Episode 3 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 3 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
ناہموار پرواز، ہموار لینڈنگ

جیسے ہی جہاز کے مائیک پر اعلان ہوا کہ ہم تھوڑی دیر میں پئیرسن ائرپورٹ ٹورانٹو پر اترنے والے ہیں تو میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی۔ ویسے تو سفر میں تمام وقت میں کافی ذہنی دباؤ میں رہا پر اس وقت تو لگ رہا تھا کہ میرا بلڈ پریشر یقیناً نئی بلندیوں کو چھو رہا ہو گا۔ 
میں نے اپنے اطراف میں دیکھا۔

میری بیٹی اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کو جھنجھوڑ رہی تھی
"سارے راستے کھاتے اور سوتے آئے ہو۔کاہلو اب اُٹھ جاؤ، ٹورانٹو آنے والا ہے۔ سامان سمیٹو اور کرسی کی پشت سیدھی کر لو"
ٹورنٹو اترنے سے پہلے جہاز والوں نے کسٹم ڈکلیریشن فارم تقسیم کئے۔ میں نے فوراً ہی فارم بھر لئے۔ اگر بھرنے سے رہ گئے تو کسٹم پر مسئلہ ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

پورے راستے کئی جگہ پرواز ناہموار رہی ، لیکن لینڈنگ بہت سبک تھی۔

جہاز کے اترنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔
"تم لوگ کسی بات میں دخل مت دینا، ذرا پیچھے ہی رہنا" میں نے بڑے بیٹے سے کہا
"مجھے یاد ہے آپ پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکے ہیں" اس نے جواب دیا
ٹورانٹو کا پئیرسن ائیر پورٹ بہت طویل و عریض اور انتہائی صاف ستھرا لگ رہا تھا۔لیکن اس وقت یہ سب کچھ دیکھنے کا کس کوہوش تھا۔ یوں تو میں خود کو پورے راستے یقین دلاتا چلا آرہا تھا کہ ہم کینیڈا میں قواعد ضوابط کے مطابق امیگریشن لے کر آرہے ہیں، تمام قانونی تقاضے پورے کئے ہیں ، اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔

مگر مجھے پتہ تھا کہ جب تک تمام مراحل سے گزر کر کینیڈین امیگریشن کا ٹھپہ نہیں لگ جاتا میری ذہنی کیفیت معمول پر نہیں آئے گی ۔
مسافروں کی قطاریں کافی طویل تھیں لیکن کئی امیگریشن کاوئنٹر بھی کھلے ہوئے تھے، ہم بھی ایک قطار میں لگ گئے۔ میں غور سے جائزہ لے رہا تھا کہ کاوئنٹر پر کس طرح کی کارروائی ہو رہی ہے؟ کتنی دیر لگ رہی ہے؟ زیادہ چھان پھٹک تو نہیں ہو رہی۔

میں ا سی غورو فکرمیں تھا کہ ہمار انمبر آ گیا ۔امیگریشن آفیسر نے ہمارے پاسپورٹ اور دیگر کاغذات چیک کئے۔ ایک سرسری نظر سے سب کی شکلوں اور پاسپورٹ پر لگی تصویروں کا جائزہ لیا، لیکن سوال کوئی نہیں کیا۔ کارروائی مکمل کرنے کے بعد اس نے ہمارے کاغذات واپس کئے اور کہا 
" ویل کم ٹو کینیڈا ! "
چند لمحوں کے لئے یقین نہیں آیا کہ سب کچھ اتنی آسانی سے کیسے ہو گیا ۔

مجھے تو بتایا گیا تھا کہ بال کی کھال نکالی جائے گی۔ پتہ نہیں کیا کیا ہو گا۔ ملنے جلنے والوں نے بھی بہت ڈرا رکھا تھا۔خواہ مخواہ سارے راستے پریشان رہے۔ 
"کیا ہم لوگ جا سکتے ہیں؟ " میں نے نہایت احمقانہ سوال کیا
امیگریشن آفیسر مسکرایا" یہ آپ کا اپنا ملک ہے۔انجوائے!"
میں ذرا سا جھینپا ، شکر یہ ا دا کیا اور کاغذ سمیٹے ہوئے کاوئنٹر چھوڑ دیا
"لائیں اب سارے پاسپورٹ اور کاغذات مجھے دے دیں، میں ان کو ترتیب سے لگا دوں۔

ابھی سامان کے کسٹم کا مرحلہ بھی درپیش ہے" بیگم کو کاغذت کی بہت فکر تھی 
ہمارے پاس 10 سوٹ کیس تھے۔ پانچ لوگوں پر مشتمل امیگرینٹ فیملی کے لحاظ سے سامان کم تھا لیکن اسے لے کر چلنا آسان نہ تھا۔
  ہم نے سامان کے لئے چار عدد ٹرالیاں لیں، سفری بیگ کاندھوں پر لٹکائے اور ہاتھوں میں پاسپورٹ لے کر کسٹم کرانے پہنچ گئے۔

کسٹم آفیسر نے ہم سے ڈکلیریشن فارم لیا۔ اس فارم میں کوئی ڈیوٹی کے قابل چیز نہیں تھی۔
" سامان میں کیا ہے۔سگریٹ، کھانے کا سامان وغیرہ "
" نہیں صرف ضرورت کا سامان ہے" میں نے جواب دیا
میں نے اپنے سامان کی لسٹ بنا رکھی تھی، سوچا کہ اگر تفصیلات میں جائیں گے تو لسٹ تھما دوں گا۔

" کچھ سامان بعد میں تو نہیں آئیگا؟"سوال کیا گیا
  " نہیں جو کچھ ہے یہی ہے"
کسٹم والے نے ہمارے فارم پر ٹھپہ لگایا، تھینک یو کہا اور آگے جانے کا اشارہ کر دیا۔
کسٹم ہال کے باہر نکلے تو لوگوں کاایک ہجوم اپنے پیاروں کا انتظار کر رہا تھا، ہمارا انتظار کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

ہم یہاں اجنبی تھے۔ نہ ہم کسی کو جانتے تھے اور نہ ہی کوئی ہمیں جانتا تھا۔بے خیالی میں ادھر ادھر دیکھا اور سر جھکا کرچل دئے۔ باہر آکر میں نے ایک لمبا سانس لیا، دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور بچوں کی طرف دیکھا
" اب کیا پروگرام ہے؟"
" پروگرام؟ سامنے ہی' ٹم ہارٹن 'ہے۔

اس کی کافی اور ڈونٹ پورے کینیڈا میں مشہور ہیں۔ آپ ہمیں یہاں لے چلیں۔ ہم لوگوں نے آپ کو پورے راستے بالکل تنگ نہیں کیا"
میرا بڑا بیٹا دوسرے بچوں کی طرف دیکھ کر شرارت سے مسکرایا گویا وہ ان کی تائید سے یہ بات کہہ رہا ہے
"ٹھیک ہے ، لیں اسی میں چلتے ہیں۔ تم لوگ بیٹھو، میں ذرا ٹیلیفون بوتھ ڈھونڈتا ہوں ، گھرتو اطلاع کردیں لوگ انتظار میں بیٹھے ہونگے "
"میں بھی ساتھ چلتی ہوں"بیگم نے کہا۔

بچوں نے ٹرالیوں کا رخ ٹم ہارٹن کی طرف موڑ دیا۔
ا س وقتپاکستان میں کیا بجا ہو گا، اس انٹرنیشنل کال پر کتنے ڈالر خرچ ہونگے، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ ٹیلیفون بوتھ سامنے ہی تھا۔ میں نے کارڈ ڈالا اور فون ملایا۔ دوسری طرف پہلی ہی گھنٹی پر میری چھوٹی بہن نے فون اٹھایا، لگ رہا تھا وہ فون کے پاس ہی بیٹھی تھی ۔

سلام دعا کے بعد سوالات شروع ہوگئے۔ 
سفر ٹھیک رہا؟خیریت سے پہنچ گئے؟امیگریشن پر کوئی پریشان تو نہیں ہوئی، سامان تو چیک نہیں ہوا، بچے ٹھیک ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 
  میں نے کہا"تم لوگوں کی دعا سے سب ٹھیک ہے۔ اب دو تین دن کے بعد فون کریں گے ۔ ذرا رہنے کی جگہ مل جائے۔

سب لوگوں کوخیریت بتا دینا" اسکے بعد بیگم نے فون پکڑ لیا ۔
کافی ہاؤس کے برابر میں ہی نئے آنے والوں کی رہنمائی کے لئے ایک کاوئنٹر تھا، میں نے وہاں سے مختلف کتابچہ اور فلائر اُٹھائے، قریب ترین سستے ہوٹل کا پتہ کیا جہاں ہم جیسے نئے امیگرینٹ کچھ عرصہ رہ سکیں اور سامان کی ٹرالیوں کو دھکا دیتے ہوئے باہر نکل آئے۔

  سامان کافی تھا اس لئیہم لوگوں کودو ٹیکسی کرنی پڑیں۔میں ایک ٹیکسی میں بیٹی کے ساتھ اور بیگم دوسری ٹیکسی میں دونوں بیٹوں کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ 
  واہ بھئی کیا جگہ ہے۔ کھلی اور کشادہ سڑکیں، روا ں ٹریفک، نہ کوئی ہا رن کی آواز ، آلودگی سے پاک فضاء، خوبصورت اور چمکتی ہوئی عمارتیں اور دل ر با مناظر۔
نومبر کا مہینہ تھا اور سردی مزاج پوچھ رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ سردی کے کپڑے جو ہم لوگ لائے ہیں وہ یہاں قطعی ناکافی ہونگے۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط