Episode 26 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 26 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
بڈھے طوطے
 
ایک شاعر نے کہا 'زندگی کے پرچے میں سب سوال مشکل ہیں ،سب سوال لازم ہیں' 
کچھ یہی حال ہم جیسے امیگرینٹ کا ہے۔سب سوال مشکل ہیں لیکن سب سوال لازم ہیں۔ روزی روزگار کے مسائل ہیں۔ بچوں کی تربیت کا مسئلہ ہے۔ وطنِ عزیز میں دوستوں رشتہ داروں کی شادی غمی ہے۔ سوچتے ہیں کہ ذرا فرصت ملے اور ہاتھ کی تنگی ختم ہو تو وطن کا چکر لگا آئیں۔

کریں تو کیا کریں؟
بعض دفعہ لگتا ہے کہ سوچ میں ٹھہراؤ ، کوئی سمت اورکوئی تسلسل نہیں ہے۔ سوچتے ہیں، خود سے سوال کرتے ہیں، خود ہی جواب دیتے ہیں، اطمینان ہو یا نہ ہو۔ پھر کسی دوسرے مسئلہ کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ خیالات رکنے لگتے ہیں، ذہن الجھنے لگتا ہے تو سوچ کی پٹاری بند کر دیتے ہیں، تا وقتیکہ کہ یہ دوبارہ نہ کھل جائے۔

(جاری ہے)

ہم سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ محبت کرنے والے لوگ، دوستوں اور رشتہ داروں کا ایک بڑا حلقہ، جانے پہچانے لوگ، مانوس شہر۔ غرضیکہ ایک پورا ماضی جو پیچھے رہ گیا ہے۔
ایک اچھی نوکری اور کامیاب مستقبل، ریٹائرمنٹ کا بعد کا پیکج اور پینشن،وہ چھت جو اپنی تھی جس پر کوئی قرضہ تھا۔ تمام آسائشیں اور گھر کاآرام۔

کینیڈا ہمارے لئے نئی سرزمین ہے۔ ہر چیز نئی اور نا آشنا ۔ نہ لوگوں سے واقفیت ہے اور نہ سوسائٹی سیشناسائی۔ جہاں جاتے ہیں ہر چیز اجنبی سی لگتی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتازندگی کہاں سے شروع کریں؟ وقت کے بہاؤ کے ساتھ کچھ کچھ قدم جمنے شروع ہوئے ہیں ، لیکن پھر بھی ہر چیز غیر یقینی سی لگتی ہے۔ بعض دفعہ تو لگتا ہے کہ ہم مسافرت میں ہیں اور کسی وقت واپس چلے جانا ہے۔

 
ہم کہنے کو تو کینیڈا آ گئے ہیں لیکن ذہن میں انتشار سا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط ؟یہ وہ ملک تو نہیں لگ رہا جس کے ہم خواب دیکھتے تھے۔ جگہ جگہ تہذیب کا ٹکراؤ ہے۔ ہم اس معاشرے میں رچنا بسنا بھی چاہتے ہیں اور اس سے ڈرتے بھی ہیں۔ جب ہم خود ہی اپنی سوچ میں واضح نہیں ہیں تو ہم اپنی اولاد کی کیا رہنمائی کر سکتے ہیں۔

عجیب صورتِ حال ہے۔
یوں تو کینیڈین اچھے لوگ ہیں۔ خوش اخلاق ۔ ملنسار اور ہمہ وقت مدد کے لئے تیار لیکن بقول شاعر
 فاصلہ فاصلہ کہلاتا ہے
ٹی وی دیکھتاہوں تو اجنبی چہر ے، خبریں سنتا ہوں تو بہت کم خبروں کے پس منظر سے واقفیت لگتی ہے۔ سیاست، سیاست دان، حکومت سب اجنبی۔
کن مسائل پر گفتگو ہو رہی ہے سیاسی پارٹیاں کیا کر رہی ہیں، حکومت کیا کر رہی ہے؟ حکومت صحیح کر رہی ہے؟ غلط کررہی ہے۔

اس میں ہم جیسے امیگرینٹ کے لئے کیا ہے؟ کچھ اندازہ نہیں ہوتا وطنِ عزیز میں تو یہ حال تھا کہ اخبار پڑھے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ یہاں اخبار دیکھنے کو طبیعت نہیں چاہتی۔
یہاں کے لوگ کھیل کود کے بہت شوقین ہیں، لیکن انکے کھیل ہم سے مختلف ہیں۔ آئس ہاکی، بیس بال، والی بال اور انکے دیگر کھیلوں میں کوشش کے باوجود دل نہیں لگتا۔

جہاں کھیلوں کا ذکر چل رہا ہو، لوگ زور شور سے کھلاڑیوں کی تعریف میں رطب السان ہوں، گفتگو ہمارے سر پر سے گزر رہی ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں تک کو نہیں پہچانتے، گفتگو کیا کریں گے۔ 
ہر بات میں مسئلہ، ہر کام میں مسئلہ ۔ کس کام کے لئے کس کے پاس جانا ہے؟ کون محکمہ کیا کر رہا ہے؟ حالانکہ سرکار نے بہت اطلاعات فراہم کی ہیں، اشتہاری پرچے( فلائر )ہیں، کونسلنگ ہے، ہر ایک کی ویب سائٹ موجود ہے۔

قاعدے قوانین ہیں، کاغذی کارروائی ہے۔ جہاں جائیں لمبے لمبے فارم ہیں۔ سب کچھ ہے، لیکن رشوت نہیں ہے۔ اگر کام صحیح ہے تو کوئی روک نہیں سکتا اور اگر قاعدے قانون سے باہر ہے تو کوئی کرو ا نہیں سکتا۔
بچوں کے سکول جانے سے تعلیمی سسٹم کا کچھ اندازہ ہونے لگا ہے۔ گھر پر ایک مقامی انگریزی روزنامہ لگوا لیا ہے۔ اسکی خبروں، اداریہ اور لوگوں کے مراسلات سے مقامی حالات کااندازہ ہونے لگا ہے۔

ہم پہلی نسل کے امیگرینٹ ہیں اسلئے بہرحال ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو راستہ دکھا کر جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ نسل خود کو گم شدہ نسل یعنی محسوس کرے۔ ویسے سچ پوچھئے تو ہم بعض اوقات خود کو ہی گمشدہ نسل محسوس کرتے ہیں
کینیڈا میں آئے ہوئے تقریباً ایک سال ہو گیا ہے اور یہ سارا وقت جدوجہد میں ہی گزرا ہے۔

جو ڈگریا ں اور تجربہ بڑے فخر سے ساتھ لائے تھے اس کی یہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اول تو کوئی انٹرویو تک کے لئے نہیں بلاتا اور اگر بلاتا بھی ہے تو بات کینڈین تجربے پر آ کر رک جاتی ہے۔ کینیڈین تجربہ کہا ں سے لائیں ؟ بھئی جب نوکری دو گے جب ہی تو مقامی تجربہ ہو گا۔ جو تجربہ ہماے پاس ہے اسے تم گردانتے نہیں۔
عجیب لوگ ہیں۔

 
اب تو میں نے اپنے ریزیومے میں منیجر اور ۱۵ سال کا تجربہ،کون کون سے سیمینارمیں کانفرنسں شرکت کی وغیرہ وغیرہ، بھی لکھنا چھوڑ دیا ہے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ میرے حساب سے میری شخصیت میں جو اچھی باتیں تھیں ان میں سے کچھ تو یہاں بالکل بے کار ہیں ، جن باتوں کی یہاں ضرورت ہے وہ مجھ میں نہیں ہیں۔ میری شخصیت آہستہ آہستہ پارہ پارہ ہوتی جارہی ہے۔مجھے تو کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ میں ہوا میں معلق ہوں۔ 

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط