Episode 30 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 30 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
فیاض احب فائلوں میں گم تھے، سنہری فریم کی عینک ان کی پروقارشخصیت پر جچ رہی تھی۔ کافی لاتی ہوئی صباحت ان کو دیکھے گئیں، وہ اس وقت ان کی نگاہوں کے حصار میں تھے۔ وہ اندر داخل ہوتی ہوئی ان کو دیکھ رہی تھیں۔
پر وقار 
جاذب نگاہ
بروباروسنجیدہ
وہ خوب صورت چہرہ ہی نہیں، دل بھی گداز رکھتے تھے۔ لمحے بھر کو ان کو فخر ہوا کہ وہ ایسے شخص کی بیوی ہیں جس کی چاہ ہر عورت کرسکتی ہے۔

”تم اس سے محبت کرتی ہو… اس کو دل و جان سے چاہتی ہو… تمہاری صبح و شام اس کے لیے ہی ہوتی ہے … مگر یہ تم سے محبت کب کرتا ہے؟ اس شخص کے دل پر آج بھی اس عورت کی حکمرانی ہے… تم کہاں ہو؟“ ان کے احساس کمتری نے کسی بچھو کی طرح ڈنگ مارا تھا اور ان کی ساری خوشیاں بھاپ بن کر اڑ گئی تھیں۔

(جاری ہے)

زخمی نظروں سے ان کی جانب دیکھا تھا جو ان کی موجودگی سے بے خبر فائل پر جھکے ہوئے تھے۔

 
”فیاض …!“انہوں نے کپ ان کے قریب ٹیبل پر رکھا تو ان کے پکارنے پر انہوں نے نگاہ اٹھا کر ان کی جانب دیکھا اور گویا ہوئے۔
”کافی لے کر آئی ہو اور مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔“ ان کا یہ سیدھا سا انداز صباحت کے احساسات پر وار کرگیا۔ وہ تڑپ کر گویا ہوئی تھیں۔
”آپ تو مجھ سے اول روز سے ہی بے خبر ہیں، میری موجودگی غیر موجودگی آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔

کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کو…“
”کیا ہوا ہے… بہت جذباتی ہورہی ہو؟“ وہ متوجہ ہوئے۔
”کچھ نہیں!“ وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ان کے قریب ہی بیٹھ گئیں۔”ایک بات کرنی ہے ضروری آپ سے…“
”کرو… کیا بات ہے؟“ وہ ہنوز فائل میں گم تھے۔
”پہلے آپ اپنا کام کریں پھر بات ہوگی۔“
”اچھا یار! لو، میں نے فائل بند کردی اب کہو کیا بات ہے؟“ انہوں نے فائل بند کرکے کپ اٹھالیا اور ہمہ تن گوش ہوگئے۔

”بھابی جان کہہ رہی ہیں دراصل وہ عائزہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں۔ فاخر اکلوتا بیٹا ہے ان کا پڑھا لکھا ‘ ذہین، خوش اخلاق، اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہے۔ بھابی کی خواہش تو بہت پہلے آنے کی تھی لیکن وہ فاخر کی جانب سے دل میں حسرت لیے بیٹھی تھیں اور فاخر کی جانب لگتے ہی پہلی کال انہوں نے مجھے کرکے اپنی خواہش ظاہر کی ہے۔“
”عائزہ سے بڑی عادلہ اور پری موجود ہیں، یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ دو بڑی بہنوں کی موجودگی میں چھوٹی بہن کی بات کی جائے۔

منع کردینا اپنی بھابی صاحبہ کو، اگر وہ انتظار کرسکتی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ جہاں چاہیں فاخر کی شادی کرسکتی ہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔“ انہوں نے کافی پیتے ہوئے دو ٹوک لہجے میں بات کی تھی۔
”ارے یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ! ایسا بہترین رشتہ بار بار تھوڑی آتا ہے پھرر میں بھائی، بھابی کو کس طرح انکار کرستی ہوں؟“ وہ سٹپٹاگئیں۔
”تو میں خود انکار کردوں گا تم سے نہیں ہوگا تو…“
”فیاض! ذرا سوچیے تو سہی، فاروق میرے سگے بھائی ہیں، اس طرح سے رشتوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی پھر فاخر بہت اچھا لڑکا ہے، اس دور میں چھوٹا بڑا کوئی نہیں دیکھتا ہے، جلدازجلد لوگ اپنے فرض سے ادا ہونا چاہتے ہیں۔

ایمانداری کی بات یہ ہے کہ عائزہ دونوں سے بڑی دکھائی دیتی ہے ، آنے والے عائزہ کو ہی بڑے سمجھتے ہیں، اس کی صحت مندی کی وجہ سے۔“ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے کافی پیتے رہے۔”عادلہ کی فکر کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے، وقت آنے پر اس کی بات بھی ہوجائے گی۔ “وہ خوشامدی انداز میں کہہ رہی تھیں۔
”پری کے بارے میں سوچا ہے کچھ تم نے …؟ وہ بھی تمہاری بیٹی ہے۔

”اس کی ماں موجود ہے، مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔“ پری کے ذکر پر ماحول میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔
”وہ بھی عادلہ، عائزہ کی طرح تمہاری ذمے داری ہے، تم اس کی ماں ہو خواہ سوتیلی ہی سہی… وہ تمہارے ساتھ اسی گھر میں رہتی ہے۔“ ان کے لہجے میں شدید ترین سردمہری در آئی تھی۔
”وہ آپ کی مرضی سے یہاں رہتی ہے، اگر میرے اختیار میں ہو تو ایک دن یہاں رہنے نہ دوں، بھیج دوں اس کی آوارہ ماں کے پاس…“
”خاموش رہو، بکواس مت کرو۔

“ وہ غصے سے چیخ اتھے تھے۔ ان کی آوازیں لاوٴنج اور راہداری میں گونج رہی تھیں، راہداری میں منی پلانٹ کو پانی دیتی پری گم صم سی ہوگئی تھی بلکہ لاوٴنج میں موجود طغرل بھی صباحت کے انداز و الفاظ پر ششدرسا تھا۔ اس نے صباحت کو بہت اخلاق و مروت کے مظاہرے کرتے دیکھا تھا۔
”ان کے لفطوں کی کاٹ… لہجے کی آنچ… اور اس آنچ میں سلگتی نفرت اسے حیران کرگئی تھی۔

انسان بھی جب انسانیت کی سطح سے گر جائے تو اس میں کچھ حیوانی صفات پیدا ہونے لگتی ہیں پھر کہیں کنچلی بدلتا ہے تو کہیں لہجہ… کبھی رنگ بدلتا ہے تو کبھی آنکھیں… عجیب ہی روپ بدل لیتا ہے پھر انسان…! طغرل کے لیے یہ صورت حال تکلیف دہ تھی، رات دادی کی گفتگو پری کے متعلق سن کر وہ ڈسٹرب رہا تھا۔ اب انکل آنٹی کی گفتگو جو پری کے لیے تھی، نے اس کو پریشان کردیا تھا۔

ویہ یہاں سے جا بھی نہیں سکتا تھا کہ اس طرح اسے ان کے روم کے سامنے سے گزرنا پڑتا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی موجودگی پر وہ شرمندہ ہوں جب کہ صباحت خاموش بھی نہیں ہوئی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں۔“
”میری آواز تو آپ نے پہلے دن سے بند کر رکھی ہے، جاکر ان لوگوں کی آواز بند کریں جو مثنیٰ کے حوالے سے پری کے لیے کہی جاتی ہیں۔“
”کیا ہورہا ہے؟ کیوں اتنا شور کررہے ہو؟“ ان کے جھگڑے کی آواز اماں کی سماعتوں تک بھی پہنچ گئی تھی، وہ کمرے میں داخل ہوکر دونوں سے مخاطب ہوئی تھیں اور جاتے ہی انہوں نے کمرے کا دروازہ بھی بند کردیا تھا۔

طغرل موقع ملتے ہی لاوٴنج سے نکلا تھا، راہداری میں بے جان انداز میں بیٹھی پری کے قریب سے گزرتے ہوئے پل بھر کو اس کے قدم سست ہوئے تھے لیکن وہ نگاہ اٹھا کر اس کی سمت دیکھنے کی ہمت نہ کرپایا کہ اس کی گھٹی گھٹی سسکیاں بتارہی تھیں۔ وہ رورہی ہے اور وہ اس کا آنسووٴں سے بھیگا چہرہ دیکھ نہیں پاتا۔ سوتیزی سے گزرگیا۔
بھیگی پلکوں نے دور تک اس کے قدموں کا پیچھا کیا تھا جو سب سن چکاتھا، اس کی جو اوقات اس گھر میں ہے اس سے واقف ہوگیا تھا وہ…!
”یہ تو ہونا ہی تھا تم کب تک اس حقیقت کو اس سے پوشیدہ رکھ سکتی تھیں؟ تم چلی کیوں نہیں جاتیں اس گھر سے… چھوڑ دو اس گھر کو جہاں تمہاری وقعت نہیں ہے… آج تو طغرل کے سامنے بھی تمہارا بھرم ٹوٹ گیا۔

میں تو اب بالکل ہی ارزاں ہوجاوٴں گی اس کے لیے وہ زچ کرے گا… مجھے آج ہی یہ گھر چھوڑ دینا ہے۔“ وہ آنسو بہاتی ایک عزم سے اٹھی تھی۔
آجا صنم مڈھر چاندنی میں ہم تم ملے تو ویرانے میں بھی آجائے گی بہار
جھومنے لگے گا آسمان…
آجا صنم مدھر چاندنی میں ہم
تم ملے تو ویرانے میں بھی آجائے گی بہار…
صحن کے وسط میں نیم کے درخت پر جھولا جھولتی ماہ رخ تیز تیز گارہی تھی، دالان میں نماز پڑھتی فاطمہ نے سلام پھیرا اور اس کے پاس آئیں۔

”شرم کرو کچھ…!“ وہ دانت بھینچ کر گویا ہوئیں۔
”امی! اب میں نے کیا بے شرمی کردی ہے؟“ اس نے رکتے ہوئے کہا۔
”باپ اور گلفام گھر میں ہے اور تو گانا گارہی ہے؟“ بے شرم کہیں کی!
”گانا گانے میں کیا بے شرمی کی بات ہے؟ اور ابا جب ہوتے ہیں تو ان کو کسی کی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔“ اس نے صفائی پیش کی۔
”گلفام تو جاگ رہا ہے، اس تک تیری آواز پہنچ رہی ہوگی۔

“ فاطمہ اس کی بے پروائی و ہٹ دھرمی سے چڑتی تھیں۔
”تو کیا ہوا… اس سیاہ بھوت سے ڈرتا کون ہے؟“ اس نے منہ بناکر جواب دیا، فاطمہ غصے میں آگے بڑھی تھپڑلگانے کے لیے کہ ان کے پیچھے آنے والی ثریا نے تیزی سے ان کا ہاتھ پکڑلیا تھا۔
”کیا کررہی ہو آپا! جوان اولاد پر کبھی کوئی ہاتھ اٹھایا جاتا ہے۔“ ماہ رخ جھولے سے اُتر کر خراب موڈ کے ساتھ کمرے میں چلی گئی۔

”ثریا! کون خوشی سے جوان اولادپر ہاتھ اٹھانا چاہتا ہے، تم دیکھ رہی ہو وہ جتنی شعور کی منزلیں عبور کررہی ہے اتنی ہی باغی و خود سر ہورہی ہے؟ جو سوچتی ہے، بول دیتی ہے۔ تمیز، طریقہ، سلیقہ نہیں ہے اس میں۔“
”سب آجائے گا، فکر کیوں کرتی ہو؟ اس کو کون سا کسی دوسرے گھر جانا ہے، اسی گھر میں رہنا ہے ہمارے ساتھ… پھولوں کی طرح رکھوں گی اس کو۔

“ ثریا نے پیار سے فاطمہ کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا۔ فاطمہ اور ثریا ممی ں صرف دیورانی و جیٹھانی کا ہی تعلق نہ تھا وہ دونوں سگی بہنیں بھی تھیں۔ دونوں کو ہی خدا نے اکلوتی اولادوں سے نوازا تھا۔گلفام کی پیدائش پر ڈھیروں خوشیاں منائی گئی تھیں اور جبب تین سال بعد ماہ رخ پیدا ہوئی تو ان کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا۔ بچپن سے ہی وہ ایک دوسرے سے منسوب تھے۔

اس رشتے کو گلفام نے دل و جان سے پسند کیا تھا مگر ماہ رخ جان بوجھ کر انجان بنی رہتی تھی۔
###
اماں ان نے فیاض کو راضی کرلیا تھا کہ وہ عائزہ کے لیے آئے ہوئے پیغام کو قبول کرلیں، فاخر حقیقتاً بہت قابل و نیک لڑکا ہے پھر اماں جان کے آگے فیاض کی بھی جرأت نہ تھی کہ وہ ان کے فیصلے کو رد کریں۔ وہ ہامی بھر کے وہاں سے چلے گئے تھے۔ صباحت کی زبان درازی ان کو پسند نہیں آئی تھی۔

”میری پہلی بیٹی کی خوشی ہے پری نے یہاں بھی اپنی نحوست دکھادی ہے۔“ وہ اس وقت اتنے غصے میں تھیں کہ اماں کا بھی خیال نہ کرسکیں۔
”زبان کو لگام دو صباحت! پری کوئی لاوارث نہیں ہے کہ جو چاہے گا اس کو سب کچھ کہہ دے گا، زبان کھینچ لوں گی میں پری کو بے جا کہنے والوں کی۔“
”آپ کی وجہ سے ہی وہ یہاں پر ہے ورنہ…“
”اور اس کی وجہ سے تم یہاں پر ہو۔

“ اماں جان طنزیہ لہجے میں گویا تھیں۔
”فیاض دوسری شادی کے لیے مان ہی کب رہا تھا وہ تو میں نے سمجھایا کہ تمہیں بھلے بیوی کی ضرورت نہ ہو مگر چھ ماہ کی پری کو ماں کی ضرورت ہے۔ وہ پری کے لیے تم سے شادی پر راضی ہو اور پھر تم نے الٹا ہی چکر چلایا۔ فیاض کی بیوی تو بن گئیں مگر پری کی ماں نہ بن سکیں۔ آئندہ پری کی طرف انگلی اٹھاتے وقت دیکھ لینا کہ باقی انگلیاں خود تمہاری طرف اٹھی ہوئی ہیں۔

“ وہ ٹھنڈے لہجے میں ان کے آگ لگاکر چلی گئی تھیں۔
###
وہ کروٹیں بدل رہا تھا۔ نیند روٹھ گئی تھی۔ آج سے قبل اس کو معلوم نہ تھا کہ پری اپنے ہی گھر میں اجنبی تھی۔ اس سے اپنائیت کا دعویٰ کرنے والوں کاصرف دعویٰ ہی تھا۔ دادی نے کہا تھا ” سب اس کے اپنے ہیں“ درحقیقت کوئی ”اپنا“ نہیں ہے۔ یہ وجہ تھی جو آج انجانے میں ہی مجھ پر ظاہر ہوگئی۔

”آہ! کتنی دکھی، کتنی تنہا ہے پری! کتنا تنگ کیا ہے میں نے اس کو…؟“
بے چینی اس کے اندر سرایت کرگئی۔ اس نے ریفریجریٹر میں سے نکال کر ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیا اور کھڑکی کھول کر لان میں دیکھنے لگا۔ گرمی و سردی کا ملا جلا موسم تھا۔ سارے دن دھوپ ماحول پر چھائی رہی تھی۔ اب ہوا میں ٹھنڈک کا احساس تھا۔ آسمان پر چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا، ماحول میں ایک وحشت ناک تاریکی تھی، لان میں جلنے والی لائٹس جو سحر تک جلتی رہتی تھیں، اس وقت نامعلوم کیوں آف تھیں جس کے باعث لان میں گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔

ابھی وہ کھڑکی سے ہٹ ہی رہا تھا کہ اس کو نیچے کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ اس نے نگاہ ڈالی توپہلے کچھ دکھائی نہ دیا اور پھر اس نے دیکھا ہاتھ میں سوٹ کیس پکڑے سیاہ چادر میں سیاہ رات کاحصہ بنی وہ ادھر ادھردیکھتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔
”اوہ میرے خدا!“ وہ کھڑکی سے ہٹ کر بنا سلیپر کے کمرے سے بھاگا تھا پھر برق رفتاری سے وہ لا میں پہنچا، ایک جست گیٹ تک لگائی اور گیٹ کھول کر باہر نکل گیا باہر ہر سو سناٹے کا راج تھا۔
باہر کوئی نہیں تھا علاوہ خاموشی و تاریکی کے … کہیں کہیں پول لیمپس جل رہے تھے اور اس روشنی میں اس نے ایک سفید کار کو دیکھا تھا۔ دوسری گلی سے نکل کرر وہ اس کی نظروں سے دور ہوتی چلی گئی تھی۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط