Episode 46 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر46 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
کریڈٹ ریٹنگ ۔ہوشیار خبردار!
اپار ٹمنٹ میں آنے کے بعد سوچا کہ ہم لوگ اپنا بینک اکاؤنٹ اسی شاپنگ سنٹر کی بینکشاخ میں منتقل کرا لیں جو ہماری اپارٹمنٹ بلڈنگ کے بہت قریب ہے۔ پرانی شاخ دور ہے، آنے جانے میں بلاوجہ وقت ضائع ہوتا ہے۔یہ سوچ کر میں نے یہاں کے بینک میں ملاقات کا وقت لیا ، اور مقررہ دن پر اپنی پرانی برانچ کا ریکارڈ اور چیک بک وغیرہ لے کر پہنچ گیا۔


 میراخیال تھا کہ میرا اکاؤنٹ ہاتھ کے ہاتھ یہاں منتقل ہو جائگا۔ سار کام کمپیوٹر سے ہوتا ہے، کچھ مسئلہ ہونا نہیں چاہئے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ بینک میری پرانی چیک بک رکھ لے گا اور نئے پتے کے ساتھ دوسری چیک بک چند دنوں میں ڈاک سے مل جائے گی۔

(جاری ہے)

ہو سکتا ہے اس سلسلہ میں دس سے بارہ ا ڈالر کے اضافی اخراجات ہوجائیں۔
میں نے بینک کلرک کو بتایا کہ ہم لوگ یہاں نزدیک آ گئے ہیں اور اپنا اکاوئنٹ اس برانچ میں منتقل کرانا چاہتے ہیں۔

اس نے میرانام اور اکاوئنٹ نمبر کمپیوٹر میں ڈالا تو میراسارا کھاتہ اس کے سامنے آگیا۔ کلرک نے میرا نیاپتہ ٹائپ کیا ، اسکے بعد خاموشی کا ایک طویل وقفہ آگیا۔
"آپ کے موجودہ پتہ پر کسی نے بنک سے فراڈ کیا ہے۔یک طرح سے یہ رہائشی پتہ بلیک لسٹ ہے۔ اس لئے آپ کاکاوئنٹ یہاں نہیں کھولا جاسکتا" کلرک نے ایک گہری سانس لے کر کہا
 میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم تو ابھی اس اپارٹمنٹ میں آئے ہیں اس پرانے فراڈ سے ہمارا کیا تعلق ہے؟
کلرک نے اپنی مجبوری ظاہر کی۔

اس کا کہنا تھا کہ جب تک میرے بینک کے کھاتے پر سے فلیگ نہیں ہٹتا، کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ میں اکاؤنٹ ٹرانسفر کرواؤں یا نہ کرواؤں، اپنی کریڈٹ رپورٹ سے یہ فلیگ ہٹوانے کی کوشش کروں۔ کیونکہ اس کی موجودگی کا مطلب ہے کہ میر ی کریڈٹ ہسٹری صاف نہیں ہے، اس میں کچھ مسئلہ ہے۔ مجھے مستقبل میں کریڈٹ کارڈ لینا ہو، بنک سے قرضہ لینا ہو، مارٹگیج لینی ہو، غرضیکہ کوئی بھی مالی معاملات ہوں، یہفلیگ سامنے آئے گا۔

اورمعاملہ وہیں ختم ہو جائے گا۔گویا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔
"کیا مجھے بینک کو درخواست دینی پڑے گی؟ "میں نے پوچھا
"بینک کو نہیں۔ کریڈٹ رپورٹنگ ایجنسی کو ، جس کے پاس آپ کی کریڈٹ رپورٹ تیار کرتی ہے؟"
ہم تو نمازبخشوانے گئے تھے ، روزے گلے پڑ گئے۔
میرے لئے کریڈٹ رپورٹنگ ایجنسی، کریڈٹ فائل اور کریڈٹ رپورٹ کی اصطلاحات بالکل نئی تھیں، اور یہ بات اس سے زیادہ اہم تھی کہ میرے مالی معالات اور مستقبل کے لین دین کا براہِ راست تعلق ان باتوں سے ہے۔

میں اپنا اکاؤنٹ ٹرانسفر کرانے کا معاملہ تو بھول گیا، مجھے یہ فکر لاحق ہو گئی کہ کس طرح کریڈٹ ایجنسی سے رابطہ کیا جائے اور کس طرح اپنی کریڈٹ رپورٹ سے یہ فلیگ ہٹوایا جائے۔
اس سلسلہ میں مجھے جو معلومات حاصل ہوئیں، انکے مطابق کریڈٹ رپورٹ آپ کے مالی لین دین کی ایک فائیل ہے جو کریڈٹ رپورٹنگ ایجنسی تیار کرتی ہے۔ بنک اوروہ ا دارے جن سے آپ کے مالی معاملات ہیں کریڈٹ رپورٹنگ ایجنسی کو آپ کا ڈیٹا مہیا کرتے ہیں اور اس طرح آپ کی کریڈٹ ہسٹری تشکیل پاتی ہے اور اسی کی بنیاد پر آپ کی ریٹنگ یا درجہ بندی کی جاتی ہے ۔

جیسے ہی آپ کسی مالی لین دین کے لئے کسی اداریسے رابطہ کرتے ہیں، وہ آپ کی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی سے رابطہ کرتا ہے اور آپ کی ریٹنگ پتہ کرتا ہے۔ اگر آپ کی ریٹینگ اچھی ہے تو مالی معاملات بخوبی طے پاتے ہیں، بصورتِ دیگر معاملات طے نہیں ہو پاتے یا آپ کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہاں تین ایجنسیاں کریڈٹ رپورٹ تیارکرتی ہیں۔ان ہی میں سے کوئی ایک ایجنسی میری کریڈٹ رپورٹ کی ذمہ دار ہے اور مجھے اس سے براہِ راست رابطہ کرنا چاہئے۔


کریڈٹ ریٹنگ کا پیمانہ ۳۰۰ سے ۹۰۰ پوائنٹ تک ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ سکور ہو گا، آپ کی درجہ بندی اتنی ہی بہتر سمجھی جائے گی ۔ اپنی درجہ بندی کو بہتر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ تما م بلوں اورجو قرضوں کی اقساط کی ادائیگی بر وقت کی جائے۔آپ کیجاری کئیہوئے چیک واپس نہ ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اپنی کریڈٹ کی درجہ بندی سے واقف رہنے کے لئیہر سال کم از کم دو بار اپنی کریڈٹ رپورٹ کی کاپی منگوا نی چاہئے۔


میں نے سب سے پہلے اپنی کریڈٹ رپورٹنگ ایجنسی کو خط لکھا کہ ہم تو کرایہ کے اپارٹمنٹ میں ہیں۔یہ بھی واضح کیا کہ ہم نے کرایہ نامہ پرکب دستخط کئے اورکب سے اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کی ہے۔ کچھ دنوں تک ایجنسی سے خط وکتابت چلتی رہی۔انہوں نے کچھ دستاویزات کی کاپی مانگی جو میں نے بھیج دیں اور آخر کار یہ مسئلہ حل ہو گیا۔
میں نے پہلی دفعہ جب اپنی کریڈٹ رپورٹ دیکھی تو حیران رہ گیا کہ ماضی میں کن کن اداروں نے ان سے میری کریڈٹ ریٹنگ مانگی ۔

اس میں وہ بھی ادارے تھے جن کا کبھی ہم نے فارم بھرا تھا لیکن کبھی کریڈٹ کارڈ لیا نہیں تھا۔
 اس سارے طریقہ کار میں وقت تو لگا لیکن اس بات کی اچھی طرح آگاہی ہو گئی کہ کینیڈا میں مالی معاملات میں کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ میں نے یہ طے کرلیا کہ ایک مناسب وقفے سے میں اپنی کریڈٹ رپورٹ چیک کرتا رہوں گا
کچھ ہی عرصہ گزرا ہو گا کہ مجھے اپنی کریڈٹ رپورٹ میں کچھ گڑ بڑ سی محسوس ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق میں نے کچھ بلوں کی ادائیگی نہیں کی تھی۔ مجھے تعجب سا ہوا۔ میرے حساب سے اس عرصے میں تمام بلوں کی وقت پر ادائیگی ہوتی رہی ہے۔ میں نے تفصیلات معلوم کیں تو مجھے پتہ چلا کہ یہ سٹوڈنٹ قرضہ کی بات کر رہے ہیں جس کی کئی قسطیں میں نے جمع نہیں کیں۔
حقیقت یہ تھی کہ جب کچھ عرصے میری نوکری نہیں تھی ، تو خود سٹوڈنٹ قرضہ والوں نے مجھے منع کیا تھا کہ جب تک میں دوبارہ نوکری حاصل نہیں کر لیتا، مجھے قرضہ کی قسط کی ادائیگی کی ضرورت نہیں۔

لیکن یہ اطلاع کریڈٹ کمپنی تک نہیں پہنچی اور میں ان کے حساب سے نا دہندہ تھا ۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر کریڈٹ کمپنی کو کھٹکھٹایا،تفصیلات بھیجیں تو مسئلہ حل ہو ا۔ اگر میں بر وقت چوکنا نہ ہو جاتا تو کہانی یقیناً لمبی ہو جاتی۔
آج چھٹی کا دن نہیں تھا لیکن میں بطورِ خاص دفتر سے چھٹی لے کر بینک آیا تھا۔
وجہ؟ وجہ یہ تھی کہ گزشتہ رات جب میں نے کمپیوٹر سے اپنا بینک اکاوئنٹ چیک کیا تو پتہ چلا کہ میرے بینک اکاوئنٹ میں کسی نے چھ سو ڈالر جمع کرائے تھے اور اتنے ہی پیسے اے ٹی ایم سے نکالے تھے۔

میرے اکاؤنٹ میں پیسے کس نے ڈالے اور کس نے نکالے، کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا؟
میں نے بینک آفیسر سے ملاقات کی اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس نے میرا بینک کارڈ لے کرچیک کیا، کارڈ بالکل صحیح تھا۔میرے اکاوئنٹ کی چیکنگ اور مزید تحقیقات کے بعد جو صورتِ حال سامنے آئی وہ کچھ اس طرح تھی۔ کسی شخص نے میرا بینک کارڈ اور پاس ورڈ استعمال کرتے ہوئے گزشتہ رات تقریباً پونے بارہ بجے رات، اے ٹی ایم میں ۶ سوڈالر کا ایک فرضی چیک سادہ لفافہ میرے اکاؤنٹ میں ڈالا۔

یوں میرے اکاوئنٹ میں ۶ سو ڈالر جمع ہو گئے۔یہ سادہ لفافہ بعد میں اے ٹی ایم مشین سے برآمد ہوا۔
اس شخص نے اسی وقت اے ٹی ایم سے ۳۰۰ ڈالر نکال لئے ( اے ٹی ایم سے میرے رقم نکالنے کی روزانہ حد اتنی ہی تھی)۔ بارہ بجے رات کے بعد دوسرا دن شروع ہو جاتا ہے، اس لئے اس نے بارہ بجے کے بعد مزید ۳ سو ڈالر نکال لئے اور چلتا بنا۔ یہ ساری واردات اس شہر میں نہیں ہوئی ہے جہاں میں رہتا ہوں، بلکہ ٹورانٹو میں ہوئی ہے جو میری رہائش سے کم ازکم ۵۰ کلو میٹر دور ہے۔


 " یہ آپ نے بہت اچھا کیا کہ فوری طور پر بینک کواس جعل سازی کی اطلاع دے دی۔ اگر بینک خود اے ٹی ایم میں بغیر چیک کا خالی لفافہ پاتا تو اس کا سارا ملبہ آپ پر گرتا۔ بینک کے قواعد کے تحت فوری طور پر آپ کا کارڈ منسوخ کر دیا جاتا اور جب تک کچھ فیصلہ نہیں ہوتا آپ اپنا بینک اکاؤنٹ بھی استعمال نہیں کر پاتے" بینکر نے کہا
 بینک کے مطابق اس واردات کے ممکنہ ذمہ دار تین لوگ ہو سکتے ہیں۔

ایک تو میں خود جس نے اپنے اکاؤنٹ میں خود ہی فرضی چیک ڈال کر پیسے نکال لئے۔ اگر میں نہیں تو میرے گھر کا کوئی فرد جس نے میری لاعلمی میں میرے کارڈ کا ناجائز استعمال یا کوئی کسی تیسراشخص جس کے پاس میرے کارڈ کی نقل بھی ہے اور اسے میرا پاس ورڈ بھی معلوم ہے۔
میرے لئے یہ بات بہت تکلیف دہ تھی کہ بینک والے مجھ پر اور میرے گھر والوں پر شک کر رہے تھے۔

خاص طور سے میرے بڑے بیٹے پر۔میرا بڑا بیٹا تو اس الزام سے فوراً بری ہو گیا کہ حسنِ اتفاق سے اس دن وہ رات کی شفٹ میں کام کر رہا تھا جس کا سارا ریکارڈ موجود تھا۔
میں نے خیالی گھوڑے دوڑانے شروع کئے کہ میں نے کہاں کہاں اپنا بینک کارڈ استعمال کیا ہے۔ میں زیادہ تر اس کارڈ کو گیس ڈلوانے کے لئے ایک دو مخصوص گیس سٹیشن پر ہی استعمال کرتا ہوں۔

اچانک مجھ کو خیال آیا کہ تقریباً چار ماہ پہلے ہم لوگ کسی تقریب میں سکاربورو گئے تھے۔ واپسی میں گیس کچھ کم لگی تو ایک نسبتاًً غیر معروف گیس سٹیشن سے گیس لی اور وہاں بینک کارڈ سے ادائیگی کی۔
 اس کے ساتھ ہی مجھے یاد آیا کہ جب میں نے کارڈ دیا تو کاؤنٹروالے نے ایک دور افتادہ میز کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہاں بچوں کے لئے کچھ مفت چاکلیٹ ہیں، میں چاہوں تو ایک پیکٹ لے سکتا ہوں۔

چاکلیٹ تو کچھ ایسے خاص نہیں تھے لیکن اس آنے جانے میں پانچ منٹ تو لگ ہی گئے اور شائد اسی وقفے میں میرے کارڈ کی نقل بنا لی گئی۔دوسرے دن میں نے یہ ساری کہانی فون پر اپنے بینک والے کوسنائی۔
چند دنوں کے بعد مجھے نیا بینک کارڈ دے دیا گیا، ۶ سوڈالر بھی واپس مل گئے اور میرا اکاوئنٹ بھی بحال ہو گیامگر میرے اصرار کے باوجود بینک والے نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بحالی کیونکر ممکن ہوئی۔
بعد میں ایک دفعہ اخبار سے پتہ چلا کہ ایک گروہ پکڑا گیا ہے جو غیر معروف گیس سٹیشن اور کافی شاپ پر لوگوں کے بینک کارڈ کی نقل تیار کرتاتھا اور مختلف طریقوں سے پاس ورڈ کا پتہ چلا لیتا تھا۔ غالباً میں بھی ان ہی کاشکار ہوا جس کا بینک کو اندازہ ہو گیا تھا۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط