی جس پر آج کل تقریباً تمام ناشر عمل کر رہے ہیں یعنی اچھی کتابوں کو سستی قیمت پر مہیا کرنا۔ اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ ناشر جلد بندی کے اخراجات سے آزاد رہے تاکہ ان کا بار خریدار پر نہ پڑے۔ مگر موجوہ دور میں اب جلدی بندی کا رواج عام ہے تاکہ کتاب زیادہ دن تک محفوظ رہے۔
ابتداء میں بابائے اُردو کا وہ مبسوط مقدمہ شامل ہے۔ جو آج کل ایک اہم تحقیقی مقالے کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس مقالے کی روشنی میں اہل نظر ”سب رس“ سے پورا پورا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ یوں بھی اس کتاب کی نثر ایک عام قاری کو اُردو زبان کے بڑے دلچسپ ابتدائی مناظر دکھاتی ہے۔ اُردو الفاظ اور اسالیب کے ارتقاء پر کام کرنے والوں کیلئے تو یہ ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔ بطور خاص آج اُردو ایک بڑی پھیلی ہوئی زبان ہونے کے علاوہ عظیم قوم کی قومی زبان بن چکی ہے۔ اس کی اولین تصنیفات خصوصی توجہ اور تحقیق کی حق دار ہو گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ”سب رس“ آج تمام جامعات کے اُردو شعبوں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے اور بیرون پاکستان نصاب میں بھی شامل ہے۔
اس اشاعت کو ہم نے 1964ء کے ایڈیشن کی فلموں سے طبع کرایا ہے۔ امید ہے کہ اُردو پر نئے پرانے کام کرنے والے بطور خاص کتاب کی اس اشاعت سے فائدہ اٹھائیں گے۔ موجودہ ہوش ربا گرانی کے پیش نظر کتاب کی قیمت میں ناگزیر طور پر کچھ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

مصنف کا نام     :     ڈاکٹر مولوی عبدالحق

بابائے اردو مولوی عبدالحق 1870ء میں ہاپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی پھر میرٹھ میں پڑھتے رہے۔ 1894ء میں علی گڑھ سے بی۔ اے کیا۔ علی گڑھ میں سرسید کی صحبت میسر رہی۔ ان کی آزاد خیالی اور روشن دماغی کا مولانا کے مزاج پر گہرا اثر پڑا۔

ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-