Amrit Kaur By Amjad Javed

امرت کور - امجد جاوید

Amrit Kaur in Urdu
اس کہانی کی کہانی

اس کہانی کی بھی ایک کہانی ہے۔ہوا یوں کہ ۔۔۔! بلال حسن سے میری ملاقات ان دنوں میں ہوئی تھی ، جب میں روزنامہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہفت روزہ جریدہ ”اخبارِ خواتین“ کراچی کے لاہور آفس کا انچارج تھا۔ان دورانئے میں ہی ایک صنعت کار خاندان کی ایک سوشل ورکر خاتون نے لاہور جم خانہ میں خواتین کی انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیموں کو مدعو کیا۔”پریس“ سے تعلق اورا خبار بھی خواتین کا ہونے کے ناطے مجھے بھی وہاں بلوایا گیا۔ وہاں میری ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو کبھی خود اخبار خواتین کی انچارج رہی تھیں۔ ان سے خوب گپ شپ رہی ۔ چند دن بعد انہی نمائندہ تنظیموں نے لاہور وویمن کلب باغ جناح میں میلے کا سماں بنا دیا۔ ان کے کچھ مطالبات تھے جن کے اظہار کے لئے انہوں نے یہ طریقہ اپنایا تھا۔ وہیں پر ان صحافی خاتون سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ ہم ایک کھانے پینے کے سٹال پر جابیٹھے۔اس کے ساتھ ہی ایک ایسے مصور کا سٹال تھا جو فقط لاہور اور اس کے کلچر کی تصویریں بناتا تھا۔ وہیں بلال اور زویا سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس صحافی خاتون کے تعلق داروں میں سے تھے۔
بات لاہوری کھانوں سے نکلی توثقافت تک جا پہنچی۔ پاکستان کے قیام، نظریاتِ پاکستان اور مقصد پاکستان کے بارے میں ایک زور دار گفتگو ہوئی۔ سیاسی تناظر میں ان دِنوں کے حالات بھی زیر بحث آئے۔جس میں خصوصاٌ سکھ سیاست پر بہت بات ہوئی۔ بلال نے اس پر خوب گفتگو کی تھی۔ اس دن کا خاصا حصہ اس ملاقات میں گذر گیا۔ٹیلی فون نمبرزکے تبادلے کے بعد ہماری باتیں ختم ہوئیں۔ پھر گاہے بگاہے ملاقات رہنے لگی۔ ایک دوسرے کے پاس آنا جانا بھی ہوا۔ کچھ عرصے بعد یہ تعلق فون تک سمٹ گیا۔یہاں تک کہ ایک طویل دورانیہ آ گیا۔
پچھلے دنوں اچانک ہی ایک ہوٹل کی لابی میں بلال حسن سے ملاقات ہو گئی۔ اتنے برس کے بعد کی ملاقات میں خاصی گرم جوشی تھی۔وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے جانا چاہتا تھا، تاہم ڈنر کے بعد ہم جدا ہوگئے۔ دو دن بعد میری اس سے انہی کے گھر میں ملاقات ہوئی۔یہ کہانی اس نے مجھے اس ملاقا ت میں سنائی۔ کیونکہ وہ موجودہ سیاسی حالات میں بہت الجھا ہوا تھا۔ پہلی بار نور محمد کے کردار سے شناسائی ملی۔ میری حسرت ہی رہی کہ میں نور محمد سے خود ملتا۔ مگر وہ اس وقت اللہ کو پیارے ہو چکے تھے ۔
اس کہانی کے بیان میں بہت سارے غیر متعلقہ واقعات میں نے چھوڑ دئیے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ بیان کر دئیے جاتے تو پاک بھارت تعلقات کی بہت ساری تصویریں سامنے آجاتیں۔ چونکہ وہ سیاسی بحث کے متقاضی تھے۔ اس لئے میں نے ان سے گریز کیا۔ پھر اس کے علاوہ طوالت کا خوف بھی دامن گیر تھا۔
اس کہانی میں بہت سارے ایسے اشارے بھی ہیں جن سے انسانی نفسیات ہی کا نہیں بلکہ اس کی روحانی رسائی کا بھی پتہ ملتا ہے۔ جہاں ایک طرف محبتوں میں قربانیوں کی اعلی رسائیاں ہیں تو دوسری طرف نفرت سے لہو کی ارزانی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایک اشارہ ان منافقین کا بھی ہے، جو اس فساد کی جڑ ہیں۔ اصل میں اس زمین پر اگر فساد ہے تو وہ انہی منافقین کی وجہ سے ہے۔انہی کے لئے بابا جی بلّھے شاہ سرکار نے فرمایا ہے ” کتّے تیتھوں اُتّے“۔ اجازت

امجد جاوید

Chapters / Baab of Amrit Kaur

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

آخری قسط