Episode 42 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر42 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
میں اپنا ووٹ کس کو دوں؟
الیکشن کی آمد آمد تھی۔ چونکہ ہمیں شہریت مل چکی تھی، اس لئے اس دفعہ نہ صرف ہم لوگ ووٹ دینے کے اہل تھے، بلکہ اب یہ ہمارا قومی فریضہ بھی تھا۔ اسی قومی فریضہ کو نبھانے کے لئے میں الیکشن، سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں سے متعلق معلومات جمع کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ صحیح سیاسی پارٹی اور صحیح امیدوار کو ووٹ دیا جا سکے۔


کینیڈا کا جمہوری نظام کسی حد تک وطنِ عزیز کے نظام سے ملتا ہے۔ سینٹ، قومی ا سمبلی(ہاؤس آف کامنز)، صوبائی اسمبلی اورشہری حکومتیں سارا نظام ایک جیسا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں منتخب صدر بھی ہوتا ہے، کینیڈا کے نظام میں ریاستی سربراہ ملکہ ایلزبتھ IIہیں۔

(جاری ہے)

شاہی خاندان کی نمائندگی گو رنر جنرل کی وساطت سے ہوتی ہے۔گورنرجنرل کا تقرر5سال کیلئے ہوتا ہے۔

صوبوں میں لیفٹنٹ گورنر جنرل ملکہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ہاؤس آف کامنز کے نمائندے عوام کے ووٹوں سے براہِ راست منتخب کئے جاتے ہیں۔ ان نمائندوں کو ممبرآف پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔ انہیں عوام زیادہ سے زیادہ ۵سال کے لئے منتخب کر تے ہیں۔سینٹ کو ایوان بالا اور ہاؤس آف کامن کو ایوانِ زیریں بھی کہا جاتا ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سینٹ کو ہاؤس آف کامن پر کسی طرح کی فوقیت حاصل ہے۔


 الیکشن نزدیک تھے لیکن میرے حساب سے الیکشن کی وہ گہما گہمی نظر نہیں آ رہی تھی جس کی میں توقع کررہا تھا۔ نہ سیاسی جلسے جلوس نہ رنگ برنگے جھنڈے۔مقامی اخبار بھی کچھ زیادہ معلومات فراہم نہیں کر رہے تھے۔ الیکشن کی گہما گہمی اس حد تک نظر آ رہی تھی کہ سیاسی امیدوار اب عوامی مقامات کے دورے کرتے نظر آ رہے تھے۔ اخبارات میں تصویریں بھی چھپ رہی تھیں۔

کوئی کسی ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کرتا نظر آرہا تھا، کوئی گرودوارہ یا مندر میں پہنچا ہوا تھا، کوئی رعائتی ہاؤ سنگ میں لوگوں سے مل رہا تھا۔
میں نے سوچا ذرا دیکھیں ہمارے اردو کے اخبار کینیڈین الیکشن کے بارے میں کیا مواد فراہم کر رہے ہیں۔مقامی پاکستانی اخبار حسبِ معمول اپنی پاکستانی خبریں ہی چھاپ رہے تھے، لگتا ہی نہیں تھا کہ قومی الیکشن جیسا کوئی اہم مرحلہ سامنے ہے جس میں کمیونٹی کی شرکت اشد ضروری ہے۔


میری جمع کردہ معلومات کے مطابق تین سیاسی پارٹیاں کنزرویٹیو، لبرل اور این ڈی پی بہت متحرک ہیں۔ چوتھی پارٹی بلاک کیوبیکاز صرف کیوبیک تک محدود ہے اور پانچویں پارٹی گرین پارٹی نسبتاً نئی پارٹی ہے جو اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد میں ہے۔ اس لحاظ سے ٹورانٹو مقابلہ پہلی تین پارٹیوں تک ہی محدود ہے۔
 کنزرویٹیوپارٹی کا جھکاؤ دائیں جانب ہے ، این ڈی پی بائیں بازو کی پارٹی ہے جب کہ لبرل معتدل ہیں یعنی مڈل آف دی روڈ نظر آ رہے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے لبرل اور کنزرویٹیو ہی حکومت بناتے رہے ہیں ۔جب کہ این ڈی پی دو چار بار کسی اقلیتی حکومت کا حصہ رہی ہے۔
کنزرویٹیو اخراجات کو گھٹانے اور بجٹ خسارہ کو کم کرنے کے لئے حکومت کا حجم اور سماجی پروگرا م کی تعداد محدودکرنے کے حق میں ہیں اس کے ساتھ وہ ٹیکس میں کمی کا عندیہ دے رہے ہیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔
 این ڈی پی کامحور سماجی انصاف ہے۔

یہ سماجی پروگراموں میں اضافہ اور ضرورت مند افراد کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کے حق میں ہیں۔
لبرل والے معتدل انداز میں چل رہے ہیں اور ہرا یک کو ساتھ رکھنے کے حق میں ہیں۔ کاروباری طبقہ، مڈل کلاس اور غریبوں کے لئے اپنے پروگرام میں کچھ نہ کچھ رکھ رہے ہیں۔
 گرین پارٹی کا محور ماحولیات سے ہے سو وہ ماحول کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

رفتہ رفتہ مجھے تمام پارٹیوں کے منشور اور پروگرام سے آگاہی ہو رہی تھی۔
آج میں باہر کھڑا بچوں کو کھیلتا دیکھ رہا تھا کہ ایک گاڑی آ کر رکی ۔ اس پر ایک سیاسی پارٹی کا بینر اور امیدوار کا نام لکھا ہوا تھا۔ گاڑی میں سے ایک صاحب اترے۔ مجھے متوجہ پا کر آگے بڑھے، اپنا اور اپنی پارٹی کاتعارف کرایا اور اشتہاری پرچہ (فلائر) آگے بڑھا دیا ۔ وہ کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے اس علاقہ سے امیدوار تھے۔

مجھے یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئے کہ ان کے ساتھ رضاکاروں اور سیاسی کارکنوں کی فوج نہیں تھی، وہ اپنی الیکشن مہم کی تشہیر خود ہی کر رہے تھے
"اگر آپ اپنا نام بتائیں اور اجازت دیں تو میں آپ کا نام ووٹر لسٹ میں چیک کر لوں۔ " انہوں نے پوچھا۔
میں نے اپنا نام بتایا۔ انہوں نے لسٹ چیک کی اس میں میرا اور بیگم کا نام شامل تھا۔
"آپ کے نام کے بیلٹ پیپر اگلے ہفتے تک آ پ کو بذریعہ ڈاک موصول ہو جائیں گے۔

اسی ہفتہ آپ کے علاقہ میں سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کی ایک الیکشن میٹنگ ہے۔ اس میٹنگ میں آپ اپنے علاقہ کے امیدواروں سے متعارف ہو سکتے ہیں، انکے پروگرا م جان سکتے ہیں اور ان سے سوال جواب کر سکتے ہیں۔" انہوں نے کہا
دن اور تاریخ مناسب تھی، میں نے اس میٹنگ میں شرکت کی حامی بھر لی۔ میرے حساب سے اس میٹنگ میں شرکت کرنے کا فائدہ یہ تھا کہ تمام امیدوار ایک جگہ ہونگے ۔

ن کی تقاریر اور سوال وجواب سے کافی حد تک اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے لئے کس پارٹی اور کس امیدوار کو ووٹ دینا بہتر ہو گا۔
 " کیامیں اس لان میں اپنا الیکشن بورڈ لگا سکتا ہوں؟" انہوں نے پوچھا
" میں تو کرایہ دار ہوں، آپ چاہیں تو مالک مکان سے پوچھ لیں۔ وہ عموماًرات میں دیر سے لوٹتے ہیں" میرا جواب سن کر انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور اگلے مکان کی طرف بڑھ گئے۔


اگلے دو دنوں میں ہمیں کئی سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کے فلائر ملے، کچھ نے فون بھی کیا کچھ دنوں میں تمام علاقہ کے بیشتر گھروں کے لان میں امیدواروں کے بورڈنظر آنے لگے، سیاسی سرگرمیاں زور پکڑ نے لگیں لیکن ان کی واضح حدود تھیں ۔ کوئی غل غپاڑہ یا بے جا ہنگامہ نظر نہیں آرہا تھا۔
میں نے آج الیکشن میٹنگ میں شرکت کی۔ ہمارے علاقے سے الیکشن میں حصہ لینے والے تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کیامیدواروں نے حاضرین سے خطاب کیا۔

چونکہ اس علاقہ میں ساؤتھ ایشنز کی تعداد زیادہ تھی اس لئے تمام سیاسی پارٹیوں نے بھی زیادہ تر ساؤتھ ایشین امیدواروں کو ٹکٹ دئے تھے۔
 تمام امیدوار پڑھے لکھے اور سیاسی تجربے سے لیس تھے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کا منشور اور پروگرام بتایا اور لوگوں کے سوالوں کے جواب دیئے۔ کسی بھی تقریر کے دوران سیاسی نعرہ بازی یا شور و غل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اور یوں مجھے تمام امیدواروں کو دل جمعی کے ساتھ سننے کا موقع مل گیا۔
 وطن عزیز کے تجربوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خاصی پھسپھسی سیاسی میٹنگ تھی لیکن بہرحال اپنے امیدواروں سے ملاقات کرنے اور ان کے خیالات سے آگاہ ہونے کا یہ بہت احسن اور کارآمدطریقہ تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں بھی یہاں کے طور طریقوں سے شناسا اور انہیں قبول کرنے کا عادی ہوتا جا رہا ہوں۔


آج ہم لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ سٹیشن گئے ۔ بیلٹ پیپر جوہمیں کئی دن پہلے ہی بذریعہ ڈاک مل گئے تھے ساتھ لے گئے تھے۔یوں تو ایڈوانس ووٹنگ کے لئے بھی دن مقرر تھے مگرسوچا کہ پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ڈالنے سے ذرا ووٹنگ کے دن کی رونق بھی دیکھنے کو مل جائے گی۔
پولنگ سٹیشن ایک مقامی سکول میں بنایا گیا تھا۔ ہفتہ کادن تھا سکول بند تھا اور پولنگ کا بندوبست سکول جمنازیم میں کیا گیاتھا۔

جمنازیم کے باہر برآمدے میں ووٹرز کی طویل قطاریں نظر آرہی تھیں ۔ ہم بھی قطار میں لگ گئے ۔ سیاسی پارٹیوں کے رضاکاروں کی بڑی تعداد مصروفِ عمل تھی لیکن حسبِ معمول آج بھی کوئی ہلہ گلا نہیں تھا ۔
 اندازہ تھا کہ پولنگ بوتھ تک پہنچتے پہنچتے ڈیڑھ دو گھنٹے تولگ ہی جائیں گے لیکن ہم ایک گھنٹے کے اندر ہی جمنازیم کے اندر تھے پولنگ بوتھ کے سامنے تھے۔

پولنگ آفیسر نے ہمارے بلیٹ پیپر اوراپنی ووٹرز لسٹ چیک کی۔شناخت کے لئے ہم نے اپنا ڈرائیور لائسنس پیش کیا۔ اس نے ہمیں بیلٹ پیپر پکڑا دئے۔ایک فلائر دیا جس پر تفصیلات تھیں کہ ووٹ ڈالنے کا طریقہ کیاہے؟ یہ الیکٹرانک ووٹنگ ہے۔ آپ کا بیلٹ پیپر مشین سے پڑھ لیا جاتا ہیجس کی گنتی کسی مرکزی جگہ ہورہی ہوتی ہے۔ اس الیکٹرانک ووٹنگ اور کاوئنٹنگ کا فائدہ یہ ہے کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد صرف دو تین گھنٹوں کے اندر تمام نتائج سامنے آجاتے ہیں۔


 کسی جگہ سے لڑائی جھگڑے ، بیلٹ کس اٹھا کر بھاگنے یا جعلی ووٹنگ کی اطلاع نہیں آئی۔نہ ہی بعد میں کسی پارٹی کی طرف سے دھاندلی کے الزمات عائد کئے گئے۔
یہ ایک الگ باتہے کہ ہم نے جس امیدوار کو ووٹ دیا ہے وہ جیتے یا ہارے، لیکن بطور کینیڈین شہری ووٹ ڈالنا ہمار قومی فریضہ تھا جو ہم نے بخیرو خوبی انجام دیا۔ ہم نے یہ مصمم ارادہ بھی کر لیا تھا کہ آئندہ آنے والے الیکشنوں میں بھی ہم انشاللہ اپنا ووٹنگ کا حق استعمال کرتے رہیں گے۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط