Episode 34 - Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 34 - آوازِ نفس - قلب حسین وڑائچ

https://photo-cdn.urdupoint.com/show_img_new/books/bookImages/146/400x120/146_logo.gif._2 in Urdu
غصہ ‘ ناراضگی اور نفرت کے جذبات آپ کی پسند اور انتخاب کو متاثر کرتے ہیں ۔
###
معاف کرنا ایک جرات مندانہ اور پرُ وقار فعل ہے ۔
###
برُائی کو ختم کرنا ہے تو بھلائی کرو ۔
###
جو دو قبروں کی معرفت سے آگاہ ہیں وہ انتقام اور بدلہ والی زندگی سے نفرت کرتے ہیں ایک اپنی اور ایک دوسرے کی … قبر سب کی ایک جیسی ہوتی ہے ۔

###
روحانی اور محبت بھری زندگی بسر کرنے کے لئے انسان کا فہم و فراست ‘ بصیرت و ادراک سے کام لینا اشد ضروری ہے ۔
###
جو لوگ نہیں جانتے وہ کیا کر رہے ہیں خدا انہیں ہدایت نہیں دیتا ہے ‘ اُن کو تو اپنی ذات سے آگاہی نہیں جو یہ نہیں جانتے انہیں کیا کرنا چاہئے ۔
###
جو اپنی ذات کے دشمن ہیں وہی دوسروں سے دشمنی بناتے ہیں ۔

(جاری ہے)

###
ایک انسان دوسرے انسان کو وہی کچھ دے گا جو اُس کے پاس ہے اگر آپ کے پاس نفرت ‘ عیب جوئی اور الزام تراشی والا جذبہ ہے تو آپ وہی تقسیم کریں گے اور اگر آپ کے پاس محبت ‘ پیار‘ ایثار اور قربانی والا جذبہ ہے تو وہی آپ دیں گے ۔
###
بیشتر اِس کے کہ میں مر جاؤں مجھے اُن سے معافی مانگ لینی چاہئے جن کے ساتھ میں نے ظلم کیا ہے ‘ حق کھایا ہے ‘ دل آزاری دانستہ کی ہے ‘ الزام تراشی اور عیب جوئی کی ہے اور اُن گناہوں سے توبہ کرنی چاہئے جو میں نے دانستہ کئے ہیں وہ جو مجھے معلوم نہیں تا کہ میں سکون سے موت کو گلے لگا سکوں … موت میرے لئے باعث سکون ہو ۔

###
اپنی ذات میں موجود صلاحیت اور اہلیت کو افتخار کی نظر سے دیکھو گے تو آپ میں مثبت اور پسندیدہ تبدیلی آئے گی ۔
###
جب آپ کی قربانی اور ایثار میں پاکیزہ جذبات ہوں گے تو آپ کو اِس کا صلہ ضرور ملے گا ۔
###
سوچ اور فکر کی آزادی انسان سے کوئی چھین نہیں سکتا لہذا انسان جب چاہے وہ بہتر سوچے اور اپنے اچھا ہونے کی فکر کرے تو کوئی اُسے کچھ نہیں کہے گا صبح جب اٹھو تو اچھائی لے کر بیدار ہوں اور جب رات کو سوئیں تو اچھی فکر لے کر بستر پر جائیں جو سب جانتا ہے اُس کی رحمت کے سایے میں رہیں گے ۔

###
بھوک اور افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کے پاس انتہائی ضروریات کی شکل میں خدا ظاہر ہوتا ہے اُن کی بھوک اور افلاس میں اُن کا ایمان ہے ۔ بھوک اور افلاس کیسے دور ہوں جن لوگوں کی جواں ہمتی معذور ہے جو صرف دعاؤں کا کاروبار کرتے ہیں اور محنت پر یقین سے عاری ہیں وہ خدا کو ضروریات کی شکل میں دیکھتے ہیں ۔ خدا سب کا مددگار ہے اور اُس کی رحمت سب کے لئے برابر ہے وہ بھوک اور افلاس کے ساتھ پیدا نہیں کرتا فطرت سب کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے ۔

احساس کمتری انسان کو مفلوک الحال بنا دیتی ہے ۔ انسان کو اپنی صلاحیت پر توجہ دینی چاہئے ۔ وہ بھوک اور افلاس سے کبھی نہیں نکل سکتا جس کے احساس میں کمزوری اور کمی ہو ۔ احساس غربت انسان کو بھول اور افلاس کے شکنجے سے نکلنے نہیں دیتا اور وہ روٹی کی ایک وقت کی ضرورت میں خدا کو بھول جاتا ہے جو اپنی توانائی بے معنی اور لا حاصل انداز میں خرچ کرتے ہیں وہ بھوک اور افلاس سے کبھی نہیں نکل سکتے ۔

###
انسانیت ایک وجود ہے اور ہر فرد جب تک انسان نہیں بنتا انسانیت کا وجود خطرے میں رہے گا۔
###
جو آپ کو مشورہ دیتا ہے اُس کے نام اور مقام کی طرف مت جاؤ اُس کے کام کو نظر میں رکھو … دیکھو وہ مشورہ وہ تو نہیں دے رہا جس کے مطابق وہ خود عمل نہیں کرتا ۔
###
اپنے کردار پر اتنی نظر ضرور رکھیں اگر دوسروں کو اِس کے بارے میں معلوم ہو بھی جائے تو آپ سے وہ نفرت نہ کریں ۔

###
آپ ہر اُس نعمت کا شکر بجا لائیں جو آپ کے پاس ہے اور ہر اُس نعمت کے لئے دُعا کریں جو آپ کی ضرورت ہے اور اُس کا پرزور شکریہ ادا کریں جو آپ پر خدا کی مہربانی تھی وہ واپس لے لی ہے خدا کی رضا پر راضی رہنے کا بہترین طریقہ ہے ۔
###
آپ اپنی روحانی اور جسمانی توانائی کو اِس طرح بچا سکتے ہیں کہ آپ اپنی کمزوری کو اپنے اوپر سوار مت ہونے دیں اور کسی کو اِس لئے مت بتائیں کہ وہ آپ کی مدد کرے گا آپ کی وہ کمزوری دوسرے کی نظر میں آپ کو کم تر کر دے گی ۔

###
جب تک آپ ایک رہیں گے تو آپ کو دو کوئی نہیں کر سکتا اور جب آپ دو ہو جائیں گے تو کوئی دوسرا آپ کو ایک نہیں کر سکتا … اپنے آپ کو تقسیم ہونے سے بچائیں یہ آپ کی قوت ارادی کا جوہر اکسیر ہے ۔
###
طمع اور ہوس سے نجات پانے کے لئے یہ ضروری ہے آپ کے پاس دنیا کی ہر آسائش میسر ہے مگر آپ سمجھ لیں آپ کے پاس کچھ نہیں آپ اور آپ کی ہر شئے منزل فنا کی مسافر ہے صرف وقتی طور پر آپ کے استعمال میں ہے دلی‘ روحانی اور باطنی طور پر اِس کا ادراک ضروری ہے ۔

###
دوسروں کی خوشیوں میں ہماری خوشی پوشیدہ ہے دوسروں کو ناراض کر کے جو خوشی ہم حاصل کرتے ہیں وہ فریب نفسی ہے ۔
###
جو خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں وہ ہمہ وقت دلوں میں خدمت والا گھر بنائے رکھتے ہیں ۔
###
انسان کے اپنے متعلق اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے فائدہ اور نقصان پہنچاتے ہیں دوسرا اُس وقت ذمہ دار ہو گا جب آپ اُس کے فیصلہ کے مطابق عمل کریں گے۔

###
اپنی غلطیوں کا سر عام اقرار کرو یہی وہ عمل ہے جو آپ کو راہ راست پر لائے گا ۔
###
جس چیز کو آپ پا نہیں سکتے اُسے فراموش کر دیں تا کہ آپ کا ذہن آزاد ہو جائے … ذہنی آزادی نفس کی آسودگی ہے ۔ ذہنی صلاحیت ہی انسانی زندگی کا نشیب و فراز ہے ۔ ذہن آزاد نہیں تو آپ کسی فکر کے قیدی ہیں اور ایسی فکر آپ کی کامیابی کے راستے کی رکاوٹ ہے یہ قسمت کا لکھا نہیں انسان کا اپنا حسن انتخاب ہے ۔

وہی چیز آپ کی ہے جسے آپ آزادی سے استعمال کر سکتے ہیں جس کی اجازت طلب کرنی ہے وہ آپ کی نہیں اُسے حاصل کرنے کے لئے کسی دیگر کی ضرورت ہے …!
###
جو آپ کے غم میں حصہ دار نہیں اُسے کوئی حق نہیں کہ وہ آپ کی خوشیاں چھین لے …!
###
جو شئے آپ کی صلاحیت کو کھا جائے دراصل وہی سب سے زیادہ نقصان دہ ہے خواہ آپ کو اُس سے بہت مادی فوائد حاصل ہوں وہ صلاحیت جو آپ کی روح کو راحت اور مسرت مہیا کرے اُس کا نعم البدل کوئی نہیں ۔

###
جن کے چہرے پر ہر وقت ندامت کا پسینہ رہتا ہے دراصل اُن کی روح دائمی بیماری میں مبتلا رہتی ہے ۔
###
جنہیں لوگ مجذوب کہتے ہیں دراصل وہی لوگ انسانیت کا درد دل میں لئے بیٹھے ہیں ۔
###
جو اولاد اپنے بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھتی ہے اُن کی اولاد اُن کے بڑھاپے کا انتظام کسی بوڑھے گھر میں بھی نہیں کرے گی اُس کی موت اُس کے گھر کی دہلیز کے باہر ہو گی ‘ خدائی قانون اٹل ہے ۔

###
جس انسان کی نیت میں خرابی اور ذہن میں بددیانتی ہے اُسے کوئی دُعا اور کوئی وظیفہ فائدہ نہیں دے گا دعائیں اور وظیفے بھی صرف اِس لئے ہوتے ہیں انسان پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرے اور یہ عبادات بھی انسان کی ظاہری اور باطنی طہارت کے لئے ہیں جب تک انسانی حواس دیانت دار نہیں اُس کا کوئی کارہائے زندگی درست نہیں ہو گا اور نہ ہی اِس کے بغیر انسان کو اطمینان اور سکون نصیب ہو گا جو زندگی اور آخرت کے لئے یکساں فائدہ مند سرمایہ ہے … نیت خراب بیڑہ غرق ذہن خراب ۔

Chapters / Baab of Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

آخری قسط