Episode 65 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 65 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
چلو پھر ڈھونڈ لائیں ہم
اسی معصوم بچپن کو
انہی معصوم خوشیوں کو
انہی رنگین لمحوں کو
جہاں غم کا پتا نہ تھا
جہاں دکھ کی سمجھ نہ تھی
جہاں بس مسکراہٹ تھی
بہاریں ہی بہاریں تھیں
کہ جب ساون برستا تھا
تو اس کاغذ کی کشتی کو
بنانا اور ڈبو دینا
بہت اچھا سا لگتا تھا
اور اس دنیا کا ہر چہرہ
بہت سجا سا لگتا تھا
چلو پھر ڈھونڈ لائیں ہم
اسی معصوم بچپن کو
اس کو یقین نہیں ہو رہا تھا پیار و محبت اور خلوص سے مسکراتے ان چہروں پر وہ سب منافقت  ریاکاری اور مفاد پرستی تھی۔

کس قدر نفسانفسی اور لالچ میں گرے ہوئے لوگ تھے۔
وہ ڈریس چینج کرکے بیڈ پر نیم دراز ہوا تو دل پر سخت بددلی اور بے زاری چھائی ہوئی تھی  اسے مسلسل پری کی وہ دیوانگی بے چین کئے ہوئے تھی  جس جنون میں وہ بھاگتی ہوئی اوپر گئی تھی۔

(جاری ہے)

اگر اس وقت اس کی چھٹی حس خطرے کا سگنل نہ دیتی تو  اس سوالیہ نشان کے آگے کا تصور اس کو پریشان کر دیتا تھا۔

”مائی پور کزن! مجھے اب سمجھ آ رہا ہے  تم عادلہ اور عائزہ سے اتنی مختلف کیوں ہو  میں جو تمہیں اوّل دن سے طعنے دیتا رہا  تمہاری کم گوئی و بدمزاجی پر  تم جو خود کو تنہائی میں بھی سینت سینت کر رکھتی ہو  اس احتیاط کو میں ڈراما سمجھتا تھا کیونکہ میری نظر سے کبھی بھی ایسی لڑکی نہ گزری تھی جو اتنی سختی سے اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھتی ہو۔

“ وہ آنکھیں بند کئے تصور میں پری سے مخاطب تھا۔
”آنٹی کی باتوں سے معلوم ہوا جو خود کو اتنا پابند کیا ہوا ہے  کتنا محتاط کیا ہوا ہے کہ تم نے خود کو  اس سب کے باوجود آنٹی کی بے ہودہ گوئی سے نہ تم بچ سکی ہو  تمہارے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھے بھی نہیں بخشا اور اچھا ہی ہوا ان کی ذہنیت بہت جلد کھل گئی  ان کا اصلی چہرہ مجھے نظر آ گیا ہے۔

“ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے سوچا اور اٹھ کھڑا ہوا  باہر بارش کا زور کچھ کم ہوا تھا۔ وہ کھڑکی میں کھڑا لان میں دیکھ رہا تھا۔ جہاں جل تھل تھا لان کی گھاس کی جگہ پانی ہی پانی تھا۔ شام کا وقت بارش اور گہرے ابر آلود موسم کے باعث رات میں بدل گیا تھا جس کی تاریکی کو بجلی کی چمک لمحے بھر کو منور کر دیتی تھی  وہ خاصی دیر کھڑا دیکھتا رہا تھا۔

پھر چائے کی طلب نے اسے کمرے سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا  ابھی وہ کمرے سے نکلا ہی تھا کہ عادلہ ٹرالی لئے چلی آئی تھی۔
”میں گرما گرم سموئے  پکوڑے  چائے کے ساتھ لائی ہوں۔“
”دادی جان کے روم میں آ جاؤ۔“ وہ کہہ کر چلا گیا۔
###
اس کو محبت کی چاہ نہ تھی
اس کو دولت کی چاہت تھی
اعوان سے اس نے کب محبت کی تھی  وہ تو اس کی گاڑی بزنس اور بنگلہ دیکھ کر اس پر وارفتہ ہوئی تھی  اسے اعوان سے نہیں اس کی دولت سے محبت تھی اور اب اعوان کی بے وفائی کے بعد اسے ساحر کا ساتھ مل گیا تھا۔

ساحر! ایک کروڑ پتی اور اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا  اعوان سے کہیں زیادہ سمارٹ اور دولت مند تھا۔ جو سب سے بہترین بات اس کے حق میں تھی وہ یہ تھی کہ وہ اسے پسند کرتا تھا  محبت کرتا تھا۔
”اعوان اگر تمہیں دھوکا دے کر وہاں شادی نہ کر لیتا تو یقین کرنا رخ! میں اپنی محبت کا اظہار مر کر بھی نہ کرتا تم سے۔“ وہ اس کی انگلی میں خوبصورت ڈائمنڈ رنگ پہناتے ہوئے کہہ رہا تھا  وہ تو گویا ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔

”یہ میری دعائیں رنگ لے آئی ہیں جو اعوان نے تمہارے ساتھ بے وفائی کی ہے۔“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے گہرے لہجے میں بولا۔
”میں یہ کس طرح یقین کر لوں کہ آپ بے وفائی نہیں کریں گے؟“ اس نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے سنجیدہ انداز میں استفسار کیا۔
”تم مجھ پر اعتبار کر سکتی ہو  میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“
”اعتبار ہی تو نہیں رہا اب۔

اعوان بھی تو محبت کرنے کے دعوے کیا کرتا تھا  اس نے ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں  میری آنکھوں میں سہانے سپنے سجا کر وہ وہاں شادی رچا کر بیٹھ گیا ہے  میرے دل میں بے اعتباری کا موسم خزاں بن کر ٹھہر گیا ہے۔“
”میرا اعتبار کرو  میں تمہارے دل پر چھائی خزاؤں کو بہاروں میں بدل دوں گا  تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا ہوگا  کرو گی نا؟“ اس نے اعتماد دلاتے ہوئے پوچھا۔

”اتنی جلدی کس طرح سے اعتماد کر سکتی ہوں؟“
”میرے پاس ٹائم نہیں ہے  مجھے کسی بھی وقت بزنس کی ڈیلنگ کیلئے جانا پڑے گا  اگر تمہیں مجھ پر اعتبار ہے تو کل آ جانا  ہم کورٹ میرج کر لیں گے اور میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔“
###
بارش ایک بار پھر شروع ہو گئی تھی  آصفہ اور عامرہ جا چکی تھی  سب اپنے اپنے کمروں میں تھے ایک عجیب سی ویرانی اور پرہول سناٹا چھا گیا تھا  پری اپنے کمرے میں بند تھی اور اسے چپ لگ گئی تھی جس طرح سے اس کی ذات کو گزشتہ چند دنوں سے تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

وہ اس کیلئے برداشت کرنا مشکل تھا مستزاد اس پر جو آج ہوا وہ سب اس کی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی اسے اپنی ہی نگاہوں میں گرا گیا تھا اور یہ اس کے ذہنی دباؤ کی ہی صورت تھی جو وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی جذباتی طور پر اس بری طرح مفلوج ہوئی تھی کہ خود کشی جیسے حرام فعل کو سرانجام دینے چھت پر پہنچ گئی تھی اور کامیاب بھی ہو جاتی اگر بروقت وہاں طغرل نہ پہنچ جاتا۔

”اس طرح کب تک پتھر کی مورت کی مانند یہاں بیٹھی رہو گی؟“ اماں جان نماز پڑھ کر آئیں تو اسے دریچے کے پاس کارپٹ پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھ کر وہ نرمی سے گویا ہوئی تھیں۔ وہ چپ بیٹھی چھت کو گھور رہی تھی  مسلسل گریہ و زاری سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں  خوبصورت چہرے پر پھیلے حزن و ملال نے اس کے وجود پر ایک ایسا دلگیر سوز طاری کر دیا تھا اتنی گہری سنجیدگی پھیل گئی تھی کہ اماں جان بھی اس سے سختی سے پیش نہ آ سکی تھیں بلکہ ان کے چہرے پر بھی افسردگی تھی  پری کی دلی کیفیت سے وہ اچھی طرح آگاہ تھیں۔

”پری! میں تم سے کہہ رہی ہوں بیٹا! لیٹ جاؤ آکر۔ اس طرح بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ کر رہ جائے گی۔ جو ہوا بہت برا ہوا  میں جانتی ہوں جو تمہارے دل پر بیت رہی ہے مگر یہی تاکید کروں گی وہ سب بھول جاؤ۔“ وہ بستر پر بیٹھ کر اس سے مخاطب ہوئی تھیں۔
”بھول جاؤں  کس طرح بھول جاؤں دادی جان! ایسا کوئی ہی دن گزرا ہوگا جو مجھے میری ممی کے حوالے سے طعنے نہ ملتے ہوں  میری بے عزتی نہ کی جاتی ہو۔

“ آنسو پھر اس کے چہرے کو بھگونے لگے تھے تیزی سے۔
اس کی آواز میں شدید درد تھا۔
تڑپ تھی  دکھ و رنج تھا۔
عجیب بے بسی و لاچاری تھی۔
”میری ممی کے کردار کے حوالے سے مجھے برا کہا جاتا ہے  مجھے یہ تو بتائیں دادی! ممی میں آپ نے کیا بدکرداری دیکھی تھی؟ کیا تھا ان کے کردار میں ایسا جھول؟ کیا گناہ کیا تھا انہوں نے ایسا جس کی سزا آج تک مجھے بھگتنی پڑ رہی ہے؟“
”ایسی کوئی بات نہیں ہے پری! تمہاری ماں کردار کی بھی نیک تھی اور زبان کی بھی اچھی تھی۔

”پھر کیوں مجھے سولی پر لٹکایا جاتا ہے ان کی ذات کو نشانہ بنا کر کس لئے بار بار مجھے سنگسار کیا جاتا ہے؟“ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی اماں کی آنکھوں میں خود نمی تھی  زبان ان کی پتھر کی مانند ہو گئی تھی۔
کیا جواب دیتیں  کیا بتاتیں کہ جھوٹی انا کی تسکین کیلئے وہ بیٹیوں کی باتوں میں آ کر بیٹے کا گھر اپنے ہی ہاتھوں تباہ کر بیٹھی تھیں اور اس وقت وہ حکمراں تھیں  سیاہ وسفید کی مالک تھیں۔

ہر جابر اور ظالم حکمراں کی طرح ان کو بھی یہ خیال نہیں تھا کہ ہر عروج کو زوال ہے  ناؤ کے پتوار ہمیشہ ایک ملاح کے ہاتھ میں نہیں رہتے  ناؤ وہی رہتی ہے مگر ملاح بدل جاتے ہیں اور آج وہ اس گھر میں ہی تھیں بظاہر تو حکمراں وہ ہی تھیں لیکن معزول حکمران تھیں  جو لوگ وقت پر درست فیصلے نہیں کرتے وہ ان کی طرح وقت گزرنے کے بعد پچھتاتے ہیں اور یہ پچھتاوے حسرتیں بن کر قبر تک ان کا پیچھا کرتے ہیں۔

وہ آہستہ آہستہ اٹھ کر اس کے قریب آکر بیٹھیں اور ہاتھ جوڑ کر اس سے مخاطب ہوئیں۔
”مجھے معاف کر دے پری! میں تیری گناہ گار…“
”یہ… یہ کیا کر رہی ہیں دادی جان آپ؟“ اس نے بوکھلا کر ان کے ہاتھ پکڑ لئے تھے۔
”مثنیٰ  فیاض اور تمہاری زندگی میری وجہ سے خراب ہوئی ہے اگر اس وقت میں صرف تمہارا ہی خیال کر لیتی تو شاید تم پر کوئی انگلی نہ اٹھاتا  تم اس طرح خود کو تنہا نہیں سمجھتیں  اللہ گواہ ہے پری! میں نے یہی کوشش کی کہ تم کو کبھی ماں کی کمی کا احساس نہ ہو  چاروں بچوں سے زیادہ تم کو چاہا۔

“ پھر گہری سانس لے کر افسردگی سے بولیں۔
”ماں کی محبت کوئی نہیں دے سکتا  یہ حقیقت مجھے آج معلوم ہوئی ہے  ماں پھر ماں ہی ہوتی ہے۔“
”اٹھیں دادی جان! آپ کیوں نیچے بیٹھی ہیں پہلے ہی آپ کے گھٹنوں میں درد ہے۔“ وہ رونا بھول کر انہیں سہارا دیتی ہوئی اٹھانے لگی تھی۔
”آج تو میرا کلیجہ چھلنی ہو گیا ہے پری! صباحت سے تو میں کبھی خیر کی توقع ہی نہیں کرتی مگر معلوم نہ تھا میری بیٹیاں بھی اسی شر کا حصہ ہیں نامعلوم کیوں ان کا خون سفید ہو گیا ہے؟“ وہ اس کے سہارے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے آزردگی سے گویا ہوئیں۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط