Episode 63 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 63 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
صباحت کو وہاں سے نکلتے دیکھ کر عائزہ اور عادلہ بھی اپنے کمرے میں آ گئی تھیں  عادلہ کے چہرے پر غم و غصے کے تاثرات تھے۔
”مذنہ آنٹی کتنی چالاک ہیں کس طرح انہوں نے طغرل کو بھی بچا لیا اور پری پر بھی آنچ نہیں آنے دی حالانکہ ممی نے ہر طرح سے ان کو گھیرنے اور نیچا دکھانے کی سعی کی تھی۔“
”ہوں  یہ بات تو ہے ممی نے فائٹ تو بہت کی مگر دادی اور آنٹی نے ایک بھی وار کامیاب نہیں ہونے دیا۔

ممی کو ابھی اور جنگ کرنی تھی ان سے  اتنی جلدی کیوں میدان چھوڑ کر بھاگ آئیں؟“
”تمہیں معلوم ہے پاپا کسی بھی ٹائم آ سکتے ہیں اور وہ یہ سب برداشت کریں گے؟“
”ارے نہیں بابا! وہ تو خود دادی کے سامنے تیز لہجے میں بات نہیں کرتے۔ ممی کو بلند لہجے میں اور اس طرح کی باتیں کرتے دیکھ کر بلامبالغہ وہ ممی کو شوٹ کرنے سے بھی گریز نہ کریں۔

(جاری ہے)

“ عائزہ نے جھرجھری لے کر تیز لہجے میں کہا۔
”ہم سے ممی کے علاوہ کوئی محبت نہیں کرتا ہے  سب کی محبت اور ہمدردی پری کے ساتھ ہوتی ہے  ہر کوئی نامعلوم کیوں اس کو ہی پسند کرتے ہیں؟ ایسی تو خوبصورت بھی نہیں ہے وہ۔“
”اچھا ان باتوں سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے اب تم بتاؤ کیا چاہتی ہو؟“ عائزہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔

”میرے چاہنے سے کیا ہوگا؟ کیا طغرل مجھ سے محبت کرنے لگے گا؟ کیا وہ مجھ سے شادی کی خواہش ظاہر کر سکتا ہے؟“ وہ حسرت زدہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
”یہ سب تو ممکن نہیں ہے اور کچھ چاہو تو…؟“ وہ معنی خیز لہجے میں کہہ کر چپ ہو گئی تھی۔
”اور کچھ… کیا چاہوں بتاؤ مجھے؟ طغرل کے بغیر تو میری زندگی موت ہے۔“ وہ رونے لگی تھی۔
”موت! تم رونا بند کرو  میں بتاتی ہوں تمہی اگر وہ تمہارا نہیں ہوا تو اس کو پری کا بھی نہ ہونے دو۔

”یہ کس طرح ہو سکتا ہے عائزہ؟“ وہ حیرانی سے گویا ہوئی تھی۔
”میں بتاتی ہوں تمہیں۔“ ورہ سرگوشیوں میں گفتگو کرنے لگی تھیں۔
###
سب کچھ ہے پاس لیکن کچھ بھی نہیں رہا
اس کی ہی جستجو تھی اور وہ ہی نہیں رہا
کہتا تھا اک پل نہ رہوں گا تیرے بغیر
ہم دونوں رہ گئے وہ وعدہ نہیں رہا
مثنیٰ! پری کو کال کرو اور بتاؤ ہم واپس آ گئے ہیں۔

“ عشرت جہاں کافی کے مگ لاتے ہوئے میگزین پڑھتی مثنیٰ سے مخاطب ہوئی تھیں۔
”ممی! میں نے میسج چھوڑ دیا ہے۔ وہ شاید سو گئی ہے اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں صبح کال کروں گی پری کو۔“ وہ کافی کا مگ لیتی ہوئی گویا ہوئی تھیں۔
”صفدر جمال لندن جا کر ہی بیٹھ گئے ہیں  دو ماہ ہو چکے ہیں اور وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ معلوم تو کرو  کوئی پرابلم تو نہیں وہاں؟ سعود تو خیریت سے ہے نا؟“
”ارے ممی! آج کل کی اولاد بھی والدین کیلئے سزا بن گئی ہے۔

”ارے کیا ہوا؟ سعود نے اب ایسا کیا کیا ہے؟“
”وہ کل تک جس لڑکی سے شادی کرنے کیلئے باغی بن گیا تھا  وہ لڑکی پوجا اسے چھوڑ کر اپنے کسی بوائے فرینڈ کے ساتھ چلی گئی ہے  اس نے سعود کو چھوڑ دیا ہے۔“
”وہ لڑکی تو مسلمان ہو گئی تھی پھر کس طرح یہ سب ہوا؟“ وہ کافی بھول کر بے حد پریشانی سے گویا ہوئی تھیں۔
”مما! رشتے وہاں قائم رہتے ہیں جہاں اخلاص اور نیت صاف ہوتی ہے۔

جہاں شرپرستی اور بے راہ روی کی جڑیں مضبوط ہوں  وہاں وفا اور سچائی کی خوشبو بھی نہیں پہنچتی ہے ڈال ڈال منڈلانے والی تتلی کبھی ایک ڈال پر بیٹھتی ہے؟“
”اپنی من مانی کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے۔ تم صفدر کو کہو وہ سعود کو ساتھ لے کر آئے  اب اسے وہاں چھوڑنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے  ہم یہاں خود کوئی بہترین لڑکی دیکھ کر اس کی شادی کریں گے۔

”وہ تو اس لڑکی کا روگ لگا کر بیٹھ گیا ہے  یہاں آنے کو تیار ہی نہیں ہے  صفدر کوشش کر رہے ہیں ساتھ لانے کی۔“
###
موسم نے ایک دم ہی تیور بدلے تھے اور گرج چمک کے ساتھ بارش شروع ہو گئی تھی۔ اماں جان نے گم صم بیٹھی پری کو ایک نظر دیکھا پھر اس کے قریب بیٹھ گئیں۔
”کب تک اس طرح بیٹھی رہو گی؟ تم نے کھانا بھی نہیں کھایا ہے  کیوں خود کو سزا دے رہی ہو اور ساتھ میں مجھے بھی؟“
”ایک سوال پوچھوں دادی جان آپ سے؟“ رونے کے باعث اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی۔

”ہاں پوچھو؟“
”آپ نے مما کو اس گھر میں اس لئے نہیں رہنے دیا کہ وہ پاپا کی پسند تھیں  کیا میری مما کا رویہ بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی سخت تھا؟ کیا وہ بھی اس طرح بدکلامی کرتی تھیں آپ کے ساتھ؟“ اس کے سوال پر ان کا چہرہ جھک گیا تھا۔
”بتائیں نا دادی! میری مما بھی ایسی ہی تھیں جھوٹ بولنے والی  بہتان لگانے والی  کسی کی بھی عزت نہ کرنے والی؟“
”نہیں!“ ان کے منہ سے لرزتی ہوئی آواز نکلی تھی۔

”نہیں اس کی آواز تو بہتی ندی کی طرح دھیمی و مدھم تھی۔ اس نے کبھی بھی تیز لہجے میں بات نہیں کی تھی۔“
”پھر کیوں نکالا آپ نے ان کو اس گھر سے؟ میری زندگی سے پاپا کی زندگی سے  صرف اس وجہ سے کہ وہ مما سے محبت کرتے تھے اور اس خوف سے کہ وہ کہیں مما کو لے کر اس گھر سے نہ چلے جائیں  آپ کو بھول نہ جائیں  آپ نے ان دونوں کو ہمیشہ کیلئے جدا کر دیا۔

“ وہ روتی ہوئی کہتی جا رہی تھی اماں پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔
”پاپا آپ کو کبھی چھوڑ سکتے تھے  یہ آپ نے کیسے سوچ لیا تھا؟“
”اس وقت تو ایسا ہی لگ رہا تھا پری! فیاض اپنی حسین و جمیل دولت مند بیوی کی محبت میں ہمیں چھوڑ جائے گا  اماں نے کہا قبل اس کہ یہ ہم کو چھوڑ کر جائے  ہم ان کے رشتے میں دارڑ ڈالوا دیتے ہیں اور پھر سب بہت آسانی سے ہوتا چلا گیا  یہ مجھے بہت بعد میں احساس ہوا کہ میں نے کیا کیا ہے؟“ ان کو بھی ماضی کی یادیں رلانے لگی تھیں۔

”آج بھی فیاض میرے پاس ہے لیکن میں جانتی ہوں پاس ہو کر وہ بھی مجھ سے بہت دور ہو چکا ہے۔ یہ اس کی اعلیٰ ظرفی ہے جو وہ مجھے آج بھی پیار کرتا ہے  احترام دیتا ہے مگر جو ہم نے اس کے ساتھ کیا ہے وہ بہت برا ہے۔“
”آج آپ پچھتا رہی ہیں دادی جان! کل آپ تھوڑا سا اپنے دل کو وسیع کرتیں اور پاپا کی محبت پر بھروسہ رکھتیں تو آج کم از کم میری اور پاپا کی زندگی بہت اچھی ہوتی اور وہ دل سے آپ سے محبت کر رہے ہوتے محض فرض نہیں نبھاتے۔

میں نے آج تک پاپا کو خوشی سے مسکراتے نہیں دیکھا  وہ کبھی مسکراتے بھی ہیں تو ان کی آنکھیں نم رہتی ہیں  بالکل اسی طرح میں مما کی آنکھیں بھی دیکھتی ہوں وہ بھی مسکراتی ہیں تو پاپا کی طرح ان کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں اور اس نمی میں تنہائی رقص کرتی ہے۔“
”پری میری بچی! چپ ہو جا… چپ ہو جا  تیری ماں اور باپ میں جدائی کرانے کا دکھ مجھے قبر تک بے چین رکھے گا۔

###
مذنہ بیڈ پر نیم دراز تھیں معاً طغرل ڈور ناک کرکے آیا تھا۔
”سوری مما! آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا ہے؟“
”ارے نہیں میری جان! آؤ بیٹھو میرے پاس۔“ بہت محبت سے انہوں نے اس کو جگہ دی تھی۔
”تھینکس مما!“ وہ قریب بیٹھ گیا تھا۔
”اپ سیٹ لگ رہے ہو؟ صباحت کی باتوں سے ڈسٹرب ہوئے ہو۔“
”آف کورس مما! میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوں اگر میں آپ سے تمام باتیں شیئر نہ کر چکا ہوتا تو شاید کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا  کتنی غلط بیانی اور جھوٹ سے کام لیتی ہیں وہ۔

”کیوں سیریس لے رہے ہو؟ میں صباحت کی نیچر جانتی ہوں  جب کوئی کام اس کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا ہے پھر اسی طرح کی باتیں کرتی ہے  یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔“
”کیا کام ان کی مرضی کے مطابق نہیں ہوا مما!“ انہوں نے ایک نظر اسے مسکرا کر دیکھا پھر بولیں۔
”آپ نے عادلہ کی جگہ پری کو پرپوز کر دیا ہے۔“
”یہ کیا بات ہوئی مما! پر میں عادلہ کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا۔

”اچھا پری کو پسند کرتے ہو؟“ وہ شوخ لہجے میں استفسار کرنے لگیں وہ سنجیدگی سے بولا۔
”بات پسند نا پسند کی نہیں ہے مما! میں نے کسی بھی لڑکی کو اپنی لائف پارٹنر کی نیت سے نہیں دیکھا تھا  میں ابھی اپنا بزنس اسٹینڈ کرنا چاہتا ہوں  بزنس ورلڈ میں اپنا نام بہت ٹاپ پر دیکھنا چاتا ہوں  جس کیلئے میں اتنی اسٹریگل کر رہا ہوں۔“
”پھر پری کو پرپوز کیوں کیا  جو اتنے ہنگامے کی وجہ بنا؟“
”مما! یہ بات میں نے بہت عرصے قبل فیل کی تھی کہ پری کو یہاں اسٹرونگ سپورٹ کی ضرورت ہے اور یہ بات تو آج بالکل ہی واضح ہو گئی ہے کہ سچ مچ اس کو اسٹرونگ سپورٹ کی ضرورت ہے جو میں اسے دوں گا۔

“ وہ ایک عزم سے بولا۔
###
عائزہ نے جو اس کے اندر کا آتش فشاں بھڑکایا تھا۔ اس کی تپش میں محبت کے وہ تمام پھول  آرزوؤں کی وہ ساری کلیاں جل کر راکھ بن چکی تھی  اس نے عائزہ کو منع کر دیا تھا  وہ سب کچھ گوارا کر سکتی تھی مگر طغرل کی ابدی جدائی اسے گوارا نہ تھی  حسب عادت عائزہ مسکرا کر چپ ہو گئی تھی۔
مگر اس کے اندر ایک خیال کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا وہ تصور کی آنکھ سے پری اور طغرل کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے محبت بھرے انداز میں گھومتے ہوئے دیکھ رہی تھی اور ان کی یہ محبت بھری قربت اس کے دل کو تڑپانے لگی تھی اور بالآخر اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔

اگر طغرل اس کا نہیں تھا تو وہ اسے پری کا بھی نہیں بننے دے گی۔
”تم نے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے نا؟“ عائزہ اس کی طرف دیکھ کر گویا ہوئی تھی۔
”ہاں ہاں  میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے طغرل میرا نہیں ہے تو پری کا بھی نہیں ہوگا خواہ وہ مر جائے یہ بہتر ہے۔“ اس کے اندر میں بلا کا اعتماد و یقین تھا۔
”یہ بتاؤ  سب ہوگا کس طرح سے؟“
”راحیل کروائے گا یہ کام کسی سے  تم فکر مت کرو۔

”راحیل! تمہارا دماغ خراب ہے پھر تم اس سے مل رہی ہو؟“ راحیل کے نام پر وہ اچھل پڑی تھی۔
”شش آہستہ  آواز باہر چلی گئی تو جانتی ہو ہمارا حشر کیا ہوگا۔ اس لئے اپنی زبان بند رکھو۔“ عائزہ بالوں میں ربن باندھتے ہوئے خفگی سے گویا ہوئی۔
”لیکن تم راحیل پر اتنا بھروسا کس طرح کر سکتی ہو؟ وہ پہلے ہی ساری جیولری لے کر بھاگا ہوا ہے اور طغرل کا مرڈر کروا کر وہ ہم کو بلیک میل نہیں کرے گا؟“
”ایسا کچھ نہیں ہوگا  وہ مجھ سے بے حد محبت کرتا ہے اور میری خاطر جان دے بھی سکتا ہے اور جان لے بھی سکتا ہے۔

محبت کتنی ظالم شے ہے یہ تم بھی جان چکی ہو۔“ اس کے لہجے میں اطمینان ہی اطمینان تھا۔
”کل تک تم طغرل کو دل و جان سے چاہتی تھیں نا۔“
”میں اب بھی طغرل سے محبت کرتی ہوں۔“ وہ روہانسی ہو کر گویا ہوئی تھی۔
”ہاں  محبت خود غرض ہوتی ہے  جو ہمارا نہیں ہوتا وہ کسی کا بھی کیوں ہو؟ یہی جذبہ محبت کہلاتا ہے عادلہ!“
”طغرل! راحیل سے بے حد مختلف ہے تم اس سے کمپیئر مت کرو  راحیل چور  بدمعاش اور فراڈی آدمی ہے وہ ہمیں دھوکا دے گا میں اس پر بھروسا نہیں کر سکتی عائزہ! تم یہ سب بھول جاؤ۔

جو میں نے تم سے کہا ہے ورنہ ہم کسی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔“
”تم بار بار راحیل کی بے عزتی کر رہی ہو  جو میں برداشت کر رہی ہوں  یہ خیال کرکے تمہارے دل پر محبت کی چوٹ ابھی تازہ ہے اور تمہیں درد زیادہ ہو رہا ہے مگر اب تم نے ایک لفظ بھی راحیل کے خلاف کہا تو ٹھیک نہیں ہوگا۔“ وہ اسے گھورتے ہوئے سخت لہجے میں بولی تھی۔ ”تم نے طغرل سے محبت کی ہے تو میں نے راحیل کو چاہا ہے اور وہ بھی مجھے چاہتا ہے  تمہاری طرح یک طرفہ محبت نہیں کی میں نے۔“

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط