Last Episode - Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

آخری قسط - آوازِ نفس - قلب حسین وڑائچ

https://photo-cdn.urdupoint.com/show_img_new/books/bookImages/146/400x120/146_logo.gif._2 in Urdu
عوام برُے نہیں ہوتے اُن کا چناؤ برُا ہوتا ہے تو قوموں کو زوال آتا ہے ۔
###
جس وجود میں ایثار اور قربانی والا مادہ نہیں وہ دھرتی پر بوجھ ہے ۔
###
کسی مسیحا کی مسکراہٹ میں انتقام نہیں ہوتا قوم کے لیڈر قوم کے مسیحا ہوتے ہیں طنز ‘ طعنہ انہیں زیب نہیں دیتا ۔
###
تمام دُکھوں کی بنیادی وجہ انسان کی ناجائز خواہشات ہیں خواہشات پر قابو پانا سب سے بڑی خواہش ہو گی تو کوئی دُکھ ‘ دُکھ نہں رہے گا ۔

###
انسان کو ختم کرنے کی خواہش انسان کی انسانیت کو مار دیتی ہے ۔
###
صرف ماں کی دعاؤں میں کامیابی نہیں ماں کا دل فتح کرنا کامیابی ہے ۔
###
جس کے اپنے بچے نہ ہوں مگر وہ بچوں سے محبت کرے اُس کا احترام کرنا بچوں پر واجب ہے ۔

(جاری ہے)

###
جب عمل کی قوت کے برابر عمل ہو اُس کو رد عمل کہتے ہیں مگر وہ مخالف سمت میں ہو ۔

###
سیاست گزیدہ لوگ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں اُن کو اپنے جیسا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا ۔
###
جس نے زندگی میں کوئی مقصد حاصل نہ کیا اُس کی موت حرام ہے ۔
###
عقل جب آپ کے خلاف فیصلے دے تو سمجھ لو تم سے خدا کے کرم والا سایہ اٹھ رہا ہے ۔ جب خدا ناراض ہوتا ہے تو سب سے پہلے عقل ماری جاتی ہے … جب انسان کی عقل ماری جاتی ہے تو وہ فطرت اور حقیقت سے جنگ شروع کر دیتا ہے ۔

خدا کو ناراض کر کے ناخداؤں کو راضی کرتا ہے ۔
###
اُسے کبھی دوست مت بناؤ جس کا وجود تو اپنا ہو مگر اُس میں فیصلہ کرنے والی قوت کسی دوسرے کی ہو … ایسے لوگ بگولا مزاج ہوتے ہیں … پل پل زندگی تذبذب کا شکار … !
###
بکھرے ہوئے خیالات کو یک جاہ کرنے کا نام ” عبادت “ ہے مگر خیالات کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے … !
###
جب تک انسان اپنی بے بسی کو آزما نہ لے اُسے یقین نہیں آتا اِس وجہ سے اُسے راہ راست نصیب نہیں … جب دُکھ ‘ درد اور تکلیف ہو تو سکھ چین اور آرام کی آرزو کرتا ہے … جب یہ نصیب ہو تو خدا کو کم کم یاد کرتا ہے … مگر دعویٰ یہ کرتا ہے کہ خدا اُسے بہت یاد ہے … انسان بڑا فریب کار ہے … سب سے زیادہ اپنی ذات کو دھوکا میں رکھتا ہے ۔

ہر ایک پہ یہ عالم آئے گا کہ سب کچھ ہو گا مگر اُس کے بس میں کچھ نہیں ہو گا ۔
###
پاکیزہ دل فرشتوں کی عبادت گاہ ہوتے ہیں اور پاکیزہ دامن حوروں کی میراث… !
###
جب بزرگی کا احساس ہو تو انسان رویے بدل لیتا ہے ورنہ ساری زندگی لوگوں کی صف میں بسر کرتا ہے … جو لوگ پیدا ہوتے ہیں اور لوگ ہی مر جاتے ہیں‘ خدا انہیں ہدایت دیتا ہے جو اپنے نفس میں خدا کی ہدایت پالتے ہیں وہ سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں اور حالت اطمینان میں مرتے ہیں یہی کامیاب زندگی ہے … انسان کم سے کم گناہوں کا بوجھ اٹھائے اور کم سے کم ذہنی ‘ روحانی اور قلبی مقروض ہو … انہیں بزرگ مت کہو جن کی عمریں طویل مگر لالچ ‘ ہوس و حرص ‘ طمع دولت و اقتدار جو ساری زندگی انا کو پالتے ہیں عاجزی اور انکساری اُن کے قریب سے نہیں گزرتی … اِن کے لئے دنیا جہنم کدہ اور آخرت والی کامیابی نصیب نہیں ہو گی خواہ صدیوں سانس لینے والی زندگی بسر کریں … افسوس ہے اُن لوگوں پر جو مرتے مر جاتے ہیں مگر ہدایت اُن کے نصیب میں نہیں … !! زندگی صرف روزوشب نہیں بلکہ معرفت ذات اور ذات الٰہیہ ہے … فطرت شناسی اور حقیقت شناسی ہے … اِس کے لئے عمر کے کسی خاص حصے کی ضرورت نہیں … یہ نصیب کی بات ہے … خالق نہ جانے کس عمل سے یہ نواز دے … بزرگی یہ نہیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ انسانی اعضاء کام کرنا چھوڑ دیں تو انسان بزرگ کہلائے … جوانی میں جو انسان بن جائے وہ بھی بزرگ ہوتا ہے ۔

###
عزت کا معاملہ اُن کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے جو زندہ ہیں … اِس کا تعلق زندگی سے نہیں … آسودہ حالی سے نہیں … ہر شخص نے عزت کا معیار اپنے ذہن کے مطابق بنایا ہوا ہے … عزت صرف وہ ہے جو خالق عطا کرتا ہے … اور خالق اُسے عطا کرتا ہے جو عزت کی حفاظت کرنا جانتا ہے ہم نام نہاد عزت کے دعویٰ دار بن کر اکڑ کر اُس کی زمین پر سر اٹھا کے چلتے ہیں … یہ تکبر اور غرور ہے … یہ ناپسندیدہ عمل ہے … عزت تو خلق خدا کی خدمت میں ہے … خدا کے سچے خوف میں ہے … اپنے احتساب میں ہے … عاجزی اور انکساری میں ہے … موت سے جو محبت کرتے ہیں … معاملہ فہم لوگوں کو خدا عزت سے نوازتا ہے … بے فہم اور غیر سنجیدہ شخص ہر وقت بے عزتی کی زد میں رہتا ہے … اُس کا ہر عمل اُس کے خلاف ہوتا ہے … وہ خدا کی توفیق کی طلب نہیں رکھتا … اُس کی اپنی منصوبہ سازی ہوتی ہے … ناپاک رویے اُس کی عادات کی میراث ہوتے ہیں … ہر عمل کو … ہر شئے کو الٹی نظر سے دیکھتا ہے … عزت کی اُس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی … خدا حمیدہ اور فہمیدہ لوگوں کی مدد کے اسباب پیدا کرتا ہے … !
###
ضد پالنے والا ‘ جذبات سے مغلوب اور کم فہم و بے ادراک شخص ہو یا معاشرہ کبھی تغیر پذیر نہیں ہوتا … جو فرائض کو معمولی سمجھے اور خود پرستی کی خوش گمانی زیادہ رکھتا ہو … صلاحیتوں کو بروئے کار لائے مگر اُن پر فخر زیادہ کرے … جس کو اپنے حسب و نسب اور تاریخ خاندانی پہ ناز ہے دراصل اُس کی اپنی صلاحیتیں مر چکی ہوتی ہیں ۔

###
جو نہ زبان سے سچ بولے اور نہ اُس کے نصیب میں رزق حلال ہو وہ مسلمان تو درکنار انسان بھی نہیں … جو فساد فی الارض کا پیروکار ہو … امن کا دشمن ہو … جس کو آدھے ایمان کا شعور تک نہ ہو … جس کو ذاتی مفاد عزیز تر ہو … اُس میں نہ شرم ہوتی ہے نہ حیاء … فقط مطلب سے یاری … !
###
کسی کے شعور کو بیدار کرنے کے لئے اپنے شعور کی قربانی دینی پڑتی ہے… بے شعور لوگوں کو بے شعوری سطح پر جا کر سمجھایا جا سکتا ہے … اُن کی ذہنی سطح پر جا کر اُن کے ذہن کو بدلا جا سکتا ہے … بے شعور لوگوں کا ایک جنگل ہے اور باشعور اکیلا ہے ۔

###
جو اولاد سے زیادہ والدین سے محبت کرتے ہیں وہ فطرت سے بغاوت کے مرتکب ہیں وہ ساری زندگی اولاد کے ذہنوں سے نفرت اور بغض و کدورت نہیں نکال سکتے جو بہن بھائیوں کو اولاد پر ترجیح دیتے ہیں … کسی کو حق سے محروم مت کرو اور فرائض میں کوتاہی … ہر ایک کا اپنا درد ہوتا ہے اولاد اور والدین کے درمیان بڑا نازک درد ہوتا ہے جہاں خاندانی نظام قدرت کی پاسداری ہے ۔

###
ذہنی تناؤ کے رجحانات جتنے کم کرو گے اتنی زندگی آسان اور کامیاب گزرے گی … ترجیحات کو کبھی فراموش مت کرو … ترجیح بنیادیں کامیابی کی ضمانت ہیں اور وقت کے ساتھ انصاف … !!!
###
سارے جذباتی فیصلے انسان کے اپنے خلاف ہوتے ہیں … ہر غصہ انسان کا اپنا دشمن … محبت بھرا لہجہ انسان کا بہترین دوست … انسان کے اندر ہی اُس کا دوست اور دشمن … جس سے چاہے وہ دوستی لگائے … !
کمزور پہ ہاتھ مت اٹھاؤ ورنہ تمہارا ہاتھ کمزور ہو جائے گا … خدا جس کے ساتھ ہوتا ہے وہ کبھی کمزور نہیں ہوتا … !!! خدا مظلوم کے ساتھ ہے اِس کی آہ سے ڈرو … !!!!
###
جہاں انسان کے مفاد کی بات ہوتی ہے وہاں اُس کے پاس اُس کے لئے جواز کی بات ہوتی ہے … وہ اپنے جھوٹے نفس کو بھی تسلی دیتا ہے … وہ پھر انسانی ضمیر کو بھی ورغلا لیتا ہے … کچھ نہیں ہو گا … ! دیکھا جائے گا … ! ایسا رویہ ہی انسان کو گناہوں پر ابھارتا ہے جب وہ خود کو جھوٹی تسلی دیتا ہے … !! انسان اپنے اندر والے سچے انسان کو شکست دینے کی آرزو پالتا رہتا ہے یہ نہیں سوچتا کہ آخری شکست تو باہر والے انسان کا نصیب ہے جو شیطان سے دوستی رکھتا ہے اور خدا کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے … !!!
###
دنیا کی بہترین اور کمال ترین خواہش کا نام ” اولاد “ ہے … ہر ذی نفس کی زندگی اِس کا طواف کرتی ہے … انسان سب سے زیادہ پریشان اِن کی وجہ سے ہوتا ہے … خوش نصیبی اور بد نصیبی بھی اِن کے رویوں کے دو نام ہیں ۔

###
انسان اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے بہت سی زندگیوں کو بھی ختم کر دے تب بھی وہ اپنی زندگی کو طویل نہیں بنا سکتا … وہ اپنی بے بسی سے بچ نہیں سکتا۔
###
خیانت اور بددیانتی سے نفس کمزور ہو جاتا ہے ۔
###
جن ذہنوں میں خباثت اور خناس کا بیج اُگتا ہے وہ عدالتی حکم تو کجا خدا کے حکم سے بھی دانستہ انکاری ہو جاتے ہیں … پر نتیجہ کیا نکلتا ہے تم بھی جانتے ہو ۔

Chapters / Baab of Awaz E Nafs By Qalab Hussain Warraich

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

آخری قسط