Episode 72 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 72 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”کل تم بھاگ کر آ گئیں میرے ڈریس چینج کرکے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا؟“ راحیل کی آواز سیل سے ابھری۔
”اوہ! بہت جلدی خیال آ گیا جناب کو؟“ عائزہ نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
”یہ میری عادت ہے اتنی جلدی خیال کرنے کی۔“
”شٹ اپ! پورا ایک دن گزرنے کے بعد پوچھ رہے ہو تم اور میں کل ساری رات انتظار کرتی رہی  تمہاری کال کا اور آج دن بھی گزر گیا اور اب تمہیں خیال آ رہا ہے؟“
”اوہ میری جان! ناراض کیوں ہوتی ہے۔

“ اس کی مسکراتی آواز میں یک دم ٹریجڈی ابھر آئی تھی۔
”کل واش روم میں پاؤں سلپ ہو گیا تھا  اتنا درد تھا کہ سکون ہی نہ مل سکا۔ پورا دن بہت شدید درد تھا۔“
”اوہ سوری! کہیں فریکچر تو نہیں ہوا ہے؟“
”نہیں  بچت ہو گئی۔“
”درد ابھی بھی ہے؟“ وہ لمحے بھر میں خفگی بھو گئی۔

(جاری ہے)

”تم سے بات کرنے سے پہلے ہو رہا تھا۔ اب نہیں ہے۔

”میری باتیں کیا تمہارے لئے پین کلر ہیں؟“ عائزہ کا لہجہ محبت کے خمار میں بھیگا ہوا تھا۔
”تم میرے ہر درد کی دوا ہو یار! کس طرح میں بتاؤں تمہیں کہ تم میرے لئے کیا ہو؟“ وہ گنگنایا۔
”اوہ مائی گاڈ! اب شاعری مت شروع کر دینا پلیز۔“ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
”ہنس لو جتنا ہنس سکتی ہو میرے جذبات پر ہنس لو۔“ دوسری طرف سے ایک گہری آہ بھر کے کہا گیا۔

”مائی گاڈ! میں تم پر کیوں ہنسوں گی بلکہ میں تو بہت خوش ہوں کہ تم مجھ سے اتنی محبت کرتے ہو۔“ اس نے تڑپ کر اس کی غلط فہمی دور کی تھی۔
”پھر کب آ رہی ہو ملنے؟“
”معلوم نہیں اتنی جلدی موقع تھوڑی ملتا ہے گھر سے نکلنے کا۔ کل کوئی گھر میں نہیں تھا تو ہم آ گئے تھے۔“
”میں کب تک تمہارا انتظار کروں یار! کچھ میری حالت پر رحم کھاؤ  میں لمبی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔

”تمہارے خیال میں  میں خوش ہوں تم سے دور رہ کر؟“ وہ اداس غمگین لہجے میں بولی۔
”چھوڑ دو گھر کو  ایسے گھر میں رہنے کا فائدہ ہی کیا؟ جہاں اپنی مرضی سے تم کہیں آ  جا نہیں سکتیں۔“ بہت محبت بھرے انداز میں اس کو اکسایا تھا۔
”میں کب خوشی سے اس جہنم میں رہ رہی ہوں۔“ اس کی ہمدردی پر اس کی آواز نم ہونے لگی۔
”اس دن اس گھر کوہمیشہ کیلئے چھوڑنے کی خاطر ہی میں یہاں سے نکلی تھی  جو طغرل نے سارا پلان مٹی میں ملا دیا تھا اور جب سے ہی وہ میری نگرانی کرنے لگا ہے۔

”اس کا گیم میں بجانے والا ہوں ۔ تم صرف تھوڑا انتظار کرو۔“
”نامعلوم کب کرو گے میں اس کو بڑی مشکل سے اپنے گھر میں برداشت کر رہی ہوں۔“
عادلہ روم میں داخل ہوئی تھی اور کہنے تھی۔
”بس بند بھی کر دو ممی آ رہی ہیں ادھر۔“
”اوہ ممی کو بھی ابھی ہی آنا تھا  کچھ دیر بعد نہیں آ سکتی ہیں  جا کر کہو نا ان سے وہ کچھ دیر بعد آئیں۔

“ اس کو سخت غصہ آ رہا تھا اس کی مداخلت پر۔“
”دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟“ عادلہ نے غصے سے اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر آف کرتے ہوئے اس سے بھی زیادہ غصے سے کہا۔
”کیا کہوں گی ممی سے کہ تم راحیل سے محبت کی پینگیں بڑھا رہی ہو اور وہ آ کر تمہیں ڈسٹرب نہ کریں۔“
”ہونہہ… تم تو ہو ہی میری دشمن  تم بھلا کہاں مجھے خوش دیکھ سکتی ہو۔

“ وہ سخت بدظن تھی۔
”اگر ایسا ہوتا تو میں کیوں تم کو آکر بتاتی ممی کے آنے کا۔ زبان کھولنے سے پہلے تھوڑا سوچ لیا کرو۔“
”خیر  ممی اتنی بھی ہٹلر نہیں ہیں جو راحیل سے بات کرتے دیکھ کر میرا گلا دبا دیں۔“ اس نے موبائل فون وارڈ روب میں رکھتے ہوئے کہا۔
”جہاں ممی کے میکے کی بات آتی ہے اور اسپیشلی تمہارے فیانسی کی تو وہ ہٹلر ہی بن جاتی ہیں سمجھیں تم؟“
”ارے کیا سمجھایا جا رہا ہے ذرا مجھے بھی تو معلوم ہو؟“ وہ اندر آتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوئی تھیں۔

”آئیں ممی! یہاں بیٹھیں۔“ عائزہ کی تمام بے زاری و غصہ ہوا ہو گیا تھا۔ وہ پیچھے ہی سب کی برائی کرتی تھی منہ در منہ بات کرنے کا حوصلہ نہیں تھا  بہت محبت سے صباحت کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بٹھایا تھا۔
”ممی! کل کی پارٹی کیسی رہی؟ پاپا بہت ٹائم بعد آپ کو کسی پارٹی میں ساتھ لے کر گئے تھے۔“
”ساتھ وہ چڑیل بھی تو گئی تھی۔ پاپا کو بہت اس کی محبت بے چین کرنے لگی ہے  پہلے تو اس کی طرف کبھی دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ پارٹی میں بھی ساتھ لے گئے اس کو۔

“ عادلہ نے ماں کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔
”یہ بات تو میں بھی فیل کر ہی ہوں  دادی جان کے بعد پاپا بھی پری کو اہمیت بہت دینے لگے ہیں۔“
”وہ تو اس سے شروع سے ہی پیار کرتے ہیں  بس یوں سمجھو جتانے کا حوصلہ نہ تھا ان میں اور گزرتے وقت نے وہ حوصلہ بھی فراہم کر دیا ہے  آخر کار وہ ان کی محبت کی نشانی ہے ان کی چہیتی محبوبہ کے بطن سے جنم لیا ہے اس نے۔

“ صباحت کے لہجے میں سخت جلاپے کا دھواں تھا۔
”ممی! کوئی بات ہوئی ہے؟ آپ پارٹی سے آئی ہیں تو کسی ڈپریشن میں لگ رہی ہیں؟“ عادلہ نے پریشانی سے دریافت کیا تھا۔
”جب سے فیاض سے رشتہ جڑا ہے تب سے زندگی میں ٹینشن کے علاوہ ملا ہی کیا ہے۔ مثنیٰ نے میرا حق ابھی تک غصب کیا ہوا ہے تو دوسری طرف پری میری بیٹیوں کے رشتے میں کسی مضبوط دیوار کی مانند حائل ہو جاتی ہے۔

”اب کیا کر دیا ہے اس نے؟ کس پرپوزل کی بات کر رہی ہیں آپ؟“
”کل رات پارٹی میں عابدی بھائی کے بیٹے سے ملاقات ہوئی  میں تو دیکھتی رہ گئی ہے بے حد ہینڈسم اسمارٹ اور خوش مزاج دو بہنوں کا اکلوتا بھائی  عابدی بھائی کی تمام دولت و جائیداد کا تنہا وارث میں نے تو دیکھتے ہی اس کو اپنی عادلہ کیلئے پسند کر لیا تھا مگر وہ…“
”ممی! آپ ہر کسی کو میرے لئے پسند کر لیتی ہیں؟“ عادلہ نے منہ بنا کر احتجاجاً کہا تھا۔

”ارے وہاں تو پارٹی میں موجود تمام بیگمات اپنی بیٹیوں کو بڑھ چڑھ کر اس سے ملوا رہی تھیں اور لڑکیاں اس کے گلے کا ہار بننے کو مری جا رہی تھیں ایک وہ تھا کہ پری کے سوا اس کو کوئی لڑکی ہی نہیں بھا رہی تھی۔“
”اچھا اور پری تو پھولوں نہ سما رہی ہو گی؟ پاپا کو دکھاتی نہ آپ کی ان نیک پارسا بیٹی کے کارنامے نامعلوم کس طرح ایک جھلک میں ہی مردوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے وہ۔

”بات تو ایمانداری کی یہ ہے کہ وہ شیری سے ذرا بے تکلف نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے چہرے کی ناپسندیدگی دور سے بھی محسوس ہو رہی تھیں اور وہ تو گویا دیوانہ بن گیا تھا پری کو دیکھنے کے بعد اس نے کسی لڑکی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا اور پری کے آنے کے بعد وہ پارٹی چھوڑ کر چلا گیا تھا حالانکہ مسز عابدی نے اسے بے حد روکنا چاہا تھا۔

وہ دونوں بیٹیوں کے چہروں کو بغور دیکھ رہی تھیں شاید وہ یہ محسوس کرنا چاہتی تھیں ان کی بیٹیوں کے چہروں پر وہ ملاحت آمیز دلاویزی و رعنائی اور معصومیت جھلکاتا وہ حسن کیوں نہیں ہے جو پری کے چہرے سے  اس کے سراپا سے نمایاں ہوتا ہے جو ہر ایک کو اپنی طرف لمحے بھر میں متوجہ کر لیتا ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ خوبصورت نہیں تھیں ان کی بیٹیوں کا بھی شمار خوبصورت لڑکیوں میں ہوتا تھا فرق صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو ممتا دی تھی  اس گھر میں انہیں وہ اعتماد ملا تھا جو والدین کی موجودگی سے بچوں کو ملتا ہے اور پری اس اعتماد سے محروم تھی۔

یہی محرومی حزن بن کر اس کی شخصیت پر چھا گئی تھی اور اسے سنجیدگی و تکلف کے خول میں مقید کر گیا تھا  اس کا یہ اجتناب و گریز صنف مخالف کیلئے پرکشش تھا تو صباحت جیسے لوگوں کیلئے باعث صدمہ تھا۔
”آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں ممی! اب ایسا بھی کوئی اس دور میں عاشقانہ مزاج نہیں رکھتا کہ ایک ہی نظر میں محبت کرنے لگے  کسی سے اور وہ بھی پری سے۔

“ عائزہ نے بے پروائی سے کہا۔
”یہی تو بات ہے جو میری بھی سمجھ میں نہیں آتی ہے اس سوکھی سڑی لڑکی میں ایسی کیا کشش ہے جو لوگ کھنچے جاتے ہیں اس کی طرف  طغرل کو پہلے اس نے اپنے چنگل میں کیا اور اب وہ شیری!“
”آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ممی! جس طرح لوگ اس کی طرف بڑھتے ہیں جب ان کو حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس کی ممی کو طلاق ہو چکی ہے سن کر دور ہٹ جاتے ہیں  ہمارے معاشرے میں نہ بیوہ کی اور نہ ہی طلاق یافتہ عورت کی کوئی عزت اور وقار ہے۔

“ عادلہ نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا۔
###
اماں جان کو بالکل بھی توقع نہ تھی کہ مذنہ اس طرح ان کو ٹکا سا جواب دے دیں گی  ان کے دل میں پہلے دن سے ہی آرزو تھی  پری کو طغرل کی دلہن بنانے کی  اس ارمان کو پالنے میں ایک دو دن نہیں کئی سال لگے تھے۔
جس کا جواب چند لمحوں میں ان کو مل گیا تھا اور وہ اندر ہی اندر کسی کانچ کی طرح ٹوٹ کر بکھر گئی تھیں وہ اگر من مانی کرنے والی ساس کی طرح ہوتیں تو مذنہ سے بالا ہی بالا اپنے بیٹے سے اپنی اس خواہش کا اظہار کر سکتی تھیں اور ان کو یقین تھا وہ ماں کی بات کبھی رد نہیں کرتے اور مذنہ کی مجال نہ تھی ان کے آگے منہ کھولنے کی  مگر وہ چاہتی تھیں ان کی پری سسرال میں وہ تمام محبتیں و پیار وصول کرے  جو خوشی خوشی بیاہ کر لے جانے والے لوگ اپنی بہو کو دیتے ہیں۔

”دادی جان! چائے لاؤں آپ کیلئے؟“ پری جو ان کو خاصی دیر سے سوچوں کی عمیق گہرائیوں میں غوطہ زن دیکھ رہی تھی قریب آکر استفسار کرنے لگی۔
”ہوں… چائے؟ رہنے دو جی نہیں چاہ رہا ہے۔“
”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا دادی جان! کل رات سے آپ مجھے بے حد پریشان لگ رہی ہیں  کیا بات ہے؟“ وہ متفکر سی ان کے قریب بیٹھ کر گویا ہوئی۔
”ٹھیک ہوں  میری کسی سے کیا بات ہو گی بیٹی؟“
”کوئی بات ضرور ہے دادی جان! آپ کچھ چھپا رہی ہیں میں کل گئی تھی تو آپ بہت خوش تھیں اور واپسی پر بالکل ہی خاموش تھیں آپ۔

آپ نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ پارٹی کیسی رہی؟ وہاں جا کر مجھے کیسا لگا؟ وہ لوگ کیسے تھے؟“ وہ بضد ہوئی تو اماں کو بھی احساس ہوا کہ ان کی دلگرفتہ و افسردہ کیفیت پری کو بے چین کر رہی ہے قبل اس کے کہ وہ صورت حال کی تہہ تک پہنچے انہیں خود کو سنبھال لینا چاہئے۔
”مجھے کہہ رہی ہو تم خود کو تو دیکھو جب سے آئی ہو  چپ چاپ ہو کیا وہاں کسی سے جھگڑا ہوا ہے تمہارا؟“ وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

”جی ہاں دادی جان! جھگڑا ہوا تھا میرا…“
”ارے جھگڑے ہوا تھا سچ مچ  مگر کس سے بھئی؟“ وہ شدید ورطہ حیرت میں مبتلا ہوئی تھیں۔
”عابدی انکل کے بیٹے سے  اس نے بنا اجازت میری تصویریں لی تھیں  میں تو اس کے تھپڑ لگانے والی تھی وہ تو آنٹی اور نائلہ آپی وہاں آ گئی تھیں  اس لئے بچ گیا وہ۔“ اس کے لہجے میں بے زاری و ناپسندیدگی ابھی بھی موجود تھی۔

”تمہاری تصویریں بنائی ہیں اس نے مگر کیوں؟“
”معلوم نہیں اس نے ایسی گھٹیا حرکت کیوں کی ہے؟ میں نے آنٹی سے شکایت کی ہے اس کی تو وہ کہنے لگیں میں پریشان نہیں ہوں  وہ میری تصویریں جلد مجھے دے دیں گی۔“
”لو بھئی یہ طریقے تو اچھے لوگوں کے نہیں ہوتے ہیں۔“ برا تو ان کو بھی لگا مگر اس کو تسلی دیتے ہوئے بولیں۔
”تم فکر مت کرو  اب تودستور ہی بدل گئے ہیں جو باتیں پہلے فضول اور عیب سمجھی جاتی تھیں  وہ اس بدلتے دورمیں اچھائی میں شمار ہوتی ہیں  اس لڑکے کی نیت میں کھوٹ نہیں ہوگا  وہ جانتا ہے تم فیاض کی بیٹی ہو اور فیاض کی وہ لوگ بے حد عزت کرتے ہیں۔

چند دن صبر سے بیٹھ جاؤ اگر تصویریں نہ آئیں تو میں اپنے ہاتھوں سے اس کے وہیں جا کر جوتے لگاؤں گی اور ایسے لگاؤں گی کہ ساری زندگی اس کو یاد رہیں گے۔“
”ٹھیک ہے دادی جان! میں آپ کیلئے چائے لاتی ہوں۔“
کمرے کے باہر سے قدموں کی آہٹیں گونج رہی تھیں اور وہ جانتی تھی آنے والا کون ہے  اس کے آنے سے پہلے وہ یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی سو گیلری والے دروازے سے وہ تیزی سے نکل گئی تھی۔

”یہ کس بدبخت کو جوتے لگانے کی پلاننگ ہو رہی ہے دادی!“ اس نے کمرے میں قدم رکھا تھا اور پری کمرے سے باہر  مگر اس کی نگاہوں سے تیزی سے نکلتی پری کا دھانی آنچل اوجھل نہ رہ سکا تھا وہ متجسس سا ان کے قریب بیٹھ گی تھا۔
”کل رات جب تم بہو کے ساتھ گئے ہوئے تھے تب ہی فیاض بھی صباحت اور پری کو اپنے ساتھ اپنے دوست کے ہاں تقریب میں لے گیا میں تو فیاض کو بیٹی کی طرف واپس آتے دیکھ کر بہت خوش ہوں وگرنہ وہ پری کو ایک نگاہ دیکھتا بھی نہیں تھا۔

”عائزہ اور عادلہ بھی گئی تھیں انکل آنٹی کے ہمراہ؟“ وہ قدرے چونک کر گویا ہوا تھا۔
”نہیں وہ کسی سہیلی کی سالگرہ میں گئی تھیں۔“
”کس سہیلی کی؟ کس جگہ دادی جان!“ طغرل کو عائزہ پر بالکل اعتماد نہیں تھا۔
”اللہ جانے بیٹا! کہاں کہاں اور کس کس جگہ پر ان لڑکیوں نے سہیلیاں بنائی ہوئی ہیں  فیاض تو بہت نگرانی کرنے والا باپ ہے مگر وہ صباحت کی بے پروائی ہے ساری جو فیاض سے بلا اجازت ہر جگہ جوان جہان بچیوں کو بھیج دیتی ہے۔“ اس کی سوچوں سے بے خبر وہ بولے جا رہی تھیں۔“ اتنا نازک وقت آ گیا ہے شرافت و لحاظ مروت کا دور ہی نہیں رہا۔ کل پارٹی میں عابدی کے بیٹے نے بنا اجازت پری کی فوٹو اتار لیں۔“
”جی! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟“

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط