Episode 53 - Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر53 - باتیں کینیڈا کی (ایک پاکستانی امیگرینٹ کی زبانی) - فرخ سلیم

Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) in Urdu
ان کی بات کسی حد تک صحیح تھی۔ میں نے کل بات اس لئے نہیں شروع کی تھی کہ یہ نہ سمجھیں کہ میں بلا وجہ بے تکلف ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔
پھروہ کلاس کی طرف منہ کر کے کہنے لگیں
"اگر کسی اور کو بھی تعصب کی شکائت ہے ہ ، تو وہ بھی اس میز پر آجائے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا، فی الحال یہاں دو کرسیاں خالی ہیں" چلئے صاحب یہاں تو لینے کے دینے پڑ گئے
 سردار جی اور ان کے ساتھ ایک اور لڑکا اٹھ کر ہماری میز پر آ گئے۔

سردار جی ذرا مسکرائے اور کہنے لگے
"مجھے اپنی پگڑی کی وجہ سے کسی بھی طرح کے تعصب کا سامنا نہیں ہے"
" میں اور میرا یہ مصری دوست صرف آپ لوگوں کی آئندہ ہونے والے جھگڑوں سے بیچ بچاؤ کے لئے آ گئے ہیں" انہوں نے دوسری لڑکی کی طرف دیکھا اور کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے
ٹیچر ذرا مسکرائیں اور کہنے لگیں
"آپ لوگوں کا شکریہ۔

(جاری ہے)

اس چھوٹے سے واقعہ نے میرے لئے تعصب کے موضوع پر بات کرنا بہت آسان کر دیا ہے" ان کا سلائڈ شو دوبارہ چل پڑا
۔

تعصّب کے مختلف مدارج ہیں۔ یکسانیت اور ہم آہنگی کی غیر موجودگی تعصّب کی ابتدا کر سکتی ہے اور اسے ہوا دے سکتی ہے۔
۔اگر دو شخص ایک جیسے نہیں ( کسی بھی طور مثلاً رنگ، شکل اور زبان وغیرہ) اور جب وہ کسی وجہ سے ملنے پر مجبور ہوتے ہیں تو ان میں یکسانیت یا ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ بے چینی ہو سکتی ہے، یا باہمی ملاپ میں اطمینان کا عنصر کم ہوسکتا ہے۔

اسکی ایک وجہ ایک دوسرے سے واقف نہ ہونے کا یا لا علمی کا خوف بھی ہو سکتا ہے۔
۔ یکساں شکل، رنگ، زبان اور سماجی رتبہ رکھنے والوں میں ابتدائی سطح پر تعصّب کا عنصر کم ہوتا، اور ان میں لاعلمی کا خوف بھی نہیں ہوتا۔ انکا رکھ رکھاؤ، ادب آداب، مشغلے، اور گفتگو کے عنوانات ایک جیسے ہوتے ہیں۔وہ ایک ہی نہج پر آرام سے گفتگو کر سکتے ہیں اور انہیں خود کو ہم آہنگ رکھنے میں شعوری کوششوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔


یکساں خصوصیات نہ رکھنے والوں کا ہم آہنگی کا مسئلہ رہتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ بڑھ جائے تو گھاٹا اٹھانے والا تعصّب کا الزام عائد کرسکتا ہے
فرض کریں ایک آسامی کے لئے ایک سفید فام کینیڈین، ایک غیر ملکی تربیت یافتہ پیشہ ور اور ایک نوجوان سیاہ فام لڑکی انٹرویو دے رہے ہیں۔ معیار کے اعتبار سے سب کی اسنادبرابرہیں۔
 سفید رنگت والے کینیڈین کا اتخاب ہونے کے بعد باقی دوالزام عائد کرسکتے ہیں کہ انہیں امیگرینٹ ہونے کی وجہ سے یا کالی رنگت کی وجہ سے منتخب نہیں کیا گیا۔


امیگرینٹ منتخب ہوتا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ امیگرینٹ کو فوقیت دی جاتی ہے۔
نوجوا ن لڑکی کا اتخاب، عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اس صورتِ حال کو تعصب اور نا انصافی کے کس خانے میں رکھا جا سکتا ہے؟
اگلے ہفتے ٹیچر نے ایک گروپ ہوم ورک پکڑا دیا اور کہا کہ ایک ہی ٹیبل پر بیٹھنے والے گروپ کی شکل میں کام کریں۔
 کھانے کے وقفے میں ہم لوگ کیفے ٹیریاچلے گئے تاکہ ہوم ورک پر بات چیت ہو سکے
سردار جی اور مصر ی فٹبال کے رسیا تھے، جب کہ گایانی لڑکا ایڈ ونچرکاشائق نکلا۔


جیسے ہی ان سینئر خاتون نے بتایا کہ وہ کسی" بگ سیسٹرز " نامی ادارے میں کام کرتی تھیں تو میرے ذہن میں یک دم خیال آیا،
 گویا 'بڑی آپا' ہیں۔
 میں دل ہی دل میں ہنسا۔ میرے ذہن میں ان کی عرفیت تو ان کے ادار ے کی وجہ سے آئی تھی ، لیکن ا ن کے رویے سے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ عرفیت کچھ ایسی غلط بھی نہیں ہے
 دوسری خاتون اپنی عمر اور حرکتوں کے اعتبار وہ بے بی آف دی ٹیم تھیں، لیکن پڑھنے اور ریسرچ میں بہت تیز تھیں۔

انہیں اپنے کتے سے زیادہ عزیز کوئی نہیں تھا۔آج کل ان کا اپنے منگیتر سے اسی کتے کی وجہ سے جھگڑا چل رہا تھا۔ منگیتر کو کتا ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ حالات اس نہج پر آچکے تھے کہ انہیں کتے یا منگیتر کا انتخاب کرنا تھا۔حالات بتا رہے تھے کہ اس کھیل میں کتے کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
بڑی آپا نے باتوں باتوں میں ہم لوگوں کو ذمہ داریاں تقسیم کردیں اور یہ طے ہو اکہ ہم لوگ ایک دوسرے سے ای میل پر رابطہ رکھیں تاکہ اگلے ہفتہ جب کلاس میں آئیں تو کام مکمل ہو۔


 مجھے ایک چھوٹا سا مضمون لکھنا تھا جس کا عنوان تھا "تعصب ۔امیگرینٹ کیا کہتے ہیں"
 میں نے تیسرے ہی دن اپنامضمون گروپ کو ای میل کر دیا، جسے بڑی آپا نے تھوڑی سی قطع و برید کے ساتھ نہ صرف قبول کر لیا بلکہ میرے کام کی تعریف بھی کی۔
میر ا خیال تھا کہ غیبت کرنا صرف دیسی خواتین کا طرہ امتیا ز ہے لیکن یہ بات میری ہم جماعت گوری خواتین نے غلط ثابت کر دی۔

ان کی آپس کی کان پھوسی سے اندازہ ہو اکہ کسی تیسری خاتون کی غیبت ہو رہی ہے۔ اس کے جوتے کپڑوں اور میک اپ سے لے کر بوائے فرینڈز تک کے افسانے شامل تھے۔ہاں اس بات کا ضرور اہتمام کیا جاتا تھا کہ ہم 'لڑکوں ' میں سے کوئی سن نہ لے۔
 ہر ایک کو اپنی اپنی فکر تھی سوائے بڑی آپا کے جن کو اپنی کم اور دوسروں کی فکر زیادہ تھی۔
۔ یہ تم نے مضمون لکھا ہے ،کتابوں اور مضامین کے حوالے کہاں ہیں؟ نکھٹو کہیں کے پورا کا پورا نقل تو نہیں کر دیا ؟
۔

یہ سلائید شو بنایا ہے، کل ۶ سلائڈز ہیں، دیکھو جو ۵۰ فیصد نمبر بھی مل جائیں
۔ ٹائپنگ کے بعد سپیل چیک تو چلا لیا کرو ، صرف ایک پیراگراف میں ۱۳ غلطیاں ہیں
 وہ ہم سب کو اور ہم سب ان کوجھیل رہے تھے ، احترام اور مروت کے ساتھ۔
پانچ دن کام کرنے کے بعد ہفتے کے دو دن پڑھائی کی نظر ہونے لگے۔کلاس میں ہونے والے بحث مباحثے، ٹیسٹ اور ریسرچ، ان سب کی تیاری کے لئے روزانہ رات گئے تک کتابوں سے مغز ماری اور دوسری صبح دفتر۔

مجھے پرانا زمانہ یاد آگیا جب میں ویب ڈیزائین پڑھ رہا تھا۔ پڑھائی اس وقت بھی تھی، لیکن اس وقت صرف پڑھائی تھی آفس کا مسئلہ نہیں تھا۔
 لوگوں سے میرا ملنا ملانا اور سماجی زندگی تو ختم ہو ہی چکی تھی، اب مجھے آرام کرنے کے لئے بھی مناسب وقت نہیں مل رہا تھا۔ وقتاً فوقتاً میں خود کو سمجھانے کی کوشش کرتا تھاکہ یہ وقت گزر ہی جائے گا۔ ذہنی سمجھوتہ الگ بات ہے لیکن بدن کی طاقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

کورس سے نکالے جانے کاخطرہ اپنی جگہ منڈلاتا رہتا تھا۔ گریڈ کے اعتبار سے صرف دو 'سی' کی گنجائش تھی اور 'ایف' کا تو مطلب تھا کورس سے فوری چھٹی۔ کورس کے آغاز میں مجھ سمیت ۳۲ طلباء تھے،اب تک ۵ طلباء داغِ مفارقت دے چکے تھے۔ کیوں اور کیسے؟ خود چھوڑ گئے یا نکال دئے گئے۔ کچھ پتہ نہیں
میں تقریباً ہتھیار ڈالنے ہی والا تھا کہ غیبی مدد آ گئی۔

میں جس ادارے میں گزشتہ تین سال سے کام کر رہا تھا، س کی فنڈنگ سرکار کی طرف سے اچانک بند ہو گئی۔مجھ سمیت تقریباً ۸۰ فیصد عملہ کو رخصتی پروانے جاری ہو گئے۔ ایک صفِ ماتم بچھ گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاھب نے بھی رضاکارانہ استعفیٰ دے دیا
 لگی لگائی نوکری جانے کاافسوس تو مجھ کو بھی تھا لیکن دل کو ایک گونہ اطمینان تھا کہ اب ذرا یکسوئی سے پڑھائی ہو سکے گی اور جسم کو کچھ آرام بھی مل جائے گا۔


 اگلے ہفتہ میں کلاس میں آیا تو بڑی آپا نے محسوس کر لیا کہ میرے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، فوراً انکوائری شروع ہو گئی
" کیا بات ہے طبیعت ٹھیک ہے؟ چائے نہیں ملی؟ گھر میں پھڈا ہو گیا؟"
" بس یہیں تک ہے خیالات کی اڑان۔ طبیعت ٹھیک ہے، چائے نہیں ملی؟ گھر میں پھڈا ہو گیا؟ " میں نے جل کر کہا
"تو پھر کیا معاملہ ہے، حضرت پہیلیاں بجھوانا بند کریں" مصری نے کہا
"میری نوکری چلی گئی"
" چلو کہیں نہ کہیں مل جائے گی۔

میری بھی دو دفعہ جا چکی ہے"
 سب نے مل کر حوصلہ بڑھایا تو میں بھی کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ انسان ہی انسان کا علاج ہے۔
"آج سموسے نظر نہیں آ رہے" سردار جی نے موضوع بدلتے ہوئے مجھ سے پوچھا
"گاڑی میں ڈبہ رکھاہے، ابھی نکال کر مائکروویو میں گرم کر لیتا ہوں"
 جب سے یہ کلاس شروع ہوئی تھی، میں دوسرے تیسرے ہفتے گھر سے سموسے لے آتا تھا۔

گھر کے کیا، یہ چھوٹے پارٹی سموسے دیسی دکا نوں میں پیکنگ میں دستیاب تھے، گھر میں ان کوبس تلنا پڑتا تھا۔ ساتھ گھر کی بنی ہوئی ہرے دھنیے کی چٹنی
 یہاں کی زبان میں' ڈپ'۔
 شروع میں میرے ہم جماعتوں کو ذرا جھجھک سی تھی، ویسے بھی یہاں لوگ کھانے کے معاملے میں ذرا محتاط ہیں خاص طور سے کسی دیسی ڈش کے معاملے میں۔ پہلے یہ سموسے شام تک بمشکل ختم ہوتے تھے بلکہ اکثر واپس بھی آ جاتے تھے۔

اب صورتِ حال بالکل مختلف ہو چلی تھی۔ جتنے بھی لے آئیں ، ایک سموسہ بھی نہیں بچتا۔ بلکہہمارا ایک سب سے موٹا ہم جماعت، جب دوپہر میں آخری چائے کا وقفہ ہوتا اور کچھ سموسے پلیٹ میں بچے ہوتے تو وہ آواز لگاتا
" کوئی ہے، ورنہ سموسے پر ختم کی بولی"
پھر کسی جواب کا انتظار کئے بغیر باقی ماندہ سموسے اپنی پلیٹ میں نکال کر شروع ہوجاتا ، ختم کی بولی تک۔

ایک دفعہ جب اس نے ختم کی بولی لگائی اور لوگوں کے جواب دینے سے پہلے ہی شروع ہو گیا تو کسی نے کہا
"بھئی جب تجھے ہی کھانے ہوتے ہیں تو پوچھتا کیوں ہے؟"
"ہم سوشل ورکر ہیں اور آخر اخلاق بھی کوئی چیز ہے" موصوف نے بڑی بردباری سے فرمایا
نوکری سے فارغ ہوتے ہی میں نے ایمپلائمنٹ انشورنس کی درخواست دے دی۔ ایمپلائمنٹ انشورنس میں تنخواہ کا اوسطاً ۵۵ فیصد اگلے ۴۶ ہفتہ تک ملنے کی نوید تھی ۔

مجھے امید تھی اس عرصہ میں کوئی نہ کوئی دوسری ملازمت مل ہی جائے گی ورنہ پڑھائی تو مکمل یکسوئی سے مکمل ہو ہی جائے گی۔ میرے حساب سے یہ سودا کسی بھی زاویے سے برا نہیں تھا۔
 ہم نے کینیڈا آنے کے بعد اپنی چادر کے مطابق ہی پاؤں پھیلائے تھے اس لحاظ سے ہمارے اخراجات قابو میں تھے۔ بیگم بھی اپنی پڑھائی ختم کر نے کے بعد بطور تھراپسٹ جز وقتی کام کرر ہی تھیں۔

دونوں بڑے بچے بھی اپنی پڑھائی کا خرچہ خود ہی نکال رہے تھے
 جب ملازمت تھی تو تنخواہ کے چیک سے ایمپلائمنٹ انشورنس کی کٹوتی بہت کھلتی تھی، لیکن اب یہی انشورنس کام آرہی تھی۔ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں۔
اب میری لسٹ پر سب سے اہم کام طلباء قرضہ مرکز کوا طلاع دینی تھی کہ خیرسے اب ہم بے روزگار ہو گئے ہیں ، اس لئے برائے مہربانی ہماریبینک اکاوئنٹ سے قرضہ کی قسطیں نہ کاٹی جائیں۔

جب ہم با روزگار ہونگے، خود اطلاع دیں گے۔ جب تک کے لئے خدا حافظ۔
 بینک والوں کی بھی اطلاع دے دی کہ تا اطلاعِ ثا نی قرضے کی قسطیں بند۔ اس قصے میں سب سے اہم کردار یعنی کریڈٹ ریٹنگ والوں کو اطلاع دینی تھی۔ میں نے ان کو بذیعہ ای میل اور اس کے علاوہ فیکس سے بھی اپنی صورتِ حال سے مطلع کر دیا۔ اب وہ جانیں اور ان کا کام جانے ، ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی۔ لیکن میں احتیاطاً اپنی کریڈٹ رپورٹ پر نظر رکھونگا۔ پچھلی دفعہ کا ڈرامہ میں ابھی تک بھولا نہیں تھا۔

Chapters / Baab of Baatein Canada Ki (aik Pakistani Immigrant Ke Zabani) By Farrukh Saleem

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر37

قسط نمبر38

قسط نمبر39

قسط نمبر40

قسط نمبر41

قسط نمبر42

قسط نمبر43

قسط نمبر44

قسط نمبر45

قسط نمبر46

قسط نمبر47

قسط نمبر48

قسط نمبر49

قسط نمبر50

قسط نمبر51

قسط نمبر52

قسط نمبر53

قسط نمبر54

قسط نمبر55

قسط نمبر56

آخری قسط