Episode 13 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 13 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
کینیڈا میں پہلی عید
کینیڈا میں یہ ہماری پہلی عید تھی۔ یہاں ہر سال عید کی نماز کاا ہتمام مختلف مساجد اور دینی تنظیمیں کراتی ہیں، اور اس طرح شہر کے مختلف حصوں میں چھوٹے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔ ہم مقامی اردو اخباروں میں پڑھ رہے تھے کہ اس دفعہ مساجد اور دینی تنظیمیں کچھ اس طرح کا اہتمام کر رہی تھیں کہ تمام مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر مثلاً سکائی ڈوم (موجودہ نام راجرز سینٹر) میں عید کی نماز پڑھیں تو ایک بڑا اجتماع ہو سکتا ہے۔

اس طرح ٹورانٹومیں مسلمان، دیگر کمیونیٹیز اور حکومت کو اپنی تعداد اوریکجہتی کا احساس دلا سکتے ہیں جس کے بہت دوررس اور مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ اسکائی ڈوم ٹورانٹو کی ایک اور عظیم الشان عمارت ہے جو بالکل سی این ٹاور سے ملی ہوئی ہے اورتقریباّ ۲ملین سکوائیر فٹ کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

گو کہ یہ ایک بہت اچھاخیال تھا، لیکن اسکے کئی عملی اور قابلِ غور پہلو بھی تھے۔

پہلی بات یہ تھی کہ ٹورانٹو اور اس سے ملحقہ شہر ایک وسیع رقبہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو عید کی نماز کے لئے سکائی ڈوم تک پہنچنے کے لئے کافی طویل فاصلہ طے کرنا ہوگا، جس کے لئے وقت اورسواری دونوں درکار ہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود منتظمین کی متفقہ رائے تھی کہ سکائی ڈوم میں نمازِ عید کا اہتمام کیا جائے اور سی این ٹاور سے اذان دی جائے۔

اب ہمارے پاس گاڑی تو تھی نہیں اس لئے ہمارے لئے صبح سویرے سکائی ڈوم پہنچنا بڑا مسئلہ تھا۔ بہرحال بسیں بدلتے ہوئے ہم کسی نہ کسی طرح وہاں وقت پر پہنچ ہی گئے۔
ادھر امام صاحب نے اعلان کیا کہ صفیں سیدھی کر لیں، ادھر ہمارے چھوٹے صاحبزادہ نے ہنکاری بھری 
" ابا مجھے واش روم جانا ہے"
:تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ، یہ نماز زیادہ لمبی نہیں ہے۔

جلدی ختم ہوجائے گی"
"نہیں میں ٹھہر نہیں سکتا"
بچے کی بے چینی دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ ایک ایمرجینسی صورت حال ہے اور اس میں ذرا سی تاخیر بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ میں نے بچے کا ہاتھ پکڑاا ور صفوں سے باہر نکل آیا۔ اب سکائی دوم کوئی چھوٹی سی جگہ ہے نہیں اور رضاکار بھی اب نماز کے لئے صفیں باندھ رہے تھے۔

 
خیرمیں اندازہ سے روانہ ہوا، قسمت اچھی تھی کہ قریب میں ہی واش رومز کی ایک لمبی قطار نظر آ گئی۔
میں نے بیٹے سے کہا "چلو اندر"
بیٹے نے پہلے تو قدم آ گے بڑھایا پھر رک گئے اور فرمانے لگے
"یہ تو لیڈیز واش روم ہیں"
میں نے دیکھا تو واقعی لیڈیز واش روم کا بورڈ نظرآیا ۔

اب ایک تو ادھر نماز کھڑی ہو چکی تھی دوسرے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مردانہ واش روم کدھر ہیں اور کتنی دور ہیں۔ 
"بیٹا اب اسی میں چلے جائیں، دوسرا واش روم ڈھونڈنے میں وقت لگ جائے گا، اور نماز بالکل ہی نہیں ملے گی"میں نے کہا
خیر صاحب زادہ اس بات پر تیار ہوگئے۔ لیکن کہنے لگے کہ
" مجھے ڈر لگے گا۔

ابو آپ بھی اندر چلیں"یہ صورتِ حال کچھ صحیح نہیں تھی ۔
  میں نے کہا "بیٹا آپ اندر چلیں میں تو اندر جا نہیں سکتا میں باہر سے گانا گاتا رہونگا تاکہ آپ کو ڈر نہ لگے" 
اب آپ صورتِ حال ملاحظہ فرمائیں کہ ایک دیسی سکائی ڈوم کے لیڈیز واش روم کے باہر کھڑا گانا گا رہا ہے۔ میں نے د ل میں سوچا کہ اگر اس وقت کوئی سیکورٹی والا راؤنڈ پر آ گیا تو یہ سمجھیں کہ عزتِ سادات بھی گئی۔

خیر اللہ اللہ کر کے موصوف باہر نکلے ، بہت پرسکون اور خوش۔ لیکن ان سے زیادہ میں خوش تھا ، عزتِ سادات بچنے پر!
بھاگ کر پہنچے تو نماز ابھی شروع ہوئی تھی۔ غالباً امام صاحب لوگوں کی یاد دہانی کے لئے نمازِ عید کی ترتیب وغیرہ میں کچھ وقت دے چکے تھے۔ نماز ختم ہوئی تو ہمارا وہاں کون جاننے والا تھا۔ آپس میں ہی عید مل لئے یا کسی نے خود ہی بڑھ کر گلے لگا لیا۔

بہر حال یہ تسلی تھی کہ کینیڈا میں ہماری پہلی عید کی نماز شانِ شایان طریقے سے ہو گئی۔
ہم لوگوں کا ارادہ تھا کہعید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لئے دوپہر کا کھانا جیراڈ سٹریٹ پر کھائیں گے۔ جیراڈ سٹریٹ کے کھانوں کے متعلق تو بہت سنا تھا، لیکن اسکے محلِ وقوع کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ٹورانٹو کے نقشے سے وہاں جانے والی بسوں اور راستے کا تھوڑا بہت اندازہ ہو گیا تھا۔

چنانچہ ایک جانے والی بس میں سوار ہو گئے۔ بس ڈرائیور سے کہہ دیا کہ جب جیراڈ سٹریٹ آئے وہ ہمیں بتا دے۔
جیسے ہی جیراڈ سٹریٹ آئی، ڈرائیور نے اعلان کیا، ا میگرینٹ فیملی وہیں اتر پڑی، آگے پیچھے دیکھے بغیر !
ہمارا خیال تھا کہ جیراڈ سٹریٹ ہماری برنس روڈ کی طرح ہو گی، جہاں فٹ پاتھ سے ہی کھانے پینے کا سلسلہ شروع ہو رہا ہوگا، لیکن یہاں ایسا کچھ نہ تھا، بلکہ یہ کچھ پرانا اور رہائشی قسم کا علاقہ تھا۔ ہم نے سوچا کہ ایسا تو نہیں ہے کہ ہم غلط اتر گئے ہیں لیکن سڑک پر لگے پوئے بورڈ پر جیراڈ سٹریٹ لکھا تھا۔ ہم نے سوچا کہ اتر تو گئے ہیں اب آگے چل کر دیکھتے ہیں۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27