Episode 20 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 20 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
اُس خاتون نے مجھے رپورٹ کی کاپی تھما دی۔ اور میں تھینک یو کہہ کر چلا آیا۔ کسی نے مجھ سے چائے پانی کا سوال نہ کیا اور نہ مجھے اس بات پر حیرت ہوئی۔ اگر ایساہوتا تو شاید میں رپورٹ درج کرانے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا۔
  ٹھیک دوسرے دن مجھے پولیس سٹیشن سے فون آیا کہ میرا بٹوا مل گیا ہے اور میں کسی وقت بھی اپنی شناخت بتا کر اسے وصول کر سکتا ہوں۔

گھر کے سامنے ہی پارک تھا۔ ہم نے سوچاکہ ذرا ایک چکر لگا کر دیکھتے ہیں۔ باہر نکلے تو بدن کو کاٹتی ہو ئی ہوا نے استقبال کیا ۔ کراچی میں یہ کوئٹہ کی ہوا کہلاتی ہے۔ کوئٹہ میں اسے قندھار کی ہوا کہتے ہیں۔ قندھار میں یہ سائبیریا کی ہوا کہلاتی ہے۔ اور سائبیریا میں؟ سائبیریا اس ہوا کے سلسلے میں کینیڈا کی طرح خود کفیل ہے۔

(جاری ہے)

پارک واقعی زبردست تھا۔ دیکھنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کئی ا یکڑ پر پھیلا ہوگا۔ اسکیٹنگ والی پہاڑی دور سے ہی نظر آرہی تھی۔ جس پرشائقینکاایک ہجوم نظر آرہا تھا۔ یہ لوگ نیچے سے ٹرالیوں پر بیٹھ کر پہاڑی کی چوٹی تک جاتے تھے اور پھر وہاں سے پھسلنا شروع کرتے تھے۔ ٹرالیوں کے لئے استعمال کا ٹکٹ تھا۔
بڑی پہاڑی کے ساتھ ایک چھوٹی پہاڑی بھی تھی، جس پر چھوٹے بچے، نوسیکھئے اور ہم جیسے تماشبین چڑھ اتر رہے تھے۔

کچھ بچے چھوٹی پہاڑی سے پھسلنے کے لئے ایک کشتی نما چیز اور ایک ربرکا گدا لائے تھے۔ زیادہ تر لوگ اسی طرح کی چیزوں سے پھسلنے میں مدد لے رہے تھے۔
سارے بچے پہاڑی پر چڑھ گئے اور باری لگا کر پھسلنے لگے۔ جو ذرا تجربہ کار تھے وہ تو نیچے تک پھسلتے چلے آتے تھے۔ نو آموز لوگ یا تو رستے میں ہی قلابازی کھا جاتے تھے، یا نیچے آتے آتے توازن کھو بیٹھتے تھے۔

بہرحال یہ ایک ا چھی تفریح اور ورزش تھی۔
ہم لوگ پہاڑی پر چڑھے تو پہاڑی کے دوسری طرف ایک تھیٹر نما سٹیج نظر آیا۔ کسی نے بتایا کہ گرمیوں میں شام میں اس سٹیج پر مختلف تفریحی پروگرام ہوتے ہیں اور تماشائی پہاڑی پر بیٹھ کرلطف اندوز ہوتے ہیں۔واہ خوب مزا آتا ہوگا۔
اس پارک میں ایک جھیل بھی تھی جواس وقت برف سے ڈھکی تھی، لیکن ہمیں اندازہ ہوا کہ یہاں گرمیوں میں کشتی رانی بھی ہوتی ہو گی۔

جھیل کے علاوہ ایک چھوٹاچڑیا گھر تھا، بچوں کے لئے جھولے تھے، نہانے کا تالاب تھا، خاص طرح کے پھولوں سے بھراایک باغیچہ تھا اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ ٹہلتے ٹہلتے میرے تو پاؤں میں درد ہونے لگا، سردی بھی اپنا اثر دکھا رہی تھی، لیکن بچے چلنے پر تیا رنہیں تھے۔ خیر کسی نہ کسی طرح انہیں واپسی پر راضی کیا گیا تو گلو خلاصی ہوئی۔
ٰایک جنگل میں دو شیر رہ سکتے ہیں، ایک مملکت میں دو بادشاہ رہ سکتے ہیں لیکن ایک کچن میں دو خواتین نہیں رہ سکتیں۔

میں سنی سنائی بات نہیں کر رہا ہوں ،میرا ذاتی تجربہ بول رہا ہے
ْ قصہ کچھ یوں تھا کہ میری بیٹی نے سکول میں کھانا پکانے کے کورس میں داخلہ لے لیا۔ نیا نیا شوق تھا اس لئے یہ سوچا گیا کہ جو سکول میں پکاتے ہیں اس سے گھر والوں کو بھی آشنا کیا جائے۔ 
کیا پکایا جائے ؟ اس کا بھی انتخاب ہو گیا۔

بحث کا سب سے بڑا نکتہ یہ تھاکہ اس کے اجزاء کاوزن کیسے کیا جائے۔ بیگم کا اصرا رتھا کہ وزن کی ضرورت نہیں اندازے سے دو یا تین چمچ لے لئے جائیں۔ خیر صاحب بازارسے ڈھونڈ ڈانڈ کر ایک کچن سکیل لیا گیا۔
ہفتہ کی صبح ناشتہ کے بعد اس پروجیکٹ کا آغاز ہوا۔ مجھے کچن سے بحث مباحثے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ماں کو اپنے تجربہ کا غرور تھا، بیٹی کو اپنی سکول کی تربیت پر ناز تھا۔

جب بحث مباحثہ میں شدت آ گئی تو میں نے بیگم سے کہا کہ وہ باہر آ جائیں اور بیٹی کو اسی طرح پکانے دیں جیسا وہ چاہتی ہے
"ستیا ناس ہو رہا ہے ڈش کا۔ پتہ نہیں سکول میں کیا سکھایا ہے" بیگم بڑبڑاتی ہوئی کچن سے باہر آ گئیں
بہرحال دو گھنٹے کی محنتِ شاقہ کے بعد ڈش میزپر آئی، سجائیگئی، کیمرے سے تصویر اتاری گئی (غالباً بعد میں فیس بک پرڈالی جائے گی) اور پھر ہم لوگوں کو کھانے کی دعوت دی گئی ۔

ایک چھوٹی سی پلیٹ میں کوئی میٹھی چیز میز پر موجود تھی۔
"آپا، بس اتنی سی ڈش، ذرا زیادہ بنا لیا ہوتا ۔ہم ۵ لوگ ہیں" بڑے بیٹے نے کہا
" ترکیب میں جتنا وزن لکھا تھا اسی حساب سے لیا ہے" جواب ملا
"اندازہ بھی کوئی چیز ہے"
"بھولے بادشاہ ،یہ کوئی دیسی ڈش نہیں جس میں ایک مٹھی ہلدی ڈال دی، ایک چمچہ نمک ڈال دیا ، دو قطرے لیمو کے ڈال دئے، ولائتی ڈ ش ہے۔

اس میں سب کچھ ناپ تو ل کر ڈالا جاتا ہے" میری بیٹی نے فخریہ کہا اور پھر میری طرف دیکھ کر پوچھا
"کیسی بنی ہے؟"
"بہت خوش ذائقہ" میری بیٹی نے پہلی دفعہکچھ پکایا تھا اس لئے حوصلہ افزائی تو کرنی ہی تھی
"بس تو پھر ہر ہفتے ایک نئی ڈش" بیٹی کا اعلان سن کر مجھے کچھ کھانسی سی آ گئی
"ابھی تو ذرا جا کر کچن کی صفائی کردو، سارا سامان بکھیر دیا ہے ۔

اگلے ہفتہ کی اگلے ہفتے دیکھی جائے گی" بیگم نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
یہ ہفتہ سکول رپورٹ کارڈ کا ہفتہ لگ رہا ہے ۔ پہلے چھوٹے صاحبزادے کے سکول سے رپورٹ کارڈ آیا پھر دونوں بڑوں بچوں کے بھی رپورٹ کارڈ آ گئے۔ 
میں نے چھوٹے صاحبزادے کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا،رپورٹ بہت تفصیلی تھی۔
رپورٹ کارڈ پر کئی مشورے اور ہدا یا ت تھیں ۔

بچے کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا ذکرکیا گیا تھا اور یہ بھی تجویز کیا گیا کہ اس کی بہتری کے لئے کیا کیاجانا چاہئے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیاتھاکہ بچہ کن مضامین میں اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے ۔ کمزورمضامین میں وجوہات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ بچے کی تنظیمی قابلیت، توجہ کی مرکزیت، نا مکمل کام، نا مکمل تیاری وغیرہ کے بارے میں بھی مفید نکات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

سکول حاضری کا بھی تفصیلی ذکر تھا کہ بچہ کتنے دن غیر حاضر رہا اورکتنے دن دیر سے سکول آیا۔ 
  تمام مضامین میں کوئی خاص کارکردگی نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کی توقع بھی نہیں تھی۔ ہمیں فقط اس بات کی پریشانی تھی کہ سکول میں ان کا دل لگتا ہے یا نہیں؟ہمارے لئے یہ بات بہت حوصلہ افزا تھی کہ موصوف نے ایک دن بھی سکول کا ناغہ نہیں کیا بلکہ وقت سے پہلے تیار ہو جاتے تھے اور اصرارہوتا تھا مجھے سکول چھوڑ دیا جائے۔

 
ٹیچر نے لکھا تھا کہ کارکردگی میں آہستہ آہستہ بہتری آ رہی ہے۔ جسمانی کھیلوں اور ورزشوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیچر سے میٹنگ بہت ضروری ہے تاکہ ہم پتہ کر سکیں کہ کن وجو ہا ت کی بنا ء پربچے کی پڑھا ئی متا ثّر ہو رہی ہے ۔حضرت کس طرح دیگر سا تھی طلبہ کے برابر آنے کی کوشش کریں ہے تاکہ حسب ضرو رت انکی مدد کی جا سکی ۔
دونو ں بڑے بچوں کی رپورٹ بھی اہم تھی کہ دونوں سکول کی تعلیم کے اس مرحلے میں تھے جہاں بچوں کو اپنے مستقبل اور کیرئیر سے متعلق فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ 

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط