Episode 79 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 79 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”گیٹ بند کرکے آ رہی ہوں۔“ اس نے عادلہ کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
”تم میں طاقت نہیں رہی طغرل سے مقابلہ کرنے کی؟“ وہ تنہائی پاتے ہی اس سے سخت شکایتی انداز میں گویا ہوئی۔
”بزدلی کا طعنہ مت دو، بہت طاقت ہے میرے بازوؤں میں ابھی۔“ وہ غرا کر گویا ہوا۔
”پھر کیوں وہ ابھی تک زندہ پھر رہا ہے؟“
”چند دن انتظار کرو، ابھی ایک دوست کے سلسلے میں پولیس سے مجھے دور رہنا پڑ رہا ہے یہ معاملہ حل ہوتے ہی میں سب سے پہلے اپنے راستے میں آنے والی اس دیوار کو گرا دوں گا۔

گیلری میں وہ اس کو تسلیاں دینے میں لگا ہوا تھا اور اندر کمرے میں بیٹھی عادلہ کو وہ عجیب و غریب دبی دبی سی سرگوشیاں پھر سنائی دینے لگی تھیں جو پہلے بھی اسے سنائی دی تھیں اور وہ خوفزدہ ہو کر وہاں سے عادلہ کے ساتھ چلی گئی تھیں۔

(جاری ہے)

اب بھی وہی گھٹی گھٹی آوازیں تھیں۔ اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا خشک موسم میں بھی وہ پسینہ پسینہ ہو گئی تھی۔

اس نے خوفزدہ نگاہوں سے درو دیوار کو دیکھا جہاں ہر چیز جڑی و بے ترتیب تھی اور نیم تاریک کمرے میں سب کچھ آسیب زدہ، وحشت زدہ لگ رہا تھا۔ ہر گزرتے پل کے ساتھ اس کو لگ رہا تھا وہ سرگوشیاں تیز ہو رہی ہیں۔ اس نے بھاگنا چاہا نہیں بھاگ سکی عائزہ کو پکارنا چاہا۔
حلق خشک ہو گیا زبان تالو سے چپک کر رہ گئی۔
وہ گھٹی گھٹی سرگوشیاں اتنی بلند ہونے لگیں گویا ہر سمت سے وہ آوازیں آنے لگی تھیں اس کی نگاہوں میں دادی جان کا چہرہ آیا ان کی قرأت کرتی نرم آواز سماعتوں میں گونجنے لگی گویا برق سی لہرائی اور وہ ایک دم اٹھ کر آوازوں کی سمت چل پڑی۔

###
”یہ… کیا کہہ رہے ہیں آپ ساحر۔“
”جو تم نے سنا وہی کہہ رہا ہوں، مجھے کچھ نہیں چاہئے۔“
”مگر کیوں؟ میرے پاس جو زیورات ہیں ان کی قیمت لاکھوں…!“
”اوہ، تم کیا مجھ کو اتنا گیا گزرا گرا ہوا آدمی سمجھتی ہو؟ میں ان معمولی سی جیولری کا کیا کروں گا ڈیئر؟“ اس کے نرم لہجے میں یک دم ہی محبت کی خوشبو مہک اٹھی تھی۔

”میرے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔“
”ساحر، پلیز میں خالی ہاتھ نہیں آنا چاہتی۔ پھر اس جیولری پر میرا حق ہے یہ میرے لئے ہی بنوائی گئی ہے میں کس طرح اپنے حق کو چھوڑ دوں؟ پھر کل کو ہمارے درمیان کبھی لڑائی ہو توآپ یہی طعنہ دیں گے میں خالی ہاتھ آئی تھی آپ کے پاس۔“ وہ روانی سے بولتی چلی گئی دوسری طرف سے ابھرنے والے بے ساختہ قہقہے نے اس کو خاصا کنفیوژ کر دیا اور چپ ہو گئی۔

”مائی گاڈ! تم مجھ سے لڑنے کی پلاننگ بھی کر چکی ہو۔“
”پلاننگ تو نہیں۔“ وہ مسکرا اٹھی تھی۔
”پھر محبت سے پہلے جھگڑا؟ یہ کیسی محبت ہے بھئی؟“
”جھگڑا وہیں ہوتا ہے جہاں پیار ہوتا ہے آپ خود سوچیں۔ کتنی محبت کرتی ہوں میں آپ سے۔“
آج وہ اس قدر خوش تھی کہ بات بے بات مسکرائے جا رہی تھی۔
”دور بیٹھ کر ایسی باتیں کرنا شدید ظلم ہے بندے پر۔

”آکر لے جائیں مجھے میں خود آپ سے دور رہنا نہیں چاہتی ساحر۔“
”راستہ کلیئر ہے؟“ از خود ان کے لہجوں میں احتیاط در آئی تھی۔
”کلیئر ہے میں نے دوا بڑی مقدار میں دودھ میں مکس کر دی تھی۔ یہ لوگ آج تو کیا کل بھی مشکل سے ہی اٹھیں گے۔“ وہ اس وقت بیٹی نہیں تھی۔ خواہشوں کی ہوس میں لپٹی کوئی بد روح لگ رہی تھی۔
”ویل ڈن، ویل ڈن میری جان، بس فٹا فٹ سڑک تک آ جاؤ میں آ رہا ہوں، اوکے بائے۔

“ وہ ریسیور رکھ کر تیزی سے تیار ہونے لگی تھی تیار ہو کر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ دروازہ ایک دھماکے سے کھلا تھا۔
###
نشے کی زیادتی کے باعث شیری کو اردگرد کا خیال ہی نہ تھا وہ گھر آ کر اسی حالت میں سو گیا تھا۔ مسز عابدی جب گھر آئیں تو ملازم سے معلوم ہوا وہ نشے میں گھر سے گیا تھا اور چند گھنٹوں بعد اس حالت میں لوٹ آیا تھا وہ گہرا سانس لے کر اس کے روم میں گئی تھیں۔

وہ بیڈ پر مدہوش پڑا تھا پاؤں سے جوتے تک نہیں اتارے تھے اس نے۔
”شیری! میرے بچے۔“ اس کی طرف بڑھی تھیں اور سیدھا کرنا چاہا تھا مگر وہ تیس سال کا صحت مند جوان تھا ان کے کمزور بازو اس کے بے ترتیب پڑے بدن کو کروٹ دلانے میں ناکام رہے تھے صرف اس کے پاؤں سے شوز اتارنے میں کامیاب رہی تھیں۔ پھر ملازم کی مدد سے وہ اس کی ٹائی اور کوٹ علیحدہ کرکے اسے آرام دہ طریقہ سے لیٹا کر کمبل اوڑھا کر نائٹ بلب آن کرکے باہر نکل آئی تھیں۔

صبح ناشتے کی ٹیبل پر وہ ان کے درمیان موجود تھا نکھرا نکھرا ہشاش بشاش اس کو دیکھ کر کہیں سے بھی محسوس نہ ہوتا تھا کہ وہ مضبوط و تر تازہ دکھائی دینے والا مرد جب نشے کی زیادتی کا شکار ہوتا ہے تو کسی شکستہ دیوار کی مانند بکھر جاتا ہے اور اس کی یہ حالت ماں کے دل کو ضربیں لگاتی تھی ان کی مسکراتی نگاہوں میں اس کیلئے پیار و ملال تھا۔

”کیا دیکھ رہی ہیں بیگم! ہمارے بیٹے کو نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟“ عابدی نے پورج کھاتے ہوئے شوخی سے پوچھا۔
”میری نظر تو رات و دن بابا کی ”نظر“ اتارتی ہیں پھر بھلا میری نظر کیوں لگنے لگی بابا کو۔“ وہ مسکرا کر بیٹے کی طرف دیکھنے لگی تھیں جو خاموشی سے جوس پی رہا تھا اس کے آگے نیوز پیپرز تھے۔
”اوہ، اس کا مطلب ہے آپ نے ہمیں کسی اور کی نگاہوں کا مرکز بننے کیلئے کھلی چھٹی دے دی ہے؟“ وہ سنجیدہ ہوئے۔

”آپ کا مطلب کیا ہے؟“
وہ سخت متعجب تھیں۔ وہ ان کے انداز کو نہ سمجھ سکی تھیں۔ جب کہ شیری نے اخبار سے نگاہ اٹھا کر باپ کی طرف ایک لمحے کو شوخی سے دیکھا تھا۔ وہ ان کی بات سمجھ گیا تھا مگر ماں کے خیال سے مسکرایا نہ تھا۔
”مطلب بالکل صاف ہے تم ہر وقت اپنے بیٹے پر نگاہ رکھتی ہو۔ تم کو میری پروا نہیں ہے۔“ وہ ہنوز سنجیدہ تھے۔

”میری بالکل سمجھ نہیں آ رہی ہیں آپ کی باتیں نامعلوم کیا بات کر رہے ہیں۔“ وہ سر جھٹک کر سلائس پر جیم لگانے لگیں۔
”پاپا! کیوں ماما کو پریشان کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹ کہہ دیں جو آپ کہنا چاہتے ہیں۔“ وہ سیدھا بیٹھتا ہوا گویا ہوا۔
”جو مزہ ان ڈائریکٹ بات کہنے میں ہے وہ ڈائریکٹ کہنے میں کہاں ہے اور آپ کی ماما تو اتنی کوڑھ مغز ہیں کہ…!“
”سب سمجھتی ہوں میں اب ایسی بھی آدھے دماغ کی عورت نہیں ہوں جو آپ کی بات سمجھ نہ سکوں۔

سمجھ نہیں آتا مردوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہوتا ہے؟ جیسے جیسے یہ لوگ بڑھاپے کی سرحدیں عبور کرنے لگتے ہیں تو بوڑھاپا ان کو جوانی کے سبز باغ دکھا کر کیوں ورغلانے کی کوشش میں محو رہتا ہے؟“ ان کی بات کے جواب میں وہ خاصے جلے کٹے انداز میں گویا ہوئی تھیں۔ شیری تو خاموش رہا جب کہ عابدی بے ساختہ قہقہہ لگا بیٹھے تھے۔
”زیادتی کر رہی ہیں بیگم آپ، تم نے وہ مثل ہیں سنی کہ گھوڑا اور مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔

“ایکسکیوزمی ابھی آتا ہوں۔“ ان کی نوک جھونک جاری تھی معاً شیری کی نگاہوں میں ایک برق لہرائی کوئی خیال آیا تھا پھر وہ معذرت کرتا ہوا ہوا کے کسی تیز و تند بگولے کی مانند لمحے بھر میں ڈائننگ روم سے بنا ناشتہ کئے نکل گیا تھا۔
”یہ بابا کو کیا ہوا ہے؟“ مسز عابدی حیرت سے گویا ہوئی۔
”پتا نہیں، تم پریشان مت ہو آ جائے گا ابھی، ناشتہ کرو۔

“ عابدی صاحب کے پروقار لہجے میں قدرے بے پروائی تھی۔
”نامعلوم اس لڑکے کو ہر کام کی جلد بازی کیوں ہوتی ہے گھر سے دور رہ کر ہماری پروا ہی نہیں ہے جو دل میں آتا ہے وہ کر گزرتے ہیں۔“ ان کے لہجے میں دکھ بھری شکایت ابھر آئی تھی۔
”خیریت تو ہے نا؟ آپ کو شیری سے کیا شکایتیں ہو گئی ہیں؟“ ان کی طرف دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے استفسار کرنے لگے۔

”آپ کو معلوم نہیں ہے شیری نے فیاض بھائی کی بیٹی کی تصویریں بنائی تھیں۔ وہ ان کو تفصیل سے ہر بات بتانے لگیں۔
###
ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد ملازمہ کو ٹیبل صاف کرنے کا کہہ کر صباحت عادلہ اور عائزہ کے مشترکہ روم میں آ گئی تھیں۔ عائزہ صوفے میں دھنسی بیٹھی سیل فون پر مسیج ٹائپ کرنے میں مگن تھی۔ صباحت کو اس نے ایک پل کو اچٹتی نگاہوں سے دیکھ کر پھر مصروف ہو گئی تھی۔

اس کے انداز میں اعتماد و بے خوفی تھی۔
”صباحت نے حسب عادت اس کی اس بے پروا اور بے نیازی کو نظر انداز کر دیا تھا اور بیڈ پر لیٹی عادلہ کی طرف بڑھ آئی۔ جس کی کل رات سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے ناشتہ بھی روم میں ہی کیا تھا۔
”کیسی طبیعت ہے بیٹا!“ انہوں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
”بخار تو اب نہیں ہے شاید کمزوری کے باعث اٹھ نہیں پا رہی ہو۔

”جی، ممی! میں بہت کمزوری محسوس کر رہی ہوں۔“ عادلہ کی کراری آواز میں لاغر پن جھلک آیا تھا۔
”ایک ہی دن میں برسوں کی بیمار دکھائی دے رہی ہو فکر مت کرو میں پری کو کہہ آئی ہوں وہ تمہارے لئے چکن سوپ تیار کر رہی ہے۔“ پھر انہوں نے ایک نگاہ عائزہ پر ڈالتے ہوئے کہا۔
”عائزہ! ملازمہ سے کہو وہ فریج سے سیب نکال کر جوس بنائے۔

”سوری ممی، میں اس ٹائم بے حد بزی ہوں۔“
”فالتو بات مت کرو، ملازمہ سے جا کر کہہ دو وہ خود لے آئے گی۔“
”ممی میں نے کہا نا ٹائم نہیں ہے میرے پاس اور یہ عادلہ تو سدا کی کھاؤ پیر ہے بہانے بنا کر اس کو کھانا آتا ہے۔“
”بکواس مت کرو۔ تم سے اچھی تو وہ پری ہے سگی بہن نہ ہوتے ہوئے بھی اس کو اتنا خیال ہے عادلہ کا۔ میں اس سے کہنے گئی تو وہ پہلے ہی اس کیلئے چکن سوپ تیار کرنے میں مصروف تھی اور ایک تم ہو جو ملازمہ کو کہنے پر بھی راضی نہیں ہو خود تو کیا کرو گی۔

“ اس کی بدتمیزی و بے حسی پر وہ جل کر گویا ہوئیں۔
”پری کی مثال نہ دیں آپ، اس کی تو عادت ہے اسی طرح سب کی غلامی کرکے اپنی تعریف کرانے کی اور مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ اس نے طنزیہ انداز میں کہا تھا اور اسی دوران اس کی نگاہیں اسکرین پر اور انگلیاں ٹائپ کر رہی تھیں۔
”میں پوچھتی ہوں آخر تم کس سے راز و نیاز میں مصروف ہو جو میری طرف دیکھ کر بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہے، کتنی بار سمجھایا ہے یہ ہر وقت موبائل تمہارے ہاتھ میں اچھا نہیں لگتا ہے۔

“ ماں کے بدلتے تیوروں نے اس کو الرٹ کر دیا وہ مسکرا کر بولی۔
”اپنی فرینڈ سے بات کر رہی ہوں اور کس سے کروں گی ممی۔“
”کون سی فرینڈ ہے تمہاری ایسی جو ہر وقت فری رہتی ہے۔“
”آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے۔“ وہ منہ بسور کر گویا ہوئی اس دوران عادلہ آنکھیں بند کرکے لیٹی رہی۔
”میں تو تمہاری ہر بات پر یقین کرتی ہوں کل بھی تم دونوں سارا دن اپنی فرینڈ کے ساتھ گزار کر آئیں اور میں نے پوچھا وہ کون سی فرینڈ ہے جو تم کو بلاتی ہے اور خود یہاں نہیں آتی۔

۔“
”پوچھا کریں نا ممی! آپ پوچھتی کیوں نہیں تب ہی…!“
”میری جان تم چپ لیٹی رہو طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری اور ممی کو ہم پر اعتماد ہے تو کیوں پوچھیں گی؟“ عادلہ کو بولتے دیکھ کر عائزہ برق رفتاری سے اس کی طرف آئی تھی اور لہجے کو نرم کرکے بڑی محبت سے دونوں سے مخاطب ہوئی تھی۔
”ممی! آپ کو ہم پر بھروسا نہیں ہے…؟“
”مجھے ہے میں اپنی بچیوں پر بھروسا نہیں کروں گی تو کس پر کروں گی۔

مگر بات میری نہیں تمہارے پاپا اور دادی کی ہے ان کو یقین کون دلائے گا اور اسپیشلی تمہاری دادی اس بڑھیا کو تو بال کی کھال نکالنے کی عادت ہے اس عمر میں بھی ان کا حافظہ غضب کا ہے۔ مجال ہے جو کوئی بات بھول جائیں میں بھول جاتی ہوں مگر وہ نہیں بھولتی ہیں۔“ عائزہ کی توجہ نے ان کے موڈ کو بدل ڈالا تھا۔
”ہمیں دادی کی پرواہ نہیں ہے ممی! آپ کا اعتماد ہمارے لئے کافی ہے۔

“ عادلہ لیٹی ہوئی بہن کے پل پل بدلتے موڈ کو دیکھ کر سوچ رہی تھی وہ کس قدر بے ضمیر اور خود غرض لڑکی ہے چند لمحوں قبل کس قدر اس کی آنکھوں میں اجنبیت و سرد مہری تھی۔
وہ مسیج کے ذریعے راحیل سے گفتگو میں مصروف تھی اور اس دوران اس کو صباحت کی مداخلت ذرا نہ بھائی تھی اور وہ ان کو نظر انداز کئے اپنے کام میں مصروف تھی اور جب اس کو عادلہ کی طرف سے راز فاش کرنے کا خطرہ ہوا تو اس کے منہ سے پھول جھڑنے لگے تھے۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط