Episode 7 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 7 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
کھجور کی چھدری شاخوں سے اولین تاریخوں کا چاندجھانک رہا تھا۔ ہو ادھیرے دھیرے چل رہی تھی۔ کبھی کبھی کوئی شوخ جھونکا اس کے چہرے کو چھو کر گزرتا اور فرخت و تازگی کا احساس دلا دیتا تھا۔ اس نے نانو کے ہاں جانے کی تیاری کر لی تھی دادی سے اجازت ملتے ہی۔ صبح ڈرائیور اسے نانو کے ہاں چھوڑ آتا۔ ہمیشہ کی طرح وہ نانو کے پاس جانے کے خیال سے خوش بھی ہوتی مگر اک عجیب اداسی بھی اس کو اپنی ذات کے حصار میں لے لیتی تھی۔

وہ سمجھ نہیں پاتی کہ وہ نانو کے ہاں جا کر خوش ہوتی ہے یا بے چین……نانو اس سے بے حد محبت کرتی ہیں یا بے حد نفرت؟
”اماں بتارہی ہیں، آپ اپنی نانو کے ہاں جانا چاہ رہی ہیں؟“ پپا کو دیکھ کر وہ در یچے سے ہٹ گئی تھی اور سر پر دوپٹا ڈال کر موٴدب کھڑی ہو گئی۔

(جاری ہے)

فیاض صاحب خاصے فاصلے پر کھڑے تھے۔

”جی! دادی جان نے اجازت دے دی ہے۔ ”اس کی آواز دھیمی تھی۔

”نہوں!“ انہوں نے کوٹ کی جیب سے رقم نکال کر میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
”اماں بتا رہی تھیں آپ نے شاپنگ نہیں کی ہے۔ یہ رقم ہے اس سے شاپنگ اپنے لیے اور اماں کے لیے بھی کر لینا، اگر کم ہو تو کال کر دینا۔ ”وہ اس سے خاصے فاصلے پر کھڑے تھے، لہجے میں گریز آمیز سنجیدگی تھی ، اندر داخل ہوتے ہوئے ایک اُچٹتی نگاہ کے سوا دوسری اس پر نہ ڈالی تھی۔

رقم دینے کے بعد جس خاموشی سے آئے تھے، اسی خاموشی سے واپس چالے گئے تھے۔
”مجھے رقم کی نہیں آپ کی محبت، آپ کی شفقت بھری مسکراہٹ کی ضرورت ہے پپا ! آپ نے کبھی مجھے نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھا، دنیا کی اس بھیڑ میں کبھی کم ہو گئی تو آپ مجھے ڈھونڈ بھی نہ پائیں گے۔ کیونکر میری شناخت کریں گے کہ آپ نے میرا چہرہ پہچانا ہوا نہیں ہے۔ ”پری کے چہرے پر کرب کے سائے لرزنے لگے تھے۔

اس نے میز پر رکھی رقم کی جانب نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔ اس کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم تھی۔ مما انکل کی لاعلمی میں عموماً اس کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرتی رہتی تھیں۔
بہنوں کے مقابلے میں وہ رقم کے معاملے میں خود کفیل تھی البتہ محبت واپنائیت کے احساسات سے اس کا دل خالی تھا۔ اپنوں کی چاہت کے لیے وہ فاقہ کشی کا شکار تھی۔ پیار کی تمنائی تھی۔

دل پہلے ہی بلاوجہ کی اداسیوں کا شکار تھا اور پپا کے بے گانہ رویے نے اداسیوں کی وجہ بھی فراہم کر دی تھی اور جب دل پر بوجھ بڑھ جائے تو وہ آنسو بن کر انکھوں سے بہہ نکلتا ہے۔ اس کے آنسو بھی ٹوٹی مالا کے موتیو کی طرح پھسلتے چلے گئے تھے، جن کو سمیٹنے کی اس نے ذرا بھی سعی نہ کی تھی۔ وہ روتی رہی تھی اور نامعلوم کس لمحے آنسوؤں کے درمیان ہی نیند کی چادر تا کر سوگئی تھی پھر اس کی آنکھ عجیب و غیریب آوازوں سے کھلی تھی۔

اسے لگا تھا گھر میں بھونچال سا آگیا ہے۔ دروازے دھڑ ادھڑ کھلنے و بند ہونے کی آوازیں………! وہ خوف زدہ انداز میں کمرے سے نکلی تھی۔ ابھی کوریڈور میں ہی پہنچی تھی کہ دادی کی دل خراش چیخ اُبھری تھی۔ جس نے اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر دیئے تھے۔
###
دادی کی زور دار چیخ بھاگتے دوڑتے قدموں کی آوازیں اور پھر گویا گھر میں ایک طوفان سا اٹھ گیا تھا۔

اس کے حواس دادی کی چیخ سن کر منتشر ہوئے تھے، وہ ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ باہر سے آتی آوازوں میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ حیرت و استعجاب میں ڈوبی ہوئی آوازیں سن کر تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ ہال روم کی طرف بڑھی تھی۔ اندر باہر کی تمام بتیاں جل رہی تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آدھی رات کو کون سے ایسے مہمان آگئے تھے جن کے استقبال کو پورا گھر ہی بیدار ہو چکاتھا۔

نہ صرف بیدار ہوا تھا بلکہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ بھی ازحد فرا خدلی سے کیا جا رہا تھا۔
”ارے کہیں تائی جان تو نہیں آگئیں اس لکڑبگھے کے ساتھ……؟“ اچانک ایک خیال بجلی کی طرح اس کے ذہن کو جھٹکادے گیا اور وہ اندر جاتے جاتے ہال روم کے اطراف مین ہی گیلری میں آگئی جہاں سے وہ اندر کا منظر بخوبی دیکھ سکتی تھی کیوں کہ دروازے کے اوپری حصے میں معمولی ساچھید تھا۔

اس کا جب بھی اجنبی مہمانوں کو دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اپنا خفیہ ذریعہ استعمال کرتی تھی۔ اس نے اندر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سب ہی کمرے میں موجود ہیں کاسنی ساڑھی میں دادی کے پہلو بیٹھی وہ تائی ہی تھیں جن کے خوب صورت چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
”اوہ……! اندازہ درست ثابت ہوا یہ لوگ آگئے۔ مگر ان کو تو ایک ہفتہ بعد آنا تھا……اتنی جلدی کیوں آگئے یہ لوگ؟“ وہ سوچتی ہوئی دروازے سے دور ہوئی اور دبے قدموں سے چلتی ہوئی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر لیٹ گئی۔

”یہ کمرا اب مجھ سے چھین لیا جائے گا۔ میرے ساتھ وقت ایسا ہی ظلم کرتا ہے۔ ہمیشہ مجھ سے میرے عزیز ترین چیز چھین لی جاتی ہے۔ نہ جانے کب تک میرے ساتھ یہ سب ہوتا رہے گا؟“ آنسو انکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہو گئے تھے وہ سونے کی سعی کرنے لگی۔
###
”آنے سے پہلے فون کر دیتے، ائیر پورٹ پر سب لینے آجاتے ہم۔“ اماں جان بہو کر سینے سے لگائے دعائیں دینے کے بعد طغرل کی طرف بڑھی تھیں جس نے خود آگے بڑھ کر ان کو لپٹا لیا تھا اور کئی منٹ تک ان کو بازوؤں میں بھینچے کھڑا رہا تھا۔

بڑی عقیدت ، بڑی محبت تھی اس کے انداز میں………دادی اس کی پیشانی چومی اور سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کو خاصا جھکنا پڑا تھا۔
”ماشائاللہ! خوب قد نکال لیا ہے تُو نے طغرل۔ اپنے باپ اور چچا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔“ دادی بلائیں لیتی ہوئی محبت سے بولیں۔
”مجھے تو لگ رہا ہے اماں جان اس کی پیشانی چومنے کے لیے آپ کو اسٹول استعمال کرنا پڑے گا۔

“ فیاض صاحب کی بات پر قہقہہ لگا۔
”ارے میاں! ماشاء اللہ کہو۔ آنکھ ترس گئی تھیں اس کی پیاری صورت دیکھنے کے لیے۔ ایک ایک دن گن گن کر گزار رہی تھی میں۔“ وہ اس کو نثار ہو جانے والی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی گویا ہوئیں۔
”تب ہی تو جیسے ہی مجھے اطلاع ملی کہ کسی کے دوٹکٹ کینسل ہوئے ہیں، فوری طور پر میں نے وہ سیٹس بک کروالیں اور ہم یہاں آگئے کہ ایسا موقع بار بار نہیں ملتا ہے اور آپ لوگوں کو اطلاع اس لیے نہیں دی کہ آپ کو حیران دیکھ کر جو مزا ملا وہ اس خوشی سے بڑھ کرہے“ طغرل نے بڑے لاڈسے دادی کے شانے پر چہرہ ٹکاتے ہوئے کہا تھا وہ اس کی ادا پر نہال ہو گئی تھیں۔

مدنہ بیگم سب سے مل رہی تھیں۔ عادلہ، عائزہ اور سب میں چھوٹی آبرو جو سوئی و جاگی سی کیفیت میں ان دو افراد کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ مذنہ نے اس کول مٹول سی گڑیا کو پیار کیا تھا جو ان کے پاکستان سے جانے کے بعد اس گھر میں پیدا ہوئی تھی اور پر رونق اضافہ تھی۔
”آنٹی! آپ کے سر پرائز نے ہمارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔“ عادلہ نے ان سے ملتے ہوئے شکوہ کر ڈالا تھا۔

”اوہ………سوری ڈیئر اور اصل یہ سب طغرل کی وجہ سے ہوا ہے۔“ وہ اس کا رخسار تھپتھپا کر مسکراتے ہوئے بولیں۔
”ہم نے کپڑے تیار کروائے تھے، جوتے جیولری سب خاص الخاص بنوائے تھے کہ ائیر پورٹ جائیں گے۔“ عائزہ نے بھی اظہار افسوس کیا۔
”کوئی بات نہیں ہے بیٹا! ابھی بہت مواقع آئیں گے۔ آپ کو سب کچھ استعمال کرنے کا موقع ملے گا، اب آپ جا کر بھا بھی اور طغرل کے لیے کھانے کا انتظام کرو۔

فیاض صاحب کو بچیوں کا بات کو دہرائے جانا قطعی پسند نہ آیا تو ان کے احساس دلانے پر صباحت بھی خجل سی ہو کر اٹھیں۔
”کھانے کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ ہم نے جہاز پر کھا لیا تھا۔ اس وقت صرف چائے چلے گی۔ طغرل آپ کیا لیں گے“
”ہم بھی چائے پیئں گے اگر سب پیئں گے تو……“ اس نے صباحت کی گود سب آبرو کو لیتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔

آبرو جو نئے چہرے اور نئے لوگوں کو دیکھ کر پہلے ہی شرمار ہی تھی۔ طغرل کی گود میں جا کر مزید شرمانے لگی۔ صباحت چائے بنانے چلی گئیں تو دادی نے عادلہ اور عائزہ کو مذنہ اور طغرل کے لیے کمرے درست کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
”اماں جان! پری گھر میں موجود نہیں ہے کیا……؟‘ مذنہ نے صباحت اور لڑکیو کے جانے کے بعد اس کی غیر موجودگی محسوس کی تھی۔

”رات دیر سے سوئی تھی وہ، اس وجہ سے اس کی آنکھ نہیں کھلی ہو گئی۔“ انہوں نے ان کی دل آزادی کے خیال سے بات سنبھالی تھی وگرنہ وہ جانتی تھیں کہ پری گہری نیند سونے کی عادی نہ تھی، وہ یقینا بہت پہلے بیدار ہو گئی ہو گی۔ مگر حقیقت جاننے کے بعد اس طرف آنے سے گریز کیا ہو گا۔
”کیسی ہے وہ……؟ اب تو بالکل بدل گئی ہو گئی؟ اسے دیکھے کئی سال گزر گئے۔

سب کی تصویر ہمارے پاس ہیں ماسوائے پری کے……بار ہا کہنے کے باوجود اس نے اپنی کوئی تصویر ہمیں نہیں بھیجی۔
”ارے بہو! بڑی عجیب لڑکی ہے، وہ کوئی تصویر بنواتی کب ہے۔“ دادی نے پورے خلوص سے سچائی بیان کی۔
”دادی جان! وہ موٹی بھینس ابھی تک احساس کمتری کا شکار ہے؟“ آبرو کے کان کھینچتا وہ ہنس کر استفسار کرنے لگا۔
”طغرل! پلیز……آتے ہی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔

“ مذنہ نے فوراً بیٹے کو ٹوکا۔
”مما وہ اچھی نہیں، موٹی لڑکی ہے۔ زمین کا بوجھ ہے۔“
”اماں جان! آپ دیکھ رہی ہیں یہ کیا کہہ رہے ہی پری کے بارے میں………؟“ انہوں نے کن اکھیوں سے فیاض صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ اسی لمحے صباحت چائے اور دیگر لوازمات ٹرالی پر رکھے آئیں تو باتوں کا دوسرا سلسلہ شروع ہو گیا جو صبح تک چلتا رہا۔

###
امید کی شاخوں پر
آرزوؤں کی کلیاں کھل چکی ہیں!
نہ معلوم یہ کلیاں کبھی پھول بن پائیں گی۔
یا شاید………!
خواہشوں کے مزار پر
سوکھے پتوں کی طرح بکھر جائیں گی!
سالانہ امتحانات عنقریب ہونے والے تھے اور وہ ان دونوں انوکھے امتحان میں مبتلا تھی۔ محبت کے امتحان میں، محبت اگر آگ تھی تو اسے بھڑکانے میں وردہ پوری طرح شامل تھی۔

وہ دعوے تو بے حد گہری دوستی کے اس سے کرتی تھی مگر اپنے کزن سنی کی طرف داری اس سے زیادہ کرتی تھی۔ کالج، کوچنگ اور گھر آکر بھی اس کی زبان پرسنی کی باتیں ہوتی تھیں۔ سنی کے مشاغل، اس کی پسند ، نا پسند، اس کی عادات و مزاج، اس کے معمولات سمیت سب پر وہ بے تکان بولتی اور وہ جو پہلے اس ذکر سے گھبراتی اور گریز کرتی تھی۔ اب اس کو یہ سب اچھا لگتا تھا، کئی بار ایک موضوع کو سننا اچھا لگتا تھا۔

وردہ امتحانات کی تیاری کے بہانے اس کے ہاں تقریباً روز ہی آنے لگتی تھی اور امتحان کی تیاری کی بجائے محبت کی تیاریاں کروانے میں مصروف رہتی تھی۔ اب بھی وہ رجاء کے قریب بیٹھی سلمان کی بے قرارراتوں وبے تاب دنوں کی داستان سنا رہی تھی اور وہ لبوں پر شرمیلی مسکان سجائے سن رہی تھی۔
”محبت اتنی مستحکم ہوتی ہے کہ سنی جیسا سخت جان بندہ اپنا آپ ہار جائے……اسے یقین نہیں ہوتا ہے، وہ مجھ سے پوچھتا ہے یار! تمہاری دوست جادو گر ہے جو پہلی نظر میں بندے پر جادو کر دیتی ہے اور پھر اس بندے کو اسی کے علاوہ کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا ہے۔

“ وہ انکھیں نچا نچا کر کہہ رہی تھی۔
”یااللہ! وہ ایسی باتیں تم سے کرتے ہیں۔“ وہ شرم سے دہری ہوگئی۔
”ہاں، مجھ سے کرتے ہیں مگر تمہارے لیے……میرے لیے نہیں۔“
وہ ایک دم ہی برامان کر گویا ہوئی۔ اس کی عادت تھی بات بات پر خفا ہونے کی۔
”اوہ! تم ناراض ہو گئیں………میرا مطلب یہ نہیں تھا۔“
”ہاں بھئی! میں بھول جاتی ہوں۔

تمہارا تعلق کس قدر دقیا نوسی و تنگ نظر خاندان سے ہے۔ تمہارے یہاں تو بھائیوں سے بھی بے تکلف ہونے کا رواج نہیں ہے۔ پھر بھلا کزنز سے تو اس طرح کی بے تکلفی کا تم تصور بھی نہیں کر سکتی ہو۔“ رجاء کو لگا وردہ نے اس کے ماحول کی تذلیل کر کے اس کو جوتا کھینچ مارا ہو۔
”سوری ڈئیر! میری فیملی میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے، ہم بہت روشن دماغ اور کھلے ذہن کے لوگ ہیں۔

مما پپا کے دوستوں کے ساتھ، پیا مما کی دوستوں کے ساتھ آزادانہ ملتے ہیں۔ ہمارے ہاں گیٹ ٹوگیدرپارٹیز ہوتی ہیں۔ جس میں سب شریک ہوتے ہیں۔ کسی پر اعتراض نہیں ہوتا۔“ وہ اس قدر فخر یہ انداز میں بتارہی تھی کہ رجاء کو اپنی خاندانی ناموس و خوب صورت حد بندیاں حقیقتاً فرسودہ اور بے محل لگنے لگی تھیں۔
”خود کو ابھی سے بدلو۔ تمہیں یہاں نہیں رہنا۔

اتار قدیمہ کی بھٹکی ہوئی روح کی طرح……تمہیں سنی کا جیون ساتھی بننا ہے۔ سنی کے ساتھ اعلیٰ طریقے سے اٹھنا بیٹھنا ہے۔ سنی کازیادہ وقت لندن، پیرس، نیو یارک میں گزرتا ہے۔“
”پلیز وردہ!“ شرم سے اس کا برا حال تھا۔ وردہ نے سنہرے سپنوں کا جال اس کے گرد بُن دیا تھا جہاں وہ مہکتی خواہشوں میں جکڑتی جا رہی تھی۔
”اوہ بے وقوف! اتنا بھی کوئی شرمانا ہے کیا؟“ وہ ہنس پڑی۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط