Episode 27 - Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 27 - آوازِ نفس - قلب حسین وڑائچ

https://photo-cdn.urdupoint.com/show_img_new/books/bookImages/146/400x120/146_logo.gif._2 in Urdu
میری باری کب آئے گی
سیلاب کے حوالہ سے بچے کے جذبات
خدایا ! یہ تو بتا میری باری کب آئے گی اِس سے پہلے سب سے پہلے والی باری میں میرا گھر آیا… سیلاب نے اُسے ملیا میٹ کر دیا میری بکری اور اُس کے بچے بہا لے گیا میرے کبوتر اڑا لے گیا ۔ میرے ماں باپ پانی میں بہہ گئے میں اکیلا رہ گیا ۔
خدایا ! تو اُس وقت کہاں تھا جب میں نے تیرے گھر کی چھت پر پناہ لی ‘ جب سیلاب کا پانی اُس کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا جب ڈوبنے کا خوف میرے دل پر طاری تھا میں تجھے پکارتا رہا میری باری کب آئے گی … مگر میں محروم رہا … !
اے خدایا ! تو نے فوج کو کہا اِس معصوم بچے کو بچاؤ وہ مجھے اڑا کر خشکی پہ لے گئے میں بلبلا رہا تھا انہوں نے مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا میں اپنے ماں باپ ‘ مال مویشی کی یاد میں بڑا غم زدہ تھا پھر مجھے خدا کے بندوں نے حوصلہ دیا … ! اللہ کرم کرے گا … !
خدایا ! اب میں وطن کارڈ کے لئے لائن میں لگا ہوں جب میری باری آتی ہے تو کوئی بڑا آ جاتا ہے مجھے لائن میں سے نکال دیتا ہے یہ کہہ کر کہ کسی بڑے کو لے کر آؤ اے خدایا ! میں کون سا بڑا لاؤں سارے میرے بڑے تو تیرے پاس پہنچ گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

خدایا ! میری مدد فرما میں تنہا اور اکیلا ہوں سر پر سایہ نہیں ‘ بدن پر لباس نہیں پیٹ میں خوراک نہیں جیب میں پیسہ نہیں اور معاشرہ میں کوئی ایسا انسان نہیں جسے میں اپنا کہوں مرنے کو جی چاہتا ہے خدایا ! یہ بتا میری باری کب آئے گی یا آئندہ سال سیلاب کا انتظار کروں گا یا اب کے سرد موسم میں مجھے تو اپنے پاس بلا لے گا … میں تنہا ہوں سرد رات ہے ‘ جنگل ہے درندے ہیں آوازوں سے مجھے ڈرا رہے میں مجھے میرے مویشی ‘ جانور اور والدین یاد آ رہے ہیں مجھے اُن سے ملا دے یا مجھے بتا دے میری باری کب آئے گی ۔

اے خدایا ! مجھے بزرگوں نے بتایا تھا تو معصوم بچوں کی پکار کو سنتا ہے آے خدایا ! تو نے ہی تو عوام الناس کو کہا ہے کہ یتیم اور مسکین کا بڑا خیال رکھو خدایا وہ کب ہو گا جب میری باری ختم ہو جائے گی … !
اے خدایا ! تو کسی کی پکار کو سن کر جواب دیتا ہے تو دکھائی تو دیتا نہیں میں تجھے ساری داستان حیات سنانا چاہتا ہوں سیلاب نے میرے ساتھ کیا کیا … خدایا ! مجھے وہ میرے کبوتر واپس لوٹادے جن سے میں پیار کرتا ہوں جو میری آواز سن کر میرے ارد گرد جمع ہو جاتے تھے جن سے میں محبت کشید کرتا تھا … ! جو میرا انتظار کرتے تھے ۔

اے خدایا ! میری باری کب آئے گی جب میں اپنے ماں باپ کے پاس جاؤں گا میرا دل بہت اداس ہے میں زندگی کے جھمیلوں سے تھک گیا ہوں اب تو لوگ مجھے بچہ سمجھ کر لائن میں راشن بھی نہیں لینے دیتے جب میری باری آتی ہے تو کہتے ہیں راشن ختم ہو گیا ہے … !
خدایا ! کیا میرے حصہ کا رزق ختم ہو گیا ہے تو میں باری کا انتظار چھوڑ دوں … میری بار کب آئے گی ‘ جب میں تیرے پاس آؤں گا اُس وقت میری تمام مشکلات حل ہو جائیں گی جب میری باری آئے گی جب تو مجھے اپنے پاس بلائے گا جب میری روح کا رشتہ جسم سے ٹوٹ جائے گا میری باری اُس وقت آئے گی ۔

###
حرف مشترکہ اور نظام زندگی
جو خود سے محبت نہیں کرتا وہ کسی سے محبت نہیں کرتا اُس کی خدا سے محبت بھی مشکوک ہے ۔ محبت حرف مشترک ہے اور خدا بھی حرف مشترک ہے اِس لئے محبت خدا کا دوسرا نام ہے یا خدا کا دوسرا نام محبت ہے ۔
یقین حرف مشترک ہے … موت حرف مشترک ہے اور اِسی کا دوسرا نام یقین ہے … ساری کائنات کا حرف مشترک اللہ ہے اور سلطان العظیم ہے اُس کا دوسرا کوئی نام نہیں اللہ صرف اللہ ہے اور یہ وہ حرف ہے جو کائنات کے ہر ذی نفس کے درمیان مشترک ہے اِس کا اقرار سب پر واجب ہے … لہذا لا الہ الا اللہ حرف مشترک ہے یہ دنیا کا مرکزی عقیدہ ہے ۔

پورے سماج کی روح کا نام ” نظام ٹریفک “ ہے … یہ بنیادی حق کو تسلیم کرنے والا اصول ہے پیدل چلنے والے کو بھی راستہ دو … دوسرے کو بھی باری دو … دوسرے کا بھی خیال رکھو ون وے صرف اپنی مطلب برآوری ‘ صرف اپنا خیال نظام قدرت میں خلل ڈالتا ہے ۔ جو معاشرہ کمزور کو طاقتور بناتا ہے وہ زندہ رہتا ہے ۔ نظام ٹریفک کا طرز عمل سارے معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے کمزور کو طاقتور نہیں ہونا چاہئے بلکہ صرف اُسے طاقتور مقام چاہئے … یہ ایک دوسرے کے مفادات کا اصولی خیال رکھنے کا نام ہے ۔

جو معاشرہ اخلاقی زوال کے خلاف جہاد نہیں کرتا وہ ہمیشہ زوال پذیر رہے گا ۔
آتش فشاں کے دہانہ پر بیٹھی ہے ساری دنیا
نہ جانے کس وقت اعلان قیامت ہو جائے
قلب
دہشت گردی مذہبی جنونیت کی ایک صنف ہے اور جاہل لوگ اِسے ”جہاد “کہتے ہیں ۔ اسلام جنگ و جدل والا مذہب نہیں یہ تو سلامتی کی پناہ گاہ ہے یہ تو مظلوم عوام کی آرام گاہ ہے ۔

مذہب پرستوں کی شرارت بازی نے اِس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ۔ اِس کو خون سے نہلا دیا ہے ۔ اِس کی حرمت کو پامال کر دیا ہے اِس کے آفاقی تصور کو داغدار بنا دیا ہے تلخ ورثے سے مسلمان نجات نہیں پا رہا اچھی زندگی کے لوازمات سے محروم ہو رہا ہے ۔ احمقانہ خواہشات اور بے جا تعصبات اِسے کھائے جا رہے ہیں … غوروفکر کی نوید کوئی نہیں سن رہا ‘ امن کے پیغام پر کوئی کان نہیں دھر رہا … ناخوشگوار ورثوں کو ترک کرنے سے باہمی ہم آہنگی پیدا ہو گی ۔

مجنونانہ خواہشات نے انسانی سوچ کو کھا لیا ہے ۔
صداقت ‘ دیانت‘ امانت اور نیکی سب انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے آؤ اِس پر اکٹھے ہو جائیں توہین آمیز لہجوں سے اجتناب کیا جائے ۔ مذہب کے نام پر تشدد کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا اور ہر مذہب انسانیت کی فلاح کے لئے ہے ۔ مذہب کے نام پر دنگا فساد اور تشدد کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا تلخ یادوں کی اسیری سے نکلو ۔

اے مذہب پرستو !دنیا چاند پر چلی گئی ہے فاصلے سمٹ گئے ہیں آوازوں پر قابو پا لیا گیا ہے … تدریسی اور درسی نظاموں سے خود کو واگزار کراؤ پر امن مستقبل کی طرف قدم بڑھاؤ ‘ شائستہ اور مثبت کردار کی اشد ضرورت ہے ۔
پھر میں نقطہ آغاز پر آتا ہوں نظام ٹریفک اور نظام صفائی معاشرہ کا حسن اور انسان میں پائی جانے والی انسانیت کا دوسرا نام ہے ۔
آؤ مل کر سوچیں ہم نے اِس میں اپنا کون سا اور کتنا حصہ ڈالا ہے ہمارا کردار کیسا ہے کیا ہم بھی اِس برُائی کا حصہ ہیں جو جواب موصول ہو وہی نتیجہ ہے ۔

Chapters / Baab of Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

آخری قسط