Episode 49 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر49 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
میں نے تو ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے پیارے اس جدائی کو وقتی سمجھ رہے ہیں اور اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ عارضی ہے، ہم سب واپس آئیں گے۔ میرے دل میں کچھ ٹوٹ سا گیااور مجھے کچھ کھونے کا احساس ہونے لگا۔
مکان توبک کرا دیا لیکن مجھے کئی خدشات تھے مثلاً اس بیچ میں بلڈر کہیں مکان کی قیمت نہ بڑھا دے یا مکان وقت پر تیار نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ایساکچھ نہیں ہوا۔دیکھتے دیکھتے سال گزر گیا ، مزید دو قسطیں اد ا ہوگئیں ۔ مارٹگیج کا بندوبست بھی ہہو گیا۔اب کلوزنگ کا مرحلہ تھا۔ اس مرحلہ سے گزرنے کے لئے ایک وکیل کی ضرورت تھی کہ مکان کے کاغذات صرف وکیل ہی تیار کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وکیل کی فیس بھی ہمیں برداشت کرنی پڑے گی
ہم لوگوں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ مکان کی ملکیت میں میرا ، بیگم اور بڑے بیٹے کا نام ہو تاکہ کسی ناگہانی صورتِ حال میں مکان کی ملکیت پر اثر نہ پڑے اور فیملی کے پاس سر چھپانے کے لئے چھت ہو۔

(جاری ہے)


آج مکان کی کلوزنگ ہو گئی ہے اور مکان کی چابی بھی مل کئی ۔
ابھی اپارٹمنٹ چھوڑا نہیں ہے۔ فی الحال وہ اپارٹمنٹ ہمارے پاس ایک ہفتہ تک ہے، اس کی صفائی ستھرائی کرنی ہے اور اسی حالت میں واپس کرنا ہے، جس حالت میں لیا تھا۔ اچھا خاصا کام ہے۔
اپنا مکان ہونا اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ اس کے لوازمات بھی ہیں۔ اپارٹمنٹ میں تو ایک دفعہ کرایہ دینے کے بعد آپ فارغ ہو گئے۔

کوئی مسئلہ ہو نیچے دفتر میں جا کر مسئلہ بتا کر بے فکر ہو جائیں۔ اپنے مکان میں ایسا نہیں۔آپ کومکان کی مارٹٹگیج دینی ہے، جائداد ٹیکس دینا ہے، بجلی، گیس اور پانی کا بل دینا ہے، انشورنس کی ادائیگی کرنی ہے، ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے بلوں کے علاوہ مینجمینٹ سوسائٹی کے ماہانہ پیسے دینے ہیں، لان کی گھاس کاٹنی ہے، سردیوں میں برف صاف کرنی ہے، مکان میں ٹوٹ پھوٹ اور مرمت کے آپ ہی ذمہ دار ہیں وغیرہ غیرہ۔

ایسا کیوں نہ ہو مالک مکان توآپ ہی ہیں۔
یہ سب ذمہ داریاں اپنی جگہ تھیں لیکن میں اس بات میں زیادہ خوش تھا کہ سب لوگ خوش تھے۔ بچوں کو الگ الگ کمرہ مل گیا تھا۔ بیگم کو بڑا کچن۔مہمانداری بھی آسانی سے ہو سکتی تھی ۔
ابھی بہت سویرا تھا ، روشنی بھی زیادہ نہیں تھی۔میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا۔ یہ لینڈ سکیپنگ والے تھے انہوں نے مخصوص جگہ اپنا چھوٹا ٹرک پارک کیا ۔

اس کے ساتھ منسلک ٹریلر کا دروازہ کھلا ۔ دو گھاس کاٹنے والے چھوٹے ٹریکٹر اور مشینیں اتاری گئیں۔کچھ کارندے مشینوں کے ساتھ پوری کالونی میں پھیل گئے ہیں اور درختوں اور گھاس کی کٹائی اور چھنٹائی میں مصروف ہو گئے۔ گرمیوں میں یہ لوگ لینڈ سکیپنگ کا کام کرتے ہیں اور سردیوں میں برف ہٹانے کا کام کرتے ہیں۔ہم اپنی کالونی کی مقامی مینیجمنٹ کو جو ماہانہ سروس چارجز دیتے ہیں ان کو ا س بجٹ سے ہی ادائیگی ہوتی ہے۔

بہت معقول طریقہ کار ہے کسی طرح کی بک بک جھک جھک نہیں ہے۔
مجھے اپارٹمنٹ چھوڑنے کا ذرا فسوس تھا ۔ وہاں عمارت کے اندر ہی سکواش کھیلنے کی سہولت تھی یہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ میرا خیال تھا کہ مجھے اب سکوائش کے بجائے اپنی چہل قدمی کی پرانی عادت پر ہی دوبارہ بھروسہ کرنا پڑے گا
 سب کچھ اچھا تھا۔ معقول محلہ اور اچھے محلہ دار سوائے ہمارے پڑوسی مسٹر نزلہ کے۔

نام تو ان کا کچھ اور تھا لیکنان کے اس نام کی وجہ تسمیہ دو تھیں۔اول تو یہ کہ ان کو ہر وقت نزلہ رہتا تھا، شوں شوں کرتے رہتے تھے، اور دوئم یہ کہ ان کا نز؛لہ ہر وقت تمام محلہ والوں پر یکساں رفتار سے گرتا رہتا تھا، ہم زیادہ مستفیض ہوتے تھے کیونکہ ہماری اور ا نکی دیوار ملی ہوئی تھی۔ کسی کی گاڑی غلط پارک ہوئی ہے، مسٹر نزلہ نے پارکنگ والوں کو فون کر کے گاڑی اٹھوا دی، کسی کے لان کی گھاس بے تریب ہے، سٹی والوں کو فون کر دیا وغیرہ وغیرہ۔

آپ ایک طرح سے انہیں خدائی فوجدار کہہ سکتے ہیں۔
 ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت ہی منظم آدمی ہیں، وہ کسی طرح کی بھی بد انتظامی برداشت نہیں کر سکتے، چاہے وہ ان کے پڑوسی ہی کیوں نہ ہوں۔ وہ ایک طرح سے اہلِ محلہ کی مفت ٹرینینگ کر رہے تھے ،ہمیں "انسان "بنانے کی کوشش کر ہے تھے اور اس بات کے لئے وہ خود کو داد کا مستحق سمجھتے تھے
خیر ان تمام حرکتوں کے باجود اگر ا ن کے نفیس ذوق کی تعریف نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہو گی ۔

نفیس کپڑے، پالش زدہ پئے جوتے، بہترین چمکتی ہوئی گاڑی جس کو رگڑنے اورمانجھنے میں وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ صرف کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے مکان کا اندراور باہر کے لان بہت خوبصورت بنائے ہوئے تھے، دلکش پھول، آراستہ کیاریاں اور باقاعدگی سے کاٹی جانے والی گھاس۔
جہاں یہ لان وہیں ان کے نفیس ذوق کی علامت تھاو ہیں فساد کی جڑ بھی تھا۔ کسی من چلے نے کہا کہ مسٹر نزلہ دن میں کئی دفعہ اپنے پھلوں کی گنتی کرتے ہیں خاص طور سے کام پر جانے سے پہلے اور کام سے آنے کے بعد کہ اس بیچ میں کسی نے کوئی پھول تو نہیں تو ڑلیا۔

وہ سرِ شام اپنے کام سے واپس آ کر باہر کے لان میں کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے تھے اور پھولوں کی حفاظت شروع ہو جاتی تھی کہ محلے کے بچوں کے کھیل کا وقت شروع ہوتا تھا ۔یہ بچیہر گلی کوچہ سے برآمد ہوتے تھے۔ کوئی سائیکل چلا رہا ہے، کوئی رولر بلیڈ چلا ر ہا کوئیگیند سے کھیل رہا ہے۔ مسٹرنزلہ کی کوشش ہوتی تھی کہ بچے ان کے سامنے والے فٹ پاتھ سے نہ گزریں تاکہ ان کا لان محفوظ رہے۔

بچے تو بچے ہیں اور پھر فٹ پاتھمسٹرنزلہ کی ملکیت تو تھا نہیں، نتیجتاً ان کا شام سے ہی چیخ چیخ کر گلا جو نزلیکہ سبب پہلی ہی بیٹھاا ہوتا تھا، مزید بیٹھ جاتا، لیکن بچوں کی سرگرمیاں جاری رہتیں۔
ایک دن صبح سویرے میں دفتر جانے کے لئے گھر سے نکل رہا تھاکہ وہ میرے پاس آئے
 "تم نے میری گاڑی کو ٹکرماری ہے۔ یہ دیکھو میرے پاس ثبوت ہیں" یہ کہہ کر انہوں نے کچھ تصویریں اور کاغذات میری طرف بڑھا دئے
"دیکھو تمہاری گاڑی پر بالکل اسی جگہ نشانہے جہاں میری گاڑی پر ہے، میرے پاس اس کی تصویر ہے اور نشان کی پیمائشبھی"
"پیمائس اور تصویر کیسے لی"
 "میں نے تمہاری ڈرائیو وے پر آ کرتمہاری گاڑی سے اس کی باقاعدہ پیمائش کی ہے اور تصویر بھی اتاری " وہ طنزیہ ہنسے ا
" ایکسیڈینٹ کیسے ہوا ہو گا؟ "میں نے پوچھا
"تم اپنے ڈرائیو وے پر گاڑی کھڑی کر رہے ہو گے،گاڑی صحیح طرح نہیں مڑی اور تم نے میرے ڈرائیو وے پر کھڑی گاڑی کو ہٹ کر دیا۔

دیکھو دیکھو تصویر میں بالکل واضح ہے۔ "ان کی طرف سے کہانی پوری طرح تیار تھی
"میں مانتا ہوں انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تھا تو اخلاقی طور پر تمہیں مجھے بتاناچاہئے تھا۔ بہر حال میں بات کو بڑھانا نہیں چاہتا، اورپولیس کیس بنانا نہیں چاہتا۔میں نے اپنے کارڈیلر سے بات کی ہے وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ مرمت کا تخمینہ فقط ۹۰۰ سو ڈالر ہے، تم مجھے کیش دو یا چیک، مجھے صرف پیسوں سے مطلب ہے۔

بات ختم ہوجائے گی" انہوں نے میری طرف کاغذات بڑھا دئے
"خیر اس وقت تو میں دفتر کے لئے نکل رہا ہوں واپس آ کر بات کریں گے" میں نے کاغذات لیتے ہوئے کہا اور آفس روانہ ہو گیا
 میرے ایک جاننے والے قسم کے معامالات میں قانونی مشورے دیتے ہیں میں نے آفس سے انہیں فون کیا اور صورتِ حال بتائی
 کہنے لگے: " نمہارا پڑوسی بے وقوف ہے۔ وہ تمہارے ڈرائیو وے پر تمہاری اجازت کے بغیر کیسے آیا اور تصویریں کیسے بنائیں؟ تم چاہے توقانونی کارروائی ہو سکتی ہے، تمہیں مناسب ہرجانہ بھی مل جائے گا"
"نہیں مجھے ہرجانہ نہیں چاہئے۔

بس ان حضرت کا منہ بند ہو جائے۔ "
"ٹھیک ہے ۔ تم فکر نہ کرو۔ تم اپنے پڑوسی کا فون نمبر دے دو"
میں شام میں گھر پہنچ کر گاڑی پارک کر ہی رہا تھا کہ مسٹر نزلہ مل گئے
"معاف کرنا کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی ،میرا تم پر کوئی کلیم نہیں، بات ختم ہو گئی، اپنے وکیل کو بتا دینا"یہ کہہ کر وہ شوں شوں کرتے ہوئے اپنے گھر کے اندر چلے گئے
میرا خیال تھا کہ اس واقعہ کے بعد مسٹر نزلہ ٹھیک ہو جائیں گے۔

لیکن یہ سب کچھ ان کی سرشت کے خلاف تھا۔کسی نے بتایا کہ اب انہوں نے ڈر ائیو وے پر ۲۴ گھنٹے نظر رکھنے کے لئے اپنے مکان کی چھت پر کیمرہ لگا لیا ہے۔ گویا اس دفعہ بندوبست پکا ہے۔
ہر فرعون کا موسیٰ اور ہر نپولین کا واٹر لو ہوتا ہے۔ مسٹر نزلہ کا واٹر لو محلہ کاایک بچہ ثابت ہوا۔ دبلا پتلا اور عمر۶ سال سے زیادہ نہیں۔ وہ انکے گھرکے سامنے کے فٹ پاتھ پر انتہائی تیزرفتاری سے سائیکل چلاتا ہوا گزر رہا تھا۔

مسٹر نزلہ ابھی کسی محلے والی کی غلط پارک کی ہوئی گاڑی اٹھوا کر فارغ ہوئے تھے ۔ انہیں خدشہ ہوا کہ بچہ کہیں سائیکل ا ن کے پھولوں پر نہ چڑھا دے، یہ اسے روکنے آگے بڑھے۔ بچہ تو پھرتیلا تھا، وہ ان کو داؤ دے کر سائیکل نکال کر لے گیا، یہ اس گڑ بڑ میں پتہ نہیں کس طرح سڑک پر گرے اور ٹانگ تڑوا بیٹھے۔ ایمبولینس میں ہسپتال پہنچائے گئے اور چھ ہفتے کے لئے ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا۔


اس آخری کارنامے کے بعد کسی اورنے نہیں، ان کی بیگم نے انہیں محلہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ دوسرے مہینے جب مسٹر نزلہ وہیل چئیر پر باہر نکلے تو اوپر چھت کی طرف اشارہ کیا اور مجھ سے کہنے لگے :
"نئے مالک مکان کو میں یہ کیمرہ مفت دے کر جا رہا ہوں تاکہ وہ شریر لوگوں پر نظر رکھ سکے، ڈیم اٹ۔ یہ شریفوں کے رہنے کی جگہ ہے نہیں"
 پہلے نہیں تھی لیکن اب ہو جائے گی۔ میں نے دل میں سوچا۔ اپنے ذات کے اسیروں کو کیا کہا جائے۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط