Episode 8 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 8 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”میری جان!یہ ممکن کادور ہے ، ناممکن کا نہیں۔ تم سنی سے ایک ملاقات کے لیے راضی نہیں ہو، جبکہ وہ تمہاری چاہت میں بہت آگے جا چکا ہے اور تم ابھی اس کی قوت سے بھی واقف نہیں ، وہ تمہیں یہاں سے لے جائے گا اور تمہارے گھر والے اس کا راستہ بھی نہ روک سکیں گے۔“
نہیں……نہیں…… پلیز! ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔“ وہ گھبرا کر بولی۔
”پھر مل لو اس سے ایک بار……بہت محبت کرتا ہے، بے حدا حترام کرتا ہے، ایک میلی نگاہ بھی نہ ڈالے گا تم پر، بے فکر ہو کر مل لو۔

”نہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتی۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولی۔
”واہ بھئی! یہ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا مذاق ہے، محبت کرتی ہو مگر ملوگی نہیں……اپنی محبت کی خوش بوکے اندر مہکا کر بھی اسے دیدار سے محروم رکھولی؟ اپنے حسن پر اتنا غرور بھی اچھا نہیں ہوتا ۔

(جاری ہے)

”وردہ! یہاں میں بے اختیار ہوں۔ سمجھنے کی کوشش کرو۔

“ اس کی خوب صورت انکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے۔
”ٹھیک ہے! میں تمہاری“ مجبوریاں”بتادوں گی سنی کو پھر وہ خود دہی کوئی راستہ ڈھونڈ نکالے گا۔ تم بے فکر رہو، کسی کو معلوم بھی نہیں ہو گا۔“
###
بہت عرصہ بعد وہ سب اکٹھے بیٹھے، بے شمارباتو کے ذخیرے تھے ان کے پاس جو ختم بھی نہ ہونے تھے مگر رات تمام ہو گئی تھی۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ان لوگوں نے نشست برخاست کی، فیاض صاحب، طغرل کو لے کر مسجد کی جانب روانہ ہو گئے۔

مذنہ باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی عادی نہ رہی تھی مگر وہ اس گھر کے اصول جاتنی تھی کہ اماں جان کی موجودگی میں کوئی نماز قضا کرنے کا سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ مذہبی معاملے میں وہ کسی سے بھی رعایت برتنے کی قائل نہ تھیں۔
”اوہ………ہو……اٹھ گئیں تم؟“ وہ نماز پڑھ کر جائے نماز تہہ کر رہی تھیں جب عادلہ اسے دیکھ کر طنز یہ انداز میں چہکی تھی۔

”آنٹی اور طغرل بھائی آگئے ہیں……کس قدردروازہ بجایا تمہارا مگر تم نہیں انھیں۔ میں نے تو سوچ لیا تھا اب تمہیں اللہ ہی اٹھائے گا۔“
”جس کا منہ اچھا نہ ہو، اس سے اچھی بات کی توقع کرنا بے وقوفی ہے۔“ وہ کہاں اس کو چھوڑنے والی تھی، فوراً ہی مسکرا کر جواب دیا تھا۔
”اچھا……! تم خود تو حسینہ عالم ہو؟“ عادلہ میں قوت برداشت صفر تھی۔

”ہوں……بے شک میں مس یونیورس سے بھی بڑھ کر ہوں۔“
’ہونہہ، یہ منہ اور مسور کی دال!“
”صبح صبح میرے کمرے میں آنے کا مقصد کیا ہے تمہارا؟“
”تمہارا کمرا……ہاہاہا……“ وہ ہنسنے لگی، پری ضبط سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ ”دادی جان نے کہا ہے کہ یہ کمرا خالی کردو۔ طغرل بھائی نماز پڑھ کر آرہے ہوں گے۔ وہ ساری رات کے جاگے ہوئے ہیں، آرام کریں گے۔

غور سے دیکھ لو اپنے ”مزار“ کو بس اب یہ گیا تمہارے ہاتھ سے……چوم لو یہاں کی ایک ایک چیز کو، نگاہوں میں بسالو، پھر تمہیں یہ کمرا نہیں ملنے والا۔“ عادلہ جو کافی عرصے سے اس کا کمرا حاصل کرنا چاہ رہی تھی، بہت خوش تھی۔
”زیادہ بکواس کرنے کرنے کی ضرورت نہیں ہے، انشاء اللہ بہت جلد میں اپنے کمرے میں ہوں گی۔“ پری پُر یقین لہجے میں گویا ہوئی۔

”واقعی! طغرل بھائی کے ساتھ……؟“ اس کے انداز میں گھٹیاپن تھا۔ وہ صدمے سے اسے دیکھتی رہ گئی جبکہ وہ سرجھٹک کر وہاں سے چلی گئی۔ فیاض صاحب بھاوج اور بھتیجے کے خیال سے دوپہر کو ہی آفس سے آگئے تھے۔ کھانا بے حد مزے دار بنا ہوا تھا اور پھر سب نے طویل عرصہ بعد ساتھ کھا یا تھا، اس وجہ سے بھی کھانے کا مزہ دوبالا ہو گیا تھا۔ حسب عادت سب لنچ کے بعد کچھ دیر آرام کرنے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔

###
طغرل اس کے کمرے پر قابض ہو چکا تھا، وہ اپنا ضروری سامان پہلے ہی دادی جان کے کمرے میں منتقل کر چکی تھی پھر خود بھی ان کے کمرے میں آگئی۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ عادلہ نے وہ ناز یبابات کہہ کر اس کا موڈ خراب کر دیا تھا اور اس کو شرمندگی بھی نہ تھی۔ پھر ذہن اتنا منتشر ہو گیا کہ وہ جو پہلے ہی فیصلہ کر چکی تھی کہ طغرل کا سامنانہیں کرے گی (پیشانی کی چوٹ کے نشان کے باعث) لیکن مذنہ آنٹی کا بھی وہ سامنانہ کر سکی۔

کھانے سے فارغ ہو کر آنٹی کچن میں چلی آئیں اور اس کے سلام کے جواب میں بڑی محبت سے اسے لپٹاتے ہوئے کہا۔
”آپ بہت اسمارٹ اور خوب صورت ہو گئی ہیں۔ پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔ اگر عائزہ نہ بتاتی تو میں آپ کو پہچان بھی نہیں پاتی۔ جب ہم یہاں گئے تھے تو آپ کو خاصا صحت مند چھوڑ کر گئے تھے۔“ ان کے انداز میں خوش گوار حیرت تھی۔ وہ چپ مسکراتی رہی تھی۔

”رات سے آپ سے ملاقات نہیں ہوئی……کوئی ناراضی ہے کیا؟“
”نہیں بھلا ناراضی کیوں ہوگی؟ میں آپ کے پاس یہاں فارغ ہو کر آرہی تھی۔“ مذنہ خوش اخلاق نرم مزاج کی مالک تھیں۔ دور رہ کر ان کی پر خلوص طبیعت میں اور زیادہ ہی حلاوت واپنائیت سرایت کر گئی تھی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگیں جو یہاں کسی کو پسند نہ تھیں۔ ان لوگوں کی خیریت معلوم کرنے لگیں جن کا یہاں نام لینا بھی کسی کبیرہ گناہ کے مترادف تھا۔

###
” میں پوچھتی ہوں اس طرح منہ پُھلا کر کب تک بیٹھی رہے گی؟ بچے کو کمرا کیا دیا ہے کہ افسوس ہی صبح سے ختم نہیں ہورہا ہے۔ غضب خدا کا ایسی بددماغ اور اکڑ والی ہے کہ سالوں بعد آنے والی تائی اور بھائی سے ملنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ مذنہ خود گئی بالآ خر اس سے ملنے۔ ”دادی جو اس کی بدمزاجی کے خلاف بھر ی بیٹھی تھیں موقع ملتے ہی غبارے کی مانند پھٹ پڑی تھیں۔

وہ خاموش رہی کہ غلطی اس کی تھی۔“ کیا سوچتی ہو گی مذنہ کیسی تربیت کی ہے تمہاری میں نے؟ ذرا تمیز واخلاق نہیں سکھائے ؟“ نامعلوم دادی کو اپنی تربیت پر حرف آنے کا خوف تھایا اس کا تاثر خراب ہونے کا۔
”مگر کیا کرے کوئی……ماں کے دودھ کی تاثیر سے بچے بچ نہیں سکتے۔ اس عورت کی ہٹ دھرمی وخودسری کہیں نہ کہیں دکھائی دے جاتی ہے تم میں۔“
یہ لہجہ، یہ بے مہر سفاک انداز کسی خنجر کی طرح اس کے دل میں پیوست ہو جاتاتھا۔

اس لمحے دادی کا انداز بے گانگی وبے مروتی لیے ہوتا تھا گویا وہ اس سے نہیں، کسی غیر سے مخاطب ہوں اور وہ اس دکھ سے منجمد ہونے لگتی تھی۔ اس وقت بھی یہی ہواتھا۔ اپنے اور دادی کے درمیان اسے ایک اجنبیت و بے گانگی کی دیوار حائل دکھائی دی تھی۔ اس کے اندر سناٹے اترنے لگے تھے۔
”دونوں اپنی پھوپیوں کو تو فون کردو ورنہ وہ گلہ کریں گی کہ ان کو اطلاع ہی نہ کی کسی نے بھابی اور بھتیجے کے آنے کی۔

دیگر رشتہ داروں کو تو اس وقت اطلاع دی جائے گی جب ان ماں بیٹے کی تھکن اتر جائے گی۔“ دادی اسی طرح ہشاش بشاش تھیں۔ ان کو احساس بھی نہ تھا کہ کچھ لمحے قبل ہی ان کی زبان کی دھاراس کے احساسات کو بری طرح گھائل کر چکی ہے۔
”دادی جان! ایک بات پوچھوں؟“ اس کی آواز بے جان تھی۔
”ہاں……ہاں کہو……کیا بات ہے؟“ انہوں نے تسبیح پڑھتے ہوئے کہا۔

”میری……مما……بہت خراب تھیں؟“ یکلخت تسبیح کے دانے ان کی انگلی وانگوٹھے کے درمیان ساکت ہو گئے۔ چہرے پر تناؤ سادرآبا۔
”بتائیں نادادی جان! وہ اتنی خراب تھیں کہ کبھی ان کو اچھے نام سے پکار ا نہیں جا سکتا ہے؟“ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
”پری! ماضی کی اس کتاب کے باب کو کھلونے کی سعی مت کرو۔ اسی میں ہی بھلائی ہے۔“
”ماضی کبھی دفن نہیں ہوتا۔

یہ بھولے بھٹکے لوگوں کی طرح یا دوں کے دروازوں پر دستک دیتا رہتا ہے۔ پکارتا رہتا ہے۔ “دادی کے چہرے پر ناگواری ودرشتگی سرخی بن کر پھیلنے لگی تھی لیکن پری کے چہرے پر حزن بھری اداسی اور آنکھوں میں چمکتی نمی نے ان کی ممتا کو بے دار کر دیا تھا۔
”فالتو باتیں مت کرو۔ تمہیں آج شاپنگ پر جانا تھا۔ اب تو ڈرائیور چلا گیا ہے۔ا یسا کرنا کل صبح ہی چلی جانا۔

ابھی عزیز ورشتے داروں کو خبر نہیں کر رہی ہوں۔ دو تین دنوں بعد کروں گی۔ تب تک تم اپنا کام کرلو۔ کپڑے وغیرہ لے آؤ۔ اپنے لیے، فیاض سے کہا تھا میں نے شاپنگ کے لیے رقم دے دے۔ اس نے دی یا نہیں؟“
وہ فوراً بہت مہربان ہو گئی تھیں۔ پری نے اثبات میں گردن ہلا دی تھی۔
”شام میں چائے کے ساتھ کباب اور پھلوں کی چاٹ ضرور بنانا۔“
###
موقع ملتے ہیں حاجرہ، رضیہ کے ہاں پہنچ گئی تھیں۔

رضیہ جو بیٹھی سبزی بنا رہی تھیں۔ عادت کے مظابق انہیں دیکھ کر خوشدلی سے مسکراتی تھیں۔
”آؤ……حاجرہ بہن! یہاں بیٹھو۔“ انہوں نے فلورکشن بڑھایا۔
ایمان داری کی بات ہے، تمہارے پاس آنے کے بعد طبیعت بہت خوش ہو جاتی ہے۔ آنے والے کو ”آؤ“ کہہ دوتو بڑی خوشی ملتی ہے۔“ رضیہ کی پر خلوص پزیرانی انہیں خوشی سے سرشار کر دیتی تھی۔
”آؤ کا مطلب ہوتا ہے خوش آمدید…… پھر بھلا ہم کس طرح کسی کی آمد پر خوشی کا اظہارنہ کریں جب آنے والا خوشیاں لا رہا ہو؟“ رضیہ نے مزاج کے مطابق سادہ سی بات کہی تھی مگر نا خواندہ حاجرہ اپنی سوچ سے یہ سمجھ کر کہ وہ نئی پڑوسن کے لچھن پر بات کرنے آئی ہیں۔

خوشیوں کے ذکر پر شرمندہ سی ہو گئی تھیں۔
”بھنڈیاں بنا رہی ہو آج؟“
”ہاں، تمہارے بھائی کو بے حد پسند ہیں ۔ بھنڈی گوشت بنا رہی ہوں۔“ انہوں نے بڑی نفاست سے بھنڈیاں صاف کی تھیں۔
”میرے ہاں تو روز یہ مسئلہ رہتا ہے کہ آج کیا پکایا جائے۔ سبزیاں اور دالوں سے یہ لوگ رغبت ہی نہیں رکھتے ہیں۔ نہ بیٹوں کو پسند نہ باپ کو اور تو اور بیٹیاں بھی ناک بھوں بناتی ہیں دال سبزی کے نام پر……سب کو گوشت چاہیے۔

وہ بھی کسی دال و سبزی کے بغیر بھنا ہوا۔“
”آج کل زیادہ تر گھروں میں یہی مسئلہ رہتا ہے۔ صبح اسی سوال سے شروع ہوتی ہے کہ آج کیا پکایا جائے جو خوش ہو کر کھالیں۔“ انہوں نے بھنڈیاں رجاء کو تھماتے ہوئے کہا جو حاجرہ کو سلام کرنے آئی تھی۔
”امی! آپ خالہ کے پاس بیٹھ جائیں، روٹیاں میں بنالوں گی۔“ رجاء نے ان سے بھنڈیوں کی ٹوکری لیتے ہوئے کہا۔

”تم تیاری کرو امتحانوں کی……روٹیاں میں خود بنالوں گی……پھر کام ہوتا ہی کتنا ہے۔ میں خود کرلوں گی۔ تم بس خوب اچھی تیاری کرو۔“ رضیہ بیٹی کی طرف دیکھ کر دلار سے بولیں۔ حاجرہ نے رجاء کو دیکھ کر کہا۔
”کیا بات ہے رجاء بیٹی! بہت کمزور لگ رہی ہو۔ طبیعت تو ٹھیک ہے؟“
”جی خالہ! میں بالکل ٹھیک ہوں۔“ وہ ان کی کھوجتی نگاہوں سے خائف ہو کر وہاں سے کچن میں چلی آئی، ڈش کا ؤنٹر پر رکھ کر بڑی تیزی سے دھڑکتے دل پر اس نے ہاتھ رکھا تھا۔

عجیب ذہن ہو گیا تھا، اس کو ہر ایک سے خوف آنے لگا تھا کہ کوئی اس کے دل کا بھیدنہ پالے۔ کسی کو اس کے مہکتے جذبوں کی خبر نہ ہو جائے۔ راتوں کی نیند، دن کاقرار، بھوک پیاس سب اس سے روٹھ گئے تھے۔ اس کی ماں سادہ وعام فہم عورت تھی۔ وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ امتحانات کی تیاری کے باعث کمزور ہو رہ تھی۔ جبکہ وہ محبت کی آگ میں کسی شمع کی مانند آہستہ آہستہ پگھلنے لگی تھی مگر کہاں کے امتحان……کیسی تیاری……وہ سب بھلائے بیٹھی تھی۔

ماں اس کی بہت سادہ و گھریلو عورت تھیں جن کا وقت نماز واذکار کے علاوہ گھر کے دیگر کاموں میں گزرتا تھا یا پھر حاجرہ اور دوسری پڑوسنیں ان کے پاس آکر اپنا دکھ درد بیان کرتیں تو وہ خلوص وہمدردی سے سنتیں اور کبھی دلاسوں سے، کبھی استطاعت کے مطابق ان مسائل کو حل کرنے کی سعی کرتی تھیں۔ خالہ حاجرہ نے جس کھوجتے انداز میں اس کی کمزوری کا اظہار کیا تھا اس سے وہ کچھ سہم سی گئی تھی۔

وہ جانتی تھی کہ سیدھی سادی ماں تو اس پر اندھا اعتماد کرتی ہے۔ وہ اور وردہ گھنٹوں کمرے میں سنی کی باتیں کرتی تھیں اور یہ ان کا اعتماد ہی تھا کہ انہوں نے کبھی ان کی نگرانی نہیں کی تھی اور مہمان نوازی کے لیے وہ جب لوازمات لے کر آتی تھیں تو اس خیال سے کہ ان کی پڑھائی کا حرج نہ ہو، وہ ان کے پاس بیٹھتی بھی نہ تھیں۔ شروع شروع میں وہ ضمیر کی خلش سے بے چین ہو جاتی تھی یہ سوچ کر کہ وہ سادہ لوح ماں کو کس طرح دھوکا دے رہی ہے، ان کے اعتماد و اعتبار کا خون کر رہی ہے۔

لیکن……یہ احساس مختصر مدت کے لیے اس کے اندر پیدا ہو کر سو گیا تھا۔
جب برائیوں میں کشش محسوس ہونے لگتی ہے تو اچھائیاں ذہن سے محور ہو جاتی ہیں۔ پھر نہ اپنا احساس رہتا ہے نہ دوسرے کا خیال۔ یہی اس کے ساتھ ہوا تھا۔ وردہ کی باتوں میں اسے اب سکون ملنے لگا تھا۔ وردہ کے جانے کے بعد بھی وہ سنی کے خیالوں میں کھونے لگی تھی، سنی سے محبت کیا ہوئی۔

اسے تنہائیاں اچھی لگنے لگی تھیں۔ حاجرہ خالہ کائیاں وچالاک عورت تھیں ان کا کام یا مشغلہ یہی تھا کہ وہ محلے کے ہر گھر پر نگاہ رکھی تھیں۔ لڑکا لڑکی، میاں بیوی، ساس بہو، نند دیور ہر ایک کے معاملات پر ان کی نگاہ ہوتی تھی اور سب کے تعلقات کی ان کو خبر ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ان سے گھبرا گئی تھی اور کچھ دنوں سے وہ دیکھ رہی تھی کہ وہ نئی پڑوسن عموماً اس کے کمرے سے نظر آتی کھڑکی سے کھڑی اسے دیکھ رہی ہوتی اور اس کی نگاہیں بڑی بے باک ہوتی تھیں۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط