Episode 74 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 74 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
کہاں کہاں پر لٹے ہو شمار مت کرنا
مگر کسی پر بھی اب اعتبار مت کرنا
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر
سفر سفر ہے‘ میرا انتظار مت کرنا
عشرت جہاں کمرے میں آئیں تو مثنیٰ گہری سوچوں میں گم تھیں۔ ایک نظر ان پر ڈال کر وہ قریب بیٹھتے ہوئے گویا ہوئی تھیں۔
”کیا سوچ رہی ہو مثنیٰ!“ وہ ان کے انداز پر پلٹی نہیں تھیں بلکہ ان کی نگاہیں ہنوز خلاؤں میں مرکوز رہی تھیں۔

”سوچوں کا لامتناہی سلسلہ ہے ممی! کہاں تک پوچھیں گی اور میں کہاں تک آپ کو بتا پاؤں گی؟“
”تم بتاؤ بیٹا! میں تھکنے والی نہیں ہوں۔ تمہاری ہر بات میں پوری توجہ و انہماک سے سنوں گی۔“ اس گریہ و زاری سے سوجی ہوئی آنکھیں اور پژمردہ چہرہ بتا رہا تھا وہ سخت اضطراب و تکلیف میں ہے۔

(جاری ہے)

مثنیٰ نے شدت گریہ سے سرخ نگاہیں اٹھا کر ان کو دیکھا تھا۔

ان کے چہرے پر نرمی  شفقت اور محبت تھی وہ سراپا ایثار و قربانی اور مہرباں تھیں۔ ایک ماں جس کی ہر ادا سے مہربانی و پیار چھلکتا ہے۔ آن واحد میں ان کی نگاہوں میں ماضی کے کچھ مناظر ابھرنے لگے تھے۔
”اب کیا بیٹھ کر آنسو بہا رہی ہو؟ کتنا سمجھایا تھا تمہیں  شادی مت کرو اس ٹٹ پونجئے سے وہ کسی طور پر تمہارے قابل نہیں ہے۔“ پیشانی پر بے شمار شکنیں لئے بگڑے تیوروں سے عشرت جہاں کے سخت لہجے میں معمولی سی بھی لچک نہ تھی۔

”ممی پلیز! فیاض کی محبت میں کوئی کمی نہیں ہے وہ مجھ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں ان کی محبت ہی چاہئے مجھے بس۔“
”اس کی ماں بہنیں جو تم کو جوتی کی نوک پر رکھتی ہیں؟“
”فیاض کی محبت کے آگے وہ کچھ نہیں ہے۔“
”پھر اس طرح رونے کا مقصد کیا ہے تمہارا؟“
”فیاض مجھے یہاں ڈراپ کر گئے ہیں تو آپ اپنے روم سے باہر ہی نہیں آئیں اور تو اور کسی ملازم نے ان کو کولڈ ڈرنک تک کا بھی نہیں پوچھا وہ اتنے فراخ دل ہیں کہ ان باتوں کا خیال بھی نہیں کریں گے مگر ممی! میں جانتی ہوں اس گھر کی روایت ہے کسی مہمان کو بھی بنا خاطر و تواضع کے جانے نہیں دیا جاتا ہے اور اس گھر کے اکلوتے داماد کے ساتھ فقیروں سے بھی بدتر سلوک جاتا ہے اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہے ممی! آپ نے ہی ملازموں کو منع کیا ہے جو وہ فیاض کو ایک گلاس پانی بھی پوچھنا گوارا نہیں کرتے۔

میں اس بے عزتی پر روؤں بھی نہیں؟“ وہ تنے ہوئے ابرو اور اکڑی ہوئی گردن والی ماں کی طرف دیکھ کر بے حد خفگی سے گویا ہوئی تھیں۔
”میں نے اس کم حیثیت شخص کو نہ کبھی داماد سمجھا ہے اور نہ ہی سمجھوں گی ۔ تم خواہ کچھ بھی کہو ۔ میرے دل میں صرف اور صرف صفدر جمال کی محبت ہے اور وہ اب بھی تمہارے انتظار میں ہے۔“
”صفدر جمال! کیا ہے ممی اس کے پاس؟“ وہ طنزیہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔

”دولت ہے ۔گ اسٹیٹس ہے ۔ بزنس مین ہے وہ ۔ کروڑوں میں کھیلتا ہے تمہیں وہ تمام خوشیاں دے سکتا ہے جو فیاض سپنے میں بھی نہیں دے سکتا۔ ابھی بھی وقت ہے سوچ لو ۔ کل وقت بدلنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے پھر میں تمہاری ماں ہوں کوئی دشمن تو نہیں۔“ ان کے سخت لہجے میں معمولی سی لچک بیدار ہوئی تھی۔
”آپ ماں ہیں مگر کام دشمنوں والا کر رہی ہیں یہ بھی آپ کی خوش فہمی ہے کہ میں فیاض کے سوا کسی اور کے ساتھ خوش رہی سکتی ہوں ۔

فیاض جو خوشیاں مجھے دیتا ہے صفدر نہیں دے سکتا پھر صفدر کے پاس صرف دولت ہے ۔ نہ کردار ہے نہ اخلاق  سوسائٹی میں کسی نہ کسی کے ساتھ وہ اسکینڈ لائز رہتا ہے۔“
”یہی تو مردانگی ہے لڑکیاں خود مرتی ہیں اس پر۔“ وہ فخریہ لہجے میں گویا ہوئیں۔
”مجھے ایسی مردانگی نہیں چاہئے ممی! جہاں بیوی یہی سوچ سوچ کر کروٹیں بدلتی ۔ جلتی رہے کہ نامعلوم میرا مرد کس عورت کے ساتھ ہوگا ۔

ایسی دولت سے کسمپرسی بہتر ہے۔“
”ہونہہ! مڈل کلاس فیملی کی بہو بن کر تم اپنا اسٹیٹس ہی بھول بیٹھی ہو میں ماسوائے تم پر ترس کھانے کے اور کروں کیا۔“ وہ غصیلی نگاہ اس پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی تھیں۔
”کیا دیکھ رہی ہو اس طرح بیٹا! کیا سوچ رہی ہو؟“ وقت نے ان کے اعصاب کمزور کر دیئے تھے۔  بڑھاپے نے کمزوری عطا کی تھی وہ اپنے کانپتے ہاتھ اس کے شانے پر رکھتے ہوئے گویا ہوئیں تو وہ بھی ماضی کے جھروکوں کو بند کرکے ان کی طرف پلٹی تھی۔

”کبھی ہم جن خواہشوں کو حاصل کرنے کی دعائیں کرتے ہیں  جن کے پورے ہونے کی منتیں مانگتے ہیں اور جب وہ پوری ہوتی ہیں تو وقت گزر گیا ہوتا ہے  خواہشیں مدفن ہو جاتی ہیں اور جب دل خواہشوں سے خالی ہو جاتا ہے تو وہ دل نہیں رہتا  گوشت کا صرف ایک بے ہنگم سا لوتھڑا ہوتا ہے جس میں رواں دواں دھڑکنیں زندگی کا پتا دیتی ہیں  صرف زندہ ہونے کا پتا۔

“ وہ ان کے ہاتھ تھامے جذب کے عالم میں کہہ رہی تھیں۔
”ممی! اگر آپ کی ممتاز پہلے ہی جاگ جاتی اور آپ میرے اور فیاض کے رشتے سے کمپرومائز کر لیتیں تو آج ہم سب کی زندگی بہت پرسکون اور خوشیوں سے بھرپور ہوتی۔“
”آہ… ہا! یہ دکھ تو مجھے مرتے دم تک رہے گا مثنیٰ! مگر اللہ گواہ ہے میں نے جو کچھ بھی کیا تمہارے بہترین مستقبل کیلئے کیا ہے۔

”لیکن آج بھی مجھے صفدر کے ہزار گز کے بنگلے میں وہ سکون وہ خوشی نہیں ملی جو فیاض کے چند گز کے بنے اس گھر میں ملتی تھی۔ معلوم ہے آپ کو کل مجھے شاپنگ سنٹر سے نکلتے ہوئے فیاض ملا تھا۔“ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بھرائے لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
”اوہ… کیسا ہے وہ؟ تم سے بات کی اس نے؟“
”ہاں بڑے منت بھرے انداز میں مجھے کیفے لے گیا کافی کیلئے۔

وہ بہت بدل گیا ہے ممی! اس کی شخصیت چینج ہو گئی ہے۔ وہ ہنسنے ہنسانے والا بندہ بالکل ہی سنجیدہ و خاموش ہو گیا ہے  ایسا محسوس ہوتا ہے گویا مسکراہٹ اس سے روٹھ گئی ہے۔“
###
نہ نیند آئی نہ خواب آئے
ہم رات یونہی گزار آئے
نہ بات بنی نہ جواب آئے
ہم سوال سارے سن آئے
عجیب نگاہیں تھیں اجنبی کی
جیسے صحرا گھوم آئے
ہنسنے کا انداز تھا ایسا
جیسے کہیں پھول مسکائے
پل دو پل کے ساتھ میں دیکھو
ہم اپنا آپ ہی بھول آئے
”شیری… شیری…!“ مسز عابدی پکارتی ہوئی اس کے روم میں آئی تھیں۔

”یس مما! کم ان  دیکھیں کس قدر اچھی تصویریں ہیں۔“ اس کے آگے پری کی تصویریں بکھری تھیں کچھ تصویروں میں وہ ماحول سے بے نیاز خلاؤں میں گم تھی اور کچھ میں وہ چیئر سے اٹھ کر بڑے اشتعال بھرے انداز میں آگے بڑھ رہی تھی اس کے ہر انداز میں ایک رعنائی و کشش تھی۔ شیری دلچسپی سے ایک ایک تصویر کو دیکھ رہا تھا  مسز عابدی بھی قریب آکر تصویریں دیکھنے لگیں۔

”سوپریٹی!“ وہ تمام تصویریں ہاتھ میں لیتی ہوئی گویا ہوئیں۔
”فیاض بھائی کی یہ بیٹی تو چاند کا ٹکڑا ہے  چاند کا ٹکڑا۔“
”مما! ٹکڑا نہیں ہے  فل چاند ہے وہ۔“ وہ ایک تصویر ہاتھ میں لے کر ستائشی لہجے میں گویا ہوا۔
”ٹھیک ہے اب یہ ساری تصویریں آپ مجھے دے دیجئے  میں فیاض بھائی کے ہاں جا کر پری کو دے آتی ہوں۔“
”لے جائیں آپ یہ تصویریں لیکن ایک کاپی میرے پاس رہے گی  یہ میں نے ایکسٹرا بنوائی ہیں۔

“ وہ تیزی سے تصویروں کی ایک سیریل علیحدہ کرتے ہوئے گویا ہوا۔
”یہ اچھی بات نہیں ہے بیٹا! آپ کو یہ تمام واپس کرنی ہوں گی  آپ بغیر اجازت یہ تصویریں نہیں رکھ سکتے۔“
”کیوں مما؟ آپ جانتی ہیں یہ تصویریں میں آپ کو نہیں دوں گا  یہ میرے پاس البم میں سیوڈ ہوں گی۔“ اس کے انداز میں قطعیت ضد تھی۔
”میری جان! سمجھنے کی کوشش کرو  یہاں کی سوشل ویلیوز ہیں کچھ  ہر فیملی کا بیگ گراؤنڈ ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔

دیکھیں ہمارے ہاں یہ سب معیوب نہیں سمجھا جاتا  ہماری فیملی ماڈل اینڈ لبرل ہے جب کہ فیاض بھائی کی فیملی کنزرویٹو ہے  آپ نے دیکھا تھا خود پری کاری ایکشن جب آپ نے اس کی بغیر اجازت تصویریں لی تھیں  کبھی کسی لڑکی نے آپ کو اس طرح کا بیڈ رسپونس دیا ہے؟“ وہ مسکراتے ہوئے استفسار کر رہی تھیں۔
”اس پر سوٹ بھی کرتا ہے یہ اسٹائل  خوبصورت لوگ اگر مغرور نہ ہوں تو اچھے نہیں لگتے ہیں۔“ اس کے انداز میں شوخی تھی۔
”پلیز بی سیریس! مجھے یہ تمام تصویریں چاہئیں اور اس معاملے میں کوئی ایکسکیوز نہیں سنوں گی  سمجھ گئے؟“

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط