Episode 12 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 12 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
پل بھر کو فقط لمحہ بھر میں اس کی نگاہیں اس سے ٹکرائی تھیں۔ استعجاب……حیرت اور بے یقینی سے اس کی آنکھیں اپنے حلقوں سے باہر تھیں۔ وہ ہونق بنا کھڑا تھا جب کہ پری نے اگلے لمحے میں ہی رخ پھیر لیا تھا۔اپنی دانست میں اس نے اس سے پوشیدہ رہنے کی بہترین سعی کی تھی مگر بھول گئی تھی اس بندے کی فطرت اگر اس نے ٹھان لی پردہ گرانے کی تو پردہ گرا کر ہی رہے گا۔

وہ اب چلالا کی سے اس کا سامنا کر چکا تھا لیکن اس پر نظر پڑتے ہی وہ جس حیرت واستعجاب کا شکار ہوا تھا اس کے لیے بھی غصے کے ساتھ ساتھ حیرانگی کا باعث تھی۔
”آپ……تم……؟آپ
!پری ہیں؟“ اس کی آواز میں ہچکچاہٹ واضطراب تھا۔ وہ ایک عرصہ بعد اسے دیکھ رہا تھا تب میں اور اب میں اتنا فرق ہو گا، اسے یقین نہ تھا۔ اس کو پری کی صورت اچھی طرح یاد بھی بلکہ پرانی البم میں بھی اس کی بے شمار تصویریں تھیں جن میں اس کی صحت مندی کے آثار اس کے چہرے پر بھی نمایاں تھے۔

(جاری ہے)

بوائے کٹ بال جینز شرٹ وہ پہننے کی عادی تھی۔ دادی کی ڈانٹ پھٹکار پر کبھی کبھار فراک زیب تن کر لیا کرتی تھی۔ اب جو اس کے سامنے تھی وہ اسمارٹ لڑکی تھی۔ ہلکے گلابی اور سفید سوٹ پر ان ہی رنگوں کی ہلکی کڑھائی تھی، گلابی سفید دوپٹا اس نے بڑے سلیقے سے اوڑھا ہوا تھا اور موٹی سیاہ بالوں کی چوٹی پشت پر لہرا رہی تھی۔ وہ بالکل بدل گئی تھی۔
کوئی کیا اتنا بھی بدل سکتا ہے؟
وہ پری ہی ہے یا……کوئی اور …… اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ اس سے کس طرح مخاطب ہو؟ وہ اس کی طرف سے رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی تھی اس کے استفسار کا جواب اس نے ہیں دیا تھا اس کے انداز سے برہمی و غصہ ہویدا تھا۔

وہ ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اس سے کس طرح دریافت کرے معادور سے آتی دادی کی آواز پر وہ پلٹی تھی، کاؤنٹر پر رکھا قہوہ کا مگ اٹھا کر اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی وہ چکن سے نکل گئی تھی۔ اب کسی شک و شہبے کی گنجائش باقی نہ رہی تھی لیکن وہ خاصی دیر تک اسی حالت میں وہاں کھڑارہا تھا، یہ درست تھا کہ ہزار کوششوں کے باوجود پری کی کوئی تصویر ان تک نہ پہنچ سکی تھی لیکن وہ جب بھی کسی بے حد موٹی لڑکی کو دیکھتا تو اس کے تصور میں ازخود ہی پری کی شبیہہ ابھر اتی۔

یہاں تک کہ اسے ہر موٹی لڑکی کے چہرے پر پری کا گمان ہونے لگا تھا اور وہ دل ہی دل میں ہنس پڑتا تھا۔ آج اس کی ہنسی سکتہ زدہ تھی۔ پری اس کی سوچوں و خیالوں سے یکسر متضاد تھی۔
”ہوں……محترمہ حور تو اسمارٹ ہو گئی ہیں مگر عقل تو ویسے ہی موٹی وبھس بھری لگتی ہے۔ بددماغی و بدتمیزی میں مزید اضافہ ہوا ہے جو کسی کے سوال کا جواب دیا بھی گوار ا نہیں۔

“ اس کو فوراً ہی خیال آیا کہ اس کے پوچھنے کے باوجود اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ پری ہے اور اس کوبری طرح نظر انداز کر کے یہاں سے گئی تھی۔ یہ پری کے ہتک آمیز رویے کا اثر تھا کہ اس کے بدلتے خوش گوار احسات پر وہ ہی پرانا کر یہہ و بدرنگ خیالوں کا عکس چھانے لگا تھا۔
”ارے……آپ یہاں کچن میں؟“ عادلہ اسے ڈھونڈتی اس طرف چلی آئی۔”کوئی کام تھا…… کچھ چاہیے تو مجھے بتائیں؟“ خوش دلی سے گویا ہوئی۔

###
”رجاء ! اتنی بد حواس کیوں ہو رہی ہو؟“ اس کو تیزی سے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر رضیہ اچنبھے سے بولیں۔
”وہ……وہ امی! کال آرہی ہے…‘
”مگر فون تو لاؤنج میں ہے تم اپنے کمرے میں کیوں بھاگی جا رہی تھیں؟“
”وہ……!“ وہ بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالے وہیں بیٹھتی چلی گئی۔ موبائل دو پیپ کے بعد بند ہو چکا تھا مگر اس کے دل میں ہوتی بے ترتیب دھڑکنوں اتھل پتھل کم نہ ہوئی تھی۔

جب وہ سیل فون اس کے پاس آیا تھا تب سے وہ ایک اذیت بھرے خوف میں مبتلا ہو گئی تھی ہر وقت ا سکی سماعتوں میں بیلز گونجتی تھیں حالانکہ وردہ کے بار ہا کہنے کے باوجود سیل استعمال نہیں کیا تھا۔ کہیں امی و ابو کو نہ معلوم ہو جائے یہ خوف اس پر طاری رہتا تھا۔ ابھی بھی اسی خوف نے اس کو بد حواس کر ڈالا تھا۔
”کوئی پریشانی ہے؟ کیا بات ہے بہت دنوں سے دیکھ رہی ہوں، کھوئی کھوئی رہنے لگی ہو۔

تنہائی پسند ہو گئی ہو اپنا دکھ مجھے بتاؤ ماں سے بڑھ کر کوئی ہمدرد نہیں ہوتا ہے۔“
رضیہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر محبت سے گویا ہوئی تھیں۔
”نہیں امی! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ میں پریشان نہیں ہوں۔”اپنی بات اپنی آواز اسے خود کھوکھلی لگی۔ لمحہ بھر ماں سے جھوٹ بولنے پر احساس گناہ سے مذامت بھی ہوئی۔ مگر سنی کی محبت سب پر غالب آگئی اور وہ ماں سے کوئی بات نہ چھپانے والی اتنی اہم بات یوں چھپا گئی کہ وہ نہ وردہ سے ملنے دیتیں اور نہ ہی کالج جانے کی اس کو اجازت ملتی اور ایسی کوئی بھنک ملتے ہی وہ فوراً اس کو شادی کر کے رخصتی کے بعد نوافل شکرانہ ادا کرنے میں اپنی کامیابی سمجھتیں۔

”امتحان ہو رہے ہیں اس وجہ سے میں مصروف رہتی ہوں۔“
”اس سے قبل بھی تو ڈھیروں امتحان ہوئے ہیں تمہاری پہلے کبھی ایسی حالت نہیں ہوئی ہے۔ اس امتحان نے تو تمہارا خون ہی خشک کر کے رکھ دیا ہے۔“ رضیہ بیٹی کی اُتری صورت دیکھ کر فکر مندی سے گویا ہوئیں۔ رجاء ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ جو انہیں بے حد عزیز تھی۔
”امتحان……! ہاں یہ امتحان ہی تو ہے محبت کا امتحان!“
”وردہ بھی تو تمہارے ساتھ ہی ہوتی ہے اس کے بھی تو امتحان ہیں وہ تو بہت خوش و خرم رہتی ہے تم خوامخوہ امتحان کو خوف بنا بیٹھی ہو پڑھائی میں پہلی کلاس سے بہت ذہین رہی ہو ہمیشہ اول آتی رہی ہو ان شاء اللہ اس بار بھی کامیاب ہو گی اتنا مت سوچو اللہ کے بعد اپنی محنت پر یقین رکھو۔

“ رضیہ نے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
###
گرم لُو کے تھپیڑے گرمی سے بے حال کیے ہوئے تھے۔ متزاداس پر طویل لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسر پوری کر دی تھی۔ جنریٹرجل جانے کے باعث نا کارہ پڑا تھا۔ سو اس وقتی سہولت سے بھی محروم ہونا پڑا تھا۔ بجلی غائب ہوئے کئی گھنٹے ہو چکے تھے وہ دستی پنکھے سے ہوا جھلتی دادی کی پریشان صورت دیکھ کر کڑھ رہی تھی اور بڑی مشکل سے اپنی بے چین ہوتی زبان کو قابو کیے بیٹھی تھی۔

اگر ایک لفظ بھی زبان سے پھسل گیا تو خیر نہیں ہو گی یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی۔
”میرا بچہ اس جگہ سے آیا ہے جہاں یہ سب عذاب نہیں ہیں۔ وہ ٹھنڈے علاقے کا رہنے والا کہاں اس گرمی کو برداشت کر پائے گا؟“ دادی نے ان چند گھنٹوں میں نامعلوم کتنی بار اپنی یہ ”تشویش‘ دہرائی تھی اس گرمی ولُو کی ان کو اتنی فکرنہ تھی فکر تھی تو صرف یہ کہ ان کے لاڈلے پوتے کا اس گرمی میں کیا حال ہو گا۔

“ ارے کیسے بے حس لوگ ہو گئے ہیں ہمارے گھنٹوں گھنٹوں بجلی بند کر کے بیٹھنے والوں کو یہ خیال نہیں کہ کسی کے کوئی مہمان بھی آئے ہوں گے۔“
”جی……! وہ بھی ٹھنڈے علاقے سے……“ پری نے ٹکڑا لگایا۔
”خیر مہمانوں پر ہی کیا موقوف! ان لوگوں کو کسی بیمار کی بھی پروا نہیں ہے نہ اپنی عزت کی پروا ہے نہ ملک کے وقار کا احساس ہے۔“ وہ کچھ زیادہ ہی گہری سوچوں میں ڈوبی کہہ رہی تھیں جو پری کی ایسی بات پر بھی اس کیفیت سے باہر ہ نکل سکی تھیں۔

‘” اس موئے جلنیٹر (جنریٹر) کو بھی ابھی ہی جلنا تھا۔ تمہارا باپ آفس سے آئے تو کہتی ہوں چاہے چوری کرے یا ڈاکے ڈالے، پہلے جلنیٹر کو درست کروائے۔
”دادی جان! ایسا تو نہ کہیں پایا یہ سب کیے بنا بھی جنریٹر ٹھیک کروادیں گے۔“ پری کو ان کایوں باپ کے لیے یہ کہنا پسند نہ آیا تو وہ کہہ اٹھی۔
”ہونہہ! پانی کی طرح روپیہ بہانے والے ہیں جہاں سو سے کام بن جائے وہاں مارے شو بازی کے ہزار اٹھائے جاتے ہیں۔

پوچھنے والا کون ہے؟ بیٹے سے کہو تو وہ کہتا ہے۔ اماں! یہ آپ کی پسند تھی میرا کوئی قصور نہیں ہے۔“ صباحت رات کو ہی شہر کے مہنگے بوتیک سے اپنے اور بچیوں کے ملبوسات لائی تھیں۔ ان میں سے ایک بیش قیمت لباس بمعہ جیولری کے زیب تن کیے گھر میں تھیں اور اماں کوان کی اس فضول خرچی سے ہی سخت چڑ تھی۔
”دادی جان! میرے اکاؤنٹ میں جو اتنی رقم موجود ہے وہ کس دن کام آئے گی؟ پاپا بے حد پریشان ہیں اور وہ کسی پر ظاہر نہیں کرتے ہیں۔

مگر میں جانتی ہوں بے شک پاپا کے لیے میرا ہونا نہ ہونا ایک ہی ہے مگر میرے لیے ان کا ہونا زندگی کے معنی رکھتا ہے۔ میں ان کو پریشان نہیں دیکھ سکتی ہوں۔ میرے اکاؤنٹ سے رقم……“
”نہیں……! اس رقم پر ہمارا حق نہیں ہے۔ وہ تمہاری رقم ہے۔“ اس کی بات قطع کرکے وہ آہستگی سے گویا ہوئی تھیں۔
”جب میں خود کہہ رہی ہوں تو کیوں گریز کرری ہیں آپ؟“
”تمہارا باپ یہ کبھی گوارا نہیں کرے گا کہ تمہاری ماں کا پیسہ اس گھر میں لگایا جائے۔

”کیوں دادی جان! آخر ایسا کیوں ہے؟ میری مما اس گھر کے لیے یہاں کے لوگوں کے لیے ناقابل برداشت کیوں ہیں؟ کیوں ان کا نام لینا یہاں پسند نہیں کیا جاتا؟ اتنی نفرت کہ ان کا ذکر بھی ممنوع ہے یہاں……اور تو اور ان کی دی ہوئی رقم بھی خرچ کرنے سے کرائیت محسوس کی جارہی ہے۔“ بولتے بولتے شدت جذبات سے اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
”احمق لڑکی! ہر بات کا بتنگر بنا کر بیٹھ جاتی ہے۔

عقل کے گھوڑے کبھی دوڑا تے ہیں تو بات سمجھا آجاتی ہے مگر تو خود تو ہمیشہ ضد کے گدھے پر سوار رہتی ہے کس طرح سمجھے گی دانش مندی کی بات کو……؟“ دادی نے حسب عادت جھڑ کا۔
”پاپا اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں مما سے……؟ کیا ان کا ان سے کوئی رشتہ نہیں ہے؟“ وہ ان کے برہم انداز دیکھ کر آہستگی سے گویا ہوئی تھی۔
”اس عورت سے فیاض کا اب کوئی رشتہ نہیں رہا ہے وہ……اس کو طلاق دے چکا ہے وہ اب صرف تمہاری ماں ہے۔

ہم سے یا اس گھر سے اس کا کوئی تعلق باقی نہیں بچا ہے۔ ویسے بھی وہ بہت پہلے دوسرا گھر بسا چکی ہے۔“ دادی کی گفتگو سے اس کو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوئی تھی یہ ساری باتیں تو وہ بچپن سے سنتی آرہی تھی وہ جانتی تھی جب وہ تین سال کی تھی تو مما اور پاپا میں علیحدگی ہو گئی تھی لیکن کیوں……؟ یہ بات کوئی نہیں بتاتا تھا۔ اس کو فراموش کرکے وہ دونوں جداجدا راستوں کے مسافر کیوں بن بیٹھے تھے۔

پاپا نے صباحت کو اماں کے کہنے پر دوسرا ہم سفر چن لیا تھا تو اس کی مما نے بھی اپنے کزن کو جیون ساتھی بنا لیا تھا۔ نامعلوم وہ دونوں نئی دنیائیں آباد کر کے خوش تھے یا ایک دوسرے کو شکست دینے کی ضد میں خود ہی شکست خوردہ ہو کر رہ گئے تھے اور والدین کی جنگ میں تباہی بے قصور پری کی ہو رہی تھی۔
بس ایک بار کہہ دو نا!
اے میرے دوست!
چپ کیوں ہو؟
کچھ تو کہو!
اداسیوں کی ردا میں لپٹا ہواچاند
جگمگاتے ستارے اور رات کا پھیلا آنچل
تم سے ایک سوال کرتے ہیں
تم اتنے اداس کیوں ہو؟
جان جاناں!
اب تو انا کے خول سے باہر نکل آؤ
بس اک بار کہہ ردونا
تمہیں مجھ سے ”محبت“ ہے

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط