Episode 24 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 24 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
بوتل، ڈھکن ،ڈبہ، سکڈ اور میں

اپنے شعبہ میں بلکہ کہیں بھی نوکری ملنے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے، اب کیا کیا جائے؟ ہاتھ پر ہاتھ دھر ے بیٹھنے کا وقت نہیں تھا، اس لئے یہی سوچا کہ فیکٹریوں کا رخ کیا جائے اور وہاں قسمت آزمائی جائے۔ کافی نئے امیگرینٹ بلکہ پرانے بھی یہی کر رہے ہیں، مجھ میں کوئی سرخاب کے پر تو لگے نہیں تھے۔

 
بڑی سادگی سے زمانہ
 کہانی کا رخ موڑتا ہے
یہ سب کچھ سوچ کر میں نے اخبارات اور ادھر ادھر سے کچھ ایمپلائمنٹ ایجنسیز کے نام ،پتے اور ٹیلیفون نمبر جمع کئے، تاکہ ملازمت کی جدوجہد شروع کی جائے۔
اس جدوجہد میں سب سے بڑا مسئلہ ایک "جاہل" ریزیومے بنانے کاتھا۔

(جاری ہے)

جاہل ریزیومے کا مطلب ایک ایسا ریزیومے جس میں آپ کی تعلیم بارہویں جماعت سے زیادہ نہ ہو اور نہ اس میں کسی ایسے کام کا تجربہ شامل ہو جس سے آپ پڑھے لکھے نظر آئیں۔

اگر ایسا ہواتو شاید آپ فیکٹری کی ملازمت کے لئے نااہل قرار پائیں۔
میں نے بمشکل تمام ایک "جاہل" ریزیومے تیار کیاجس کی رو سے میری تعلیم فقط انٹر تک تھی اورمیں کینیڈا آنے سے پہلے "دہاڑی "پر ادھر ادھر کام کرتا تھا۔ اس ریزیومے کے ساتھ میں فیکٹری میں ملازمت کی تلاش میں نکل پڑا۔
میراپہلا انٹرویو ایک مقامی ایمپلائمنٹ ایجنسی سے کچھ اس طرح تھا
انگلش بول لیتے ہو، انگلش پڑھ سکتے ہو؟
فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ ہے؟
ڈرائیونگ لائسنس ہے، گاڑی ہے؟
ا اس سے پہلے فیکٹری میں کام کرنے کا تجربہ ہے؟
تمہارے پاس سیفٹی بوٹس ہیں؟
سکڈSkid بنا سکتے ہو؟ شرنک ریپWrap کرنا جانتے ہو؟ 
فورک لفٹ چلا لیتے ہو؟ پمپ ٹرک چلاناجانتے ہو؟ 
ظاہر ہے کہ ان تمام سوالوں کے جواب( انگلش لکھنا پڑھنا چھوڑ کر) میر ی طرف سے نفی میں تھے۔

نفی کیا مجھے تو بعض باتوں کا مطلب بھی نہیں پتا تھا مثلاً شرنک ریپ Wrapکیا ہے؟ پمپ ٹرک چلانا تو دور کی بات ہے، پہلے پتہ تو چلے کہ پمپ ٹرک ہے کیا ؟ 
انٹرویو لینے والی نے بہت مایوسی سے سر ہلایا جس کا صاف صاف مطلب تھا کہ حضور آپ اس کام کے لئے بالکل نا اہل ہیں۔بہر حال اس نے مجھے ایک فارم پکڑا دیا اور کہا اسے بھر کر استقبالیہ پر جمع کر ا دوں۔

استقبالیہ نے مجھے بتایا کہ مجھے اسی جگہ اگلی صبح چھ بجے سے پہلے پہنچنا ہے۔میں آتے ہی استقبالیہ پر اپنا نام اور سوشل انشورنس نمبر نوٹ کرا دوں۔ زیادہ ترفیکٹریوں میں صبح کی شفٹ سات بجے شروع ہوتی ہے، جیسے جیسے آسامیاں آتی رہیں گی ایجنسی اپنی گاڑی سے لوگوں کو فیکٹریوں پربھجواتی رہے گی، واپسی کا انتظام خود کرنا ہوگا۔

اس تمام گفتگو سے میں نے یہ اخذ کیا کہ مجھے نوکری مل گئی ہے۔
دوسری صبح چھ بجے پہنچنے کا مطلب تھا کہ میں گھر سے پانچ بجے نکل لوں۔
میں نے صبح چار بجے کا الارم لگایا لیکن پھر بھی پوری رات اٹھ اٹھ کر گھڑی دیکھتا رہا کہ ایسا نہ ہو کہ آنکھ لگ جائے۔ چار بجے سے کچھ پہلے میں نے آخری دفعہ گھڑی دیکھی، الارم بند کیا اور تیاری شروع کر دی۔

ٹھیک پانچ بجنے میں پانچ منٹ پر میں مانگے کے سیفٹی شوز پہنے بس سٹینڈپر موجود تھا۔ 
بس پکڑ کر جب میں ایجنسی پہنچا تو ابھی بھی چھ بجنے میں دس منٹ باقی تھے لیکن مجھ سے پہلے ہی درجن بھر لوگ ایجنسی کی انتظار گاہ میں تشریف فرما تھے۔ حسبِ ہدایت میں نے استقبا لیہ پر اپنا نام اور سوشل انشورنس نمبر نوٹ کرا دیا اور انتظار میں بیٹھ گیا۔

لڑکی نے پہلے تین لوگوں کا نام پکارا، اور انہیں روانہ کر دیا، پھر دو آدمیوں کا نام پکارا۔ اس طرح سات بجے سے کچھ پہلے تک دس آدمی روانہ ہو چکے تھے۔
میرا خیال تھا کہ اب میرا نمبر آنے ہی والا ہے کہ لڑکی نے اعلان کیا کہ ہمارے پاس جتنی آسامیاں موجود تھیں ہم ان پر لوگ بھیج چکے ہیں، اور اب ہمارے پاس اب مزید لوگوں کی مانگ نہیں ہے۔

بقیہ لوگ گھر جاسکتے ہیں۔ جن لوگوں کو جاب کی ضرورت ہے وہ کل دوبارہ صبح چھہ بجے تک یہاں آجائیں۔
  کیا مطلب؟ ہم جو پوری رات نہیں سوئے، گھر سے نکلے ،پیسے خراب کر کے یہاں آئے، اب واپس چلیں جائیں اور کل دوبارہ آئیں۔ اور پھر اگر یہی ڈرامہ اگلے دن بھی ہوا؟ بہتر یہ ہے کہ اور کوئی ایجنسی تلاش کی جائے۔
دوسرے دن میں ایک اور ایجنسی میں جا پہنچا ۔

اپنا جاہل ریزیومے پیش کیا اور کام کا مطالبہ کیا۔ میرا ایک چھوٹا سا انٹرویو لیا گیا جو پچھلے انٹرویو سے ذرا مختلف تھا لیکن میں بھی اب ذرا تجربہ کار ہو چلاتھا اس لئے میر ایہ انٹرویو بہتر ہو گیا۔
مجھ سے پوچھا گیا کہ کون سی شفٹ میں کام کرنا پسند کروں گا۔(واہ بھئی پسند پوچھی جا رہی ہے) میں ایک دو تین دن پہلے صبح کا ڈرامہ بھگتے ہوئے تھا اس لئے میں نے کہا دوپہر یا رات کی کسی بھی شفت میں کام کر سکتے ہیں۔

انٹرویو لینے والی عورت نے کہا کہ میں گھر جاؤں اور انکی کال کاا نتظار کروں۔ مجھے گھر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ گھر پہنچا توایجنسی کی طرف سے ٹیلیفونی پیغام میرا منتظر تھا، جس میں مجھے کسی فیکٹری کا نام اور مکمل پتہ بتایا گیا تھا جہاں مجھے دوسرے دن دوپہر میں رپورٹ کرنا تھی۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27