Episode 34 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 34 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
دادی جان نے اسے سینے سے اس طرح لگایا جیسے برسوں بعد ملاقات ہوئی ہو۔
”کیسی قیامت بیت گئی میری جان پر طغرل!“ وہ اسے سینے سے لگائے زارو قطار رونے لگیں اور طغرل نے تڑپ کر ان کو اپنی حصار میں لیا تھا اور نرمی سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگا۔
”مت روئیں دادی جان! میں سب برداشت کر سکتا ہوں مگر… آپ کے آنسو میں نہیں دیکھ سکتا  پلیز دادو! اب ٹھیک ہو گیا ہے سب۔

”کیا کیا وسوسے دل میں نہ آئے  برے برے خیالوں نے ادھ موا کر دیا تھا مجھے  اللہ کرے کبھی کسی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔“ وہ کہہ رہی تھیں۔
”پری! دادی کو کچھ ہو جاتا تو میں تمہیں جان سے مار دیتا۔“
”کبھی کوئی ایسا کرتا ہے کیا؟ یہی تربیت ہے میری؟“
”پری پر آپ کی تربیت کا نہیں  اپنی ممی کی ذہنیت کا اثر آیا ہے۔

(جاری ہے)

”صبح جب عادلہ نے بتایا تم کمرے میں نہیں ہو تمہارا موبائل بھی وہیں ہے صبح سے دوپہر  دوپہر سے شام ہو گئی تو میرے حواس  میرا حوصلہ میری ہمت سب جواب دے گئی اور مجھے ہوش ہی نہ رہا… سب جگہ فون کئے عامر  آصفہ گھبرائی ہوئی آ گئیں  تمہاری گمشدگی کا سن کر فیاض الگ پریشان رہا اور تو اور عائزہ کے سسرال والے اسی دن آنے والے تھے رسم کرنے کیلئے ان س معذرت کی گئی۔

”یہ کیا کہہ رہی ہیں دادو!“ اس کے سر پر بم بلاسٹ ہوا تھا۔ ”پرسوں سب میری وجہ سے پریشان تھے؟ آپ کی طبیعت میری وجہ سے خراب ہوئی تھی…؟“ اس کے ذہن میں آندھیاں چلنے لگی تھیں۔
”خراب نہ ہو گی؟ حالات دیکھ رہے ہو یہاں کے؟ پھر تمہاری عادت ہے مجھے بتا کر جاتے ہو کہیں بھی جاؤ اور فون بھی بار بار کرتے ہو۔ تمہارا اس طرح جانا وہ بھی شب خوابی کے لباس میں بغیر موبائل کے ہم سب کو ہی بے حد پریشان کر گیا تھا  میں تو ہوش و حواس کھوئے بیٹھی تھی  عامرہ نے بتایا تم آئے بھی تو بہت پریشان و تھکے ہوئے تھے۔

کھانا بھی تم نے برائے نام ہی کھایا اس لئے کسی نے کچھ باز پرس کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ آج بھی دو دن بعد تمہاری یہ پیاری سی صورت دیکھ رہی ہوں میں۔“
دادی پوری روائیداد سنا رہی تھیں اور اس کے ذہن میں شور تھا۔
”دادو! پری کا معلوم ہے  وہ کہاں ہے؟“
”وہ اپنی نانو کے ہاں گئی ہوئی ہے جس صبح تم غائب ہوئے تھے اس کی شام کو میں نے اس کو اس کی نانو کے ہاں بھیج دیا تھا  وہ چند دنوں کیلئے وہاں رہنا چاہتی تھیں۔

“ دادی کے پاس زیادہ بیٹھا نہ گیا اس سے۔ وہ وہاں سے آکر لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گیا تھا اس کے اندر افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔
کس گورکھ دھندے میں پھنس گیا تھا وہ!
رات کی تاریکی میں جو اس نے دیکھا وہ اس کی نگاہوں کا دھوکا ہرگز نہ تھا  سیاہ چادر میں منہ چھپائے لڑکی کو لان سے گزر کر گیٹ سے باہر جاتے اس نے دیکھا تھا۔ وہ ننگے پاؤں اس کے پیچھے بھاگا تھا مگر وہ اس سے زیادہ برق رفتار ثابت ہوئی تھی جو اس کے گیٹ سے باہر نکلنے سے قبل کار میں جا چکی تھی اور اس کو یقین تھا وہ پری ہی تھی جو صباحت آنٹی کی باتوں سے دل برداشتہ ہو کر گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی مگر اب دادو گواہی دے رہی ہیں  پری کو اس کی خواہش پر اس کی نانو کے ہاں ڈرائیور چھوڑ آیا تھا۔

گھر میں عادلہ  عائزہ موجود تھیں  عائزہ اپنے نئے رشتے سے بہت خوش تھی اور عادلہ بھی بہن کی خوشی میں خوش تھی پھر وہ کون تھی جو رات اس گھر سے گئی اور بھرپور پلاننگ سے گئی کیونکہ جانے سے قبل اس نے تمام لائٹس آف کر دی تھیں اور گیٹ کے آٹو میٹک لاک کو پہلے سیٹ کر رکھا تھا۔
”وہ جو کوئی بھی تھی  جہنم میں جائے! میں نے پری کے ساتھ بہت زیادہ زیادتی کر ڈالی ہے  وہ پوچھتی رہی  اپنا گناہ معلوم کرتی رہی اور میں اس وقت اتنا جذباتی اور دیوانہ ہو رہا تھا  اگر اس وقت میرے پاس ریوالور ہوتا تو میں شاید اس کو شوٹ کر دیتا۔

“ اس نے سر ہاتھوں میں تھام لیا۔
###
آسمان ستاروں سے بھرا چمک رہا تھا۔ چاند بھی خوب روشن اور مکمل تھا  دھیرے دھیرے چلتی ہوا سے نیم کے پتے شوخیاں کر رہے تھے۔ فاطمہ اور فیض محمد کہیں شادی میں مدعو تھے۔ ثریا زیاد محمد کیلئے روٹیاں بنا رہی تھی  وہ چارپائی پر لیٹی آسمان کو تک رہی تھی۔ دل میں بے پناہ خواہشوں کا ہجوم تھا  وہ خواہشوں کا جہاں رکھتی تھی۔

خواہش وہ پاتال ہے جس کی گہرائی ختم نہیں ہوتی ہے۔
زندگی ختم ہو جاتی ہے  خواہشیں ختم نہیں ہوتی ہیں۔
خوب سے خوب ترکی تلاش میں انسان خاک نشین ہو جاتا ہے۔
آہٹ پر اس نے مڑ کر دیکھا  گلفام آ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بے زاری پھیل گئی وہ منہ بناتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
”سبحان اللہ! آج دو چاند ایک ساتھ روشن ہیں ایک آسمان پر دوسرا زمین پر۔

“ گلفام کا لہجہ محبت سے چور تھا۔ وہ اس کے سامنے دوسری چارپائی پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔
”سیاہ فام! بکواس شاعری مت کیا کرو۔“ اس نے تڑخ کر کہا۔
”میں شاعری نہیں کر رہا  سچ کہہ رہا ہوں ایمان سے۔“
ماہ رخ نے کوئی جواب نہیں دیا  بے پروائی سے بیٹھی پاؤں ہلاتی رہی۔ اس کا دوپٹا گود میں پڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر گلفام نے کہا۔

”رخ! اپنی اوڑھنی کو درست کرو اور سر پر پھیلاؤ۔“
”اوہ! تم مجھ کو حکم دے رہے ہو؟“
اپنے آگے دبے دبے رہنے والے گلفام کی نرمی سے کہی گئی بات اس کو پتنگے لگا گئی  بجائے شرمندہ ہونے کے ڈھٹائی سے غرائی تھی۔
”نہیں نہیں  میری ایسی کہاں جرأت؟ میں تو کہہ رہا ہوں اوڑھنی درست کر لو  تم جب اوڑھنی سر پر اوڑھتی ہو تو بہت اچھی لگتی ہو۔

”ہونہہ! تمہیں معلوم ہے جہاں میں پڑھنے جاتی ہوں  وہاں تو لڑکیاں اوڑھنی اوڑھ کر ہی نہیں آتیں۔“ دوپٹا درست کرتے ہوئے اس نے فخریہ انداز میں جتایا تھا۔ گلفام نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
”پھر وہ لڑکیاں تمہاری طرح خوبصورت نہیں ہوں گی۔“ وہ نظروں میں دل رکھ کر بول رہا تھا مگر اس نے نخوت سے سر جھٹک دیا۔
###
خاصی دیر تک وہ ٹھنڈے پانی سے منہ دھوتی رہی تھی۔

”نامعلوم آج کا دن میرے لئے کیوں اتنی آزمائش سے لے کر آیا ہے؟ میں نانو سے کہہ کر آئی تھی کہ کچھ شاپنگ کرکے ڈرائیور کو کال کر دوں گی  پپا ڈرائیور کو بھیج دیں گے اور دادی کے پاس چلی جاؤ گی پھر میں شاپنگ سنٹر پہنچی بھی نہ تھی کہ طغرل مل گیا تھا۔ مل گیا تھا شاید وہ مجھے ہی تلاش کرتا پھر رہا تھا مگر کیوں…؟ وہ منہ دھوتے ہوئے سوچ رہی تھی۔

”وہ کتنا غصے میں تھا  کتنے غلط الفاظ استعمال کر رہا تھا  وہ کیا کہہ رہا تھا  کس کے فرار کی بات کر رہا تھا؟ کیوں کہا اس نے کہ میں دادی کو چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہی ہوں؟“
اس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا ہر زاویئے سے مگر… کچھ دکھائی نہ دیا ماسوائے اس نشان کے جو اس سنگ دل کا ہی دیا ہوا تھا۔
”مما بھی کیسی باتیں کرتی ہیں۔

لفظ عام لیکن انداز بہت گھٹیا! شاید وہ سمجھ رہی ہیں میں اس شخص کے ساتھ باہر گھومتی پھرتی ہوں  جس کو انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔“ وہ بددلی سے سوچتی ہوئی واش روم سے نکل کر راہداری عبور کرکے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اچانک ہی ایک جانب سے نکل کر طغرل اس کے سامنے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔
”پری! پلیز میری بات سنو۔“ اس کے لہجے کی گھن گرج  نفرت و حقارت التجائیہ لہجے میں بدل گئی تھی۔

پری نے اس کو لمحے بھر حیرت سے دیکھا پھر طنزیہ گویا ہوئی۔
”آپ کی یاد داشت اتنی کمزور ہے طغرل بھائی! کچھ دیر قبل ہی آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ میری آواز سننا بھی پسند نہیں کرتے۔“
”سوری… ویری سوری… میں بہت…“ وہ اس کی بات قطع کرکے اسی کے انداز میں گویا ہوئی تھی۔
”مجھے آپ کے سوری کی ضرورت نہیں ہے اور آپ میری بات یاد رکھئے گا  آپ کو میری آواز پسند نہیں ہے اور مجھے آپ پسند نہیں ہیں۔

”جانتا ہوں  تم مجھے پسند نہیں کرتیں  میرے لئے یہ نئی اطلاع نہیں ہے لیکن اس وقت بات پسند ناپسند کی نہیں ہو رہی ہے  ایک مسئلہ ہو گیا ہے میں چاہتا ہوں ہم دونوں مل کر اسے حل کریں۔ ابھی تم دادو کے پاس ہو کر آ جاؤ  ان کو یہ مت بتانا کہ ہمارے درمیان کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔“
اس وقت وہ بہت الجھا الجھا بے حد پریشان تھا  اگر ان کے درمیان وہ کچھ نہ ہوا ہوتا جو کچھ دیر قبل ہوا تھا تو وہ اس کی تمام حرکتیں بھلا کر اس کی بات سنتی اور شاید مدد بھی کرتی مگر… اس وقت اس کے دل میں طغرل کیلئے اتنی کدورت تھی کہ وہ حقیقتاً اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔

”جتنی مجھے دادی سے محبت ہے اتنی محبت تو کوئی ان سے کر ہی نہیں سکتا اور وہ سب گھٹیا گفتگو میں دادی کو بتا کر کسی صدمے سے دو چار نہیں کرنا چاہتی۔“ وہ بھی زبانی تیر اندازی میں طغرل سے کم نہ تھی۔
”میں بحث کے موڈ میں نہیں ہوں  جلدی آؤ  میں انتظار کر رہا ہوں اپنے کمرے میں۔“ اس کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔
پری کے شفاف چہرے پر بے حد گریہ و زاری سے سوجی ہوئی آنکھیں نمایاں ہو رہی تھیں۔

ستواں ناک بھی سرخ تھی۔ وہ بے حد شرمندہ تھا۔
”قیامت تک انتظار کرتے رہیں  میں نہیں آؤں گی۔“ وہ کہہ کر چلی گئی۔
###
”خیریت تو ہے مثنیٰ! تم اس وقت آئی وہ بھی سوٹ کیس لے کر؟“ عشرت جہاں نے جو انہیں رات کے وقت دگرگوں حالت میں گھر آتے دیکھا تو بے چین ہو کر ہر گئی تھیں۔ ”صفدر جمال کہاں ہیں… کیا ان سے جھگڑا ہوا ہے تمہارا…“ وہ ان کے قریب بیٹھ کر پریشانی سے پوچھ رہی تھیں۔

”نام مت لیں میرے سامنے اس دوغلے شخص کا… چھوڑ آئی ہوں میں اس کو اور اس کے گھر کو بھی۔“ وہ حتمی انداز میں کہہ رہی تھیں۔ عشرت جہاں ہول کر رہ گئیں۔
”ہوا کیا ہے آخر! کچھ بتاؤ بھی تو  گھر چھوڑنا آسان نہیں ہوتا عورت کیلئے  جو تم کہہ رہی ہو گھر چھوڑ آئی ہو؟“ وہ ان کے قریب بیٹھتے ہوئے رسانیت سے سمجھانے لگیں۔
”مما! چھوڑنا صرف عورت کیلئے ہی کیوں مشکل ہوتا ہے۔

مرد کیلئے تو سب آسان ہوتا ہے  گھر توڑنا  دل توڑنا  اعتبار توڑنا اور رشتے توڑنا… سب مرد کیلئے ہی کیوں آسان ہے؟“ مثنیٰ اس وقت بری طرح بکھری ہوئی تھیں۔
”صفدر جمال سے مجھے ایسی کوئی امید نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے گا  جس سے میرے اعتبار و اعتماد کو کوئی ٹھیس پہنچے۔“
”مما! عورت خواہ ماں ہو یا بیوی  اس کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ مرد کو قابل اعتبار سمجھتی ہے  اس پر بھروسا کرتی ہے اور مرد ہماری اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ہمارے جذبوں سے کھیلتے ہیں  ہماری خوشیوں کو قتل کرتے ہیں  ہماری آرزوؤں کو پامال کرتے ہیں  یہی ان کی فطرت ہے  یہی ان کی اصلیت ہے۔

”ٹھیک ہے ٹھیک ہے میری جان! ہم صبح بات کریں گے۔ ابھی تم آرام کرو  بہت پریشان لگ رہی ہو۔ آؤ میں تمہیں کمرے تک چھوڑ آؤں۔“ وہ پیار سے ان کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ روم میں لاکر ان کے بال سہلانے لگیں۔
”مما! مجھے خوشیاں راس کیوں نہیں آتیں؟ جب بھی میں ہنستی ہوں تو رونا پڑتا ہے مجھے۔“ آنسو خاموشی سے ان کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔
”تم کچھ مت سوچو بس سو جاؤ  میں ہوں نا تمہارے پاس… تمہاری ماں!“
”آپ ہر دکھ کی دھوپ میں میرے لئے سایہ بن جاتی ہیں مما!“
”ماں اسی لئے ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کے دکھوں کی دھوپ خود پر لے کر اپنے وجود کی چھاؤں ان کو دے دے۔

“ وہ ان کے آنسو صاف کرکے ممتا بھرے لہجے میں کہہ رہی تھیں۔
”لیکن میں کیسی ماں ہوں؟ اپنی بیٹی کو ان ظالم لوگوں کے سپرد کر آئی۔ اپنے حصے کے دکھ و تکلیفیں اس کو دے کر  اس کے حصے کے سکھ بھی لے آئی؟ میں ماں کہلانے کی حق دار نہیں ہوں  میں ماں نہیں ہوں۔“ وہ زارو قطار رونے لگیں عشرت جہاں کو ان کو سنبھالنے میں بہت دقت ہو رہی تھی مگر ان کے سونے کے بعد وہ کمرے میں آئیں تو فون بج رہا تھا۔
”ہیلو! ہاں وہ یہاں ہی آئی ہے اور کہاں جا سکتی تھی؟“ دوسری طرف صفدر جمال تھے۔ ”نہیں… نہیں… ابھی آپ مت آؤ  جب تک اس کا موڈ ٹھیک نہیں ہو جاتا اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ورنہ وہ خود کو نقصان پہنچا لے گی۔“ وہ کسی گہری سوچ میں گم انہیں روک گئی تھیں۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط