Episode 12 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 12 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
بڑے میاں ممنون ہوتے ہوئے اندر چلے گئے اور مجھے اپنے بیٹے کے انسان دوست روئیے پر فخر سا محسوس ہونے لگا
کچھ دیر میں گاڑی گرم ہو گئی، اس پر سے برف صاف ہو گئی اور دروازے بھی کھل گئے۔ بڑے میاں اور بڑی بی برف سے بچتے بچاتے گاڑی میں بیٹھنے لگے ۔ ہمارے ہاتھ میں گروسری کے تھیلے دیکھا اورجب یہ پتہ چلا کہ ہم پیدل جا رہے ہیں تو کہنے لگے
"ہمارے ساتھ ہی چلے چلئے۔

ہماری دوسراہٹ ہو جائے گی۔ موسم اور گاڑی کا کچھ اعتبار نہیں"
زیاد ہ انکار اور اصرار کی گنجا ئش نہیں تھی، ہم ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔
معلوم یہ ہوا کہ اس بزرگ جوڑے کے صاحبزادے آج رات اپنی بیوی بچوں سمیت اپنے والدین کیساتھ کرسمس منانے امریکہ سے پہنچ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

دونوں بہت خوش تھے کہ ایک عرصے کے بعد بیٹے بہو اور پوتے پوتیوں سے ملاقات ہو گی۔

ہمارے بیسمنٹ میں ایک روشندان بھی ہے۔یہ ہمارے لئے بہت سی خدمات انجام دیتا ہے اور اس روشندان کے توسط سے ہی ہمارا رابطہ مہذب دنیاسے قائم ہے۔ ہمیں اس روشندان سے ہی پتہ چلتا ہے کہ سورج کب نکلا اور کب غروب ہوا۔ رات کب آئی، کب گئی۔آسمان پر بادل ہیں یا نہیں؟ بارش ہو رہی ہے یا برف گر رہی ہے۔

زیادہ دل گھبرائے تو اسے کھول لیتے ہیں تاکہ باہر کی تازہ ہوا اندر آجائے۔ سردی محسوس ہو تو اسے بند کر لیتے ہیں۔ کھانا پکانے کی وجہ سے اگر کمرہ میں دھواں بھر جائے تو بھی اسے کھول لیا جاتا ہے تاکہ دھویں کی وجہ سے فائر الارم نہ بجنا شروع ہو جائے۔ غرضیکہ یہ روشندان ہے بہت کام کی چیز۔ ہمار اچھوٹا بچہ کھانا کھاتے ہوئے اکثر پوچھتا تھا کہ ہم یہ رات کا کھانا کھا رہے ہیں یا دن کا کھانا۔

ہم نے اسے سکھایا کہ روشندان سے باہر دیکھو، اگر روشنی ہے تو کھانا دن کا ہے اور اگر اندھیرا ہے تو تم رات کا کھانا کھا رہے ہو۔ قصور اس غریب کا بھی نہیں۔ بیسمنٹ اندھیرا ہے اس لئے رات دن بلب جلائے رکھنا پڑتا ہے ۔
دوپہر سے فریزنگ رین کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ہمیں تو اپنے بیسمنٹ کے روشندان سے صرف گہرے بادل دکھائی دے رہے تھے۔

اتنے میں باہر سے درخت ٹوٹ کر گرنے کی آواز آئی۔ یااللہ ہوا تو چل نہیں رہی ہے ، یہ درخت کیسے ٹوٹ کر گرا؟ اگلے لمحے لائٹ چلی گئی۔
"دیکھا، اسی لئے تو موم بتی منگوائی تھی" بیگم نے خوش ہوکر کہا
ہم موم بتی کی روشنی میں کھانا کھا ہی رہے تھے کہ پاکستان سے فون آ گیا
  "کیوں بھئی کرسمس کیساجا رہا ہے؟ "
"بہت زبردست، کینڈل لائٹ ڈنر ہو رہا ہے"
"گویا مزے ہو رہے ہیں، ہا ں بھئی کینیڈا کینیڈا ہے"
اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ ایک اور درخت گرنے کی آواز آئی اور ٹیلیفون کی لائن کٹ گئی۔

درخت گرنے کی اصل وجہ وہ برف تھی جو گرنے کے بعد پگھل نہیں پا رہی تھی اور ٹہنیوں پر ایک بوجھ کی طرح جمتی چلی جا رہی تھی۔ نتیجے کے طور پر ٹہنیاں اور درخت دونوں ہی ٹوٹ رہے تھے۔
دوسری صبح، صبحِ کرسمس تھی۔ بالکل وائٹ کرسمس۔ ہماری لائٹ تو آ گئی لیکن ٹورانٹو کے بیشتر حصے میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی۔ ا س کی وجہ وہ درخت تھے جو ٹوٹ کر بجلی کے تاروں پر گرے تھے۔

بجلی کا عملہ بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر تار ٹھیک کرنے میں تو بہت ماہر تھا اور ان کے پاس مناسب اوزار اور ہتھیار بھی تھے لیکن درختوں سے برسرِ پیکار ہونا ان کے لئے اتنا آسان ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ 
بجلی کا عملہ بہت جاں فشانی سے کام میں لگا ہوا تھا۔ ان بیچاروں کی کوشش تھی کہ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے لوگوں کی کس طرح بجلی اور ہیٹنگ بحال ہو ۔

کمیونٹی سنٹرز نے اپنے دروازے کھول دیئے تھے۔ لوگ اپنے گھروں سے کھانے پینے کا سامان لا کر جمع کر رہے تھے اور ضرور ت مند اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ 
کرسمس کی شام تک صورتِ حال بہت بہتر ہو چلی تھی۔ میں نے سوچا کرسمس کی شام ہے ذرا باہر نکل کر کرسمس کی گہما گمی دیکھیں۔ میرا خیال تھا کہ کچھ ایسا سماں ہو گا جیسا وطنِ عزیز میں عید کے دن ہوتا ہے۔

میں نے سردی کے باوجود پورے محلہ کا چکر لگایا، ایک ہو کا عالم تھا۔ گھروں میں روشنیاں جل رہی تھیں اور لوگ اندر ہی کرسمس کی پارٹی پارٹی کھیل رہے تھے۔ عجیب پھسپھسا سا کرسمس ہے۔ بڑے میاں کے ڈرائیو وے پر ایک گاڑی کھڑی تھی جس پر امریکہ کی تختی لگی تھی۔ گویا بڑے میاں کے بیٹے اور ان کی فیملی پہنچ گئی ہے۔
دوسری صبح زندہ دلان کینیڈا رات دو بجے سے بڑے بڑے سٹورز پر باکسنگ سیل کی لائن میں لگ چکے تھے۔

یہ لائنیں الیکٹرانک سٹورز پر زیادہ تھیں۔ ایک نوجوان ایک تہائی قیمت پر ٹیلی ویژن کا نیا ماڈل خریدنے کے شوق میں صبح دو بجے سے لائن میں لگ گیا تھا۔دکان والے نے اعلان کیا تھا کہ نصف قیمت پرصرف ۵ ٹیلی ویژن فروخت کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ چونکہ سردی بہت تھی ا سلئے وہ نوجوان اپنا سفری بستر، کرسی اور خیمہ ساتھ لایا تھا۔ اس نے مال کے دروازے کے آگے اپنا سازو سامان آراستہ کیا اور وہیں نیم دراز ہو گیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ سودا برا نہیں تھا۔ بچت کی بچت اور شہرت مفت میں۔
یہ تھاکینیڈا میں ہمار اپہلا کرسمس اور وہ بھی وائٹ کرسمس۔ بلے بلے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27