Episode 9 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 9 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
"نہیں یہ گورنمنٹ کا ادارہ نہیں ہے یہ نان پرافٹ ادارہ ہے، جسے آپ این جی او کہہ لیں۔ لیکن ہمارے بیشتر پروگراموں کی مالی اعانت حکومت کی طرف سے ہوتی ہے۔ نئے امیگرینٹ کا سٹلمنٹ یعنی آبادکاری کا پروگرام بھی حکومت کی طرف سے ہی ہے۔ آپ ہمیں ایک طرح سے نئے امیگرینٹ کے لئے سٹلمنٹ ایجنسی بھی سمجھ سکتے ہیں"۔
کونسلرنے ہم لوگوں سے کئی سوالات کئے۔

مثلاً سوشل انشورنسفارم بھرا یا نہیں؟ چائلڈ ٹیکس بینیفٹ کے فارم بھر دیئے ہیں؟ ہیلتھ انشورنس لی یا نہیں؟ بنک اکاوئنٹ کھولا یا نہیں؟ سارے کاغذات انگلش میں ہیں یا ان کو ترجمہ کرانے کی ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے کونسلر کو بتایا 
۔سوشل انشورنس نمبر کی درخواست دے دی ہے
۔

(جاری ہے)

بینک اکاؤنٹ کے لئے یہاں سے نکل کر جائیں گے۔

 
۔ہمیں ہیلتھ انشورنس لینے کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں تو ہیلتھ کی سہولیات مفت ہیں؟
۔ چائلڈ ٹیکس کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے
۔ ہمارے سارے کاغذات یا تو انگلش میں ہیں یا ان کا انگلش میں ترجمہ موجود ہے۔
" نئے امیگرینٹس کے لئے نوے دن تک سرکاری ہیلتھ انشورنس کی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔

اس عرصے کے لئے آپ چاہیں تو کوئی نجی ہیلتھ انشورنس پالیسی لے لیں۔ تین مہینے کی پالیسیچار پانچ سو ڈالر تک میں مل جائے گی" کونسلر نے ہمیں بتایا 
میرے سر پر ایک بم سا پھٹا۔ تین مہینے تک سرکاری ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں ہے؟چار پانچ سو ڈالرکا خرچہ؟ یہ تو اچھی خاصی رقم ہے، وہ بھی تین مہینے کے لئے، اتنے پیسے کہاں سے آئینگے۔

یہ رقم تو ہم نے اپنے بجٹ میں رکھی ہی نہیں تھی ۔ اس بارے میں کافی غورو فکرکی ضرورت ہے۔ 
"یہ کینیڈاچائلڈ ٹیکس کیا ہے اور کیا ہمارے لئے ضروری ہے" میں نے پوچھا
کونسلر نے مجھے کینیڈاچائلڈ ٹیکس کا فارم نکال کر دیا اور اس سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کیں، جس کا لب لباب یہ تھا
کینیڈاچائلڈ ٹیکس بینیفٹ حکومت کی طرف سے کم آمدنی والے لوگوں کے لئے ایک طرح کی مالی معاونت ہے۔

جن بچوں کی عمر۱۸سال سے کم ہے، ان کے لئے فی بچہ دو سوڈالر سے کچھ زیادہ ادا کیا جاتا ہے ، لیکن حتمی رقم کا تعین خود سرکار کرتی ہے ۔ گو کہ آپ اس رقم کے حقدار اس دن سے ہی قرار پاتے ہیں جس دن آپ نے کینیڈا میں قدم رکھا تھا۔ لیکن کاغذی کارروائی ہوتے ہوتے کافی وقت لگ جاتا ہے ۔ ْپہلی د فعہ چائلڈٹیکس بینیفٹ آپ کو اکٹھا ملے گا لیکن ا سکے بعد ماہانہ ملا کرے گا ۔

میں نے دل میں سوچا کہ رقم ملے تو! مجھے ملے یا بیگم کو ، دیر ملے سویر ملے ، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بس ملنا چاہئے۔ ۹۰ دن تک طب وصحت کی سہولت نہ ملنے کا جو غم تھا وہ چائلڈٹیکس بینیفٹ کی وجہ سے قدرے کم ہو گیا۔
"اگرآپ کو ملازمت کے سلسلے میں کسی قسم کی مدد چاہئے تو میں آپ کو کسی ایمپلائمنٹ کونسلر سے ملوا دیتی ہوں" کونسلر نے کہا
"جی وہ کسی اور وقت مل لیں گے" میں نے مختصر سا جواب دیا۔

 
میرا خیال تھا مجھے ملازمت کے سلسلے میں کسی کونسلر سے ملنے کی کیا ضرورت ہے۔ میرے پاس تعلیم اور کافی تجربہ ہے ذرا ان ابتدائی کاموں سے فارغ ہو لوں، دو چار جگہ ریزیومے ڈالوں گا ، کہیں نہ کہیں نوکری مل ہی جائے گی۔
کونسلر نے ہمیں پورے ادارے کادورہ کرایا،کئی پروگراموں کے اشتہاری پرچے (فلائر)بھی دئے جو ہم نے شکریے کے ساتھ رکھ لئے۔

ہمارا خیال تھا کہ ہم ان فلائر کو بعد میں پڑھ لیں گے تاکہ معلومات میں اضافہ ہو۔ 
ہمارے لئے یہ دورہ بہت معلوماتی اور مفید رہا۔ ہمیں بہت حوصلہ ہوا اور یہ بھی اندازہ ہواکہ کینیڈا میں زندگی شروع کرنے کے لئے یہاں کے ماحول اور حالات کو سمجھنے کی اورخود کو نئے سانچے میں ڈھالنے، ور سبکچھ نئے سرے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔اپنے طور پر طرم خان بنے رہنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔
ہم لوگ یہاں سے نکل کر قریبی بینک میں چلے گئے۔ یہاں اچھی خاصی لمبی لائن تھی ۔ قطار میں کھڑا ہونے کے بعد میں نے دفع وقتی کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو میری نظر ایک بینک کارکن پر آ کر رک گئی۔ اس نے کچھ عجب حلیہ بنا رکھا تھا۔

بالوں کو لال نیلا رنگ کیا ہوا تھا ، بال اس طرح کٹوائے تھے کہ مرغے کی کلغی سی بن گئی تھی۔ کانوں، گردن اور ہاتھوں میں ہر طرح کے زیورات پہن رکھے تھے، ساتھ ہی موصوف نے ٹائی بھی لگا رکھی تھی۔ 
یا الٰہی بینک والوں نے بھی کیسے کیسے نمونے بھرتی کر لئے ہیں، یہ کام کیا خاک کرتا ہوگا اس کو تو بننے سنورنے سے ہی فرصت نہ ملتی ہوگی۔

لگتا ہے یہاں بھی سفارشیں چلتی ہیں، ہو گا کسی بڑے بینک افسر کا بھائی بھتیجا۔ خیر رشتہ دار کسی کا بھی ہو اس وقت اس سے پالا نہ پڑے، ا یسا نہ ہو کچھ الٹا سیدھا کردے۔ لیکن شاید دعا کی قبولیت کا وقت نہ تھا۔ 
جب اس کلغی والے نے 'مے آئی ہیلپ یو 'کہا توقطار میں ہم ہی لوگ سب سے آگے کھڑے تھے۔ بادل نخواستہ
 ہمیں اس کے کاؤنٹر پر جانا پڑا۔

رسمی کلمات کے تبادلے کے بعد میں نے اسے اپنا مسئلہ بلکہ سارے مسائل اکٹھا بتانے کی کوشش کی۔ اس نے میری بات غور سے سنی، ایک دوسوالات کئے اورکام شروع کر دیا۔
اس نے میرے ساتھ تقریباً بیس منٹ صرف کئے اور پھر مجھے تفصیلاً بتایا کہ اس نے کیا کیا ہے ؟ جب اس نے اپنے طور پر مکمل تسلی کرلی کہ ہم اسکی سروس سے مطمئن ہیں تو اس نے میری گلو خلاصی کی۔کاوئنٹر چھوڑنے کے بعد میرادل اسشخص کے لئے تشکر کے جذبات سے لبریز تھا ۔ اس کی کلغی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی صرف اس کی دوستانہ آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی تھی ۔ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط