Episode 25 - Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 25 - آوازِ نفس - قلب حسین وڑائچ

https://photo-cdn.urdupoint.com/show_img_new/books/bookImages/146/400x120/146_logo.gif._2 in Urdu
خوف اور جھوٹ
خوف اور جھوٹ انسان کے باطن کو کھا جاتے ہیں ضمیر کو مار دیتے ہیں دل کو بیمار کر دیتے ہیں۔ خوف اور جھوٹ انسان کو اندر سے کمزور کر دیتے ہیں اُس کی فکر میں غلاظت بھر دیتے ہیں ‘ مفاد‘ خود غرضی ‘ شہرت اور اقتدار کے لئے کسی اصول اور قاعدہ کا احترام انسان لازمی نہیں سمجھتا ‘ جب خدا کو ناراض کرنے کا کوئی موقعہ ضائع نہیں کرتا اور دوسرے کا نقصان کرتے وقت چونکتا نہیں‘ جب اپنی اخلاقی کمزوری کو محسوس نہیں کرتا بلکہ اندر سے اپنے اِس فعل کو داد دیتا ہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو یہی درست ہے اور صرف تم ٹھیک ہو باقی تمہارے ارد گرد سب لوگ غلط ہیں اپنے خوف اور ڈر کو دلیری اور بہادری کا درجہ دیتا ہے اور اپنے جھوٹ کو سچ سمجھ کر بولتا ہے ایسا شخص دراصل اندر سے صحت مند نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنے روزمرہ کے رویوں اور فضول کارکردگی کی وجہ سے اپنے ذہن پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے اور اپنے مطلوبہ ہدف کے لئے اپنی نیند اور اپنے آرام کا خیال نہیں رکھتا ۔

(جاری ہے)

اپنی نیندمیں اپنی کارکردگی میں تیزی رکھتا ہے اپنے نہایت اہم اعضاء کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرتا ہے اپنے دل اور دماغ پر خواہشات اور تکمیل آرزو کا انتہائی بوجھ رکھتا ہے ایسے لوگ صرف عروج پر یقین رکھتے ہیں اور جب زوال آتا ہے تو جذبات اور جذبوں سے ہوا نکل جاتی ہے پھر شوگر سازی اور فشارِ خون جیسی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو ساری بیماریوں کی ماں ہے یہ زیادہ تر فطرت کے خلاف جنگ لڑنے والے پر حملہ کرتی ہیں خدا سے مضبوط رابطہ بناؤ خوف اور جھوٹ سے نجات پاؤ ۔

موت کو سانسوں میں جو زندہ رکھتا ہے وہ جھوٹ اور خوف والے پیشہ سے دور رہتا ہے ۔ دانستہ جھوٹ روح کی مہلک بیماری ہے خدا کا خوف روح کے لئے اکسیر اور دل کی صحت کے لئے نسخہ کیمیا ہے کم گوئی‘ خوش گوئی ‘ نفیس گوئی اور نرم گوئی انسانی نفس میں لطافت پیدا کرتی ہے غرور نفس کو کمزور کرتی ہے اعتدال اور میانہ روی میں رکھتی ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ میں نے ایک دن اپنی کارکردگی کا جواب دہ ہونا ہے اور مجھے وہی صلہ ملے گا جو میں نے کیا ہے مگر جھوٹے اور خوف زدہ شخص سے انصاف کی توقع نہیں رکھنی چاہئے وہ وقت کو دھکا دے کر اپنا مطلب نکالتا ہے ۔

جو اپنے خوف کو طاقت سے دباتا ہے اور جھوٹ کو طاقت سے منواتا ہے وہ تھوڑی دیر بام عروج پر ٹھہرتا ہے اُس کو بہت جلد زوال آ جاتا ہے مگر اُس کے ذہن میں سدا بادشاہی کا زعم ہوتا ہے ۔ جب ایک قدم آگے بڑھاؤ تو ایک نظر اٹھے ہوئے قدم کے نشان پر ضرور ڈالو وہی آپ کی کارکردگی کی گواہی دے گا۔ اگر غلط راہ پر مسلسل چلتے جاؤ گے تو ایک دن ضرور زوال اور ناکامی کے گڑھے میں دفن ہو جاؤ گے ۔

اپنے اچھے عمل کو سنبھال کر رکھو اور ہر عمل سے پہلے ردعمل کو نظر میں رکھو تو غیب سے تمہاری روح کی مدد آئے گی اور اُس نظر نہ آنے والی مدد کا نام نظر کرم اور رحمت خداوندی ہے ۔
اے انسان ! جھوٹ اور خوف سے جتنی پرہیز کرو گے اتنے صحت مند رہو گے میرا تو یہی ایمان ہے نہ جانے آپ کا ایمان کیا کہتا ہے ۔ فقط تمہاری ذات سے پوچھا جائے گا تمہارے اعمال کی ‘ مال کی نہ کوئی پڑتال ہو گی نہ تم سے کوئی سوال پوچھا جائے گا نہ تم سے کوئی جواب مانگا جائے گا نہ کوئی رعایت ہو گی نہ سفارش چلے گی نہ رشوت کا امکان ہو گا وہ ایسا امتحان ہو گا ۔

اے لوگو ! یہ دنیا کا میلہ بڑا سرسری ہے جہاں ہم خالق کو بھولے ہوئے ہیں جہاں ہم دانستہ اُسے ناراض کر کے ناخداؤں کو خوش کرتے ہیں اُس کے اصولوں کو پامال کرتے ہیں اُن کا مذاق اڑاتے ہیں آؤ مل کر سوچیں ہماری حیثیت کیا ہے کون نہیں جانتا انسان فقط پانی کا ایک بلبلا ہے فقط اک سانس کی مار ہے فقط اِس کی زندگی سانس کے زندان میں اک لمحہ ہے فقط موت کی اِسے انتظار ہے فقط ایک قطرہ کی یہ پیداوار ہے ۔

نہ جانے زمین پر اکڑ کر چلتا کیوں ہے نہ جانے نفس میں غرور کو کیوں پالتا ہے جبکہ اِس کی میت کو زمین میں دبایا جائے گا اِس کے بدن کی بو نہیں آئے گی اِسے منوں مٹی کے نیچے ٹھہرایا جائے گا ۔
جب اٹھاؤ میرا جنازہ جب لے جاؤ مجھے منزل انجام پر پھر میری اِس وصیت کو پڑھنا ضرور پھر اِس عمل کو اپنے اندر دہرانا ضرور کیا آپ کا بھی اِس وصیت پہ ایمان ہے کیا آپ کا بھی یہی مقام ہے انجام ہے۔

یہ سارا سچ اور حقیقت ہے لوگو ! کتاب حقیقت کا برہان ہے کتاب مبین کا یہ فرمان ہے ‘ کتاب فطرت کا یہ ایقان ہے یہ بھگوان کا سارا نظام ہے کوئی اِس سے انحراف کرے کیوں یہ مقام یقین ہے یہ موت کا دراصل نام ہے یہ میری وصیت کا پیغام ہے ۔
###
بے پردہ عقل
میرے نفس کی یہ آواز ہے عقل ہی اصل سرمایہ حیات ہے ۔عقل ہی خدا سے رابطہ پر مجبور کرتی ہے ‘ عقل ہی گناہ ‘ بدی ‘ برُائی اور جھوٹ سے دور رکھتی ہے ۔

حلال اور حرام جائز اور ناجائز میں فرق کا نام عقل ہے ۔ عقل ہی انسان اور حیوان میں امتیاز کا نام ہے ۔ عقل ہی عروج و زوال ہے اور یہی عزت اور بے عزتی کے درمیان خط امتیاز ہے نہ جانے لوگ عقل کی موجودگی میں غریب اور بے شعور کیوں رہتے ہیں اِس کی تقسیم میں خدا نے کوئی امتیاز نہیں رکھا بلکہ ہر ذی نفس کو اُس کی حیثیت اور حقیقت کے مطابق عقل دے کر پیدا کیا ہے اور انسان … ! انسان وہ شرف لے کر پیدا ہوا ہے کہ فی الارض یہ خلافت کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے اور اشرف قرار دیا گیا ہے مگر جب اِس سطح سے گرتا ہے تو حیوانوں اور درندوں سے بدتر ہو جاتا ہے عزت نفس تو کجا سب کچھ کھو دیتا ہے اپنے نفس کی آواز‘ ضمیر کی صدا ‘ دل کی پکار نہیں سنتا ۔

دماغ میں خمار اور وجود میں طاقت کا زعم اِسے ورغلاتا ہے تو شیطان کا ہمراہی ہو جاتا ہے سوچتا ہی نہیں کہ وہ انسان ہے اور اُس کے پاس عقل سلیم ہے سچا اور پاکیزہ دل ہے اُس کے لئے موت و حیات کی معرفت ہے جوانی اور بڑھاپے کے نمونے اِس کے سامنے ہیں وہ عقل سے مشورہ گیر نہیں ہوتا اور خالق سے مشورہ گیری اپنے نفس کی توہین اور حقیری سمجھتا ہے ۔ بے راہ روی اور گم راہی ہے خدا کی مہربان ‘ بے آواز پکار پر توجہ نہیں دیتا … بتاؤ ! ایسے ذی نفس کو انسان کہا جا سکتا ہے ایسے شخص کی عبادت میں حقیقت ہو سکتی ہے اِس کے سجدوں میں اثر ہو گا اِس کی دعاؤں میں تاثیر ہو گی جس کو خود کی خبر نہیں جو ذات کے زندان میں قید ہے ۔

انسان آنکھ سے اندھا ہو جائے تو اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا نور بصیرت کے کھو جانے سے پڑتا ہے ۔ عقل پہ پردہ پڑ جائے یا بے پردہ ہو جائے کوئی فرق نہیں مگر عقل پر اندھا پن کا غلبہ نہ ہو زندہ عقل انسان کی زندگی میں زندہ ہونے کی دلیل ہے ۔ بے فہم اور لا فہم نظر انسان آتا ہے مگر انسانیت تو کجا اُسے صرف انسان کہا جا سکتا ہے عقل ہی انسان اور حیوان کے درمیان فرق بلکہ حیوان زیادہ عقل مند ہے کیونکہ خدا نے حیوان کو جتنی عقل دی ہے وہ اُس سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی دی ہوئی عقل سے باہر نہیں نکلتا ۔

انسان عجیب ہے بلکہ عجب سے بھی ایک قدم آگے ہے عقل کی موجودگی میں بے عقلی والے کام کرتا ہے عقل سلیم کو ایک طرف رکھ دیتا ہے اور اکثر فیصلہ اپنے خلاف خود کرتا ہے ۔ انسان کو قلب صادق دیا ہے مگر وہ دل میں مکاری اور عیاری و ریا کاری رکھ کر اپنے روز و شب بسر کرتا ہے ہر وقت نفع ‘ نقصان اور فائدہ کے بارے میں سوچتا رہتا ہے دماغ پر کوئی نا کوئی بوجھ رکھتا ہے اور اپنے نفس کو اشتعال انگیزی پر آمادہ رکھتا ہے یہی تو وہ عقل کی انگشت بازی ہے جو انسان میں سے انسانیت کی حفاظت والا مادہ آہستہ آہستہ ختم کر رہی ہے اور عقل بے لباس ہو جاتی ہے انسان کو سمجھ ہی نہیں آتی وہ کیا کر رہا ہے اور اُسے کیا ہو گیا ہے اور کیسے ہو گیا ہے جو اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا وہ ہو جاتا ہے وجہ یہ ہے کہ اُس نے عقل سلیم کو دھوکا میں رکھا ہے اور قلب صادق پر جھوٹ کا غلبہ ہو گیا ہے یہی وجوہات ہیں کہ انسان کی ذات میں امن و اماں کا ہر وقت مسئلہ رہتا ہے اور یہی بیماری جب معاشرہ میں پھیلتی ہے تو وہ تباہ ہو جاتا ہے جب دل اور دماغ الگ الگ کام کرتے ہیں وہاں عقل اور فہم دونوں ناکام ہو جاتے ہیں ۔


جب کسی شخص کی عقل پر برائی پردہ ڈالتی ہے تو وہ اُس میں پہلے مالی فائدہ نکالتا ہے اُس کی نظر میں ذہنی اور روحانی تباہی کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا … ہر برُائی آپ کے دل میں خوف پیدا کرتی ہے اور ہر اچھائی میں روحانی‘ ذہنی اور قلبی خوشی ہوتی ہے ۔ عقل کا اندھا اچھائی اور برُائی ‘ نیکی اور بدی‘ ثواب اور گناہ‘ سچ اور جھوٹ جانتے ہوئے فرق محسوس نہیں کرتا بلکہ جس میں فائدہ نظر آتا ہے اُس کے حق میں جواز اور دلائل پیش کرتا ہے وہ صرف دنیا دیکھتا ہے وہ آخرت والے انجام سے بے خبر ہوتا ہے وہ قدرت کے فیصلہ پر یقین نہیں رکھتا وہ نفس کی پیروی میں خدا کی مقررہ حدود سے آگے نکل جاتا ہے جب ہوش بندی اُس کی سماعتیں کھولتی ہے تو وقت اپنا فیصلہ سنا چکا ہوتا ہے پھر اُس کا سکون اور اطمینان چھن چکا ہوتا ہے ذہنی ‘ قلبی ‘ اور روحانی مشکلات‘ مصیبتیں ‘ پریشانیاں‘ اداسیاں‘ مایوسیاں اُس کی جسمانی طاقت اور قوت کو کھا چکی ہوتی ہیں وہ زندگی کے اصل مقصد سے دور جا چکا ہوتا ہے زندگی کے سفر پر چل رہا ہوتا ہے مگر اُسے یہ ہر گز معلوم نہیں ہوتا اُس نے جانا کہاں ہے اور اُس کا مقصود کیا ہے وہ حقیقت اور یقین کی مخالف سمت کا مسافر ہوتا ہے پھر عقل اسے دھوکا نہیں دیتی وہ خود عقل کو دھوکا میں رکھ رہا ہوتا ہے اور اس کا ضمیر اور نفس، دل اور دماغ میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ جو وہ کر رہا ہے یہی دراصل اس کا مقصود ہے اور یہی اِس کے لئے دونوں جہانوں میں فائدہ مند ہے اِن حالات میں جب وہ کبھی عقیدہ کی طرف پلٹتا ہے تو نام نہاد عبادت سے اپنے نفس کو اطمینان کا فریب دیتا ہے کہ اِن سجدوں سے وہ خدا کو راضی کرے گا جس میں وہ اپنے فائدہ کو فراموش نہیں کرتا زبان سے زور زور سے خدا کا نام لیتا ہے اُس کے احد ہونے کا اقرار کرتا ہے اپنی فنا کی شہادت دیتا ہے مگر دل میں اِس یقین کو راسخ کرنے سے قاصر ہے کہ ایک دن اِسے اِس ساری ظلم شدہ کمائی سے حاصل کردہ لوازمات عیش و عشرت چھوڑ کر جانا ہے اور یہ سب بے فائدہ ہوں گے ۔

اِس کے جسمانی اعضاء ہوں گے ‘ حواس ہوں گے مگر انسان اُن سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا ۔ اُس کی عقل اُسے تسلیم و رضا سے اُس وقت تک دور رکھتی ہے جب تک اُس میں برائی ‘ بدی ‘ جھوٹ اور گناہ کرنے کی طاقت موجود رہتی ہے وہ کوئی موقعہ خدا کو دانستہ ناراض کرنے کا ضائع نہیں کرتا ۔
واہ رے انسان ! خدا کتنا عظیم‘ مہربان اور رحم والا ہے جس نے تجھے جسمانی طاقت دی‘ دماغ میں عقل سلیم رکھ دی ہے ‘ نظر میں اپنا نور رکھ دیا ہے ‘ سماعتوں میں سوز کی دولت عطا کر دی ہے ‘ زبان میں ذائقوں کا امتیاز پیدا کر دیا ہے سینے میں قلب صادق اور زندگی کی ضمانت رکھ دی ہے ہاتھوں میں لمس کی لذت اور پاؤں میں چلنے کی دولت‘ سوچ میں گناہ ثواب‘ نیکی بدی اچھائی برائی‘ سچ اور جھوٹ میں امتیاز کا پیمانہ موجود ہے پھر تو اپنے خدا کے روبرو سرخرو ہونے کے لئے تیار نہیں اِس سے زیادہ عقل کی بے پردگی کیا ہے ۔

زندگی کی بہترین لطافت ذہنی پاکیزہ ماحول میں ہے انسان کے فکرو خیال میں تقدس ہو تو وہ فطری ماحول سے لطافت کشید کر لیتا ہے ۔ انسان حلال کھاتا ہو اور حلال سوچتا ہو تو وہ کبھی پریشان اور اداس نہیں ہو گا وہ کبھی مایوس نہیں ہو گا جو موت سے بھی اتنا ہی پیار کرے جتنا زندگی سے کرتا ہے ۔ وہ کیوں پریشان ہو گا جو روح کی طہارت کا خیال رکھتا ہے جو فکری آلودگی سے محفوظ ہے جو توکل والی دولت کی تمنا رکھتا ہے جو قناعت پرست ہے جس کا اِس بات پر یقین ہے جو اِس کا خالق کر رہا ہے اُس میں بھلائی ہے ۔

قلب و نظر میں تقدس ہو تو ماحول کیسا ہی کیوں نہ ہو روح راحت پذیر رہتی ہے ۔ انسان کے اندر مثبت قوتوں کی حکمرانی کا دوسرا نام انسانیت کی زندگی ہے ۔ انسان کا اپنا انتخاب ہی اِس کے لئے عذاب بن جاتا ہے جب وہ ذات کے زندان میں اپنے خلاف فیصلہ کرتا ہے جب قانون قدرت کی دانستہ خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ معاشرہ کو ذمہ دار قرار دیتا ہے معاشرہ انسانی رویوں کے مجموعہ کا نام ہے ۔

انسان میں جب یقین اور حقیقت شناسی کی کمی آتی ہے تو پھر حالات اُس کے مخالف ہو جاتے ہیں جب جذبات اور جذبہ میں فرق آتا ہے … جب انسان کی اپنی کوئی ترجیحات نہیں ہوتیں جب اہم اور غیر اہم کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا جب انسان آوارہ اور بدمزاج ہو جائے تو زندگی بے لطف بلکہ بد ذائقہ ہو جاتی ہے یہ ایک بار ہے اور ایک بار سے زیادہ غلطی اِس کی آسودگی کو مجروح کر دیتی ہے ۔

زخم خوردہ زندگی کوئی زندگی نہیں عبادت گزاری بہترین عمل ہے وہ جو زندگی میں مثبت تبدیلی کے عمل کو جاری رکھے وہ عبادت جو آپ کی روح کا بوجھ ہلکا نہ کر سکے وہ مشقت ہے آپ اپنے نفس کو دھوکا دے سکتے ہیں خالق نفس کو نہیں اپنی زندگی کے ساتھ انصاف کرو اور دوسروں کے ساتھ رحم دلی سے پیش آؤ رزق حلال پر یقین انسان کی فکر کو بلند کرتا ہے اور اِس کے یقین کو مضبوط بناتا ہے رزق کا حصول ہی معاشرہ میں تباہی اور ٹوٹ پھوٹ کا باعث ہے ۔ جب ہر کوئی اپنے حصہ کے رزق پر اکتفا کرے گا اور ایمانداری والی جدوجہد پر یقین کرے گا وہ اتنا ہی سکون اور اطمینان میں رہے گا اتنا ہی وہ خدا پر ایمان لائے گا جتنا سچے دل سے خدا کو یاد کرے گا ۔

Chapters / Baab of Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

آخری قسط